وليستا بمغنيتين پر اعتراضات اور حماد بن اسامہ کے تفرد کا تحقیقی جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد الحق اثری کی کتاب اسلام اور موسیقی پر اشراق کے اعتراضات کا جائزہ سے ماخوذ ہے۔

حدیث پر مزید بحث

الاعتصام میں ہماری سابقہ تنقیحات پر اہلِ اشراق نے مزید جو تبصرہ کیا۔ اس کے بارے میں ہماری معروضات حسبِ ذیل ہیں۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عید کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں ’دو جاریہ‘ نے دف بجائی اور گانا گایا اور وہ دونوں پیشہ ور مغنیہ نہ تھیں۔ اس حدیث کے آخری جملے کے بارے میں اربابِ اشراق کا اصرار ہے کہ یہ غلطی سے راوی کا تصرف ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمودہ نہیں۔ ایک عرصے سے یہ بحث الاعتصام، محدث اور اشراق کے قارئینِ کرام کی نظر سے گزر رہی ہے۔ (اشراق کی جلد نمبر:19 شمارہ نمبر:6 ماہ جون2007ء) کے شمارے میں اسی موضوع پر پھر خامہ فرسائی فرمائی گئی ہے، بلکہ ان کے موقف کے جواب میں جو معروضات ہم نے پیش کی تھیں انھیں بھی اسی شمارے میں اپنے روایتی انداز کے مطابق شائع کر دیا ہے، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ ہمارے جواب الجواب میں جو کچھ انھوں نے اب ارشاد فرمایا اس کے بارے میں ہم اپنی گزارشات قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کیے دیتے ہیں۔

روایت میں راوی کا تصرف

اربابِ اشراق اس بات پر مصر ہیں کہ صحیحین میں [قالت: وليستا بمغنيتين] کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: گانا گانے والی دونوں جاریہ پیشہ ور مغنیہ نہیں تھیں۔ یہ جملہ ابو اسامہ حماد بن اسامہ نے اپنی طرف سے بربنائے وہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں جو کچھ عرض کیا گیا اس کی تفصیل بحمد اللہ ’الاعتصام‘ میں گزر چکی ہے۔ علیٰ وجہ التسلیم ہم نے یہ بھی عرض کیا کہ بلاشبہ کسی موقع پر راوی غلطی سے کوئی جملہ روایت میں شامل کر دیتا ہے مگر محدثینِ کرام نے اس نوعیت کی روایت کو مدرج کی اصطلاح سے متعارف کروایا ہے اور اس کے انھوں نے اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں اور اس پر مستقل کتابیں لکھی ہیں، ان اصول و ضوابط سے بے نیاز ہو کر حدیث میں اس قسم کے جملے کو محض اپنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر مدرج قرار دینا اصول پسندی کی بجائے ہوس ناکی کا نتیجہ ہے، مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہماری اس وضاحت کے باوجود اہلِ اشراق بڑی دیدہ دلیری سے فرماتے ہیں:

اگر کوئی راوی غلطی کی بنا پر روایت کے متن میں کوئی ایسی بات شامل کر دے جسے وہ اپنے خیال میں اصل روایت کا حصہ سمجھتا ہے،  ایسی صورت میں نہ تو یہ طریقہ درست ہو گا کہ محض اس کی تصریح کو دیکھتے ہوئے ان قرائن و شواہد کو نظر انداز کر دیا جائے جو اس کے بیان کردہ اضافے کے ”مدرج“ ہونے پر دلالت کر رہے ہیں اور نہ ایسا کرنا ہی جائز ہو گا کہ اس کی زیادت کو رد کرتے ہوئے خود راوی کے صدق و عدالت اور دیانت داری پر سوال اٹھا دیا جائے۔ اپنے حالیہ مضمون میں مولانا محترم نے اس بات کے جواب میں کچھ ارشاد نہیں فرمایا: جس سے یہ اخذ کرنا غالباً غلط نہیں ہوگا کہ انھوں نے ہماری گزارش سے اتفاق فرما لیا ہے۔ (اشراق:ص47)

