محبتِ رسول ﷺ کے نام پر غیر اللہ سے استمداد: شبہات کا علمی جائزہ اور قرآن و سنت کی روشنی میں ان کا رد

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر سیّد شفیق الرحمن حفظہ اللہ کی کتاب "حب رسولﷺ کی آڑ میں مشرکانہ عقائد” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

محبت رسولﷺ کے دعویداروں کے اقوال:

اتنی صریح آیات کے باوجود ان نام نہاد عاشقان رسولﷺ نے لکھا۔

① اولیاء سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا ان کے ساتھ تو سل کرنا امر مشروع (یعنی شرعاً جائز) وشیءمرغوب (پسندیدہ چیز) ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا دشمن انصاف۔ [فتاوی رضویه از احمد رضا بریلوی :300]

② انبیاء و مرسلین، اولیاء علماء صالحین سے ان کے وصل (فوت ہونے) کے بعد بھی استعانت (تعاون طلب کرنا) و استمداد (مدد طلب کرنا)جائز ہے۔ اولیاء بعد انتقال بھی دنیا میں تصرف (حالات کو پھیرتے) کرتے ہیں۔ [الامن والعلی از احمد رضا:10]

③ احمد رضا بریلوی لکھتے ہیں: میں نے جب بھی مدد طلب کی یا غوث ہی کہا۔ ایک مرتبہ میں نے ایک دوسرے ولی (محبوب الہی) سے مدد مانگنی چاہی مگر میری زبان سے ان کا نام ہی نہ نکلا بلکہ زبان سے یا غوث ہی نکلا۔ [ملفوظات احمد رضا بریلوی، ص:307]

④ جو شخص کسی نبی یا رسول یا کسی ولی سے وابستہ ہو گا تو اس کے پکارنے پر وہ حاضر ہوگا اور مشکلات میں اس کی دستگیری کرے گا۔ [فتاوی افریقہ از احمد رضا بریلوی،ص:135]

⑤ احمد رضا بریلوی لکھتے ہیں: جب تمہیں پریشانی کا سامنا ہو تو اہل قبور سے مدد مانگو۔ [الامن والعلی، ص:36]

⑥ احمد رضا بریلوی لکھتے ہیں: ہر چیز ہر نعمت ہر مراد ہر دولت دین میں دنیا میں، آخرت میں روز اول سے آج تک آج سے ابدآباد تک جسے ملی یا ملتی ہے حضور اقدس سید عالمﷺ کے دست اقدس سے ملی اور ملتی ہے۔ [فتاوی الرضویہ، ص:577]

⑦ مفتی احمد یار خان سرپرست مدرسہ غوثیہ گجرات لکھتے ہیں: انبیاء وہ حضرات ہیں جن کو رب نے علوم اور معارف اس قدر دیتے ہیں جن سے وہ مخلوق کی اندرونی حالت اور ان کی ارواح میں تصرف (ان کی حالت بدلنے کا اختیار) کر سکتے ہیں۔ اور ان کو اس قدر قدرت وقوت دی ہے جس سے مخلوق کے ظاہر پر تصرف (ظاہری حالت بدلنے کا اختیار)کر سکتے ہیں۔ [جاء الحق:197،196]

مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں یہ نظریات صریحاً شرک ہیں اور اللہ تعالیٰ نے شرک کی کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ وہ دین جو صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے رسول اللہﷺ سے سیکھا اس میں یہ نظریات نہیں ہیں۔ اور نہ خیر القرون میں سے کسی سے یہ نظریات ثابت ہیں، بلکہ ائمہ اہل سنت نے شرک کو نواقض اسلام ( اسلام سے خارج کر دینے والا عمل ) میں شمار کیا ہے۔ راستہ وہی حق ہے جو رسول اللہﷺ نے بتایا ۔ اور صحابہ کرام نے سیکھا اور اس پر عمل کیا ۔ فرمان باری تعالی ہے:

[وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا]

جو چیز تم کو رسول (ﷺ) دے وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو۔ [الحشر:7]

یہی فرمایا: [مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ]

جس نے رسول سے کریم کی اطاعت کی بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ [النسا:80]

[وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الۡہُدٰی وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا]

اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کی مخالفت کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور قیامت کے دن جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے۔ [النساء:115]

جو قرآنی آیات کی تفسیر کرتے ہوئے سنت رسول ﷺ اور سبیل المومنین سے ہٹ جائے اس کا نظر یہ یقینا گمراہی پر مبنی ہے۔

ان باطل عقائد کی وکالت کرنے والے مصنفین نے جو کچھ اپنے حق میں بیان کیا ہے،علمائے اہل سنت کی کتب میں کثرت سے اس کا رد موجود ہے۔ جو لوگ انبیاء ملائکہ جنات اور اولیاء الغرض اللہ کے علاوہ مخلوق میں سے کسی ایک کو بھی مافوق الاسباب طریقہ سے پکارتے ہیں، ان کے بیان کو ،،غلط فہمی،،کے عنوان سے اور اس کا جواب،،ازالہ،،کے عنوان سے ملاحظہ فرمائیے۔

غلط فہمی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَالَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ]،[اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ وَمَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]

[اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں]،[ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے] [النحل:21،20]

اس آیت میں یدعون کا ترجمہ پکارنا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ ،،يَدْعُونَ،، کا ترجمہ پکار نہیں بلکہ عبادت کرنا ہے۔

[ ڈاکٹر مسعود عثمانی کی خرافات کا عملی محاسبہ:27]

ازاله

،،يَدْعُونَ،، کا ترجمہ پکارنا ہی ہے۔ احمد رضا بریلوی المومن کی آیت نمبر:20 کے ترجمہ میں یدعون کا ترجمہ پکارنا ہی کرتے ہیں۔ خود صاحب کتاب علمی محاسبہ نے تفسیر کبیر کے حوالے سے صفحہ:27 پر،،يَدْعُونَ،، کا ترجمہ حاجتیں طلب کرنا کیا ہے۔ یہی اس آیت کا اصل مفہوم ہے۔

دراصل کسی سے حاجتیں طلب کرنا ہی اس کی عبادت ہے۔ یہ بات قرآن مجید کی درج ذیل آیت سے واضح ہے۔

[وَقَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ]

اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے از راہ تکبر خودسری کرتے ہیں عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل کئے جائیں گے۔ [المومن:60]

الفاظ کتنے واضح ہیں پہلے اللہ سے دعا کا ذکر ہے اور پھر عبادت الہی سے خودسری کا یعنی اللہ سے دعا اللہ کی عبادت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نبی رحمتﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا:

[الدعاء هو العبادة]

دعا ہی عبادت ہے۔ [سنن ترمذی:3372]

آیت کے ساتھ حدیث مبارکہ نے بھی وضاحت کر دی کہ مافوق الاسباب کسی کو مشکل کشا سمجھ کر پکارنا اس کی عبادت ہے، اس آیت پر بھی غور فرمائیے:

[وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ]،[وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ]

[اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں]،[ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے]  [الأحقاف:6،5]

غور فرمائیے کہ بزرگ جس چیز کو عبادت گردانتے ہوئے اپنی عبادت کرنے والوں کے دشمن ہو رہے ہیں وہ غیر اللہ کی پکار ہی تو ہے۔

غلط فہمی

انبیاء کرام اور اولیاء عظام ،،من دون الله،، میں داخل نہیں ہیں بلکہ ،،من دون الله،، میں صرف بت داخل ہیں۔

ازاله

مشرکین بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ یہ بہت یونہی گھڑی ہوئی صورتیں نہ تھیں اور نہ ہی کوئی وہمی چیز کی تمثیل تھے۔ بلکہ ہمیشہ قوم کے دل میں انتہائی محبت اور عظمت پا جانے والی جانی پہچانی شخصیات کی شکلیں (تماثیل) تھیں۔

نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو تو حید کی دعوت دی تو قوم نے کہا:

[وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمۡ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا وَّ لَا یَغُوۡثَ وَ یَعُوۡقَ وَ نَسۡرًا]

اور انھوں نے کہا تم ہرگز اپنے معبودوںکو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی ودّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔ [نوح:23]

عبداللہ ابن عباس رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ یہ قوم نوح کے نیک مردوں کے نام ہیں۔جب وہ مر گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں خیال ڈالا کہ جن مقامات پر یہ اولیاء اللہ بیٹھا کرتے تھے،وہاں ان کے بت بنا کر کھڑے کر دو ( تاکہ ان کی یاد تازہ رہے۔ وہ ان کو پوجتے نہ تھے)۔ جب یہ یادگار بنانے والے فوت ہو گئے تو بعد والوں نے ان بزرگوں کے بتوں کی عبادت شروع کردی۔ [صحیح بخاری :4920]

عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: کہ لات ایک آدمی تھا جو حاجیوں کے لئے ستو گھولتا تھا۔ [صحیح بخاری:4859]

ان حوالوں سے بات واضح ہے کہ یہ بت بھی صالحین ہی کے تھے اور مشرکین بتوں کے رنگ میں صالحین کی بندگی ہی کرتے تھے عجیب بات ہے کہ لوگ جذبات میں آکر واقعاتی چیزوں کو بھی محسوس کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ عیسائی عیسی علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کے بت اور تصاویر بنا کر ان کی بندگی کا اظہار کرتے ہیں۔ کیا وہ ہر بت اور تصویر کو پوجیں گے؟ ہرگز نہیں؛ بلکہ اس کو جس میں ان کے نزدیک عیسی نام کا بت اور تصویر ہونے کی واضح علامت موجود ہو اور وہ ان کی توجہ ان کے معبود کی طرف مبذول کرا رہا ہو۔ اسی لیے اللہ فرماتا ہے:

[اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمۡثَالُکُمۡ فَادۡعُوۡہُمۡ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ]

بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمھاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔ [ الأعراف:194]

اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ مریم علیھا السلام کو ،،من دون الله،، میں شامل کیا:

[وَاِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ بِحَقٍّ]

اور جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا تو پاک ہے، میرے لیے بنتا ہی نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ [المائدة:116]

جب عیسی علیہ السلام اور مریم علیہا السلام ،،من دون اللہ،، میں داخل ہیں تو یہ دعوی غلط ہوا کہ انبیاء اور اولياء ،،من دون الله،، نہیں اور ،،من دون اللہ،، میں صرف بت شامل ہیں۔

