تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
نماز سے پہلے وضو نہ ہو تو وضو فرض ہے ورنہ مستحب، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو کے ساتھ کئی نمازیں پڑھی ہیں۔ [مسلم، الطہارۃ، باب جواز الصلوات کلہا بوضوء واحد: ۲۷۷] اس آیت میں وضو کا بیان ہے، وضو میں سب سے پہلے نیت ضروری ہے، کیونکہ حدیث میں ہے: [إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ] ”تمام اعمال(عبادات) کے لیے نیت ضروری ہے۔“ [بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی إلی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم : ۱] اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” اس میں ایمان، وضو، نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ الغرض تمام اعمال داخل ہیں۔“ قرآن نے چار اعضا کا ذکر کیا ہے، مگر اس کا عملی طریقہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مطابق ہونا چاہیے۔
➋ {فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ:} منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک میں پانی داخل کرکے جھاڑنا اور داڑھی کا خلال بھی شامل ہے۔ [ابن ماجہ، الطہارۃ، باب ما جاء فی تخلیل اللحیۃ: ۴۳۱] ”کہنیوں تک “ میں کہنیاں بھی شامل ہیں، انھیں بھی دھونا لازم ہے۔ نعیم مجمر فرماتے ہیں میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انھوں نے چہرہ دھویا اور مکمل وضو کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا یہاں تک کہ کہنی سے اوپر والے حصے تک لے گئے، پھر بایاں ہاتھ یہاں تک کہ کہنی سے اوپر تک لے گئے پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا یہاں تک کہ پنڈلی تک پہنچا دیا، پھر بایاں پاؤں دھویا یہاں تک کہ پنڈلی تک لے گئے، پھر فرمایا: ”میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔“ [مسلم، الطہارۃ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ……: ۲۴۶]
➌ {وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ:} گو بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ سارے سر کا مسح فرض نہیں بلکہ سر کے کچھ حصے کا مسح کر لیا جائے تو بھی کافی ہے، مگر قرآن کے ظاہر اور احادیث کی رو سے سارے سر کا مسح کرنا چاہیے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ بھی پگڑی کے بغیر سر کے کچھ حصے کا مسح ثابت نہیں، آپ دونوں ہاتھ آگے سے گدی تک لے جاتے، پھر واپس لے آتے، ہاں پگڑی ہونے کی صورت میں سر کے سامنے والے حصے کے بعد پگڑی پر مسح کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم (۸۱؍۲۷۴) میں ہے، پوری پگڑی پر بھی مسح کر سکتا ہے۔ [أبو داوٗد: ۱۴۶] سر کے مسح کے ساتھ کانوں کا مسح حدیث سے ثابت ہے۔ [نسائی: ۱۰۳۔ ابن ماجہ: ۴۳۹] سر کے مسح کے بعد گردن کا الگ مسح یا الٹے ہاتھوں مسح کرنے کا ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نہیں ملتا، لہٰذا یہ بدعت ہے۔
➍ {وَ اَرْجُلَكُمْ:} اس میں ”لام“ کے زبر اور زیر کے ساتھ دو قراء تیں مروی ہیں۔ فتح والی قراء ت کی رو سے تو ظاہر ہے کہ { ”فَاغْسِلُوْا“ } کا مفعول ہونے کی بنا پر پاؤں دھونا ثابت ہے۔ زیر والی قراء ت میں قریب ہونے کی وجہ سے جر ہے، یعنی پہلا لفظ { ”بِرُءُوْسِكُمْ“ } مجرور ہونے کی موافقت کے لیے { ”وَ اَرْجُلَكُمْ“ } کو کسرہ دے دیا ورنہ { ”فَاغْسِلُوْا“ } کا مفعول ہونے کی وجہ سے دراصل منصوب ہے۔ تمام علمائے اہل سنت کا یہی مذہب ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث میں ثابت ہے کہ آپ پاؤں دھویا کرتے تھے، ان پر مسح نہیں فرماتے تھے۔ عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے، پھر آپ نے ہمیں پا لیا، نماز کا وقت ہو گیا تھا، ہم وضو کر رہے تھے اور (جلدی میں) اپنے پاؤں پر گیلا ہاتھ پھیر رہے تھے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں تین مرتبہ فرمایا: ” ان ایڑیوں کے لیے آگ میں بڑی ہلاکت ہے۔“ [بخاری، العلم، باب من رفع صوتہ بالعلم: ۶۰] اگر موزے یا جرابیں باوضو ہونے کی حالت میں پہنی ہوں تو ان پر صحیح احادیث کے مطابق مسح کیا جا سکتا ہے۔ وضو میں ترتیب بھی ضروری ہے، جیسا کہ {” فَاغْسِلُوْا “} کی ”فاء “ سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ پہلے دھویا جائے گا، باقی اعضاء میں بھی ترتیب ہو گی، مسح راس کے بعد غسل رجلین کے ذکر میں بھی ترتیب کی طرف اشارہ ہے، یعنی {”فَاغْسِلُوْا“} کا مفعول بعد میں ذکر ہوا ہے اور ہمیشہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ترتیب سے وضو کیا ہے، کبھی اس کے خلاف نہیں کیا۔ اعضاء کو کم از کم ایک مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ تین دفعہ دھونا ثابت ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں۔
➎ {فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۴۳)۔
➏ {مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ ……:} تنگی میں نہ ڈالنے کی وجہ سے اور پانی نہ ہونے کی صورت میں مٹی کے ساتھ مکمل طہارت ہی کے لیے اس نے تیمم کا حکم نازل فرمایا ہے، تاکہ تم پر نعمت تمام ہو اور تم شکر ادا کرو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب الوضوء ثلثا]
2۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں جاتے تو کہتے
«اللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ»
”اے اللہ میں بھوتوں اور بھتنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب مایقول عند الخلاء]
3۔ ابو ایوب انصاریؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جب کوئی قضائے حاجت یعنی پاخانہ کرنے کے لیے آئے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے نہ پیٹھ بلکہ مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف منہ کرو۔“
[بخاری۔ کتاب الوضوء باب۔ استقبال القبلۃ لغائط او بول]
4۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی باغ پر سے گزرے وہاں دو آدمیوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انہیں کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں ہو رہا۔“ پھر فرمایا ”ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی منگوائی۔ اس کے دو ٹکڑے کر کے ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟“ فرمایا ”جب تک یہ سوکھیں نہیں شاید ان کے عذاب میں کچھ کمی ہو۔“
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب من الکبائر ان لایستترمن بولہ]
5۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی کھڑے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے پھر اس میں نہائے۔“
[بخاری۔ کتاب الوضو۔ باب البول فی الماء الدائم]
6۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جس شخص کو حدث ہو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک وضو نہ کر لے۔ ”حضرموت کے ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا: ابوہریرہ حدث کیا ہوتا ہے؟“ میں نے کہا ”پھسکی یا پاد“
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب لاتقبل الصلٰوۃ بغیر طہور]
7۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے پانچ مد تک پانی سے غسل کر لیا کرتے اور ایک مد پانی سے وضو کر لیا کرتے۔
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب الوضوء بالمد]
8۔ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ میری مذی بہت نکلتی تھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم محسوس کی اور مقداد بن اسود سے کہا، تم پوچھ دو۔ مقداد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس میں وضو ہے۔“
[بخاری کتاب الوضوء۔ باب من لم یرالوضوء الا من المخرجین القبل والدبر۔ نیز کتاب العلم۔ باب من استحیا۔۔]
9۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے وضو کیا اور اپنے قدم پر ناخن بھر جگہ (خشک) چھوڑ دی۔ آپ نے دیکھا تو اسے فرمایا ’واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔‘ چنانچہ وہ شخص واپس ہوا۔ پھر (وضو کر کے) نماز پڑھی۔
[مسلم۔ کتاب الطہارۃ۔ باب وجوب استیعاب جمیع اجزاء محل الطہارۃ]
10۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حال میں پایا کہ نماز کا وقت ہو گیا تھا اور ہم وضو کر رہے تھے اور اپنے پاؤں پر مسح کر رہے تھے تو آپ نے تین مرتبہ بلند آواز سے پکارا وَیْلٌ للاَعْقَابِ مِنَ النَّار یعنی ان خشک ایڑیوں کے لیے بربادی ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”وضو مکمل کرو“
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب غسل الرجلین ولا یمسح علی القدمین]
11۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ میں مسواک لیے ہوئے مسواک کر رہے تھے۔ آپ اع اع کی آواز نکال رہے تھے اور مسواک آپ کے منہ میں تھی گویا قے کر رہے ہیں۔
[بخاری کتاب الوضوء۔ باب السواک]
12۔ عروہ بن مغیرہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک سفر (غزوہ تبوک) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا (آپ وضو کر رہے تھے) میں جھکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رہنے دو! میں نے انہیں با وضو پہنا ہے۔“ پھر ان پر مسح کیا۔
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب اذا ادخل رجلیہ و ہما طاہرتان]
13۔ عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا اور پھر کلی کی اور فرمایا کہ ”دودھ میں چکنائی ہوتی ہے۔“
[بخاری۔ کتاب الوضوء باب ھل یمضمض من اللبن]
واضح رہے کہ اس آیت میں جن اعضاء کے دھونے کا ذکر آیا ہے۔ ان کو دھونا فرض ہے یا بالفاظ دیگر وہ وضو کے فرائض ہیں جن کے بغیر وضو ناتمام رہتا ہے اور وہ یہ ہیں۔
(1) اپنے چہرہ کو دھونا (2) اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا اور کہنیاں اس میں شامل ہیں۔ (3) اپنے سر کا مسح کرنا اور (4) اپنے دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا اور ٹخنے ان میں شامل ہیں۔ قرآن میں ان اعضاء کو دھونے یا سر کے مسح کی اجمالی کیفیت بیان ہوئی ہے جس کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یا احادیث سے ملتی ہے ایسی کچھ احادیث اوپر ذکر کر دی گئی ہیں جن سے وضو کی سنتیں معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی ایسے افعال جو صرف آپ کی سنت سے معلوم ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند افعال کا ذکر مندرجہ بالا احادیث میں آچکا۔ باقی افعال یا مذکورہ افعال کی کچھ مزید وضاحت ذیل میں درج کی جاتی ہے:
1۔ وضو کی ابتدا میں سب سے پہلے ہاتھوں کو گٹوں تک دھونا، پھر کلی کرنا، پھر ناک میں پانی چڑھانا اور ناک جھاڑنا، وضو سے پہلے یا ہاتھ دھونے کے بعد کلی کرتے وقت مسواک کرنا۔ ہاتھ اور پاؤں دھوتے وقت ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں خلال کرنا۔ منہ دھوتے وقت داڑھی اگر گھنی ہو تو بالوں میں خلال کرنا اور ہلکی ہو تو جڑوں تک دھونا، سر کے مسح کی ترکیب اور ساتھ ہی کانوں اور گردن کا مسح کرنا۔ یہ سب باتیں سنت سے معلوم ہوتی ہیں۔
2۔ جن اعضاء کو دھونے کا قرآن میں ذکر ہے انہیں ایک بار دھونے سے بھی فرض کی ادائیگی ہو جاتی ہے اور سنت یہ ہے کہ انہیں دو بار یا تین بار دھویا جائے۔ تین بار دھونا افضل ہے۔ اسی طرح کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی تین بار افضل اور تین بار سے زیادہ دھونا مکروہ ہے۔
3۔ پہلے دایاں ہاتھ دھویا جائے پھر بایاں۔ اسی طرح پاؤں میں بھی یہی ترتیب ملحوظ رکھنی چاہیے۔ دائیں سے شروع کرنا اور اسے ترجیح دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
4۔ ہر نماز کے لیے نئے سرے سے وضو کرنا واجب نہیں بلکہ ایک ہی وضو سے (یعنی اگر حدث نہ ہوا ہو) تو متعدد نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں۔
5۔ سفر میں ایک وضو کر کے موزے یا جرابیں پہننے کے بعد ان پر تین دن تک مسح کیا جا سکتا ہے اور حضر میں اس کی مدت صرف ایک دن ہے۔
6۔ اگر کوئی عضو زخمی ہو جسے دھونے سے نقصان کا اندیشہ ہو تو اس پر پٹی باندھ کر اس پر مسح کیا جا سکتا ہے۔
﴿ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ﴾
(یعنی ایڑیاں نہ دھونے کی خرابی یہ ہے کہ انہیں آگ کا عذاب چھوئے گا لہٰذا ﴿اَرْجُلَكُمْ﴾ میں لام پر فتحہ والی قرأت کو ہی راجح قرار دیا جا سکتا ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر ﴿اَرْجُلَكُمْ﴾ میں لام پر کسرہ کی قراءۃ کو بھی درست قرار دیا جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ﴿اَرْجُلَكُمْ﴾ پر ﴿بِرءُ وُسِكُمْ﴾ کا عطف تسلیم کیا جائے کیونکہ لام پر کسرہ عطف کی وجہ سے نہیں بلکہ جر جوار کے طور پر آیا ہے اور اس کی مثالیں قرآن کریم میں متعدد جگہ موجود ہیں جیسے سورۃ ہود میں ہے ﴿عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ﴾ [11: 44] اور سورۃ ؤاقعہ میں ہے ﴿وَحُوْرٌ عِيْنٌ﴾ [56: 22] مطلب یہ ہے کہ عربی گرامر کے مطابق حرکات بسا اوقات قریب کے لفظ کے مطابق آجاتی ہیں اس لحاظ سے ﴿اَرْجُلَكُمْ كا برءُ وُسْكُمْ ﴾پر عطف نہیں بلکہ ﴿بِرَوُسِكُمْ﴾ سے قریب ہونے کی وجہ سے کسرہ یا جر میں شریک ہے، مسح کرنے میں نہیں۔ اور تیسرا جواب عقلی ہے جو یہ ہے کہ سر چونکہ بدن کا سب سے اعلیٰ حصہ ہے لہٰذا وہ اکثر نجاست اور غلاظت سے محفوظ رہتا ہے پھر بسا اوقات ڈھکا ہوا بھی ہوتا ہے لہٰذا اسے دھونے کے بجائے اس کا مسح ہی کافی سمجھا گیا ہے جبکہ پاؤں بدن کا سب سے نچلا حصہ ہے جو نجاست اور کثافت سے اکثر متاثر ہوتا رہتا ہے لہٰذا زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ پاؤں پر مسح کرنے کے بجائے انہیں دھویا جائے۔
[مسلم۔ کتاب الطہارۃ باب فضل الوضوء]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے تازہ وضو کیا کرتے تھے، فتح مکہ والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور اسی ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں، یہ دیکھ کر سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا جو آج سے پہلے نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں میں نے بھول کر ایسا نہیں کیا بلکہ جان بوجھ کر قصداً یہ کیا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:277]
