زمانے کو برا کہنا، شرک اور ستاروں سے بارش کا عقیدہ رکھنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

زمانے کو برا بھلا کہنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قال الله عز وجل: يسب بنو آدم الدهر وأنا الدهر، بيدي الليل والنهار
”اللہ عزوجل فرماتا ہے: ابنِ آدم زمانے کو برا بھلا کہتا ہے جبکہ زمانہ میں ہوں، رات اور دن میرے ہاتھ میں ہیں۔“
بخاری، کتاب التوحید، حدیث 7491، مسلم، الالفاظ من الادب وغیرها، حدیث 2246/1۔
عرب کی عادت تھی کہ مصائب نازل ہونے پر وہ زمانے کی مذمت کرتے اور اسے برا بھلا کہتے تھے، کیونکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ تمام مصائب زمانے کی وجہ سے ہیں۔ پس اللہ عزوجل نے فرمایا: میں زمانہ ہوں، جو تم پر مصائب نازل کرتا ہوں ان سب کا فاعل میں ہی ہوں جو میں کرتا ہوں جسے تم اپنے زعم کے مطابق زمانے کی طرف منسوب کرتے ہو۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تم میں سے کوئی زمانے کی ناکامی و خرابی نہ کہا کرے اس لیے کہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
بخاری، کتاب الادب، حدیث 6182، مسلم، الالفاظ من الادب وغیرها، حدیث 4/ 2246۔

اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من مات يشرك بالله شيئا دخل النار، ومن مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة
”جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتے (شرکیہ عقیدہ رکھتے) ہوئے فوت ہوا وہ جہنم میں داخل ہوگا اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوئے فوت ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
بخاری، کتاب الجنائز، حدیث 1238، مسلم، کتاب الایمان، حدیث 92/150۔
② سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لقي الله عز وجل لا يشرك به شيئا دخل الجنة، ومن لقيه يشرك به دخل النار
”جو شخص اللہ عزوجل سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کرتا ہوگا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور جو شخص اس سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہوگا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“
مسلم، کتاب الزهد والرقائق، حدیث 93/152۔

عمل میں شرک کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
قال الله تعالى: أنا أغنى الشركاء عن الشرك، من عمل عملا أشرك فيه معي غيري تركته وشركه
”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں شرکاء کے شرک سے بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے سوا کسی کو شریک بنایا تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔“
مسلم، کتاب الزهد والرقائق، حدیث 46/ 2985۔

ستاروں سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کی ممانعت

① سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز حدیبیہ میں بارش کے بعد جو کہ رات کو ہوئی تھی، صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا:
هل تدرون ما قال ربكم؟
”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟“
انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قال الله: أصبح من عبادي مؤمن بي وكافر، فأما من قال: مطرنا بفضل الله ورحمته فذلك مؤمن بي وكافر بالكواكب، وأما من قال: مطرنا بنوء كذا وكذا فذلك كافر بي ومؤمن بالكواكب
”اللہ نے فرمایا ہے: میرے بندوں میں سے کچھ تو مومن ہوئے اور کچھ نے میرے ساتھ کفر کیا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو میرا وہ بندہ مومن ہے اور ستاروں کا منکر ہے، رہا وہ شخص جس نے کہا ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو وہ میرا منکر ہے اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے۔“
بخاری، کتاب الاذان، حدیث 846، مسلم، کتاب الایمان، حدیث 71/125۔