ہم ان کے اس فیصلے کو انسانی سہو و نسیان پر محمول کریں یا اہلِ اشراق کی غلطی اور خطا کا شاخسانہ قرار دیں۔ حیرت ہے کہ اہلِ اشراق نے ہیچمداں کا مضمون اسی شمارے میں شائع کیا، اور اسی شمارہ کے صفحہ نمبر35 پر اس جملہ کے ”مدرج“ ہونے کے دعویٰ کا کافی و شافی جواب موجود ہے، مگر اس کے باوجود بڑی دیدہ دلیری سے فرمایا جاتا ہے کہ ”مولانا محترم نے اس کے جواب میں کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ سبحان الله من لا ينسى

قارئینِ کرام سے معذرت کے ساتھ! لیجیے ہم اپنی بات دوبارہ عرض کیے دیتے ہیں: ہمیں تسلیم ہے کہ ذخیرہٴ حدیث میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں، محدثین نے اس نوعیت کی روایات کو مدرج کی اصطلاح سے متعارف کروایا ہے، اور ادراج کے ثبوت کے لیے اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں اور اس نوعیت کی روایات کو مستقل کتابوں میں جمع کر کے ایسی روایات کی نشان دہی کی ہے، افسوس ہے کہ ان ضوابط سے منحرف ہو کر بلا دلیل محض اپنے فکر کی ہمنوائی میں (نہیں بلکہ مخالفت میں) کسی جملہ کو مدرج قرار دینا بہت بڑی جسارت ہے۔ محترم جناب عمار خان صاحب جو اس بحث میں ”اشراق“ کے ممد و معاون بنے ہیں اور ماشاء اللہ ”علمی نکات“ سے اسے سہارا دے رہے ہیں، انھی کے جدِ محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب رقم طراز ہیں:

محدثینِ کرام کا ضابطہ ہے کہ جو جملہ حدیث کے ساتھ ہو تو وہ متصل ہی مانا جائے گا۔ اور محض احتمال سے ادراج ثابت نہیں ہو سکتا، اور ادراج کے اثبات کے لیے محدثین نے جو قواعد بیان کیے ہیں، وہ یہ ہیں کہ: مدرج حصہ کسی دوسری روایت میں الگ سے آیا ہو، یا راوی صراحت سے بیان کرے کہ یہ مدرج ہے، یا اطلاع پانے والے اماموں میں سے کوئی اس کی تصریح کرے یا اس قول کا آنحضرت ﷺ سے ثابت ہونا محال ہو۔ (تسکین الصدور:ص180)

مولانا صفدر صاحب نے جو کچھ فرمایا، اصولِ حدیث کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ اس اصول کی روشنی میں کیا یہ حصہ کسی دوسری روایت میں الگ طور پر آیا ہے؟ قطعاً نہیں، کسی راوی یا محدث نے تصریح کی ہے کہ یہ فلاں راوی کی غلطی سے حدیث میں درج ہو گیا ہے؟ بالکل نہیں، بلکہ گیارہ سو سال سے تمام محدثین اور اہل علم اسے صحیح تسلیم کر کے اس سے استدلال کرتے ہیں، مگر اب اہل اشراق پر یہ راز فاش ہوا ہے کہ یہ تو راوی کی غلطی سے حدیث میں درج ہو گیا۔

انصاف شرط ہے کہ اتنی وضاحت کے باوجود یہ کہنا کہ مولانا محترم نے اس بات کے جواب میں کچھ ارشاد نہیں فرمایا، حقیقت سے انحراف اور محض طفل تسلی نہیں؟

اہل اشراق یہ تو ثابت نہ کر سکے اور نہ ان شاءاللہ کر ہی سکیں گے کہ یہ جملہ ”مدرج“ کے طور پر علیحدہ فلاں کتاب میں بیان ہوا ہے یا فلاں محدث نے اس کے مدرج ہونے کی تصریح کی ہے، محض اپنی ناپسندیدگی کی بنا پر اسے ”مدرج“ قرار دینا علم وفن کی کوئی خدمت نہیں۔

ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے، بعض حضرات نے صحیحین کی تمام روایات کا تحقیق وتنقیح کی چھلنی میں تتبع کیا، مگر اہل اشراق کے علاوہ آج تک کسی اہل علم نے اس پر نقد نہیں کیا، گویا اس روایت کی صحت پر پوری امت کا اتفاق ہے، مگر اہل اشراق اس سے اپنے خاص مزاج کی بنا پر متفق نہیں، ہمیں ان کی اس ادا اور رائے پر قطعاً تعجب نہیں۔ وہ بہت سے اجتماعی مسائل میں امت مسلمہ سے متفق نہیں۔ اگر وہ زیر بحث متفق علیہ روایت پر اپنے نقطہ نظر کی بنا پر تنقید کرتے ہیں تو اس میں ہمارےلیے حیرت کی کوئی بات نہیں۔ الصحیح کی اس روایت کے بارے میں کہا گیا تھا کہ کسی حدیث کی صحت وضعف کو طے کرنے کا معیار نقدِ روایت کے اصول ہیں یا ائمہٴ فن کے اقوال؟ آخر ائمہٴ فن کس بنیاد پر کسی روایت کی صحت وضعف کا فیصلہ فرماتے ہیں؟ اگر ان کے فیصلوں کی بنیاد وحی والہام کی بجائے دلائل وشواہد پر ہوتی ہے تو دلائل کی روشنی میں ان کی رائے سے اختلاف کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ ابن الصباغ نے کہا ہے کہ اگر راوی اضافہ بیان کرے، جب کہ اس کے بغیر روایت کرنے والے راوی ایک ایسی جماعت ہوں جس کا وہم میں مبتلا ہو جانا بعید از قیاس ہو تو زیادت ناقابلِ اعتبار قرار پائے گی ابن السمعانی نے بھی یہی بات کہی ہے۔ ہم نے اسی اصول پر ہشام کی روایت میں ابو اسامہ کے اضافہ کردہ جملے [قالت وليستا بمغنيتين] کو ابو اسامہ کا وہم قرار دیا ہے۔ (اشراق: ص34 ستمبر2006ء)

زیادتِ ثقہ کا حکم

ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ محدثین کا قطعاً طے شدہ اصول نہیں، علامہ ابن الصباغ رحمہ اللہ اور علامہ ابن السمعانی رحمہ اللہ کی رائے ہے، اس کے برعکس جمہور محدثین اور فقہاء مطلقاً ثقہ کی زیادت کو قبول کرتے ہیں، بلکہ بعض نے تو اس پر اتفاق کا دعویٰ کیا ہے کہ ثقہ کی زیادتی بالاتفاق مقبول ہے۔ جب کہ ائمہٴ حدیث امام عبدالرحمن بن مہدی، امام یحییٰ بن سعید القطان، امام احمد، امام یحییٰ بن معین، امام علی بن مدینی، امام بخاری، امام ابو زرعہ، امام ابو حاتم، امام نسائی، امام دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ جو زیادت (دوسری روایات) کے منافی ہے اس میں ترجیح کا اعتبار ہے، بایں طور کہ اس کے قبول کرنے سے دوسری روایت کی تردید لازم آتی ہو، یعنی اگر وہ زیادت دوسری روایات کے منافی ہے تو مقبول نہیں، اگر منافی نہیں تو وہ مقبول ہے، یہ ہے کبار محدثینِ کرام کا فیصلہ۔ جماعت کے مقابلے میں ایک کی روایت میں خطا کا بلا شبہ احتمال ہے، مگر یہ تب ہے جب وہ احفظ اور ثبت نہ ہو اور اس کی زیادتی دوسری روایت کے منافی ہو، اسی اصول کے مطابق محدثین نے ابو اسامہ کی روایت کو قبول کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے، ظاہر ہے کہ یہ جملہ کہ وہ دونوں مغنیہ نہیں تھیں، کسی روایت کے مخالف نہیں۔