مزید دیکھئے: اللہ تعالی نے علماء، درویشوں اور عیسی ابن مریم علیہ السلام کو ،،من دون اللہ،، میں شامل کیا ہے:

[اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ]

انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں، کوئی معبود نہیں مگر وہی ، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔ [ التوبة:31]

جب علماء درویش اور عیسی علیہ السلام ،،من دون اللہ،، میں داخل ہیں تو ،،من دون اللہ،، سے صرف بت مراد نہیں۔ بلکہ اللہ تعالی کے علاوہ ہر وہ مخلوق جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جائے۔ خواہ وہ اس فعل قبیح سے مکمل طور پر بری ہوں۔ جیسے انبیاء، ملائکہ اور صالحین جیسی مقتدر ہستیاں بھی ،،من دون اللہ،، میں شامل ہیں۔ ان جلیل القدر ہستیوں نے خصوصا انبیاء علیہم السلام نے تو اپنی تمام توانائیاں ایک بات کو سمجھانے اورمنوانے میں کھپادیں کہ اللہ ایک ہے اور عبادت کا حق صرف اسی کو پہنچتا ہے۔

غلط فہمی

یہ حقیقت ہے کہ ،،من دون الله،، اصولی طور پر وہ ہوتے ہیں جو سراسر باطل ہوں کیونکہ اللہ تعالی نے صاف صاف فرمایا:

[وَ اَنَّ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ہُوَ الۡبَاطِلُ]

اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وہ باطل ہے۔ [الحج:62]
کیا انبیاء اور اولیاء اللہ باطل ہو سکتے ہیں؟

ازاله

اس آیت میں بطلان جس بات کا ہو رہا ہے وہ صفت الوہیت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نفع و نقصان پہنچانے والا نہیں ہے۔ چاہے وہ انبیاء و اولیاء ہی کیوں نہ ہوں یہی بات اللہ تعالیٰ نے یوں بھی بیان فرمائی۔

[مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّؤۡتِیَہُ اللّٰہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوۡلَ لِلنَّاسِ کُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّیۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ کُوۡنُوۡا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡکِتٰبَ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ]،[ وَ لَا یَاۡمُرَکُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرۡبَابًا ؕ اَیَاۡمُرُکُمۡ بِالۡکُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ]

[کسی بشر کا کبھی حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم اور نبوت دے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جائو اور لیکن رب والے بنو، اس لیے کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم پڑھا کرتے تھے]،[ اور نہ یہ (حق ہے) کہ تمھیں حکم دے کہ فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو، کیا وہ تمھیں کفر کا حکم دے گا، اس کے بعد کہ تم مسلم ہو] [آل عمران:80،79] بات واضح ہے کہ اللہ کے علاوہ نبیوں کے بندے بننا اور نبیوں کو رب بنانا باطل ہے۔ نہ کہ معاذ اللہ انبیاء ملائکہ اور صالحین باطل بندے ہیں ۔ ایسے قول کے تصور سے بھی ایک مسلم کانپ اٹھتا ہے۔

غلط فہمی

اللہ تعالی نے اپنے نبیوں کو بڑی شان عطا فرمائی: عیسی علیہ السلام اللہ کے حکم سے مٹی کے پرندے کوپھونک مار کر پرندہ بنا لیتے تھے۔ مادر زاد اندھے اور برص والے کو شفا دیتے تھے۔ اور مردوں کو اللہ کے اذن سے زندہ کرتے تھے۔ یوسف علیہ السلام کے کرتے سے یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں روشن ہو گئیں۔ رسول اللہ ﷺ کی دعا سے جابر رضی اللہ عنہ کے باغ کی کھجوروں میں اضافہ ہوا۔ ایک صاع جو صحا بہ کرام رضي اللہ عنہم کی کثیر جماعت کے لئے کافی ہو گیا۔ آپ ﷺ کے لعاب دہن کی برکت سے سید نا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔ آپ کے ہاتھ کی برکت سے ٹوٹی ہوئی پنڈلی ٹھیک ہوئی لہذا رسول اللہ ﷺ کو امداد کے لئے پکارا جا سکتا ہے۔

ازاله

اہل سنت انبیاءکرام علیہم السلام کے معجزات اور اولیاء اللہ کی کرامات کے قائل ہیں۔

لیکن یا درکھیے! معجزات و کرامات اس بات کا ثبوت تو ضرور ہیں، کہ اللہ تبارک و تعالی کی قدرت کاملہ کے سامنے کوئی امر بھی محال نہیں ہے۔ مگر ان سے قانون اخذ کرنا باطل ہے، بلکہ یہ ہے ہی عام قانون میں محال شئے کا وجود پذیر ہونا۔

معراج رسول اللہ ﷺ  کا معجزہ ہے۔ معراج پر آپ انبیاء کرام علیہم السلام سے مسجد اقصیٰ میں ملے۔ پھر آسمانوں پر ملے۔ موسی علیہ السلام نے آپ کو بار بار اللہ تعالیٰ کی طرف بھیج کر پچاس نمازوں سے تخفیف کروا کر پانچ نمازیں مقرر کروائیں۔ آپ ﷺ نے جنت میں بلال رضي اللہ عنہ کو جوتیوں سمیت چلتے ہوئے دیکھا۔ یہ سب معجزات ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہیں۔ ستم یہ ہے کہ معجزات و کرامات کو قانون بنا لیا جاتا ہے۔ موسی علیہ السلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کے مکالمات کو بنیاد بنا کر یہ قانون ثابت کیا جاتا ہے۔ کہ مردے زندوں کی مدد کرتے ہیں انبیاء علیہم السلام کا مسجد اقصیٰ میں رسول اللہ ﷺ کی امامت میں نماز ادا کرنے کے معجزہ کو انبیاء کرام کی دنیاوی حیات پر دلیل بنایا جاتا ہے۔ معراج کی رات رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں، اس سے یہ قانون اخذ کیا جاتا ہے کہ نبی قبروں میں زندہ ہیں۔ معجزات چونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہیں۔ لہذا وہ قانون نہیں بن سکتے۔

معجزہ دکھا نا صرف اللہ کے اختیار میں ہے رسولوں کے اختیار میں نہیں یہ تو صرف ان کے ہاتھوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

[وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ]

اور کسی رسول کے اختیار میں یہ نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ [الرعد:38]

رسول اللہ ﷺ سے کفار نے کچھ معجزات دکھانے کا مطالبہ کیا۔

[وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا]،[ اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا]،[اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا]

اور کہنے لگے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ:

① ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری کر دیں۔

② یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو جس کے اندر آپ نہریں بہادیں۔

③ یا جیسا کہ آپ کہتے ہیں آسمان کے ٹکڑے لاگرائیں۔

④ یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں ۔

⑤ یا آپ کا مکان سونے کا بن جائے۔

⑥ یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہم آپ کے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک آپ ہمارے لئے کتاب نہ لائیں جسے ہم پڑھ بھی لیں۔

(اے رسولﷺ) آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب پاک ہے (یہ سب کام کر سکتا ہے) میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔ [بنی اسرائیل:90 تا 93]

ان آیات سے واضح ہے کہ معجزات دکھانا بشر اور رسول ﷺ کے اختیار میں نہیں۔ اس کی واضح مثال موسی علیہ السلام کا معجزہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[وَ اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدۡبِرًا وَّ لَمۡ یُعَقِّبۡ ؕ یٰمُوۡسٰۤی اَقۡبِلۡ وَ لَا تَخَفۡ ۟ اِنَّکَ مِنَ الۡاٰمِنِیۡنَ]

اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دو۔ جب (موسی نے لاٹھی) کو دیکھا کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا سانپ ہو تو پیٹھ پھیر کر چل دیئے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا اے موسیٰ آگے آؤ اور ڈرومت تم امن پانے والوں میں سے ہو۔ [القصص:31]

موسیٰ علیہ السلام  کا لاٹھی کے سانپ بنے پر ڈر محسوس کرنا واضح کرتا ہے کہ معجزات انبیاء علیہ السلام کے اختیار میں نہیں ہیں۔ پھر کرامات اولیاء اللہ کے اختیار میں کیسے ہو سکتی ہیں۔

ان دلائل سے ثابت ہوا کہ معجزات اللہ کی قدرت کا اظہار ہیں۔ قانون نہیں بن سکتے یقینا کسی کنواری کے بن بیا ہے بچہ پیدا نہ ہو گا اور نہ ہی کسی غیر شادی شدہ عورت کو بچہ پیدا ہونے کی شکل میں مریم علیہا السلام کے واقعہ سے دلیل پکڑنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ عیسی علیہ السلام کی پیدائش معجزہ ہے قانون نہیں۔ یہی وجہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے مردوں سے استغاثہ (مدد طلب کرنا) کی تعلیم نہیں دی بلکہ امام الانبیاء محمد رسول ﷺ سے اللہ تعالی نے اعلان کروایا۔

[قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ]

کہہ دو میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ [الأنعام:50]

[قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ]

کہہ دو میں تو اپنے لئے نفع و نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جتنا اللہ چاہے۔ [ يونس :49]

[قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا]

کہہ دو کہ میں تمہارے لئے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ [الجن:21]

جب افضل البشر، امام الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ اپنے لئے اور دوسروں کے لیے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، تو پھر اللہ قادر مطلق کے علاوہ کسی اور کو امداد کے لئے کیسے پکارا جا سکتا ہے؟

رسول اللہ ﷺ کا معجزہ تھا کہ بار بار پانی میں کھانے میں اور پھلوں میں غیر معمولی برکت ہوئی مگر قانون یہ ہے کہ آپ نے فاقے سے پیٹ پر پتھر باندھے بعض اوقات صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سارا دن صرف ایک کھجور پر گزارا کرتے رہے۔

معجزہ یہ ہے کہ شب معراج میں ایک ہی رات میں آپ نے مکہ سے بیت المقدس کا سفر کیا پھر ساتوں آسمانوں پر گئے، جنت کی سیر کی اور جہنم کی ہولناکیوں کا نظارہ کیا، اور دوسری طرف قانون یہ ہے کہ ہجرت کے سفر میں 3 دن ایک غار میں چھپنا پڑا۔ جنگ تبوک کے سفر میں گرمی کا موسم، گرم زمین، سواریوں کی کمی اور سفر کی مشکلات خود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے برداشت کیں۔