ابن ماجہ وغیرہ میں کہ { جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ہاں پیشاب کریں یا وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کر لیا کرتے اور وضو ہی کے بچے ہوئے پانی سے جرابوں پر مسح کر لیا کرتے۔ یہ دیکھ کر فضل بن مبشر نے سوال کیا کہ کیا آپ اسے اپنی رائے سے کرتے ہیں؟ فرمایا ”نہیں بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:511،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس کے ایک راوی محمد بن اسحاق رحمہ اللہ ہیں لیکن چونکہ انہوں نے صراحت کے ساتھ «حدثنا» کہا ہے اس لیے تدلیس کا خوف بھی جاتا رہا۔ ہاں ابن عساکر کی روایت میں یہ لفظ نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اس فعل اور اس پر ہمیشگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مستحب ضرور ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔
سیدنا عمر فاروق رضوان اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وضو ٹوٹے بغیر وضو کرنا زیادتی ہے۔ اولاً تو یہ فعل سنداً بہت غریب ہے، دوسرا یہ کہ مراد اس سے وہ شخص ہے جو اسے واجب جانتا ہو اور صرف مستحب سمجھ کر جو ایسا کرے وہ تو عامل بالحدیث ہے۔
بخاری سنن وغیرہ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے نیا وضو کرتے تھے، ایک انصاری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ سن کر کہا اور آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ فرمایا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے تھے جب تک وضو ٹوٹے نہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:214]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { جو شخص وضو پر وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں }، ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے ۱؎ [سنن ترمذي:59،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور امام ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے۔
ایک جماعت کہتی ہے کہ آیت سے صرف اتنا ہی مقصود ہے کہ کسی اور کام کے وقت وضو کرنا واجب نہیں صرف نماز کیلئے ہی اس کا وجوب ہے۔ یہ فرمان اس لیے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ وضو ٹوٹنے پر کوئی کام نہ کرتے تھے جب تک پھر وضو نہ کر لیں
ابن ابی حاتم وغیرہ کی ایک ضعیف غریب روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کا ارادہ کرتے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بولتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب نہ دیتے ہم سلام علیک کرتے پھر بھی جواب نہ دیتے یہاں تک کہ یہ آیت رخصت کی اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11342:ضعیف]
ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے کچھ نماز تھوڑا ہی پڑھنی ہے جو میں وضو کروں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:374]
آیت کے ان الفاظ سے کہ ’ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو وضو کر لیا کرو ‘ علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ وضو میں نیت واجب ہے، مطلب کلام اللہ شریف کا یہ ہے کہ نماز کیلئے وضو کر لیا کرو۔ جیسے عرب میں کہا جاتا ہے، جب تو امیر کو دیکھے تو کھڑا ہو جا تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ امیر کیلئے کھڑا ہو جا۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کیلئے صرف وہی ہے جو وہ نیت کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1]
اور منہ کے دھونے سے پہلے وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنا مستحب ہے۔ کیونکہ ایک پختہ اور بالکل صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شخص کا وضو نہیں جو اپنے وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ کہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:101، قال الشيخ الألباني:صحیح] (حدیث کے ظاہری الفاظ تو نیت کی طرح «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنے پر بھی وجوب کی دلالت کرتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
یہ بھی یاد رہے کہ وضو کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کا ان کا دھو لینا مستحب ہے اور جب نیند سے اٹھا ہو تب تو سخت تاکید آتی ہے بخاری و مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک کہ تین مرتبہ دھو نہ لے، اسے نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ رات کے وقت کہاں رہے ہوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:162]
ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو داڑھی ڈھانپے ہوئے دیکھ کر فرمایا: { اسے کھول دے یہ بھی منہ میں داخل ہے } }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفه البانی:5754:ضعیف]
مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”عرب کا محاورہ بھی یہی ہے کہ جب بچے کے داڑھی نکلتی ہے تو وہ کہتے ہیں «طَلَعَ وَجْهُهُ» ۔“ پس معلوم ہوتا ہے کہ کلام عرب میں داڑھی منہ کے حکم میں ہے اور لفظ «وَجْهُهُ» میں داخل ہے۔
داڑھی گھنی اور بھری ہوئی ہو تو اس کا خلال کرنا بھی مستحب ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے منہ دھوتے وقت تین دفعہ داڑھی کا خلال کیا۔ پھر فرمایا ”جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے“ ۱؎ [سنن ترمذي:31،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس روایت کو امام بخاری اور امام ترمذی رحمة الله علیہم حسن بتاتے ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے وقت ایک چلو پانی لے کر اپنی تھوڑی تلے ڈال کر اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ { مجھے میرے رب عزوجل نے اسی طرح حکم فرمایا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:145،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحاح وغیرہ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے بیٹھتے کلی کرتے اور ناک میں پانی دیتے }۔
ائمہ کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں وضو اور غسل میں میں واجب ہیں یا مستحب؟ امام احمد بن حنبل کا مذہب تو وجوب کا ہے اور امام شافعی اور امام مالک مستحب کہتے ہیں ان کی دلیل سنن کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں جلدی جلدی نماز پڑھنے والے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا مروی ہے کہ { وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:857،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام حنیفہ رحمة الله کا مسلک یہ ہے کہ غسل میں واجب اور وضو میں نہیں، ایک روایت امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ناک میں پانی دینا تو واجب اور کلی کرنا مستحب، کیونکہ بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { جو وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈالے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:161]
اور روایت میں ہے { تم میں سے جو وضو کرے وہ اپنے دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے اور اچھی طرح وضو کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:162]