اس کے جواب میں اب یہ ارشاد ہوا ہے کہ: یہ متقدمین محدثین کے اصول کی نہایت ناقص ترجمانی ہے۔ کسی زیادت پر وہم کا حکم لگانا اس کے اصل روایت کے منافی ہونے پر منحصر نہیں، اگر زیادت کے مبنی بر وہم ہونے کے دیگر قرائن و شواہد موجود ہوں تو پھر منافات کا نکتہ غیر اہم ہو جاتا ہے اور اکابر محدثین اس سے قطع نظر کرتے ہوئے اس کی زیادت کو رد کر دیتے ہیں۔ شارحِ ترمذی، مولانا عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ محدثین کے طرزِ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر تم یہ سوال کرو کہ متقدمین محدثین مثلاً امام شافعی، احمد بن حنبل، ابن معین، بخاری، ابو داود، ابو حاتم، ابو علی، نیسابوری، حاکم اور دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہ نے ابنِ مسعود کی حدیث میں [ثم لا يعود] کی زیادت کو، عبادہ کی حدیث میں [فصاعدا] کی زیادت کو، اور ابو ہریرہ اور ابو موسیٰ اشعری کی حدیث میں [وإذا قرأ فأنصتوا] کی زیادت کو کیوں قبول نہیں کیا؟ اور انھیں غیر محفوظ کیوں قرار دیا؟ حالانکہ یہ زیادات اصل حدیث کے منافی نہیں ہیں۔ میں جواب میں کہوں گا کہ ان محدثین نے ان زیادات کو اس لیے قبول نہیں کیا کہ ان پر دلائل کی روشنی میں یہ واضح ہو گیا کہ یہ بعض راویوں کا وہم ہے، جیسا کہ انھوں نے اس کو بیان کیا اور واضح کیا ہے۔ انھوں نے محض اس بنا پر ان میں کسی زیادت کو رد نہیں کر دیا کہ اس کا راوی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے۔(اشراق:ص 53-54، تحفۃ الاحوذی: ص85 ج2)

غور فرمایا: آپ نے کہ اہلِ اشراق نے جس طمطراق سے فرمایا تھا کہ ہم نے اسی اصول پر ہشام کی روایت میں ابو اسامہ کے اضافہ کردہ جملے کو ابو اسامہ کا وہم قرار دیا ہے۔ وہ اصول کہاں گیا، بلکہ اپنے اس جواب الجواب میں انھوں نے کہیں علامہ ابنِ صباغ اور علامہ ابنِ سمعانی کا نام تک نہیں لیا چہ جائیکہ وہ اس کا دفاع کریں۔ بلکہ محدث مبارک پوری رحمہ اللہ کی جس عبارت کو اپنے نئے موقف کی تائید میں نقل کیا ہے اس کے آخری الفاظ بھی اس ”اصول“ کی تردید کر رہے ہیں کہ ”انھوں (محدثین) نے محض اس بنا پر ان میں سے کسی زیادت کو رد نہیں کر دیا کہ اس کا راوی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے۔ بتلائیے کیا یہ اسی اصول کی تردید نہیں جسے علامہ ابنِ صباغ کے حوالے سے نقل کر کے بڑی اصول پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا کہ ”ہم نے اسی اصول کے مطابق ابو اسامہ کے اضافے کو وہم قرار دیا تھا۔

