تکمیلِ دین اور بدعت کی ممانعت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔

تکمیل دین

اللہ کریم نے قرآن مجید میں تکمیل دین کا مژدہ سنا دیا ہے، دین مکمل ہو چکا اور اسلام کو ایک کامل شریعت بنا کر بھیجا گیا، قرآن و حدیث میں شرع کے تمام احکام کی تخصیصا وتعليلا رہنمائی کر دی گئی ہے۔
فرمانِ باری تعالی ہے :
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
”آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کیا ہے۔“
(سورہ المائدة: 3)
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م: 774ھ) لکھتے ہیں:
هذه أكبر نعم الله عز وجل على هذه الأمة؛ حيث أكمل تعالى لهم دينهم، فلا يحتاجون إلى دين غيره، ولا إلى نبي غير نبيهم، صلوات الله وسلامه عليه، ولهذا جعله الله خاتم الأنبياء، وبعثه إلى الإنس والجن، فلا حلال إلا ما أحله، ولا حرام إلا ما حرمه، ولا دين إلا ما شرعه
”یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اللہ نے ان کے لئے دین مکمل کر دیا ہے۔ انہیں کسی اور دین کی حاجت ہے، نہ اپنے نبی کے علاوہ کسی نبی کی ضرورت ہے۔ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیا بنا کر جن وانس ہر دو کی طرف مبعوث کیا ہے۔ چنانچہ حلال وہی ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال قرار دیا اور حرام وہی ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا اور دین وہی ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع قرار دیا۔“
تفسیر ابن کثیر: 465/2
◈ امام مالک بن انس رحمہ اللہ (م: 179ھ) فرماتے ہیں:
من أحدث فى هذه الأمة اليوم شيئا لم يكن عليه سلفها؛ فقد زعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خان الرسالة، لأن الله تعالى يقول: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فما لم يكن يومئذ دينا، لا يكون اليوم دينا
اگر آج کوئی شخص امت میں نیا کام جاری کرتا ہے، وہ کام جس پر اسلاف امت نہیں تھے، تو وہ باور کروا رہا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ رسالت میں خیانت کی ہے۔ (معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (سورہ المائدة: 3) آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو چیز دور سلف میں دین نہیں تھی، وہ آج بھی دین نہیں ہے۔
الإحكام لابن حزم: 85/6 وسنده حسن
امام مالک رحمہ اللہ کے اس فرمان کی روشنی میں یوں سمجھئے کہ میں اگر بدعت جاری کرتا ہوں، تو گویا میں یہ باور کروا رہا ہوں کہ دین ناقص تھا، جسے میں نے مکمل کر دیا، یہ کار ثواب تھا، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں کیا اور میں بیان کر رہا ہوں، یوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تجاوز کی کوشش کرتا ہوں، ہر بدعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش قدمی ہے، اللہ نے اس سے منع فرمایا ہے اور اہل ایمان بدعت کے تصور ہی سے کانپ کانپ جاتے ہیں۔
◈ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قد تركتكم على البيضاء؛ ليلها كنهارها، لا يزيغ عنها بعدي إلا هالك
”یقیناً میں آپ کو جادہ مستقیم پر چھوڑ کر جا رہا ہوں، جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، میرے بعد اس سے روگردانی صرف وہی کرے گا، جس کے مقدر میں ہلاکت لکھی ہوگی۔“
مسند الإمام أحمد: 126/4 ، سنن ابن ماجه: 43 ، السنة لابن أبي عاصم: 48 ، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 96/1 وسنده حسن
حافظ منذری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے۔
الترغيب والترهيب: 46/1
یاد رکھیے! ہمارا دین مکمل ہے، اس میں کمی و بیشی کی کوئی گنجائش نہیں۔ بدعت دین میں اضافہ ہے اور دین میں اضافہ یہود و نصاریٰ کی تقلید ہے۔ یہود و نصاری نے اپنے دین میں اس قدر اضافے کیے کہ آج ان کا اصل دین ناپید ہو گیا ہے۔