«إِلَى الْمَرَافِقِ» سے مراد «مَـعَ الْمَرَافِقِ» ہے، جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:2] یعنی ’ یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں سمیت نہ کھا جایا کرو یہ بڑا ہی گناہ ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک نہیں، بلکہ کہنیوں سمیت دھونا چاہیئے۔
دارقطنی وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے اپنی کہنیوں پر پانی بہاتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2067:صحیح] لیکن اس کے دو راویوں میں کلام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
وضو کرنے والے کیلئے مستحب ہے کہ کہنیوں سے آگے اپنے شانے کو بھی وضو میں دھوئے کیونکہ بخاری مسلم میں حدیث ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت وضو کے نشانوں کی وجہ سے قیامت کے دن چمکتے ہوئے اعضاؤں سے آئے گی پس تم میں سے جس سے وہ ہو سکے وہ اپنی چمک کو دور تک لے جائے}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:136]
صحیح مسلم میں ہے { مومن کو وہاں تک زیور پہنائے جائیں گے جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:250]
عبداللہ بن زید بن عاصم صحابی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے کہا ”آپ رضی اللہ عنہ وضو کر کے ہمیں بتلائیے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو دفعہ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی دیا، تین ہی دفعہ اپنا منہ دھویا، پھر کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ دھوئے، پھر دونوں ہاتھ سے سر کا مسح کیا سر کے ابتدائی حصے سے گدی تک لے گئے، پھر وہاں سے یہیں تک واپس لائے، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:185]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ اسی طرح منقول ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:49،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:121،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیثیں دلیل ہیں اس پر کہ پورے سر کا مسح فرض ہے۔
ان دونوں جماعتوں کی دلیل مغیرہ بن شعبہ والی حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر چکے تو مجھ سے پانی طلب کیا میں لوٹا لے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہنچے دھوئے پھر منہ دھویا پھر کلائیوں پر سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی سے ملے ہوئے بالوں اور پگڑی پر مسح کیا اور دونوں جرابوں پر بھی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:274]
اس کا جواب امام احمد رحمة الله اور ان کے ساتھی یہ دیتے ہیں کہ سر کے ابتدائی حصہ پر مسح کر کے باقی پگڑی پر پورا کر لیا اور اس کی بہت سی مثالیں احادیث میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صافے پر اور جرابوں پر برابر مسح کیا کرتے تھے، پس یہی اولیٰ ہے اور اس میں ہرگز اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ سر کے بعض حصے پر یا صرف پیشانی کے بالوں پر ہی مسح کر لے اور اس کی تکمیل پگڑی پر نہ ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
{ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ وضو کرنے بیٹھتے ہیں اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے ہیں، انہیں دھو کر پھر کلی کرتے ہیں اور ناک میں پانی دیتے ہیں، پھر تین مرتبہ منہ دھوتے ہیں، پھر تین تین بار دونوں ہاتھو کہنیوں سمیت دھوتے ہیں، پہلے دایاں پھر بایاں۔ پھر اپنے سر کا مسح کرتے ہیں پھر دونوں پیر تین تین بار دھوتے ہیں پہلے داہنا پھر بایاں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا“ اور وضو کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:159]
سنن ابی داؤد میں اسی روایت میں سر کے مسح کرنے کے ساتھ ہی یہ لفظ بھی ہیں کہ { سر کا مسح ایک مرتبہ کیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:108،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:111،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور جن لوگوں نے سر کے مسح کو بھی تین بار کہا ہے انہوں نے حدیث سے دلیل لی ہے۔ جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار اعضاء وضو کو دھویا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:230]
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے وضو کیا پھر اسی طرح روایت ہے اور اس میں کلی کرنی اور ناک میں پانی دینے کا ذکر نہیں اور اس میں ہے کہ پھر آپ نے تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے۔ پھر فرمایا { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا اور آپ نے فرمایا جو ایسا وضو کرے اسے کافی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:107،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے جو حدیثیں صحاح میں مروی ہیں ان سے تو سر کا مسح ایک بار ہی ثابت ہوتا ہے۔
سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت عروہ رضی اللہ عنہ، عطاء، عکرمہ، حسن، مجاہد، ابراہیم، ضحاک، سدی، مقاتل بن حیان، زہری، ابراہیم تیمی رحمة الله علیہم وغیرہ کا یہی قول ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:54/10] اور یہی قرأت ہے، اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ پاؤں دھونے چاہئیں، یہی سلف کا فرمان ہے اور یہیں سے جمہور نے وضو کی ترتیب کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔
صرف ابوحنیفہ رحمة الله اس کے خلاف ہیں، وہ وضو میں ترتیب کو شرط نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص پہلے پیروں کو دھوئے پھر سر کا مسح کرے پھر ہاتھ دھوئے پھر منہ دھوئے جب بھی جائز ہے اس لیے کہ آیت نے ان اعضاء کے دھونے کا حکم دیا ہے۔ واؤ کی دلالت ترتیب پر نہیں ہوتی۔
اس کے جواب جمہور نے کئی ایک دیئے ہیں، ایک تو یہ کہ ”ف“ ترتیب پر دلالت کرتی ہے، آیت کے الفاظ میں نماز پڑھنے والے کو منہ دھونے کا حکم لفظ «فَاغْسِلُوا» سے ہوتا ہے۔ تو کم از کم منہ کا اول اول دھونا تو لفظوں سے ثابت ہوگیا اب اس کے بعد کے اعضاء میں ترتیب اجماع سے ثابت ہے جس میں اختلاف نظر نہیں آتا۔
پھر جبکہ ”ف“ جو تعقیب کیلئے ہے اور جو ترتیب کی مقتضی ہے ایک پر داخل ہو چکی تو اس ایک کی ترتیب مانتے ہوئے دوسری کی ترتیب کا انکار کوئی نہیں کرتا بلکہ تو سب کی ترتیب کے قائل ہیں یا کسی ایک کی بھی ترتیب کے قائل نہیں۔ پس یہ آیت ان پر یقیناً حجت ہے جو سرے سے ترتیب کے منکر ہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا اسے بھی ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ ترتیب پر دلالت کرتا ہے جیسے کہ نحویوں کی ایک جماعت کا اور بعض فقہاء کا مذہب ہے پھر یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ بالفرض لغتاً اس کی دلالت پر ترتیب پر نہ بھی ہو تاہم شرعاً تو جن چیزوں میں ترتیب ہو سکتی ہے ان میں اس کی دلالت ترتیب پر ہوتی ہے۔