اپنے اس ”اصول“ کی بے اصولی اگر ان پر واضح ہو گئی ہے تو یہ خوش آئند ہے، ثقہ کی زیادت کے متعلق محدثین کا جو اصول ہم نے تدریب الراوی سے پیش کیا تھا اس کے بارے میں اہلِ اشراق کا ارشاد ہے کہ یہ محدثین کے اصول کی نہایت ناقص ترجمانی ہے۔ پھر بزعمِ خویش محدثین کی ترجمانی میں جو موقف ذکر کیا اور اپنی تائید میں محدثِ مبارک پوری کی تحفۃ الاحوذی سے جو عبارت ذکر کی اس میں بھی گھپلا ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ علامہ نیموی رحمہ اللہ نے التعلیق الحسن میں فرمایا تھا کہ ”ثقہ کی زیادتی جو اس سے اوثق یا ایک جماعت کی مخالفت میں ہو خواہ وہ دوسری روایت کے منافی ہو یا منافی نہ ہو شاذ ہے، مقبول نہیں۔ علامہ نیموی رحمہ اللہ کے اسی موقف کی تردید میں شارحِ ترمذی، مولانا عبدالرحمن محدثِ مبارک پوری رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ شاذ کی یہ تعریف درست نہیں، بلکہ ثقہ کی زیادت مقبول ہے الا یہ کہ کوئی قرینہ اس زیادت کے وہم پر موجود ہو، اسی موقف کی تائید میں انھوں نے فرمایا ہے کہ صحیح بخاری میں بہت سی احادیث ہیں جن میں ثقہ کی زیادت ہے اور وہ روایت کے منافی بھی نہیں، وہ زیادت ایک جماعت نے یا اس سے زیادہ ثقہ راوی نے بیان نہیں کی، بعض محدثین نے اس زیادت پر اعتراض کیا ہے، مگر محققین نے اس قسم کی زیادت پر اعتراض کرنے والوں کا جواب دیا ہے۔ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی ان روایات کے جواب میں، جن پر اعتراض کیا گیا ہے، فرمایا ہے کہ قابلِ اعتراض کچھ ایسی روایات ہیں جن میں ثقہ نے کچھ زائد الفاظ بیان کیے ہیں اور وہ الفاظ ایک جماعت نے یا اس سے زیادہ ثقہ راوی نے بیان نہیں کیے، ایسی صورت میں اس روایت کو معلول قرار دینا کوئی مؤثر علت نہیں الا یہ کہ دلائلِ قویہ سے معلوم ہو جائے کہ یہ زیادت مدرج ہے، اگر ایسی صورت ہو تو یہ مؤثر علت ہے جیسا کہ حدیث نمبر 34 (مقدمہ فتح الباری: ص 361) میں ہے۔ اسی طرح حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اعتراض کیا ہے کہ صحیح بخاری کی حدیث جو ابو غسان عن ابی حازم عن سہل بن سعد سے مروی ہے اس میں [إنما الأعمال بالخواتيم] کا اضافہ ہے۔ لیکن عبدالعزیز بن ابی حازم، یعقوب بن عبدالرحمن اور سعید المخزومی، ابو حازم سے روایت کرتے ہیں اور یہ جملہ ذکر نہیں کرتے، حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابو غسان ثقہ حافظ ہے اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر اعتماد کیا ہے اور اس نوعیت کی زیادت کی قبولیت علامہ ابن الترکمانی، علامہ زیلعی بلکہ علامہ نیموی سے بھی منقول ہے۔ اس کے بعد مولانا مبارک پوری مرحوم رحمہ اللہ نے اصولِ حدیث کی کتابوں سے شاذ کی تعریف نقل کی ہے اور اپنے دعوٰی کو ثابت کیا ہے، اور آخر میں وہ بات فرمائی ہے جسے اہلِ اشراق نے نقل کیا ہے۔

جس سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ محدثِ مبارک پوری رحمہ اللہ نے علامہ نیموی رحمہ اللہ کے جس موقف کی تردید کی، وہ وہی موقف ہے جو قبل ازیں علامہ ابنِ صباغ رحمہ اللہ کے حوالے سے اہلِ اشراق نے ذکر کیا کہ اگر راوی ایسا اضافہ بیان کرے جسے جماعت نے بیان نہیں کیا تو وہ زیادت ناقابلِ اعتبار ہے، اسی بنا پر ابو اسامہ کی زیادت کو وہم قرار دیا گیا کہ وہ جماعت کے مقابلے میں تنہا اسے بیان کرتے ہیں، اس لیے مبارک پوری رحمہ اللہ صاحب کے موقف کو اپنی ہمنوائی قرار دینا اہلِ اشراق کا کمال ہے۔

رہی یہ بات کہ محدثین محض اس بنا پر کسی راوی کی زیادت کو رد نہیں کر دیتے کہ وہ اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے، بلکہ اس ضمن میں مزید قرائن و شواہد کا تتبع کرتے ہیں۔ اور کسی زیادت پر وہم کا حکم لگانا اس کے اصل روایت کے منافی ہونے پر منحصر نہیں۔ اگر زیادت کے مبنی بر وہم ہونے کے دیگر شواہد موجود ہوں تو پھر منافات کا نکتہ غیر اہم ہو جاتا ہے۔ مبارک پوری رحمہ اللہ صاحب نے فرمایا ہے کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں [لا يعود] کی زیادت، عبادہ کی حدیث میں [فصاعدا] کی زیادت کو، اصل حدیث کے منافی نہ ہونے کے باوجود، قبول نہیں کیا۔ الخ (اشراق:ص53-54)

