ولایت علی رضی اللہ عنہ
اہل سنت کے نزدیک اہل بیت سے محبت عین ایمان ہے۔ ان کے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بیت رسول میں شامل ہیں۔ صحابہ کرام کے مسئلے میں بعض لوگ دو انتہاوں پر ہیں، ایک روافض اور دوسرے نواصب۔
خلیفہ چہارم امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
ليحبني قوم حتى يدخلوا النار فى حبي، وليبغضني قوم حتى يدخلوا النار فى بغضي .
”ایک فرقہ مجھ سے محبت کا دم بھرے گا اور محبت (میں غلو) کی وجہ سے جہنم رسید ہو جائے گا۔ دوسرا مجھ سے بغض رکھے گا، جس کی وجہ سے واصل جہنم ہوگا۔“
(فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل : 952 سنده صحيح)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں :
طائفة رافضة يظهرون موالاة أهل البيت، وهم فى الباطن إما ملاحدة زنادقة، وإما جهال، وأصحاب هوى، وطائفة ناصبة تبغض عليا، وأصحابه، لما جرى من القتال فى الفتنة ما جرى .
”روافض کی ایک جماعت اہل بیت سے محبت کا دم بھرتی ہے، درحقیقت یہ ملحد و زندیق ہیں یا دین سے کورے اور نفس پرست۔ ایک گروہ ناصبی ہے، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف ہونے والی جنگوں کی وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں سے بغض رکھتا ہے۔“
(الفتاوى الكبرى : 195/1 ، مجموع الفتاوی : 301/25)
نیز فرماتے ہیں :
أما أهل الحديث والسنة والجماعة فقد اختصوا باتباعهم الكتاب والسنة الثابتة عن نبيهم صلى الله عليه وسلم فى الأصول والفروع، وما كان عليه أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بخلاف الخوارج والمعتزلة والروافض ومن وافقهم فى بعض أقوالهم، فإنهم لا يتبعون الأحاديث التى رواها الثقات عن النبى صلى الله عليه وسلم التى يعلم أهل الحديث صحتها، فالمعتزلة يقولون : هذه أخبار آحاد، وأما الرافضة فيطعنون فى الصحابة ونقلهم، وباطن أمرهم الطعن فى الرسالة .
”اہل سنت والجماعت اہل حدیث کا شیوہ ہے کہ وہ عقیدہ اور مسائل میں قرآن اور صحیح احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور منہج صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی کرتے ہیں۔ جب کہ خوارج، معتزلہ، روافض اور ان کے ہم نوا ایسے نہیں ہیں، کیوں کہ وہ ثقہ راویوں سے مروی احادیث کا اتباع نہیں کرتے۔ معتزلہ کہتے ہیں : یہ احادیث اخبار آحاد ہیں، روافض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کی روایات پر طعن کرتے ہیں، لیکن درحقیقت اس کی زد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑتی ہے۔“
(منهاج السنة النبوية : 463/3)
رافضیت اور ولایتِ علی رضی اللہ عنہ
شیعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ خلیفہ بلافصل ہیں، اس لیے انہوں نے کلمہ طیبہ میں اضافہ کی جسارت کی ہے۔ ان کا کلمہ ہے :
لا إله إلا الله محمد رسول الله على ولي الله
”علی ولی اللہ“ سے ان کی مراد ولایتِ علی ہے۔ اور ولایتِ علی سے مراد ان کا خلیفہ بلافصل ہونا ہے۔ یہ بے ثبوت اور بے حقیقت نظریہ ہے، سراسر غلو پر مبنی ہے۔ لکھا ہے:
ولاية على عليه السلام مكتوبة فى جميع صحف الأنبياء، ولن يبعث الله رسولا إلا بنبوة محمد صلى الله عليه وآله، ووصية على عليه السلام.