پس معلوم ہوا کہ جس کا ذکر پہلے ہو اسے پہلے کرنا اور اس کے بعد اسے جس کا ذکر بعد میں ہو کرنا واجب ہے۔ پس صاف ثابت ہو گیا کہ ایسے مواقع پر شرعاً ترتیب مراد ہوتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تیسری جماعت جواباً کہتی ہے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کے حکم اور پیروں کو دھونے کے حکم کے درمیان سر کے مسح کے حکم کو بیان کرنا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ مراد ترتیب کو باقی رکھنا ہے، ورنہ نظم کلام کو یوں الٹ پلٹ نہ کیا جاتا۔ ایک جواب اس کا یہ بھی ہے کہ ابوداؤد وغیرہ میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھو کر وضو کیا پھر فرمایا یہ وضو ہے کہ جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نے نماز کو قبول نہیں کرتا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:419،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اب دو صورتیں ہیں یا تو اس وضو میں ترتیب تھی یا نہ تھی؟ اگر کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وضو مرتب تھا یعنی باقاعدہ ایک کے پیچھے ایک عضو دھویا تھا تو معلوم ہوا کہ جس وضو میں تقدیم تاخیر ہو اور صحیح طور پر ترتیب نہ ہو وہ نماز نامقبول لہٰذا ترتیب واجب و فرض اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس وضو میں ترتیب نہ تھی بلکہ بے ترتیب تھا، پیر دھو لیے پھر کلی کر لی پھر مسح کر لیا پھر منہ دھو لیا وغیرہ تو عدم ترتیب واجب ہو جائے گی حالانکہ اس کا قائل امت میں سے ایک بھی نہیں پس ثابت ہو گیا کہ وضو میں ترتیب فرض ہے۔
چنانچہ ابن جریر میں ہے کہ موسیٰ بن انس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ حجاج نے اہواز میں خطبہ دیتے ہوئے طہارت اور وضو کے احکام میں کہا کہ منہ ہاتھ دھوؤ اور سر کا مسح کرو اور پیروں کو دھویا کرو عموماً پیروں پر ہی گندگی لگتی ہے۔ پس تلوؤں کو اور پیروں کی پشت کو اور ایڑی کو خوب اچھی طرح دھویا کرو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا کہ اللہ سچا ہے اور حجاج جھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہےآیت «وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ» [المائدہ:6] اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ پیروں کا جب مسح کرتے انہیں بالکل بھگو لیا کرتے، آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں پیروں پر مسح کرنے کا حکم ہے، ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پیروں کا دھونا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وضو میں دو چیزوں کا دھونا ہے اور دو پر مسح کرنا۔ قتادہ رحمة الله سے بھی یہی مروی ہے۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت میں پیروں پر مسح کرنے کا بیان ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ، علقمہ، ابو جعفر، محمد بن علی رحمة الله علیہم اور ایک روایت میں حسن اور جابر بن زید رحمة الله علیہم اور ایک روایت میں مجاہد رحمة الله سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
عامر رحمة الله سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں جبرائیل علیہ السلام پیروں کے دھونے کا حکم لائے ہیں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مسح کے حکم کے ساتھ نازل ہوئے تھے۔“ پس یہ سب آثار بالکل غریب ہیں اور محمول ہیں اس امر پر کہ مراد مسح سے ان بزرگوں کی ہلکا دھونا ہے، کیونکہ سنت سے صاف ثابت ہے کہ پیروں کا دھونا واجب ہے۔
یاد رہے کہ زیر کی قرأت یا تو مجاورت اور تناسب کلام کی وجہ سے ہے جیسے عرب کا کلام «حُجْرُ ضَبِّ خربٍ» میں اور اللہ کے کلام آیت «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» ۱؎ [76-الإنسان:21] میں لغت میں عرب میں پاس ہونے کی وجہ سے دونوں لفظوں کو ایک ہی اعراب دے دینا یہ اکثر پایا گیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب پیروں پر جرابیں ہوں بعض کہتے ہیں مراد مسح سے ہلکا دھو لینا ہے جیسے کہ بعض روایتوں میں سنت سے ثابت ہے۔ الغرض پیروں کا دھونا فرض ہے جس کے بغیر وضو نہ ہو گا۔ آیت بھی یہی ہے اور احادیث میں بھی یہی ہے جیسے کہ اب ہم انہیں وارد کریں گے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
بیہقی میں ہے { سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز کے بعد بیٹھک میں بیٹھے رہے پھر پانی منگوایا اور ایک چلو سے منہ کا، دونوں ہاتھوں سر کا اور دونوں پیروں کا مسح کیا اور کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پی لیا پھر فرمانے لگے کہ { لوگ کھڑے کھڑے پانی پینے کو مکروہ کہتے ہیں اور میں نے جو کیا یہی کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بے وضو نہ ہوا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5615]
پس حقیقتاً امام صاحب کا ارادہ یہی ہے جو میں نے ذکر کیا اور اس کو نہ سمجھ کر اکثر فقہاء نے اسے مشکل جان لیا، میں نے مکرر غور و فکر کیا تو مجھ پر صاف طور سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امام صاحب دونوں قرأتوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں پس زیر کی قرأت یعنی مسح کو تو وہ محمول کرتے ہیں «ذَلِك» پر یعنی اچھی طرح مل رگڑ کر صاف کرنے پر اور زبر کی قرأت کو غسل پر یعنی دھونے پر دلیل ہے ہی پس وہ دھونے اور ملنے دونوں کو واجب کہتے ہیں تاکہ زیر اور زبر کی دونوں قرأتوں پر ایک ساتھ ہو جائے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ { ایک مرتبہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ہم جلدی جلدی وضو کر رہے تھے کیونکہ عصر کی نماز کا وقت کافی دیر سے ہو چکا تھا ہم نے جلدی جلدی اپنے پیروں پر چھوا چھوئی شروع کردی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بلند آواز سے فرمایا: { وضو کو کامل اور پورا کرو ایڑیوں کو خرابی سے آگ کے لگنے سے } } ۱؎ [صحیح بخاری:96]
ایک اور حدیث میں ہے { ویل ہے ایڑیوں کیلئے اور تلوں کیلئے آگ سے }۔ ۱؎ [مسند احمد:191/4:صحیح]
اور روایت میں ہے { ٹخنوں کو ویل ہے آگ سے } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:454،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک شخص کے پیر میں ایک درہم کے برابر جگہ بے دھلی دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { خرابی ہے ایڑیوں کیلئے آگ سے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:454،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں دو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان الفاظ کو کہنا وارد ہے راوی ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مسجد میں ایک بھی شریف و وضیع ایسا نہ رہا جو اپنی ایڑیوں کو باربار دھو کر نہ دیکھتا ہو ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11528:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس کی ایڑی یا ٹخنے میں بقدر نیم درہم کے چمڑی خشک رہ گئی تھی تو یہی فرمایا } پھر تو یہ حالت تھی کہ اگر ذرا سی جگہ پیر کی کسی خشک رہ جاتی تو وہ پورا وضو پھر سے کرتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11529:ضعیف]