جنابِ من! ہم نے جماعت کے مقابلے میں ثقہ کی زیادتی کے بارے میں عرض کیا تھا کہ ایسی صورت میں محض جماعت کی روایت کی بنا پر ثقہ کی زیادت کو رد کر دینا کبار محدثین کا اصول نہیں، بلکہ ان کے ہاں اس کے ساتھ اصل روایت سے منافات کا ہونا بھی ہے، اور ابو اسامہ کی زیادت میں اصل روایت سے کوئی مخالفت نہیں، اس لیے یہ زیادتی قابلِ قبول ہے۔ رہے اس کے علاوہ دیگر قرائن و شواہد تو ہم نے اس کی قطعاً نفی نہیں کی، محدث مبارک پوری رحمہ اللہ کے کلام میں حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ کے حوالہ سے صحیح بخاری ہی میں اس حوالے سے اشارہ موجود ہے۔ اور محدث مبارک پوری رحمہ اللہ نے بھی یہی بات فرمائی کہ محدثین نے محولہ روایات میں واضح دلائل کی بنا پر ان کی زیادت کو وہم قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ تو بہرحال ائمہٴ محدثین کا ہے نہ مبارک پوری صاحب رحمہ اللہ کا اور نہ علامہ نیموی رحمہ اللہ کا۔ اہلِ اشراق اپنے زعمِ تعقل میں سمجھیں یا نہ سمجھیں یہ بات بہرحال آئینہٴ باعثِ تعجب ہے کہ ابو اسامہ کی اس زیادت کے وہم ہونے میں قرائن و شواہد کا انکشاف بھی اہلِ اشراق ہی پر ہوا، اور قرائن و شواہد بتلانے والے قرناً بعد قرن اس سے غافل ہی رہے ہیں۔ سبحان الله

ہمیں حیرت ہوئی کہ فرمایا تو یہ گیا کہ اس زیادت کے وہم ہونے میں کم وبیش یقینی قرائن موجود ہیں۔ (اشراق:ص55) مگر وہ ”یقینی قرائن“ جماعت کے مقابلے میں فرد کی روایت کے علاوہ دوسرا کوئی قرینہ ذکر ہی نہیں کرتے، آخر یہ قرائن کہاں ہیں؟ کیا محدثینِ کرام کے ہاں ثقہ کی زیادت کے رد و قبول میں یہی جماعت کی روایت قرینہ ہے یا اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہے؟ اہلِ اشراق غور فرمائیں کہ ان ”یقینی قرائن“ کے حوالے سے انھوں نے جو کچھ رقم فرمایا ہے وہ بجز جماعت کے مقابلے میں فرد کی روایت کو رد کرنے کے اور کیا ہے؟ اور کیا ہر زیادت کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ”یہ زیادت تو معنوی اہمیت کے لحاظ سے نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔اس لیے فرد کی زیادت قبول نہیں، جماعت کی روایت کا ہی اعتبار ہو گا۔ غور فرمائیے پہلے ابنِ صباغ کے قول کی بنا پر جو موقف اختیار کیا گیا اس سے انحراف فرمایا گیا، تقریباً وہی موقف علامہ نیموی نے اختیار کیا تو محدث مبارک پوری رحمہ اللہ نے ان پر تعاقب کیا اور اسے قبول کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ثقہ کی زیادت وہی مردود نہیں جو اصل کے منافی ہو، بلکہ اس کے لیے دیگر قرائن و شواہد کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے۔ ”قرائن“ تو وہ بجز تفردِ راوی کے بیان نہ کر سکے البتہ بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے یہ ”قرینہ“ بنا لیا ”کہ“ زیادت معنوی اہمیت کے لحاظ سے نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، مگر اتنا غور نہ فرمایا کہ اس قرینہ کا تعلق اور مآل تو پھر تفردِ راوی ہے، اور ہر زیادت کے بارے میں یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ اس لیے یہ کوئی زائد قرینہ ہی نہیں۔

