رمضان کے روزے کے احکامات، شوال کے چھ روزوں اور ذوالحجہ کے روزوں کی فضیلت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

رمضان کے روزے کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صام رمضان إيمانا واحتسابا دخل الجنة وغفر له ما تقدم من ذنبه
”جو شخص ایمان اور احتساب (ثواب کی نیت) سے رمضان کے روزے رکھتا ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
بخاری، کتاب الصوم 1901۔ مسلم، كتاب الصيام 759۔ ابوداؤد، کتاب الصوم 1371۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ، ومن قام ليلة القدر غفر له ما تقدم من ذنبه
”جو شخص ایمان و احتساب کے ساتھ روزے رکھتا ہے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جو شخص شبِ قدر کا قیام کرتا ہے تو اس کے بھی سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
بخاری، کتاب الصوم 1901۔ مسلم، كتاب الصيام 759۔

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

① سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صام رمضان وأتبعه بستة من شوال كان كصيام الدهر
”جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ ایسے ہیں جیسے اس نے ہمیشہ لگاتار روزے رکھے۔“
مسلم، كتاب الصيام 1164۔ ابوداؤد، کتاب الصوم 2433۔

ذوالحجہ کے روزوں کی فضیلت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد فيها من عشر ذي الحجة ، يعدل صيام يوم منها بصيام سنة ، وقيام كل ليلة منها لقيام ليلة القدر
”اللہ کو ذوالحجہ کے دس دنوں کی عبادت دیگر ایام کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے۔ اس کے ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کی طرح ہے۔ اور اس کی ہر رات کا قیام شبِ قدر کے قیام کی طرح ہے۔
ترمذی، کتاب الصوم 758۔ یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں نہاس بن قثم ضعیف ہے۔