پس ان احادیث سے کھلم کھلا ظاہر ہے کہ پیرو کا دھونا فرض ہے، اگر ان کا مسح فرض ہوتا تو ذرا سی جگہ کے خشک رہ جانے پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وعید سے اور وہ بھی جہنم کی آگ کی وعید سے نہ ڈراتے، اس لیے کہ مسح میں ذرا ذرا اسی جگہ پر ہاتھ کا پہنچانا داخل ہی نہیں۔ بلکہ پھر تو پیر کے مسح کی وہی صورت ہوتی ہے جو پیر کے اوپر جراب ہونے کی صورت میں مسح کی صورت ہے۔ یہی چیز امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شیعوں کے مقابلہ میں پیش کی ہے
مسند میں ہے کہ { ایک نمازی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دیکھا کہ اس کے پیر میں بقدر درہم کے جگہ خشک رہ گئی ہے تو اسے وضو لوٹانے کا حکم کیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:175،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا وضو کا طریقہ جو مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کے درمیان خلال بھی کیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:230]
سنن میں ہے { سیدنا صبرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کی نسبت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وضو کامل اور اچھا کرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی اچھی طرح دھو ہاں روزے کی حالت میں ہو تو اور بات ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2366،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند و مسلم وغیرہ میں ہے { عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وضو کی بابت خبر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو شخص وضو کا پانی لے کر کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی دیتا ہے اس کے منہ سے نتھنوں سے پانی کے ساتھ ہی خطائیں جھڑ جاتی ہیں جبکہ وہ ناک جھاڑتا ہے پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جیسا کہ اللہ کا حکم ہے تو اس کے منہ کی خطائیں داڑھی اور داڑھی کے بالوں سے پانی کے گرنے کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے کہنیوں سمیت تو اس کے ہاتھوں کو گناہ اس کی پوریوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں، پھر وہ مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی خطائیں اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت حکم الٰہی کے مطابق دھوتا ہے تو انگلیوں سے پانی ٹپکنے کے ساتھ ہی اس کے پیروں کے گناہ بھی دور ہو جاتے ہیں، پھر وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کے لائق جو حمد و ثناء ہے اسے بیان کر کے دو رکعت نماز جب ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ تولد ہوا ہو } }۔
صحیح مسلم کی دوسری سند والی حدیث میں ہے { پھر وہ اپنے دونوں پاؤں کو دھوتا ہے جیسا کہ اللہ نے اسے حکم دیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:832]
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں قدم جوتی میں ہی بھگو لیے }، اس سے مراد جوتیوں میں ہی ہلکا دھونا ہے اور چپل جوتی پیر میں ہوتے ہوئے پیر دھل سکتا ہے۔ غرض یہ حدیث بھی دھونے کی دلیل ہے البتہ اس سے ان وسواسی اور وہمی لوگوں کی تردید ہے جو حد سے گزر جاتے ہیں۔
اسی طرح وہ دوسری حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کے کوڑا ڈالنے کی جگہ پر پیشاب کیا پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کر لیا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11531]
لیکن یہی حدیث دوسری سندوں سے مروی ہے اور ان میں کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جرابوں پر مسح کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:224] اور میں مطابقت کی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جرابیں پیروں میں تھیں اور ان پر نعلین تھے اور ان دونوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسح کرلیا۔
یہی مطلب اس حدیث کا بھی ہے، مسند احمد میں اوس ابو اوس سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دیکھتے ہوئے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا اور نماز کیلئے کھڑے ہو گئے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:160،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوڑے پر پیشاب کرنا پھر وضو کرنا اور اس میں نعلین اور دونوں قدموں پر مسح کرنا مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:160،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام ابن جریر رحمة الله اسے بیان کرتے ہیں، پھر فرمایا ہے کہ ”یہ محمول اس پر ہے کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا وضو تھا۔“ (یا یہ محمول ہے اس پر کہ نعلین جرابوں کے اوپر تھے۔ مترجم)
چونکہ زیر کی قرأت سے پیروں کا دھونا اور زیر کی قرأت کا بھی اسی پر محمول ہونا فرضیت کا قطعی ثبوت ہے اس سے بعض سلف تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اس آیت سے جرابوں کا مسح ہی منسوخ ہے، گو ایک روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی مروی ہے لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں بلکہ خود آپ رضی اللہ عنہ سے صحت کے ساتھ اس کے خلاف ثابت ہے اور جن کا بھی یہ قول ہے ان کا یہ خیال صحیح نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔
مسند احمد میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ سورۃ المائدہ کے نازل ہونے کے بعد ہی میں مسلمان ہوا اور اپنے اسلام کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جرابوں پر مسح کرتے دیکھا۔ ۱؎ [مسند احمد:363/4:صحیح]
بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کرتے ہوئے اپنی جرابوں پر مسح کیا ان سے پوچھا گیا کہ آپ رضی اللہ عنہ ایسا کرتے ہیں؟ تو فرمایا { یہی کرتے ہوئے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے }۔ راوی حدیث ابراہیم فرماتے ہیں لوگوں کو یہ حدیث بہت اچھی لگتی تھی اس لیے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا سورۃ المائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:387]
خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح مسلم میں یہ ثابت ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:376] لیکن روافض اسے نہیں مانتے، جیسے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہی روایت سے بخاری مسلم میں نکاح متعہ کی ممانعت ثابت ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4616] لیکن تاہم شیعہ اسے مباح قرار دیتے ہیں۔
ٹھیک اسی طرح یہ آیہ کریمہ دونوں پیروں کے دھونے پر صاف دلالت کرتی ہے اور یہی امر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا متواتر احادیث سے ثابت ہے لیکن شیعہ جماعت اس کی بھی مخالف ہے۔ فی واقع ان مسائل میں ان کے ہاتھ دلیل سے بالکل خالی ہیں۔ «ولِلَّـهِ الْحَمْدُ» ۔
امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”جن «كَعْبَيْن» کا یہاں ذکر ہے یہ ٹخنے کی دو ہڈیاں ہیں جو ادھر ادھر قدرے ظاہر دونوں طرف ہیں۔“ ایک ہی قدم میں «كَعْبَيْن» ہیں لوگوں کے عرض میں بھی یہی ہے اور حدیث کی دلالت بھی اسی پر ہے۔