دور نہ جائیے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں [لا تعد] کا اضافہ مردود کیوں ہے؟ محدثین بالعموم فرماتے ہیں: کہ یہ زیادت سفیان ثوری کا وہم ہے، امام ابو حاتم نے فرمایا ہے، کہ سفیان ثوری کے علاوہ ایک جماعت اسے عاصم سے بایں لفظ بیان نہیں کرتی، بلاشبہ یہ زیادت بھی معنوی اہمیت کے لحاظ سے نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، اور اس کو بیان کرنے والے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ہیں جو جہابذہ ائمہٴ محدثین میں شمار ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود کبار محدثین نے اس زیادت کو قبول نہیں کیا، اس کی عدمِ قبولیت کا قرینہ یہ بھی ہے کہ عاصم سے روایت کرنے والے عبداللہ بن ادریس ہیں اور ان کی کتاب میں بھی یہ الفاظ نہیں ہیں، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے جزء رفع الیدین (ص9) میں وضاحت کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ اس لیے اصح اور راجح ہے کہ اہل علم کے نزدیک کتاب کی روایت زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔ یہ ہے وہ ایک مزید ”قرینہ“ جس کی بنا پر اس زیادت کو قبول نہیں کیا۔ افسوس ہے کہ اہلِ اشراق دعویٰ تو ”یقینی قرائن“ کا کرتے ہیں، مگر ایک قرینہ بھی ایسا پیش نہیں کر سکے جسے تفردِ راوی کے علاوہ کوئی قرینہ کہا جائے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس لیے ”یقینی قرائن“ کا یہ دعویٰ محض بروزنِ بیت ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔

حماد بن اسامہ کا تفرد

اوصاف و مراتب کی بنا پر امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ نے، بلکہ تمام محدثین نے ان پر اعتماد کیا ہے اور ان کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ مزید عرض ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب فرض الخمس، باب بركة الغازي في ماله (رقم:3129) میں أبو أسامة، هشام بن عروة عن أبيه کی سند سے ہی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ترکہ و وراثت کے بارے میں ایک طویل روایت بیان کی ہے جس کے بارے میں حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ: [لم أر هذا الحديث بتمامه إلا من طريق أبي أسامة] میں نے یہ روایت بتمامہ ابو اسامہ کے طریق کے علاوہ کسی اور سند سے نہیں دیکھی۔ (فتح الباری:ص229 ج6)

گویا اس تفصیلی اسلوب میں بیان کرنے والے ابو اسامہ منفرد ہیں، مگر اس کے باوجود یہ روایت الجامع الصحيح میں جگہ پاتی ہے اور محدثین اسے صحیح قرار دیتے ہیں، بلکہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس مکمل روایت کی ان الفاظ میں تحسین کی ہے: [ما أحسن ما جاء بذلك الحديث وأتمه] کہ یہ کس قدر اچھی اور مکمل روایت ہے۔ (شرح العلل لابن رجب:ص689 ج1)

اگر ابو اسامہ کی ہشام سے روایات یا اس کی منفرد روایات میں کلام ہوتا تو محدثینِ کرام رحمہ اللہ اس کی اس نوعیت کی احادیث کی تصحیح و تحسین نہ کرتے۔ مگر اہلِ اشراق نے ہماری اس اصولی بات کو تو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا البتہ اسی حوالے سے مزید ہم نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ ابو اسامہ مطبوعہ کتابوں میں تنہا نظر آتے ہیں، احادیث تو محفوظ ہیں مگر ان کے تمام طرق محفوظ نہیں۔ اس کے بارے میں اہلِ اشراق نے فرمایا ہے، کہ یہ نکتہ فی نفسہ ایک معقول نکتہ ہے ہم بھی اس امکان اور احتمال کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن علم و تحقیق کی دنیا میں فیصلہ امکانات اور احتمالات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ موجود اور میسر شواہد کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ (اشراق:ص55)