یہی وجہ ہے معجزات کی بنیاد پر کسی صحابی نے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ کو مشکلات میں امداد کے لئےنہیں پکارا۔ کیونکہ نبی رحمت ﷺ نے انہیں ایسا کرنے کی تعلیم نہیں دی تھی۔ بلکہ آپ ﷺ نے عبداللہ بن عباس بھی اسے فرمایا: [إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ] جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر اور جب مدد مانگے تو اللہ سے مدد مانگ۔ [سنن ترمذی:2516]

غلط فہمی

مولانا عبد المجید سوهدروی نے کرامات اہل حدیث نامی کتاب لکھی جس میں بعض علماء اہلحدیث کی کرامات درج کی ہیں۔ صرف دو ملاحظہ فرمائیں:

① سردار جلال الدین کی اولاد نہ ہوتی تھی۔ ایک بار اسے پتا چلا کہ فیروز پور شہر میں ایک مستانہ ہے جو مجذوب ہے اور بالکل ننگ دھڑنگ رہتا ہے وہ اس کے پاس گیا اور اس سے بیٹا مانگا۔ مجذوب بولا ، نالائق اگر بیٹا لینا ہے تو لکھو کی جا۔ سردار جلال الدین نے دل میں کہا کہ وہاں تو سب وہابی ہی وہابی ہیں بھلا وہاں بیٹا کیسے ملے گا؟ مجذوب نے کہا نالائق جاتا نہیں؟ تجھے بیٹا یہاں سے نہیں بلکہ وہاں سے ملے گا۔ سردار اس مستانہ کے ارشاد پر لکھو کی پہنچا اور اہل حدیث بزرگ عبدالرحمن لکھوی کو سارا واقعہ بیان کیا۔ عبدالرحمن صاحب نے کہا میں تیرے لئے دعا تو کر دیتا ہوں مگر تو منکر قرآن ہے۔ تیری سات بیویاں ہیں جبکہ قرآن نے چار سے زیادہ کی اجازت نہیں دی۔ تین کو یہاں طلاق دے تو پھر آپ نے دعا فرمائی۔ اگلے ہی سال اس کے ہاں فرزند ہوا۔ [ص:66]

② ایک بار قلعہ میاں سنگھ میں ایک حجام مولانا غلام رسول رو پیلیہ کی حجامت بنا رہا تھا،کہ اس نے یہ شکایت کی حضور میرا بیٹا کئی سال سے باہر گیا ہوا ہے۔ جس کا ہمیں کچھ پتا نہیں کہ کہاں ہے، زندہ ہے کہ مر گیا ہے! بس یہ ایک ہی بیٹا تھا، اس کی فکر میں ہم تو مرے جارہے ہیں۔ آپ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا میاں وہ تو گھر بیٹھا ہے اور کھا رہا ہے۔ جاؤ جا کر بے شک دیکھ لو۔ حجام گھر گیا تو سچ مچ بیٹا آیا ہوا تھا اور کھانا کھا رہا تھا۔ بیٹے سے ماجرا پوچھا تو اس نے کہا کہ ابھی ابھی میں سکھر سندھ میں تھا۔ معلوم نہیں مجھے کیا ہوا۔ اور کیونکر طرفہ العین میں یہاں پہنچ گیا۔ [ص:70]

جب اہل حدیث بزرگوں کے تصرف کا یہ حال ہے تو علی رضی اللہ عنہ اور رسول اللہﷺ کا تصرف تو یقینا ان سے بہت زیادہ ہے۔ پھر انہیں مشکلات میں پکارنا جائز کیوں نہیں؟

اسی طرح مولوی شاہ اسماعیل شہید اپنے پیر سید احمد بریلوی کی برتری ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب صراط مستقیم میں ایک کرامت یوں بیان کرتے ہیں۔

حضرت غوث الثقلین اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند کی روحوں کے درمیان ایک مہینے تک اس بات پر جھگڑا چلتا رہا کہ دونوں میں کون سید احمد بریلوی کو روحانی تربیت کے لیے اپنی کفالت میں لے دونوں بزرگوں کی روحوں میں سے ہر ایک روح کا اصرار تھا کہ وہ تنہا میری نگرانی میں عرفان و سلوک کی منزل طے کرے۔

آخر کار ایک مہینے کی آویزش کے بعد اس بات پر دونوں میں مصالحت ہوئی کہ مشترک طور پر دونوں یہ خدمت انجام دیں گے۔ چنانچہ ایک دن دونوں حضرات کی رو میں ان پر جلوہ گر ہوئیں اور پوری قوت کے ساتھ تھوڑی دیر تک ان پر عرفان و توجہ کا عکس ڈالا۔ یہاں تک کہ اتنے ہی وقفے میں انھیں ان پر دونوں سلسلوں کی نسبتیں حاصل ہو گئیں۔ [صراط مستقیم فارسی:ص166]

اس قصے کی صحت تسلیم کر لینے کی صورت میں کئی سوالات ذہن کی سطح پر ابھرتے ہیں:

اولا: یہ کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی ،،تقویۃ الایمان،، کے مطابق جب اللہ کی عطا سے بھی کسی میں غیب دانی کی قوت نہیں ہے تو حضرت غوث الثقلین اور حضرت خواجہ نقشبند کی ارواح طیبات کو کیونکر خبر ہو گئی کہ ہندوستان میں سید احمد بریلوی نامی ایک شخص اللہ کا مقرب بندہ ہے جس کی روحانی تربیت یا اعزاز اس قابل ہے کہ اس کی طرف سبقت کی جائے۔

ثانیا: یہ کہ واقعہ ہذا عالم شہادت کا نہیں بلکہ سرتا سر عالم غیب کا ہے۔ اس لیے مولوی اسماعیل دہلوی جو اس واقعہ کے خود راوی ہیں انھیں کیونکر علم ہوا کہ سید احمد بریلوی کی کفالت و تربیت کے لیے ان دونوں بزرگوں کی روحیں ایک مہینے تک آپس میں جھگڑتی رہیں اور بالآخر اس بات پر مصالحت ہوئی کہ دونوں مشترک طور پر اپنی کفالت میں لیں۔

ثالثا: یہ کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی ،،تقویۃ الایمان،، کے مطابق جب اللہ کے سوا سارے انبیاء و اولیاء بھی عاجز و بے اختیار بندے ہیں تو وفات کے بعد حضرت الوری اور خواجہ نقشبند کا یہ عظیم تصرف کیونکر سمجھ میں آسکتا ہے کہ وہ دونوں بزرگ بغداد سے سیدھے ہندوستان کے اس قصبے میں تشریف لائے جہاں سید احمد صاحب بریلوی مقیم تھے اور ان کے حجرے میں پہنچ کر چشم زدن میں انھیں باطنی و عرفانی دولت سے مالا مال کر دیا۔

نیز واقعہ کے انداز بیان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ باتیں خواب کی نہیں بلکہ عالم بیداری کی ہیں۔ اس لیے اب واقعہ کی تصدیق اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ ،،تقویۃ الایمان،، کے موقف سے ہٹ کر اولیائے کرام کے حق میں غیبی ادراک اور قدرت و اختیار کے عقیدے کی صحت کو تسلیم نہ کیا جائے۔

[زلزله ازارشدالقادری]

ازاله

اکثر بریلوی اور دیوبندی علماء اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے بعض اہلحدیث علماء کی تحریروں سے دلیل پکڑتے ہیں، اور وہ ثابت کرتے ہیں کہ چونکہ یہ اہلحدیث علماء بھی انہیں عقائد کا اظہار کرتے ہیں، تو یہی صحیح نظریات ہیں اس لیے اس غلط فہمی کا تفصیلی جواب ضروری ہے۔

① یہ صرف اللہ تعالی کا ہی حق ہے کہ وہ لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا طریقہ یعنی دین نازل کرے کیوں کہ حلال و حرام کا تعین کرنا اور دین سازی اسی کا حق ہے اس لیے حقیقی اطاعت صرف اللہ تعالی ہی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

[اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ]

لو گو تمہارے رب کی طرف سے جو نازل ہوا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے علاوہ اولیاء کی پیروی نہ کرو۔ [الأعراف:3]

اللہ تعالی نے محمد بن عبد اللہﷺ کو رسالت کے ساتھ مخصوص فرما کے آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اور ارشاد فرمایا:

[اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا]

(اے مسلمانوں) آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے تم پر اپنی سم کو ہرا کر دیا ہے اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین پسند کیا۔[المائدة:3]

یہ آیت 9 ذو الحجہ 10 ہجری میں میدان عرفات میں نازل ہوئی۔ اس کے نازل ہونے کے تین ماہ بعد رسول اللہﷺ یہ کامل اور اکمل دین امت کو سونپ کر رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ اور امت کو وصیت فرما  گئے میں تمہارے اندر ایسی دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، کہ جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے یعنی اللہ کی کتاب اور اسکے نبی ﷺکی سنت۔ [السنن الكبرى البيهقي، ط العلمية:20336]،[موطا امام مالك:3]

اور صرف محمدﷺ ہی وہ شخصیت ہیں جو دینی امور میں اپنی مرضی سے کوئی بات نہیں کہتے جو بات بھی کہتے ہیں، وہ اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق ہوتی ہے۔ [وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی]،[اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی] [اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے]،[ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے] [النجم:4،3]

اس لیے فرمایا: [مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ]

جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی پس تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ [النساء:80]

یہی وجہ ہے کہ دینی امور میں فیصلہ کن حیثیت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو حاصل ہے:

[فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ]

پس اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو [النساء:59]

معلوم ہوا اسلام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی پیروی کا نام ہے۔ رسول اللہﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اسلام کی تعلیم دی۔ یعنی صحابہ کرام رضي اللہ عنہم آپ کے براہ راست تربیت یافتہ تھے۔ لہذا صحابہ معیاری مسلمان تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ،،اقوال و افعال رسولﷺ،، تا بعین نے اخذ کیے اور محدثین نے ان کو جمع کیا۔ یہ تمام ادوار اسلام کے عروج کے ادوار ہیں۔ رسول اللہﷺ نے انہیں بہترین زمانے قرار دیے۔ سلف صالحین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریق اور منہج سے وہی شخص انکار کرتا ہے جو قرآن مجید کی من مانی تفسیر کرنا چاہتا ہے۔ صحابہ، تابعین، ائمہ دین اور ائمہ حدیث اسی راہ پر چلے۔ اور اس راہ پر چلنے والے ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ تاریخ اسلام کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس راہ پر چلنے والے شرک و بدعت اور اس کے مظاہر اور رسوم پر نکیر کرتے رہے ہیں۔ عقیدہ کی اصلاح کرتے ہیں اور شرک و بدعت کے تاریک غار سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لہذا قرآن و سنت اور سلف صالحین کے راستے کے الٹ شرک و بدعات پر مشتمل نظریات ہم قبول نہیں کر سکتے چاہے وہ کسی بھی عالم نے بیان کیے ہوں۔وہ عالم نہ معصوم ہے اور نہ ہمارے لیے حجت ہے۔