بخاری میں تعلیقاً بصیغہ جزم اور صحیح ابن خزیمہ میں اور سنن ابی داؤد میں ہے کہ { ہماری طرف متوجہ ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنی صفیں ٹھیک ٹھیک درست کر لو } تین بار یہ فرما کر فرمایا: { قسم اللہ کی یا تو تم اپنی صفوں کو پوری طرح درست کرو گے یا اللہ تمہارے دلوں میں مخالفت ڈال دے گا }۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ راوی حدیث فرماتے ہیں پھر تو یہ ہو گیا کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنہ اور گھٹنے سے گھٹنا اور کندھے سے کندھا ملا لیا کرتا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:725]
سیدہ عائشہ صدیقہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { میرے گلے کا ہار بیداء میں گرگیا ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری روکی اور میری گود میں سر رکھ کر سوگئے اتنے میں میرے والد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے اور مجھ پر بگڑنے لگے کہ ”تونے ہار کھو کر لوگوں کو روک دیا“ اور مجھے کچوکے مارنے لگے۔ جس سے مجھے تکلیف ہوئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں خلل اندازی نہ ہو، اس خیال سے میں ہلی جلی نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جاگے اور صبح کی نماز کا وقت ہو گیا اور پانی کی تلاش کی گئی تو پانی نہ ملا، اس پر یہ پوری آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حفیر کہنے لگے اے آل ابوبکر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کیلئے تمہیں بابرکت بنا دیا ہے تم ان کیلئے سرتاپا برکت ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4608]
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ میں تم پر حرج ڈالنا نہیں چاہتا اسی لیے اپنے دین کو سہل آسان اور ہلکا کر دیا ہے۔ بوجھل سخت اور مشکل نہیں ‘۔
حکم تو اس کا یہ تھا کہ پانی سے وضو کرو لیکن جب میسر نہ ہو یا بیماری ہو تو تمہیں تیمم کرنے کی رخصت عطا فرماتا ہے، باقی احکام احکام کی کتابوں میں ملاحظہ ہوں۔ بلکہ اللہ کی چاہت یہ ہے کہ تمہیں پاک صاف کر دے اور تمہیں پوری پوری نعمتیں عطا فرمائے تاکہ تم اس کی رحمتوں پر اس کی شکر گزاری کرو اس کی توسیع احکام اور رأفت و رحمت آسانی اور رخصت پر اس کا احسان مانو۔ وضو کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا تعلیم فرمائی ہے جو گویا اس آیت کے ماتحت ہے۔
میں نے کہا واہ واہ یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ میری یہ بات سن کر ایک صاحب نے جو میرے آگے ہی بیٹھے تھے فرمایا اس سے پہلے جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے وہ اس سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ میں نے جو غور سے دیکھا تو وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے آپ رضی اللہ عنہ مجھ سے فرمانے لگے تم ابھی آئے ہو، تمہارے آنے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ { جو شخص عمدگی اور اچھائی سے وضو کرے پھر کہے «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس میں سے چاہے داخل ہو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:234]
ابن جریر میں ہے { جو شخص وضو کرتے ہوئے جب اپنے ہاتھ یا بازوؤں کو دھوتا ہے تو ان سے ان کے گناہ دور ہو جاتے ہیں، منہ کو دھوتے وقت منہ کے گناہ الگ ہو جاتے ہیں، سر کا مسح سر کے گناہ جھاڑ دیتا ہے پیر کا دھونا ان کے گناہ دھو دیتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11549:صحیح المتن]
دوسری سند میں سر کے مسح کا ذکر نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:235/4:صحیح]
ابن جریر میں ہے { جو شخص اچھی طرح وضو کر کے نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے اس کے کانوں سے آنکوں سے ہاتھوں سے پاؤں سے سب گناہ الگ ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:252/5:حسن]
اور حدیث میں ہے { مال حرام کا صدقہ اللہ قبول نہیں فرماتا اور بے وضو کی نماز بھی غیر مقبول ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:224]
یہ روایت ابوداؤد، طیالسی، مسند احمد، ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:59،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه آية عظيمة قد اشتملت على أحكام كثيرةٍ نذكر منها ما يسَّره الله وسهله:
أحدها: أن هذه المذكورات فيها امتثالها والعمل بها من لوازم الإيمان الذي لا يتمُّ إلا به؛ لأنه صدَّرها بقوله: {يا أيها الذين آمنوا ... } إلى آخرها؛ أي: يا أيها الذين آمنوا، اعملوا بمقتضى إيمانِكم بما شَرَعناه لكم.
الثاني: الأمر بالقيام بالصلاة؛ لقوله: {إذا قمتم إلى الصلاة}.
الثالث: الأمر بالنيَّة للصلاة؛ لقوله: {إذا قمتم إلى الصلاة}؛ أي: بقصدها ونيَّتها.
الرابع: اشتراط الطَّهارة لصحَّة الصلاة؛ لأنَّ الله أمر بها عند القيام إليها، والأصل في الأمر الوجوب.
الخامس: أن الطَّهارة لا تجب بدخول الوقت، وإنما تجب عند إرادة الصلاة.
السادس: أنَّ كلَّ ما يُطلق عليه اسم الصلاة من الفرض والنفل وفرض الكفاية وصلاة الجنازة تُشْتَرَطُ له الطهارة، حتى السُّجود المجرَّد عند كثير من العلماء؛ كسجود التلاوة والشكر.
السابع: الأمر بغسل الوجه، وهو ما تحصُل به المواجهة من منابت شعر الرأس المعتاد إلى ما انحدر من اللحيين والذقن طولاً ومن الأذن إلى الأذن عرضاً، ويدخل فيه المضمضة والاستنشاق بالسنة ، ويدخل فيه الشعور التي فيه، لكن إن كانت خفيفة؛ فلا بد من إيصال الماء إلى البشرة، وإن كانت كثيفةً؛ اكتفي بظاهرها.
الثامن: الأمر بغسل اليدين، وأنَّ حدَّهما إلى المرفقين، و {إلى} كما قال جمهور المفسرين بمعنى مع؛ كقوله تعالى: {ولا تأكلوا أموالهم إلى أموالكم}، ولأن الواجب لا يتمُّ إلا بغسل جميع المرفق.
التاسع: الأمر بمسح الرأس.
العاشر: أنه يجب مسحُ جميعه؛ لأن الباء ليست للتبعيض، وإنما هي للملاصقة، وأنه يعمُّ المسح بجميع الرأس.
الحادي عشر: أنه يكفي المسح كيفما كان بيديه أو إحداهما أو خرقة أو خشبة أو نحوهما؛ لأن الله أطلق المسح، ولم يقيده بصفة، فدل ذلك على إطلاقه.
الثاني عشر: أن الواجب المسح؛ فلو غسل رأسه ولم يُمِرَّ يده عليه؛ لم يكفِ؛ لأنه لم يأتِ بما أمر الله به.
الثالث عشر: الأمر بغسل الرجلين إلى الكعبين، ويقال فيهما ما يقال في اليدين.
الرابع عشر: فيها الردُّ على الرافضة على قراءة الجمهور بالنصب، وأنَّه لا يجوز مسحهما ما دامتا مكشوفتين.
الخامس عشر: فيه الإشارة إلى مسح الخفين على قراءة الجر في {وأرجلكم}، وتكون كلٌّ من القراءتين محمولةً على معنى؛ فعلى قراءة النصب فيها غسلهما إن كانتا مكشوفتين، وعلى قراءة الجرِّ فيها مسحهما إذا كانتا مستورتين بالخفِّ.
السادس عشر: الأمر بالترتيب في الوضوء؛ لأنَّ الله تعالى ذكرها مرتَّبةً؛ ولأنَّه أدخل ممسوحاً ـ وهو الرأس ـ بين مغسولين، ولا يُعلم لذلك فائدة غير الترتيب.
السابع عشر: أنَّ الترتيب مخصوص بالأعضاء الأربعة المسمَّيات في هذه الآية، وأما الترتيب بين المضمضة والاستنشاق والوجه أو بين اليمنى واليسرى من اليدين والرجلين؛ فإن ذلك غير واجب، بل يستحبُّ تقديم المضمضة والاستنشاق على غسل الوجه، وتقديم اليمنى على اليسرى من اليدين والرجلين، وتقديم مسح الرأس على مسح الأذنين.