”علی علیہ السلام کی ولایت سابقہ تمام انبیاء کے صحیفوں میں مندرج تھی اور اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور علی علیہ السلام کی وصیت دے کر بھیجا۔“
(أصول الكافي للكليني: 437/1)
یہ کیسا دعویٰ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے عقل، دین اور ذرہ برابر حیا سے نوازا ہے، وہ ایسی بات کرنے سے عاجز و قاصر ہے۔ یہ تو یہاں تک کہتے ہیں :
سیدنا یونس علیہ السلام ولایتِ علی کے منکر تھے، تب مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اقرار کرنے پر خلاصی ملی۔
(بحار الأنوار للمجلسي : 333/26)
اس سلسلے میں یہ بیسیوں آیاتِ قرآنیہ میں تحریفِ معنوی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی شرک سے روکا گیا ہے، وہاں علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولایت میں شریک ٹھہرانے سے روکا گیا ہے، جہاں کفر و انکار کی بات ہے، وہاں ولایتِ علی سے انکار مراد ہے۔ شاید اسی بنیاد پر انہوں نے عقیدۂ تحریفِ قرآن گھڑ لیا ہے کہ قرآن مجید میں ولایتِ علی کا ذکر تھا، جو نکال دیا گیا۔
اس باب میں انہوں نے بے شمار حدیثیں بھی گھڑی ہیں، صحیح حدیث :
من كنت مولاه فعلي مولاه
”جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں۔“
میں مولا کا معنی والی کرتے ہیں، جو کسی بھی صورت میں درست نہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أما حديث الموالاة فليس فيه إن صح إسناده نص على ولاية على بعده …. فأراد النبى صلى الله عليه وسلم أن يذكر اختصاصه به ومحبته إياه ويحثهم بذلك على محبته وموالاته وترك معاداته فقال: من كنت وليه فعلي وليه، وفي بعض الروايات: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه، والمراد به ولاء الإسلام ومودته، وعلى المسلمين أن يوالي بعضهم بعضا ولا يعادي بعضهم بعضا، وهو فى معنى ما ثبت عن على رضى الله عنه أنه قال: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبى الأمي صلى الله عليه وسلم إلى أنه لا يحبني إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق.
”حدیثِ موالات، اگر صحیح ہے، تو اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بلافصل ہونے پر کوئی نص نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی خصوصیت و محبت کا ذکر کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو ان سے محبت و موالات کرنے اور ان سے عداوت کو ترک کرنے پر ترغیب دے رہے ہیں۔ یہاں مراد اسلام کا تعلق اور اسلام کی محبت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں، اس کے علی دوست ہیں۔ دوسری روایت میں ہے: جس کا میں دوست ہوں، اس کے علی دوست ہیں۔ اللہ! جو علی سے محبت کرے، تو بھی اس سے محبت کر اور جو علی سے بغض و عداوت رکھے، تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت رکھیں، دشمنی نہ رکھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث میں یہی معنی بیان ہوا ہے : اس ذات کی قسم، جس نے دانے کو پھاڑا اور جان پیدا کی! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وعدہ دیا تھا کہ مجھ سے کوئی مومن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے عداوت کوئی منافق ہی رکھے گا۔“
(الاعتقاد ص : 354)
ناصبیت اور اہل بیت :
مشہور لغوی علامہ ابن منظور رحمہ اللہ (711ھ) لکھتے ہیں :
قوم يتدينون ببغض على عليه السلام.
”ناصبی وہ گروہ ہے، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنا ثواب سمجھتے ہیں۔“
(لسان العرب : 726/1)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
تبغض عليا، وأصحابه.
”ناصبی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں سے بغض رکھتے ہیں۔“
(مجموع الفتاوى: 301/25)
نیز فرماتے ہیں :
يكفرون عليا أو يفسقونه أو يشكون فى عدالته.
”ناصبی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کافر و فاسق سمجھتے ہیں اور آپ کی عدالت میں شک کرتے ہیں۔“
(منهاج السنة النبوية : 386/4)