② پاک و ہند میں جن لوگوں نے اصلاح کا کام کیا اور اس ماحول میں حدیث کی اہمیت اور تقلید کے رد پر محنت کی بد قسمتی سے وہ لوگ تصوف کے فتنے کو نہ سمجھ سکے اور تصوف کا اثر ان میں موجود رہا۔ اس بات کا اظہار استاد محترم پروفیسر حافظ محمد عبد الله رحمہ اللہ  خطیب جامع مسجد اہلحدیث بہاولپور نے ایک خطبہ جمعہ میں یوں فرمایا:

شاید ہی ہندوستان میں کوئی عالم ایسا ہو: کیا اہلحدیث، کیا دیو بندی،اور کیا بریلوی! جن علماء کو اس تصوف کی تاثیر نہ لگی ہو۔ تھوڑا بہت اس تصوف کا رنگ ضرور ہوتا ہے۔ حالانکہ تصوف اس قدر خطر ناک چیز ہے جتنا نقصان اسلام کو ان صوفیوں سے پہنچا ہے۔ اس تصوف کے چکر میں جتنے مسلمان بر باد ہوئے ہیں۔ جتنا اسلام کے اندر اس کے ذریعے پلیدی شامل ہوئی اتنا کسی چیز  کے ذریعے پلیدی شامل ہوئی اتنا کسی چیز نے بھی اسلام کو برباد نہیں کیا۔ میاں نذیرحسین اور ان کے شاگر د سب تصوف کے قائل تھے۔ کوئی وحدۃ الوجود کا شکار ہے اور کوئی وحدة الشہود کا۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی جنہوں نے حدیث کی بہت خدمت کی۔ صوفیوں کے بنیادی عقیدے وحدة الوجود کا شکار ہیں۔ یہ ہمہ اوست کا عقیدہ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ یہ وحدۃ الوجود خالصتا کفر کا عقیدہ ہے۔ ایسا گندہ عقیدہ ہے جس کی انتہا نہیں جن علماء نے تھوڑا سا سوچا اور انھیں ہمہ اوست کا عقیدہ کفر نظر آیا انھوں نے تھوڑی سی ترمیم کی۔ کیوں کہ یہ بڑے بڑے بزرگوں کا عقیدہ تھا۔ انھوں نے اسے وحدہ الشہود میں تبدیل کر دیا۔ ہمہ اوست نہیں ہمہ از اوست۔ وحدۃ الوجود کا انکار نہیں کرتے کیوں کہ بڑے بڑے لوگوں کا عقیدہ ہے اسکو نرم کرتے ہیں۔ تاکہ اس کی حدت اور شدت کم ہو جائے۔ حالانکہ دونوں نظریات کفر ہی کفر ہیں۔

شاہ اسمعیل دہلوی کی ،،تقویۃ الایمان،، توحید کی بڑی معیاری کتاب ہے۔ لیکن اپنے اس ماحول میں جس میں وہ پلے بڑھے کیوں کہ تصوف کا چکر تھا، چنانچہ صراط مستقیم میں وہ وہ کچھیں ماری ہیں کہ پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ کہ کیا یہ شاہ اسماعیل کی کتاب ہے؟ ایسا آدمی کبھی مسلمان ہو سکتا ہے۔ [خطبہ جمعہ]

ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ کی نظر ثانی سے شائع شدہ ڈاکٹر ابوعدنان سہیل کی کتاب  ،،اسلام میں بدعت و ضلالت کے محرکات،، میں شاہ ولی اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں:شاہ ولی اللہ صاحب کی کتاب ،،انفاس العارفین،، میں تصوف کی دیگر کتابوں کی طرح ہر طرح کی رطب و یابس باتیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے کشف و کرامات، عجیب و غریب واقعات، غیر اللہ کو سجدے، اللہ کا مشاہدہ بلکہ اس سے جسمانی اتصال، قبولیت، عرس، قوالی، ختم خواجگان، جنت کی بشارت، اپنی بات منوانے کے لیے اللہ کے سامنے مچل جانا اور اس سے اپنی بات منوا لینا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو بدلوا ڈالنا، نبی کریمﷺ کا مجلسوں میں تشریف لانا، اللہ تک پہنچ جانے کے بعد عبادات کی ضرورت باقی نہ رہنا، وغیرہ اس طرح کی تمام چیزیں اس کتاب میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کتاب میں یہ بات بھی موجود ہے کہ بزرگوں کی قبروں سے سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جو لوگ شاہ ولی اللہ صاحب سے نسبت اور تعلق رکھتے ہیں اور ان کے نظریات تصوف کے قائل ہیں وہ بریلوی مکتب فکر کی بوالعجیوں اور بزرگوں کی قبروں پر ہونے والے شرک و بدعات کے ہنگاموں پر جو شور و غو نما مچاتے ہیں یا اس کا رونا روتے ہیں، وہ محض دکھاوا اور مگر مچھ کے آنسو ہیں۔ [صفحہ:272]

شاہ اسمعیل کے متعلق لکھتے ہیں:

① تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ مولانا اسمعیل شہید جیسا توحید کا علمبر دار بھی جب تصوف کے کوچے میں گم ہوتا ہے تو اپنے سارے عقائد اور شرعی احکام و نصوص کی خلاف ورزی کرتا ہوا کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ [صفحہ:285]

② تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ جب یہی مولانا اسمعیل شہید تصوف پر قلم اٹھاتے ہیں تو شاید ان پر ایسی تقویت کا عالم طاری ہو جاتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی صریح نصوص اور خود اپنی تحریروں کو بھول کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے: صراط مستقیم میں وہ لکھتے ہیں:

عنایت غیبیہ اس کو چن کر اپنا خاص چیلہ بنا لیتی ہے جس طرح با اقتدار بادشاہ اپنے بعض فرماں برداروں کو تمام رعایا سے ممتاز کر کے اپنے لئے چن لیتے ہیں اور اس کو ،،چیلہ خاص،، سے ملقب کرتے ہیں۔ پس جس طرح چیلہ خاص کو اپنے آقا کے سامان میں تصرف کی اجازت ہوتی ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے آقا کی تمام سلطنت کو اپنی سلطنت کہہ دیتا ہے۔ اسی طرح یہ بلند مراتب و مناصب والے (یعنی اولیاء کاملین) مجاز مطلق ہوتے ہیں عالم مثال و شہادت میں تصرف کرنے کے لئے (صراط مستقیم فارسی) عام طور پر اولیاء کے بارے میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ انہیں صرف عالم شہادت، یعنی اس دنیا میں جسے ہم سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں تصرف کرنے کی قدرت حاصل ہے، لیکن مولانا اسمعیل شہید کے اس بیان سے یہ انکشاف ہوا کہ اولیاء کے زیر اقتدار عالم مثال بھی ہے یعنی وہ غیر مرئی عالم جو دنیا اور آخرت کے درمیان ہے۔ [اسلام میں بدعت و ضلالت کے محرکات صفحہ:255]

جناب عبد المجید صاحب ایڈیٹر اخبار اہلحدیث سوہدرہ شاہ اسمعیل اور محمد بن عبد الوهاب رحمہ اللہ کا موازنہ کرتے ہیں محسوس یوں ہوتا ہے کہ جناب عبدالمجید صاحب نے منصب امامت اور صراط مستقیم پڑھی ہی نہیں ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں: لکھتے ہیں:

کیا سید احمد اہلحدیث تھے؟

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا سید احمد رائے بریلوی اور شاہ اسمعیل شہید اہلحدیث تھے۔ یا یونہی ان کو اہل حدیث سمجھا گیا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہنچانا جاتا ہے اور یہ صحیح ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو ہر شخص بھی اپنے عقائد اور اعمال سے ہی پہچانا جا سکتا ہے اس سلسلہ میں شاہ شہید  کی تصنيفات ،،تنوير العينين في اثبات رفع يدين،، الايضاح الحق الصريح ،،منصب امامت،،صراط مستقیم،، دیکھ لیجئے کہ یہ کیا کہہ رہی ہیں۔اس کے بعد ان کے مواعظ حسنہ میں شرک و بدعات کی تردید کا پہلو اتنا نمایاں ہے کہ محمد بن عبد الوهاب رحمہ اللہ کی تقریر میں بھی اتنا نمایاں نہ ہوگا۔

[حقانیت مسلک الحدیث حصہ اول صفحہ:76 مرتبہ ابو معاویہ عبد الرحمن منیر را جووالوی]

صراط مستقیم میں فوت شدہ بزرگوں کی روحوں سے ملاقات اور لوح محفوظ سے کسی بات کی دریافت کا طریقہ لکھا ہے سوچئے کیا یہ بات بھی قرآن و سنت سے ثابت کی جاسکتی ہے؟ ملاحظہ فرمائیں:

آسمانوں کے حالات کے انکشاف، ملاقات ارواح و ملائکہ، بہشت و دوزخ کی سیر، اس مقام کے حقائق کی اطلاع ، اس جگہ کے مکانوں کی دریافت اور لوح محفوظ سے کسی امر کے انکشاف کے لیے،،یا حی یا قیوم،، کا ذکر کیا جاتا ہے۔ [صراط مسقیم صفحہ:245]

اسی لیے شیخ عبد العزیز نورستانی صاحب

ایک خط میں لکھتے ہیں: جب سے شریعت مطہرہ میں تصوف و سلوک کو جگہ دی گئی اس وقت سے صوفیت نے بڑے بڑے اکابرین امت کے شرعی ہوش وحواس مضمحل کر کے غیر شعوری طور پر شریعت کے جادہ مستقیم سے ہٹا دیا۔ میں مروجہ تصوف و سلوک کو بالخصوص طرق اربعہ کو جو پاک و ہند اور افغانستان میں مروج ہیں شریعت مطہرہ کے لیے سم قاتل سمجھتا ہوں۔

