مسواک کرنے کی فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

كتاب الطهارة

طہارت کے فضائل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾
”بے شک اللہ پسند کرتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتا ہے پاک صاف رہنے والوں کو۔“
(2-البقرة:222)

مسواک کرنے کی فضیلت

وعن عائشة رضي الله عنها أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ”السواك مطهرة للفم مرضاة للرب“.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔“
سنن نسائى كتاب الطهارة، باب الترغيب في السواك ، رقم : 5- صحيح ابن خزيمة، رقم: 135 – صحيح بخاري، كتاب الصيام تعليقا، باب سواك الرطب واليابس للصائم قبل ، رقم: 1934.
وعن حذيفة رضى الله عنه قال: ”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من النوم يشوص فاه بالسواك“.
”سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو اپنا منہ مبارک مسواک کے ذریعے سے خوب صاف کرتے۔“
صحیح بخارى، كتاب الوضو ءباب السواك ، رقم: 245 ـ صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب السواك، رقم: 255 .
عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لولا أن أشق على أمتي أو على الناس لأمرتهم بالسواك مع كل صلاة“.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں کے مشقت میں پڑ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں یقیناً انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“
صحيح بخاري، كتاب الجمعة باب السواك يوم الجمعة ، رقم: 887- صحيح مسلم، کتاب الطهارة، باب السواك، رقم: 252 .