وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۪ وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۴﴾
اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کا سوال ہوگا۔
En
اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ ہو جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی
En
اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ بجز اس طریقہ کے جو بہت ہی بہتر ہو، یہاں تک کہ وه اپنی بلوغت کو پہنچ جائے اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 34) ➊ { وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ …:} احسن یہ کہ ہر طرح اس کی حفاظت کرو، اسے کسی کاروبار میں لگا کر بڑھانے کی کوشش کرو، جب جوان ہو جائے تو اس کا مال اس کے سپرد کر دو، یا اس سے اجازت لے کر کاروبار کرو۔ اس مضمون کی تفصیل سورۂ نساء (۲ تا ۱۴) میں ملاحظہ فرمائیں۔
➋ { وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ …:} اس میں وہ عہد شامل ہے جو اللہ تعالیٰ سے یا بندوں سے کیا جائے، کیونکہ عہد کے متعلق سوال ہو گا اور جو عہد واقرار توڑے گا اسے سزا ملے گی۔
➋ { وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ …:} اس میں وہ عہد شامل ہے جو اللہ تعالیٰ سے یا بندوں سے کیا جائے، کیونکہ عہد کے متعلق سوال ہو گا اور جو عہد واقرار توڑے گا اسے سزا ملے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
34۔ 1 کسی کی جان کو ناجائز طریقے سے ضائع کرنے کی ممانعت کے بعد، اتلاف مال (مال کے ضائع کرنے) سے روکا جا رہا ہے اور اس میں یتیم کا مال سب سے زیادہ اہم ہے، اس لئے فرمایا کہ یتیم کے بالغ ہونے تک اس کے مال کو ایسے طریقے سے استعمال کرو، جس میں اس کا فائدہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ سوچے سمجھے بغیر ایسے کاروبار میں لگا دو کہ وہ ضائع یا خسارے سے دو چار ہوجائے۔ یا عمر شعور سے پہلے تم اسے اڑا ڈالو۔ 34۔ 2 عہد سے وہ میثاق بھی مراد ہے جو اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہے اور وہ بھی جو انسان آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ دونوں قسم کے عہدوں کا پورا کرنا ضروری ہے اور نقص عہد کی صورت میں باز پرس ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس صورت میں کہ وہ بہتر ہو، تا آنکہ وہ اپنی جوانی [42] کو پہنچ جائے اور عہد کی پابندی کرو کیونکہ عہد کے بارے میں تم سے [43] باز پرس ہو گی۔
[42] یتیم کے مال کی نگہداشت اور اس کے حقوق کے لیے سورۃ نساء آیت نمبر 1 تا 6 اور سورۃ انعام کی آیت نمبر 152 کے حواشی ملاحظہ کر لیے جائیں۔ [43] ایفائے عہد کے سلسلہ میں سورۃ اعراف آیت نمبر 102 اور نحل آیت نمبر 91، 92 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یتیم کا مال ٭٭
یتیم کے مال میں بد نیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، «وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا» ۱؎ [4-النساء:2] ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف کر ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔
«وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» ۱؎ [4-النساء:6]
جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہیئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لیے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لیے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1826]
پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہو جائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن جواب دہی ہو گی۔ ناپ پیمانہ پورا پورا بھر کر دیا کرو لوگوں کو ان کی چیز گھٹا کر کم نہ دو۔
«قِسْطَاسِ» کی دوسری قرأت «قَسْطَاسْ» بھی ہے پھر حکم ہوتا ہے بغیر پاسنگ کی صحیح وزن بتانے والی سیدھی ترازو سے بغیر ڈنڈی مارے تولا کرو، دونوں جہان میں تم سب کے لیے یہی بہتری ہے۔ دنیا میں بھی یہ تمہارے لین دین کی رونق ہے اور آخرت میں بھی یہ تمہارے چھٹکارے کی دلیل ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اے تاجرو تمہیں ان دو چیزوں کو سونپا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کے لوگ برباد ہو گئے یعنی ناپ تول۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت رکھتے ہوئے صرف خوف اللہ سے اسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22306:مرسل]
«وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» ۱؎ [4-النساء:6]
جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہیئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لیے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لیے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1826]
پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہو جائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن جواب دہی ہو گی۔ ناپ پیمانہ پورا پورا بھر کر دیا کرو لوگوں کو ان کی چیز گھٹا کر کم نہ دو۔
«قِسْطَاسِ» کی دوسری قرأت «قَسْطَاسْ» بھی ہے پھر حکم ہوتا ہے بغیر پاسنگ کی صحیح وزن بتانے والی سیدھی ترازو سے بغیر ڈنڈی مارے تولا کرو، دونوں جہان میں تم سب کے لیے یہی بہتری ہے۔ دنیا میں بھی یہ تمہارے لین دین کی رونق ہے اور آخرت میں بھی یہ تمہارے چھٹکارے کی دلیل ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اے تاجرو تمہیں ان دو چیزوں کو سونپا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کے لوگ برباد ہو گئے یعنی ناپ تول۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت رکھتے ہوئے صرف خوف اللہ سے اسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22306:مرسل]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تعالیٰ کا اس یتیم پر اپنی رحمت اور لطف وکرم کا اظہار ہے۔ جس کا باپ اس کی چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے اور وہ ابھی اپنے مفادات کی معرفت رکھتا ہو نہ ان کا انتظام کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یتیم کے سر پرستوں کو حکم دیا ہے کہ وہ یتیم اور اس کے مال کی حفاظت کریں اور اس کے مال کی اصلاح کریں اور یہ کہ اس کے قریب بھی نہ جائیں ﴿ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ﴾ ”مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو“ یعنی تم اس کے مال کو تجارت میں لگاؤ، اس کو اتلاف کے خطرے میں نہ ڈالو اور اس میں اضافے اور نشوونما کی خواہش رکھو اور یہ صورت حال اس وقت تک رہے یہاں تک کہ ﴿ یَبْلُ٘غَ اَشُدَّهٗ﴾ ”وہ (یتیم) جوانی کو پہنچ جائے۔“ یعنی بلوغت اور عقل و رشد کی عمر کو پہنچ جائے۔ پس جب وہ بالغ و عاقل ہو جائے تو اس سے سرپرستی زائل ہو جائے گی اور وہ اپنے معاملات کا خود سرپرست بن جائے گا اور اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّؔنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ ﴾ (النساء: 4؍6) ”پس اگر تم ان میں عقل کی پختگی پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔“
﴿ وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ﴾ ”اور عہد کو پورا کرو“ جو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ باندھا ہے، نیز اس عہد کو پورا کرو جو تم نے مخلوق کے ساتھ کیا ہے۔ ﴿ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـُٔوْلًا﴾ ”عہد کے بارے میں ضرور باز پرس ہوگی۔“ یعنی ایفائے عہد کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا اگر تم نے عہد پورا کیا تو تمھارے لیے بہت بڑا ثواب ہے اور اگر تم نے عہد کو پورا نہ کیا تو تم پر بہت بڑا گناہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من لطفه ورحمته باليتيم الذي فَقَدَ والده وهو صغيرٌ غير عارف بمصلحة نفسه ولا قائمٌ بها أنْ أمر أولياءه بحفظه وحفظ ماله وإصلاحه وأنْ لا يَقْرَبوهُ {إلاَّ بالتي هي أحسنُ}: من التِّجارة فيه وعدم تعريضه للأخطار والحرص على تنميته، وذلك ممتدٌّ إلى أن يبلغَ اليتيمُ {أشدَّه}؛ أي: بلوغه وعقله ورشده؛ فإذا بَلَغَ أشدَّه؛ زالت عنه الولايةُ، وصار وليَّ نفسه، ودفع إليه ماله؛ كما قال تعالى: {فإنْ آنَسْتُم منهم رُشْداً فادْفَعوا إليهم أموالَهم}، {وأوفوا بالعهدِ}: الذي عاهدتم الله عليه، والذي عاهدتم الخلق عليه. {إنَّ العهد كان مَسْؤولاً}؛ أي: مسؤولين عن الوفاء به وعدمه؛ فإن وفيتم؛ فلكم الثواب الجزيل، وإن لم تفعلوا ؛ فعليكم الإثم العظيم.