③ شیطان نے ہمیشہ انسان کو تباہ کرنے کے لیے اولیاءاللہ سے محبت کا رخ اندھی عقیدت کی طرف موڑنے کی کوشش کی ہے۔ جیسا کہ قوم نوح میں وہ سواع، یغوث، یعوق اور نسر اولیاءاللہ تھے۔ اور اللہ نے ان کے تقویٰ کی بنا پر انہیں لوگوں کا محبوب بنا دیا، لیکن شیطان ان اولیاءاللہ کو آڑ بنا کر ان سے محبت میں غلو کرنے والوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ شیطان کے اس وار سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہماری نظریاتی مشق یوں کروائی کہ سورۃ الانعام میں جلیل القدر انبیاء کا ذکر کیا ابراہیم ، اسحاق، یعقوب، نوح، سلیمان، ایوب، یوسف، موسی، ہارون، زکریا، یحیی، عیسی، الیاس، اسمعیل، یسع، یونس، اور لوط علیہم السلام کا تذکرہ فرمایا اوران کی تعریف کی اور قانون کی انتہائی بالا دستی یوں بیان کر دی:

[وَ لَوۡ اَشۡرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ]

اور اگر یہ لوگ بھی ارتکاب شرک کر بیٹھتے تو جو اعمال یہ کرتے تھے سب ضائع ہو جاتے۔ [الأنعام:88]

اسی طرح محمد رسول اللہﷺ کو وحی فرمائی:

[وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]

اور بلا شبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔ [الزمر:65]

سبائی فتنہ جو سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا باعث بنا اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمانوں کی محبت کو غلو میں بدل کر بہت سا جھوٹ اور بد عقیدگی اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کی۔

چنانچہ ایک دفعہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا اور ان سے درخواست کی کہ وہ میرے لیے ایک کتاب لکھیں اور (جن باتوں کی صحت میں مقال ہو یا جو نہ لکھنے کی ہوں وہ) باتیں مجھ سے چھپا لیں۔ انہوں نے فرمایا: لڑکا خالص احادیث کا طلبگار ہے، میں اس کے لیے (حدیث سے متعلق) تمام معاملات میں (صحیح کا) انتخاب کروں گا اور (موضوع اور گھڑی ہوئی احادیث کو) ہٹا دوں گا (کہا: انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے منگوائے) اور ان میں سے چیزیں لکھنی شروع کیں اور (یہ ہوا کہ) کوئی چیز گزرتی تو فرماتے: بخدا! یہ فیصلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا، سوائے اس کے کہ (خدانخواستہ) وہ گمراہ ہو گئے ہوں (جب کہ ایسا نہیں ہوا)۔ [مقدمہ صحیح مسلم: حدیث:22]

غور فرمائیے! ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسا کیوں کہا کیا یہ کافی نہ تھا کہ وہ کہتے کہ علی رضي اللہ عنہ نے یہ فیصلے نہیں کئے۔ نہیں نہیں!۔ ابن عباس رضي اللہ عنہما جو مفسر قرآن ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے صحبت یافتہ ہیں، غالبا انہوں نے ایسا اس لیے کہا کہ جو علی رضی اللہ عنہ سے اللہ کی طرح محبت کرنے لگ گیا ہے، وہ سن لے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں بالفرض محال اگر علی رضی اللہ عنہ بھی اللہ کی نافرمانی کرتے، تو وہ بھی گمراہ ہو جاتے۔ نافرمانی ان کے لیے بھی فرماں برداری نہیں کہلوا سکتی۔

لہذا ہم عقیدہ شرک کے حاملین کو یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں، کہ تم ان علماء کی تحریرات کو شرک کی دلیل نہیں بنا سکتے۔ اللہ کا قانون ہے کہ اگر ان علماء نے بھی عقیدہ شرک اپنایا اور توبہ نہ کی تو قیامت کے دن ان کے اعمال بھی ان کے کام نہ آئیں گے۔

غلط فہمی

غضب خدا کا کہ ایک عام آدمی اور اللہ کے نبی دونوں کو ایک مقام پر لاکھڑا کرنا کس قدر ستم ظریفی ہے۔ اگر میں کسی کی مدد نہیں کر سکتا۔ اگر میں کسی کی حاجت روائی نہیں کر سکتا تو کیا یہ لازم ہے کہ کوئی دوسرا بھی اسی طرح کا ہوگا؟ ہرگز نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بڑے مقامات عطا فرمائے ہیں۔ [ڈاکٹر عثمانی کا علمی محاسبہ:40]

ازاله

یہ افتراء ہے کہ اہل توحید عام آدمی اور اللہ کے رسولﷺ کو ایک مقام پر لاکھڑا کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے دنیا میں میدانِ حشر میں اور روز قیامت جو مقام دیا وہ اللہ کی ساری مخلوق میں سے صرف آپ ہی کا حصہ ہے۔

[وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ] اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا۔ [الم نشرح:4]

اللہ نے دنیا میں آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا۔ قیامت تک کے لئے آپ ﷺ کو رسول بنا کر آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا۔ میدانِ حشر میں تمام انبیاء علیہم السلام شفاعت کرنے سے انکار کر دیں گے۔ صرف آپ ﷺ کو یہ سعادت نصیب ہوگی۔ کہ آپ سجدہ میں گر جائیں گے۔ اللہ فرمائے گا: محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ، مانگو دیا جائے، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی۔ آپ کا ذکر حشر کے میدان میں بھی بلند ہو گا۔ آپ حوض کوثر پر اپنے امتیوں کو پانی پلائیں گے۔ جنت کا دروازہ سب سے پہلے آپ ﷺ کھلوائیں گے۔ آپ کے امتی اہل جنت کا نصف ہو نگے غرض ہر جگہ آپ کا نام بلند ہوگا۔

آپ امام الانبیاء ہیں۔ قیامت کے دن اللہ کی حمد کا جھنڈا آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہو گا۔ آدم علیہ السلام اور آدم علیہ السلام کی ساری اولاد آپ کے جھنڈے کے نیچے ہو گی۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ اللہ کی صفات میں شریک ہیں۔ دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد لوگوں کو اولاد دینا، مقدمات سے بری کرنا، بیماری سے صحت دینا، اور دیگر مصائب میں حاجت روائی آپ کی ذمہ داری نہیں ہے جو شخص [اغِثْنِي يَا رَسُوْلَ اللہ] کہتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ آپ کو کائنات میں تصرف (حالات کو بدلنے) کا اختیار ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی آپ کی رضا کا پابند ہے۔ کیا اس نے اس آیت پر غور نہیں کیا۔

[یَحۡلِفُوۡنَ لَکُمۡ لِتَرۡضَوۡا عَنۡہُمۡ ۚ فَاِنۡ تَرۡضَوۡا عَنۡہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرۡضٰی عَنِ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ]

یہ تمہارے آگے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ اگر تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو بے شک اللہ تو فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔ [التوبة:96]

اور یہ بھی فرمایا:[اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ]

اے نبی! تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اگر تم ستر بار بھی ان کے لئے معافی کی دعا کرو گے اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔ [التوبة:80]

جب رسول اللہ ﷺ کی دعا اور درخواست تک کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ حال ہو تو پھر اور کون ہے جس سے ہم مدد طلب کرتے ہوئے یہ عقیدہ رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا کہا ٹال نہیں سکتا۔

اگر انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ کی ارواح سے مدد طلب کرنا جائز ہوتا تو قرآن مجید میں کوئی ایک آیت تو اس کے جواز میں نازل ہوتی۔ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کی دعائیں موجود ہیں۔ کسی نبی نے گزرے ہوئے نبی یا رسول کو مصیبت کے وقت نہیں پکارا بلکہ اللہ ہی کو پکارا کیونکہ اللہ نے ایسا کرنے کاحکم دیا ہے:

[فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ]

پس اللہ کو پکارو اس کے لئے دین کو خالص کر کے چاہے کفار برا کیوں نہ مانیں۔ [المومن:14]

غلط فہمی

جبرئیل علیہ السلام نے مریم علیہا السلام سے کہا: [اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا]

میں اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔ [مریم:19]

جب جبرئیل علیہ السلام بیٹا دیتے ہیں تو اللہ کے نبی ﷺ بیٹا کیوں نہیں دے سکتے؟

ازاله

اس آیت میں عیسی ابن مریم علیہا السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونے کا ذکر ہے۔ یہ معجزہ ہے۔ پوری انسانی تاریخ کا فقط ایک ہی واقعہ ہے۔ اس معجزہ کو قانون بنا کر یہ کہنا کہ جبرئیل علیہ السلام بیٹا دیتے ہیں، سخت گمراہی ہے۔ کیا آج کوئی کنواری لڑکی یہ کہہ سکتی ہے کہ اے جبرئیل مجھے بیٹا دے۔

سب جانتے ہیں کہ ملک الموت روح قبض کرتے ہیں کیا ائمہ اہل سنت نے ملک الموت کو پکار نے کی تعلیم دی۔ کہ اے ملک الموت میں نے مرنے والے سے چند اہم باتیں کرنی ہیں، یا اس مرنے والے کے ذمہ بہت سے معاملات ہیں اس کو ذرا مہلت دے تا کہ اپنے کام کو پورا کر سکے۔

اسی طرح لیلۃ القدر میں روح الامین اور فرشتے رحمتیں اور برکتیں لے کر نازل ہوتے ہیں۔ کیا کسی نے ان کو پکارا کہ تھوڑی سی رحمت اور برکت ہمیں دے جا۔ کوئی ان فرشتوں کو نہیں پکارتا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل ہوتے ہیں۔ اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا: تم ہمارے پاس جیسے آیا کرتے ہو اس سے زیادہ دفعہ کیوں نہیں آتے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: [وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّکَ] [مريم:64] اور ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے۔ [بخاری:4731]

بتائیے! جو مخلوق اپنی مرضی سے رسول اللہ ﷺ کے پاس تک نہیں آسکتی، وہ کسی کو بیٹا کیسے دے سکتی ہے؟ وہ تو اللہ کے حکم سے کسی کو بیٹا ہونے کی بشارت دے سکتی ہے۔

