عدل و انصاف کی فضیلت
قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:
﴿فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾
”پس اگر وہ رجوع کر لے، تو تم لوگ دونوں گروہوں کے درمیان عدل و انصاف کے مطابق صلح کرا دو، اور انصاف سے کام لو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“
(49-الحجرات:9)
اس آیت مقدسہ میں اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کرنے والوں کو اپنی محبت کی نوید سنائی ہے۔
روز قیامت اللہ تعالیٰ جن خوش نصیبوں کو اپنے عرش کے سائے تلے جگہ عنایت فرمائے گا۔ ان میں سے ایک عادل حکمران بھی ہے۔
صحیح البخاري، كتاب الأذان، باب من جلس في المسجد ينتظر الصلاة، رقم: 660.
عدل وانصاف کرنے والوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
إن المقسطين، عند الله على منابر من نور، عن يمين الرحمن عز وجل، وكلتا يديه يمين، الذين يعدلون فى حكمهم وأهليهم وما ولوا
”بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے پاس، نور کے منبروں پر رحمن کے دائیں جانب ہوں گے، اور اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ یعنی وہ لوگ اپنے حکم، اپنے گھر والوں اور ان کاموں میں جو ان کے سپرد ہیں، انصاف کا اہتمام کرتے ہیں۔“
صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب فضيلة الامير العادل وعقوبة الجنائز، رقم: 1837.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
كل سلامى من الناس عليه صدقة، كل يوم تطلع فيه الشمس، يعدل بين الناس صدقة
”لوگوں کے ہر جوڑ پر صدقہ ضروری ہے، ہر اس دن میں جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس کا دو آدمیوں کے درمیان (انصاف سے) فیصلہ کر دینا صدقہ ہے۔“
صحيح البخاري، كتاب الصلح، باب فضل اصلاح بين الناس والعدل بينهم، رقم: 2707.