الثامن عشر: الأمر بتجديد الوضوء عند كلِّ صلاة؛ لتوجد صورة المأمور.
التاسع عشر: الأمر بالغسل من الجنابة.
العشرون: أنَّه يجب تعميمُ الغسل للبدن؛ لأنَّ الله أضاف التطهُّر للبدن ولم يخصِّصه بشيء دون شيء.
الحادي والعشرون: الأمر بغسل ظاهر الشعر وباطنِهِ في الجنابة.
الثاني والعشرون: أنَّه يندرج الحدث الأصغر في الحدث الأكبر، ويكفي مَنْ هما عليه أن ينوي ثم يعمِّم بدنه؛ لأنَّ الله لم يذكر إلا التطهُّر، ولم يذكر أنه يعيد الوضوء.
الثالث والعشرون: أنَّ الجنب يصدق على من أنزل المني يقظةً أو مناماً أو جامع ولو لم يُنْزِلْ.
الرابع والعشرون: أن من ذكر أنه احتلم ولم يجد بللاً؛ فإنه لا غسل عليه؛ لأنه لم تتحقَّق منه الجنابة.
الخامس والعشرون: ذكر مِنَّة الله تعالى على العباد بمشروعيته التيمُّم.
السادس والعشرون: أن من أسباب جواز التيمم وجود المرض الذي يضره غسله بالماء فيجوز له التيمم.
السابع والعشرون: أن من جملة أسباب جوازه؛ السفر والإتيان من البول والغائط إذا عدم الماء؛ فالمرض يجوِّز التيمم مع وجود الماء لحصول التضرر به، وباقيها يجوِّزه العدم للماء، ولو كان في الحضر.
الثامن والعشرون: أن الخارج من السبيلين من بول وغائطٍ ينقض الوضوء.
التاسع والعشرون: استدلَّ بها من قال: لا ينقضُ الوضوء إلاَّ هذان الأمران؛ فلا ينتقض بلمس الفرج ولا بغيره.
الثلاثون: استحباب التكنية عما يُستقذر التلفُّظ به ؛ لقوله تعالى: {أو جاء أحدٌ منكم من الغائط}.
الحادي والثلاثون: أن لمس المرأة بلذَّة وشهوةٍ ناقضٌ للوضوء.
الثاني والثلاثون: اشتراط عدم الماء لصحة التيمُّم.
الثالث والثلاثون: أنه مع وجود الماء ولو في الصلاة يبطل التيمُّم؛ لأنَّ الله إنَّما أباحه مع عدم الماء.
الرابع والثلاثون: أنَّه إذا دخل الوقت وليس معه ماءٌ؛ فإنه يلزمه طلبه في رَحْلِه وفيما قَرُب منه؛ لأنَّه لا يُقال: لم يجد لمن لم يطلب.
الخامس والثلاثون: أنَّ من وجد ماء لا يكفي بعض طهارته؛ فإنه يلزمه استعماله ثم يتيمَّم بعد ذلك.
السادس والثلاثون: أن الماء المتغيِّر بالطاهرات مقدَّم على التيمُّم؛ أي: يكون طهوراً؛ لأن الماء المتغيِّر ماء، فيدخل في قوله: {فلم تجدوا ماءً}.
السابع والثلاثون: أنَّه لا بدَّ من نية التيمُّم؛ لقوله: {فتيمَّموا}؛ أي: اقصدوا.
الثامن والثلاثون: أنه يكفي التيمُّم بكلِّ ما تصاعد على وجه الأرض من تراب وغيره، فيكون على هذا قوله: {فامسحوا بوجوهكم وأيديكم منه}: إما من باب التغليب وأنَّ الغالب أن يكونَ له غبارٌ يمسح منه ويعلق بالوجه واليدين، وإما أن يكون إرشاداً للأفضل، وأنَّه إذا أمكن التراب الذي فيه غبار فهو أولى.
التاسع والثلاثون: أنَّه لا يصح التيمُّم بالتُّراب النجس؛ لأنه لا يكون طيباً بل خبيثاً.
الأربعون: أنه يُمسَح في التيمُّم الوجه واليدان فقط دون بقية الأعضاء.
الحادي والأربعون: أنَّ قوله: {بوجوهكم}: شاملٌ لجميع الوجه، وأنه يعمُّه بالمسح.
إلاَّ أنه معفوٌّ عن إدخال التراب في الفم والأنف وفيما تحت الشعور ولو خفيفة.
الثاني والأربعون: أن اليدين تُمسحان إلى الكوعين فقط، لأن اليدين عند الإطلاق كذلك؛ فلو كان يُشترط إيصال المسح إلى الذراعين؛ لقيَّده الله بذلك؛ كما قيَّده في الوضوء.
الثالث والأربعون: أنَّ الآية عامةٌ في جواز التيمُّم لجميع الأحداث كلِّها؛ الحدث الأكبر والأصغر، بل ونجاسة البدن؛ لأن الله جعلها بدلاً عن طهارة الماء، وأطلق في الآية، فلم يقيِّد. وقد يقال: إن نجاسة البدن لا تدخل في حكم التيمُّم؛ لأنَّ السِّياق في الأحداث، وهو قول جمهور العلماء.
الرابع والأربعون: أنَّ محلَّ التيمُّم في الحدث الأصغر والأكبر واحدٌ، وهو الوجه واليدان.
الخامس والأربعون: أنه لو نوى من عليه حدثان التيمُّم عنهما؛ فإنه يجزئ؛ أخذاً من عموم الآية وإطلاقها.
السادس والأربعون: أنه يكفي المسح بأي شيء كان بيده أو غيرها؛ لأنَّ الله قال: {فامسحوا}، ولم يذكر الممسوح به، فدلَّ على جوازه بكل شيء.
السابع والأربعون: اشتراط الترتيب في طهارة التيمُّم كما يشترط ذلك في الوضوء، ولأنَّ الله بدأ بمسح الوجه قبل مسح اليدين.
الثامن والأربعون: أنَّ الله تعالى فيما شرعه لنا من الأحكام لم يجعل علينا في ذلك من حَرَج ولا مشقَّةٍ ولا عُسر، وإنَّما هو رحمةٌ منه بعباده ليطِّهرَهم وليتمَّ نعمتَه عليهم، وهذا هو.
التاسع والأربعون: أنَّ طهارة الظاهر بالماء والتراب تكميلٌ لطهارة الباطن بالتوحيد والتوبة النصوح.
الخمسون: أن طهارة التيمُّم وإن لم يكن فيها نظافة وطهارةٌ تُدْرَكُ بالحسِّ والمشاهدة؛ فإن فيها طهارةً معنويةً ناشئةً عن امتثال أمر الله تعالى.
الحادي والخمسون: أنَّه ينبغي للعبد أن يتدبَّر الحِكَمَ والأسرارَ في شرائع الله في الطهارة وغيرها؛ ليزدادَ معرفةً وعلماً ويزداد شكراً لله ومحبةً له على ما شَرَعَ من الأحكام التي توصل العبد إلى المنازل العالية الرفيعة.