غلط فہمی

رسول اللہ ﷺنے سید ناربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کچھ مانگ،،انہوں نے عرض کیا: جنت میں آپ کا ساتھ چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : کچھ اور،، انہوں نے کہا پس صرف یہی ۔ [مسلم]

معلوم ہوا کہ سارا معاملہ حضور ہی کے ہاتھ کریمانہ ہے، جو چاہیں جس کو چاہیں اپنے رب کے حکم سے دے دیں۔

ازاله

حدیث مبارکہ کے آخری حصہ پر غور کیجئے۔

آپ ﷺنے فرمایا: [فأعني على نفسك، بكثرة السجود]

پس تم کثرت نوافل سے اپنے مقصد کے حصول کے لیے میری مدد کرو۔ [مسلم:489]

اگر جنت آپ ﷺ کے اختیار میں ہوتی تو آپ سید نا ربیعہ رضي اللہ عنہ کو کثرت سے نوافل پڑھنے کاحکم کیوں دیتے؟

معلوم ہوا معاملہ وہی ہے جو ثوبان رضي اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا: ثوبان [أخبرني بعمل أعمله، يدخلني الله به الجنة؟]

مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے کرنے سے اللہ تعالی مجھے جنت میں داخل کردئے آپ ﷺ نے فرمایا: [عليك بكثرة السجود لله] تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو۔ [مسلم:388]

سید نا ربیعہ رضی اللہ کا مقصد واضح ہے کہ مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے کرنے سے جنت میں آپ کا ساتھ نصیب ہو جائے یا میرے لیے دعا فرمائیے کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں ۔ اگر جنت آپ کے اختیار میں ہوتی تو آپ فرماتے جا میں نے تجھے جنت دے دی ۔ آپ نے کیوں فرمایا کہ کثرت نوافل سے میری مدد کرو۔

غلط فہمی

مشرکین کا عقیدہ تھا کہ اللہ نے ان کے معبودوں کو پیدا کرنے کے بعد ان کو الوہیت دے دی، اب اللہ تعالیٰ کوئی کام نہ کرے اور یہ کرنا چاہیں تو یہ کر سکتے ہیں۔ [توحید اور شرک ص :7، از سعید کاظمی]

ازاله

مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کوالہ حقیقی مانتے تھے، اور سمجھتے تھے۔ کہ اصل اختیارات اللہ کی پاس ہیں فرمایا: [قُلۡ مَنۡۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ یُجِیۡرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ]،[سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰہِ]

[کہہ دیجئے کس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ بتاؤ اگر تم جانتے ہو]،[وہ ضرور کہیں گے کہ یہ شان اللہ ہی کی ہے]۔ [المومنون:89،88]

معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ بھی اپنے معبودوں کی طاقت کو عطاء سمجھتے تھے۔اور وہ اپنے معبودوں کو اللہ کی بارگاہ میں اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔

[وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ]

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ [یونس:18]

[مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی]

اور ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ [الزمر:3]

یہی وجہ ہے کہ مشرکین مکہ سخت مصیبت میں صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔

[قُلۡ مَنۡ یُّنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ تَدۡعُوۡنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً لَئِنۡ اَنۡجٰىنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ]،[قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡہَا وَ مِنۡ کُلِّ کَرۡبٍ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ]

[کہہ کون تمھیں خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے نجات دیتا ہے؟ تم اسے گڑ گڑا کر اور خفیہ طریقے سے پکارتے ہو کہ بے شک اگر وہ ہمیں اس سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر ادا کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے]،[ کہہ دے اللہ تمھیں اس سے نجات دیتا ہے اور ہر بے قراری سے، پھر تم شریک بناتے ہو]۔ [الأنعام:64،63]

بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے مشرکین کہا کرتے تھے: [لبیک اللهم لبیک لبیک لا شريك لك الا شريكا هو لک تملکه و ماملک]

میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسا شریک جو تیرا ہے تو اس شریک کا اور جو اس کے اختیار میں ہے اس کا بھی مالک ہے۔

ان آیات سے مشرکین مکہ کے نظریات واضح ہیں کہ وہ اصل قدرت اور طاقت اللہ ہی کی مانتے تھے۔ سخت مصیبت میں اس کو پکارتے تھے، اور سمجھتے تھے کہ اللہ کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اپنے معبودوں کو صرف سفارشی جانتے تھے۔ اور آج کے کلمہ گو بھی انبیاء علیہ السلام و اولیاء اللہ کے بارے میں یہی نظریات رکھتے ہیں۔

غلط فہمی

اللہ فرماتا ہے: [وَلَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ وَ اسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا]

اور اگریہ لوگ، جب انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تیرے پاس آتے، پھر اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول ان کے لیے بخشش مانگتا تو اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان پاتے۔ [النساء:64]

معلوم ہوا ہر قسم کا مجرم ہمیشہ آپ کی قبر کے پاس حاضر ہو کر شفاعت طلب کرے۔

ازاله

،،جَآءُوۡکَ،، سے آپ کے پاس آنا مراد ہے، قبر نبوی مراد نہیں ہے۔ دیکھئے مندرجہ ذیل آیت میں بھی ،،جَآءُوۡکَ،، آیا ہے۔

[وَ اِذَا جَآءُوۡکَ حَیَّوۡکَ بِمَا لَمۡ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ]

اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالی نے نہیں کہا۔ [المجادلة:8]

امام ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: کہ یہودیوں کی ایک بدترین خصلت یہ تھی کہ سلام کے الفاظ کو بدل دیتے تھے۔ ایک یہودی نے رسول اللہﷺ کو ،،سام علیک یا ابو القاسم،، کہا ،،سام،، کے معنی موت کے ہیں۔ عائشہ رضي اللہ عنہاسے نہ رہا گیا اور کہنے لگیں ،،وعلیکم السام،، آپ نے فرمایا اے عائشہ اللہ تعالی برے الفاظ اور سخت کلامی کو نا پسند فرماتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہما نے عرض کی یا رسول اللہﷺ آپ نے نہیں سنا انہوں نے آپ کو ،،سلام،، نہیں۔ کہا بلکہ ،،سام،، کہا ہے۔ آپ نے فرمایا تم نے نہیں سنا میں نے کہا وعلیکم۔ [بخاری:6256]،[مسلم:2165]

معلوم ہوا دونوں آیات میں مراد آپ کی زندگی ہے۔ یہ آیات قبر نبوی پر آکر مانگنے کی دلیل نہیں بن سکتی۔

یہ بھی ارشاد فرمایا: [وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا یَسۡتَغۡفِرۡ لَکُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ لَوَّوۡا رُءُوۡسَہُمۡ وَ رَاَیۡتَہُمۡ یَصُدُّوۡنَ وَ ہُمۡ مُّسۡتَکۡبِرُوۡنَ]

اور جب ان (منافقین) سے کہا جائے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو یہ (نفی میں) سر ہلا دیتے ہیں اور تم ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں۔ [المنافقون:5]

آیت سے بالکل واضح ہے کہ یہ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کا واقعہ ہے۔ کہ آپ کی دعائے مغفرت گناہوں کی معافی کا باعث تھی۔ اور جن خوش نصیبوں نے آپ کی خدمت میں آ کر اپنے گناہوں سے تو بہ کی وہ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کا انعام پاگئے۔

آپ کی وفات کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور محدثین کرام رحمہم اللہ میں سے کسی ایک نے بھی آپ ﷺ کی قبر پر آ کر آپ ﷺ سے سفارش کی درخواست نہیں کی۔ بلکہ انہوں نے براہ راست اللہ تعالی ہی سے دعا کی، فوت شدہ بزرگوں کی قبروں پر جا کر ان سے دعائیں کروانے کا ثبوت احادیث صحیحہ، صحابه رضی اللہ عنہم اجمعین، تابعین اور محد ثین رحمہم اللہ سے نہیں ملتا۔

غلط فہمی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[وَاسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ]

مدد طلب کرو صبر اور نماز کے ساتھ۔ [البقرۃ:45]

اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو۔ نماز اور صبر بھی تو غیر اللہ ہیں۔ [جاء الحق:194]

ازاله

کبھی کسی نے سنا کہ کوئی شخص صبر یا نماز کو پکار رہا ہو۔ اے صبر،اے نماز میری مدد کرو۔ ایسا کہنے والا احمق ہے اس آیت کا سیدھا اور صاف مفہوم ہے، کہ صبر اختیار کرو اور نماز پڑھو اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت نازل فرمائے گا۔ جس سے مشکلات دور ہونگیں گویا کہ صبر اور نماز نیک اعمال میں سے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا انتہائی موثر ذریعہ اور وسیلہ ہیں۔

غلط فہمی

میرے آقا نے فرمایا:[ والله معطي  و أنا قاسم]

اور اللہ تعالیٰ دیتا ہے میں بانٹتا ہوں۔

اسکی عطا بھی عام ہے میری تقسیم بھی عام ہے۔ وہ دنیا بھی دیتا ہے میں دنیا بھی بانٹتا ہوں۔وہ دین بھی دیتا ہے میں دین بھی تقسیم کرتا ہوں ۔ علم اولاد ایمان غرض یہ کہ دین و دنیا کی ہر نعمت وہ دیتا ہے اور میں بانٹتا ہوں۔ [خطبات کاظمی92]

ازاله

حدیث کی ابتدائی عبارت کیوں حذف کی جاتی ہے حدیث یہ ہے:

[من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين وإنما ‌أنا ‌قاسم ‌والله ‌معطي]

جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور میں تو بانٹنے والا ہوں اور اللہ دینے والا ہے۔ [علل الدارقطني:1748]

حدیث کے الفاظ اور عبارت کا سیاق و سباق بتا رہا ہے، کہ یہاں عطا سے مال و دولت مراد نہیں۔ بلکہ تفقہ فی الدین مراد ہے۔ وہ فہم مراد ہے جو کتاب وسنت کے معانی و مفہوم کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اور آج وہ احادیث کی کتب میں محفوظ ہے کوئی شخص بھی نبی رحمت ﷺ کی تعلیمات سے بے نیاز ہو کر دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیۡنَہُمۡ]

اگر آپ زمین کے تمام خزانے بھی خرچ کر دیتے تو بھی ان کے دلوں میں الفت نہ ڈال سکتے تھے۔ ان کے دلوں کو بھی اللہ ہی نے جوڑا ہے۔ [الأنفال:63]

قرآن حکیم کی ان محکم آیات کے بعد کیا دلیل ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو کائنات میں متصرف (حالات بدلنے والا)سمجھیں۔ ماننا پڑے گا کہ قدرت و اختیارات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اوس و خزرج کی دیرینہ عداوتوں کا خاتمہ (یعنی) دلوں میں محبت اور الفت ڈالنا نبی ﷺ کے اختیار میں نہ تھا۔

پھر یہ حدیث قرآن کی اس آیت ہی کے مفہوم میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

[فَمَنۡ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشۡرَحۡ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ ۚ وَ مَنۡ یُّرِدۡ اَنۡ یُّضِلَّہٗ یَجۡعَلۡ صَدۡرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ]

تو وہ شخص جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدایت دے ، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ اسے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے ، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے۔ [الأنعام:125]

غلط فہمی

میرے آقا نے فرمایا: [اعطیت مفاتيح خزائن الارض]

اللہ تعالیٰ نے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں مجھے عطافرمادیں۔کنجی کے معنی اختیار کے ہیں اللہ تعالی نے تمام اختیارات اپنے حبیب کو عطا فرمادیئے۔ حضور جس کو جو چاہیں عطا فرمائیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔ [بخاری و مسلم]

ازاله

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ]

اے نبی تم کہہ دو کہ میں نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ [الأنعام:50]

آیت میں اللہ کے دیئے گئے خزانوں کی نفی ہے جس سے ذاتی اور عطائی کی تاویل کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔ یہ نا ممکن ہے کہ قرآن جس کی نفی کرے حدیث میں اس کا ثبوت ہو۔

اس حدیث سے مراد فتوحات مصر و شام وغیرہ ہیں۔ اور خزانوں سے مراد مال و دولت ہے جیسا کہ حدیث کے آخری ٹکڑے میں آیا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ  عنہ نے فرمایا: [وقد ذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنتم تنتثلونها] اور رسول اللہ ﷺ تو (اپنے رب کے پاس) جا چکے۔ اور انہیں اب تم نکال رہے ہو۔ [صحیح بخاری :2977]

اور اس مفہوم کو واضح طور پر سورت یوسف میں دیکھا جاسکتا ہے جب اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام [اجۡعلۡنیۡ علٰی خزآئن الۡارۡض] [یوسف:55] کہتے ہیں تو کون سے خزانے ہیں جو یوسف علیہ السلام بادشاہ مصر سے مانگ رہے ہیں، یہاں ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

غلط فہمی

حصن حصین میں ہے کہ جب مدد لینا چاہو تو کہہ دو: [یا عباد الله اعینونی] اے اللہ کے بندو میری مدد کرو۔

ملا علی قاری لکھتے ہیں: کہ عباداللہ سے مراد فرشتے یا مسلمان یا جن یا رجال الغیب (یعنی) ابدال ہیں یہ حدیث حسن ہے مسافروں کو اس حدیث کی سخت ضرورت ہے اور یہ عمل مجرب ہے۔ [جاء الحق:198]

ازاله

① یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ اس میں عقبہ بن غزوان مجہول راوی ہے۔

② ایک راوی ابن حسان کو محدثین نے منکر الحدیث کہا ہے۔ لہذا یہ سند ضعیف و مردود ہے۔

اس سے استدلال جائز نہیں۔

غلط فہمی

اللہ تعالی نے آپ کے بارے میں فرمایا: [وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ]

ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ [الأنبياء:107]

پھر آپ کو مصائب میں کیوں نہ پکارا جائے۔

ازاله

ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ اس کی تفسیر یوں بیان کرتے ہیں:

[وأولى القولين في ذلك بالصواب.القول الذي رُوي عن ابن عباس، وهو أن الله أرسل نبيه محمدا صلى الله عليه وسلم ‌رحمة ‌لجميع ‌العالم، مؤمنهم وكافرهم. فأما مؤمنهم فإن الله هداه به، وأدخله بالإيمان به، وبالعمل بما جاء من عند الله الجنة. وأما كافرهم فإنه دفع به عنه عاجل البلاء الذي كان ينزل بالأمم المكذّبة رسلها من قبله] 

اور ان دونوں باتوں میں سے (کہ محمد ﷺصرف مومنین کے لئے رحمت ہیں یا کافر و مومن سب کے لئے) زیادہ صحیح بات وہ ہے جو ابن عباس رضي اللہ عنہما سے روایت کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو سارے جہاں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ یعنی مومنین کے لئے بھی اور کفار کے لئے بھی۔ پس مومنین کے لئے رحمت یہ ہے کہ انہیں آپ کے ذریعے ہدایت نصیب ہوئی، اور وہ ایمان کے حامل بنے۔ اور جو دین محمد رسول اللہ ﷺلے کر آئے اس پر عمل کیا۔ اس طرح اللہ نے انہیں جنت میں داخل کیا۔ اور کفار کے لئے رحمت یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب اچانک نہیں آئے گا۔جو پہلی قوموں پر رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں نا گہانی طور پر نازل کیا جاتا تھا۔ [تفسير الطبري جامع البيان:ج 18 ص 552]

،،رحمة للعالمین،، کا یہ مفہوم قرآن میں ہے نہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو سکھایا اور نہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور ائمہ اہل سنت نے اس پر عمل کیا کہ آپ کو مشکل کشا جان کر ،،اغثنی یا رسول اللہ،، کے نعرے لگائے جائیں۔

غلط فہمی  

① مدد مانگنے کا خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: [وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی] اور نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ [المائدۃ:2]

کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نا جائز کام کی تعلیم دے رہا ہے۔

② اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مدد کرنے کا حکم دیا: [لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ] تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور بضرور اس کی مدد کرنا۔ [آل عمران:81]

کیا اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہ السلام کو مدد کا حکم دے کر شرک کی تعلیم دی۔

③ عیسی علیہ السلام غیر اللہ سے مدد طلب کرتے ہیں: [قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ] فرمایا کون اللہ کے لیے میرا مددگار ہے۔ [آل عمران:52]

کیا عیسی علیہ السلام پر شرک کا فتوی جاری ہوگا؟

ازاله

دعا و پکار اور امداد جو ماتحت الاسباب ہو وہ بالا تفاق درست ہے۔ اوپر کی تمام آیات میں تحت الاسباب امداد کا ذکر ہے مخلوقات کا اپنی فطری قوت و اختیار کے دائرے میں رہ کر ایک دوسرے سے مدد لینا شرک و توحید کی بحث سے خارج ہے۔ مثلاً پاکستان میں بیٹھے ایک شخص کے پاس ٹیلیفون کا ذریعہ موجود ہے تو اس سے مدد چاہنا کہ مکہ میں میرے بیٹے سے فلاں نمبر پر معلوم کر دو کہ کل وہ کس وقت پاکستان آرہا ہے ہرگز ہرگز شرک نہیں ہے۔ کیونکہ سبب ( ذریعہ ) موجود ہے۔ مومنین اپنی حاجات وضروریات کو پورا کرنے کے لئے آپس میں تحت الاسباب ( اللہ کے دیے ہوئے اختیارات کے تحت ) ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ کو مشرک اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ انبیاء و اولیاء ملائکہ اور جنات کو ان معاملات میں پکارتے ہیں، جن میں اللہ تعالی نے ان کو اختیار نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں سے کسی کو زندہ کرنے اور مارنے کا اختیار نہیں دیا۔ بیماری سے شفا دینا، اور رزق عطا کرنا، اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ کوئی کسی کی نہ تو تقدیر بدل سکتا ہے ،نہ ہی کسی کے دل کو بدل کر اس میں محبت یا نفرت کے جذبات پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرح فتح و شکست ذلت و عزت اطمینان اور بے اطمینانی پیدا کرنے کے اختیارات مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں۔ اس طرح کل کیا ہوگا۔ بارش کب ہو گی کسی کو موت کب آئے گی ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ یہ سب سوائے اللہ عالم الغیب کے کوئی نہیں جانتا۔ ان علوم قدرتوں اور صفات کو ما فوق الاسباب کہا جاتا ہے۔ لہذا ما فوق الاسباب میں اللہ کے سوا کسی کو امداد کے لئے پکارنا شرک ہے۔ اور یہی مسئلہ یہاں زیر بحث ہے۔ بزرگوں سے ان کی زندگی میں دعا کروانے والا موحد ہے بشر طیکہ ان کی دعا کو سبب اور ذریعہ سمجھے اور مشکل کشا اور حاجت روا صرف اور صرف اللہ کو جانے ۔ اور ان بزرگوں کے فوت ہونے کے بعد جب ان کے پاس اسباب نہیں رہے۔ اب ان کو ہر جگہ سے سننے والا اور مشکل دور کرنے والا سمجھ کر پکارنا شرک ہے۔

یہی وجہ ہے نابینا صحابی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے دعا کرواتا ہے۔ [ترمذي:3578]

مگر یہ صرف آپ کی زندگی میں تھا۔ آپ کی وفات کے بعد دور عمر میں قحط پڑا تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کے چچا سے دعا کروائی، اور خود بھی اللہ سے عرض کیا ہم نبی اکرمﷺ کو وسیلہ بناتے تھے، تو بارش برساتا تھا اب ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں اے اللہ بارش بھیج۔ [بخاری:1010]

اگر رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد ان سے مدد مانگنا جائز ہوتا تو صحابہ رضی اللہ عنہم قبر نبوی پر حاضر ہو کر آپ سے مدد مانگتے۔

تحت الاسباب اور فوق الاسباب کا فرق

سمجھنے والوں کے لئے اس آیت مبارکہ میں واضح دلیل موجود ہے۔

[اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمۡثَالُکُمۡ فَادۡعُوۡہُمۡ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ]،[اَلَہُمۡ اَرۡجُلٌ یَّمۡشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمۡ لَہُمۡ اَیۡدٍ یَّبۡطِشُوۡنَ بِہَاۤ اَمۡ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ یُّبۡصِرُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمۡ لَہُمۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا]

[بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمھاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو]،[ کیا ان کے پائوں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں، یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں؟]۔ [الأعراف:195،194]

غلط فہمی

پیارے آقائے کریم کی بابت قرآن حکیم میں ارشاد باری ہے: [وَمَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضۡلِہٖ]

یہ سب کچھ اس کا بدلہ تھا کہ اللہ اور رسول (ﷺ) نے انہیں اپنے فضل سے غنی کر دیا۔] [التوبة:74]

آیت کریمہ صاف صاف اعلان کر رہی ہے کہ اللہ تعالی اور مصطفی کریم کی عطا دونوں ایک ہیں۔ [علمی محاسبه:45]

ازاله

آیت کا صاف سیدھا اور واقعات کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی دعا کی برکت سے اور مال غنیمت کے حصول سے مومنین کے ساتھ ساتھ منافقین کی بھی مالی حالت درست ہو گئی۔ اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ قیامت تک کے لئے آسودگی، فراغت اور مال و دولت اللہ کے رسولﷺ عطا فرماتے ہیں۔

یہ لوگ نہ صرف یہ کہ توحید کے معاملہ میں راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں بلکہ آیات واحادیث سے ایسے نکتے نکالتے ہیں جن سے عبد اور معبود کے مابین فرق مشتبہ ہو جائے۔

جب اس آیت کا کسی صحابی امام یا مفسر نے یہ مفہوم نہیں لیا کہ غربت کی حالت میں اپنے گھروں میں بیٹھ کر پکار لگائی جائے، کہ یا رسول اللہ ہماری محتاجی دور فرما کر ہمیں غنی کر دیجئے۔ پھر اس آیت سے یا علی مدد پر دلیل لینے کا کیا جواز ہے؟

غلط فہمی

امام ابوبکر ابن ابی شیبہ اپنی کتاب ،،مصنف،، اور امام بیہقی اپنی تصنیف ،،دلائل النبوة،، میں سند صحیح کےساتھ مالک الدار سے روایت کرتے ہیں، کہ ایک مرتبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ مبارکہ میں قحط پڑا۔ ایک شخص نے رسول اللہﷺکے مزار پاک پر آکر عرض کی یا رسول اللہ اپنی امت کے لئے اللہ تعالی سے دعا طلب کیجئے کیونکہ وہ ہلاک ہوئے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ان کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا: کہ عمر کے پاس جا کر اسے ہمارا سلام کہنا اور کہنا کہ لوگوں کو خبر دے دو کہ عنقریب انہیں سیراب کیا جائے گا۔

ازاله

اس اثر پر عصر حاضر کے محدث کبیر الشیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ،،التوسل أنواعه و احکامہ،، میں[صفحہ نمبر 117] میں سیر حاصل گفتگو کی ہے، جس میں آپ نے اس واقعہ کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس کی دو وجوہات بیان کی ہیں:

① اس واقعہ کے اصل راوی مالک الدار ہیں۔ ان کے حالات ان کا ثقہ اور عادل ہونا معلوم نہیں۔ وہ عدالت وضبط کے اعتبار سے غیر معروف ہیں، اور کسی بھی روایت کے صحیح ہونے کے لیے راوی کا معروف ہونا بنیادی شرط ہے۔

② مالک الدار کہتے ہیں: کہ ایک شخص آیا انہوں نے اس شخص کا نام نہیں لیا۔ لہذا وہ بھی مجبول ہے۔ سیف کی روایت میں اس کا نام بلال بتایا گیا ہے، مگر اس روایت کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیونکہ سیف ابن عمر التمیمی کے ضعف پر محدثین کرام متفق ہیں بلکہ ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔

غلط فہمی

طبرانی میں ہے ایک شخص عثمان بن حنیف کے پاس آیا اور کہا کہ عثمان بن عفان رضي اللہ عنہ خلیفہ المسلمین میری بات نہیں سنتے تو عثمان بن حنیف نے انہیں ایک دعا سکھائی جس میں ہے کہ اے محمد (ﷺ) میں آپ کے ذریعہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔

ازاله

عثمان بن حنیف کا قصہ صحیح اسناد سے کتب احادیث میں موجود ہے کہ انہیں نبی رحمتﷺ نے دو رکعت پڑھ کر دعا کرنے کا حکم دیا۔ خود رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کے لئے دعا کی آپﷺ کی زندگی میں صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین آپ کی دعا کے ذریعے اپنی تکالیف دور کر وایا کرتے تھے۔ لیکن وفات النبیﷺ کے بعد کسی صحابی، تابعی یا امام نے آپ کو نہیں پکارا۔ کہ آپ انکی مشکلات حل کروائیں۔ عثمان بن حنیف کے اس قصہ میں طبرانی کے اضافی قصے کو عصر حاضر کے محدث کبیر الشیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے قصہ ضعیفہ منکرہ قرار دیا ہے۔

ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ:

① اس قصہ کی روایت میں شعیب بن سعید المکی راوی ہیں۔ یہ ثقہ راوی ہیں ۔ مگر حفظ میں ضعف ہے۔ جب وہ یونس سے روایت کرتے ہیں تو وہ قابل قبول ہے کیونکہ یونس بن یزید کی کتاب ان کے پاس تھی اور ان سے ان کا بیٹا روایت کرے تو اس روایت کو امام بخاری رحمہ اللہ بھی اپنی صحیح میں لائے ہیں۔ جیسا کہ التقریب میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: یونس کے علاوہ کسی سے انکی کوئی روایت امام بخاری اپنی صحیح میں نہیں لائے۔ اور نہ ہی وہ ابن وھب سے ان کی کوئی روایت لائے ہیں۔ یہی بات ابن عدی سے امام ابن حاتم [الجرح والتعدیل، صفحہ نمبر359] پر بیان کرتے ہیں۔ لہذا طبرانی کی وہ سند جو شعیب بن سعید سے عبداللہ بن مصعب روایت کرتے ہیں ضعیف ہے۔ کیونکہ:

① شعیب بن سعید راوی منفرد ہیں اور انکے حفظ میں کلام ہے خاص کر جب ان سے عبداللہ بن و هب روایت کرے تو وہ حجت نہیں۔

② اس قصہ میں ثقات کی مخالفت ہے جنہوں نے اس قصہ کو روایت نہیں کیا۔ بلکہ مستدرک میں روح بن قاسم سے عمارہ البصری روایت کرتے ہیں۔ اور اس قصہ کو بیان نہیں کرتے اسی طرح شعبہ اور حماد بن سلمة عن ابی جعفر الخطمی کی روایت میں بھی یہ قصہ موجود نہیں۔ اس حدیث کو ابن سنی نے [عمل اليوم والليلة صفحہ نمبر:302] میں[حاکم:534/4]میں تین طریقوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں یہ قصہ موجود نہیں۔ لہذا یہ قصہ منکرہ ہے۔

غلط فہمی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی]

اے محمد ﷺ جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے (کنکریاں) نہیں پھینکیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ [الأنفال:17]

اس آیت کا مفہوم کیا ہے؟

ازاله

① یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کے فعل کو اپنی طرف منسوب کیا۔ لیکن ،،اذ رمیت،، کہہ کر کنکریوں کو پھینکنے کا فعل نبی اکرمﷺ کی طرف منسوب کیا۔ پھر نفی کر کے اپنی طرف اضافت کی۔ فعل ایک ہی ہے۔ نبی کریمﷺ نے ہاتھ سے پھینکی۔ جبکہ اس کا سبب اللہ تعالیٰ ہے۔ جس نے ایسا کرنے کا حکم دیا اور پھر ان کنکریوں کو مشرکوں تک پہنچا دینا اللہ ہی کا کام ہے۔ اللہ فرما رہا ہے کہ ہم نے تم میں یہ قوت پیدا کر دی تھی ورنہ تم اپنے کسب و اختیارات سے یہ کام نہ کر سکتے تھے۔ یہ آیت تو توحید خالص کی ایک روشن دلیل ہے۔ اللہ نے بدر میں چاہا تو رسول اللہﷺ کے ہاتھ سے ریت کے ذرے پھینکوا دیئے۔ جس نے کفار مکہ کو بدحواس اور پریشان کر دیا۔ دوسری طرف احد میں اللہ نے نہ چاہا تو خود رسول اللہﷺ بھی زخمی ہو گئے، اور ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین شہید ہو گئے۔

② بدر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد قریش مکہ کے مقابلہ میں بہت کم تھی۔ ساز و سامان اور اسلحہ کی قلت بھی مگر پھر بھی مسلمان اللہ کے فضل سے کفار پر غالب آئے۔ یہ غیر معمولی واقعہ ہے اس لئے اللہ تعالٰی اپنا احسان جتلا رہے ہیں۔ یہاں بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے اختیارات و قدرت کی نفی کی گئی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت اور قدرت کا اظہار ہے۔ اس آیت کا بھی مفہوم یہی ہے: [فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡہُمۡ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمۡ] تم نے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالی نے انہیں قتل کیا ہے۔ [الأنفال:17]

یہاں بھی سبب اللہ تعالی ہے۔ اس کے حکم سے مومنین نے ان سے قتال کیا اور وہی مومنین کو فتح دینے والا ہے۔ لہذا اس فعل کی اضافت اللہ کی طرف بھی ہے۔

غلط فہمی

جب بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی صفت ،،سمع،،بصر،، اور قدرت کے انوار بندے کی سمع اور قدرت میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یہ مقرب بندہ صفات الہیہ کا مظہر بن جاتا ہے۔ یہ بندہ اللہ تعالی کے نور سمع سے سنتا ہے۔ نور بھر سے دیکھتا ہے۔ اس کے نور قدرت سے تصرف کرتا ہے۔ جب قرآن سے ثابت ہے کہ درخت سے [اننی انا اللہ] کی آواز آ سکتی ہے تو عبد مقرب کے لئے یہ کیونکر محال ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات سمع و بصر کا مظہر نہ ہو سکے۔ [توحید اور شرک از کاظمی]

ازاله

علماء سلف نے اس کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ وہ مکمل طور پر اللہ کے ساتھ مشغول ہے۔ اس کا کان ادھر ہی متوجہ ہو جاتا ہے۔ جس طرف اللہ راضی ہوتا ہے، اور اپنی آنکھ سے وہی کچھ دیکھتا ہے جس کا اللہ نے اسے حکم دے رکھا ہے۔ وہ اپنا ہاتھ پاؤں اللہ کی رضا کے کام کی طرف بڑھاتا ہے۔ یعنی وہ شخص اس کو نہیں سنتا جس کے سننے کی شرع اجازت نہ دے۔ نہ ہی اسے دیکھتا ہے جسے دیکھنے سے شرع نے منع کیا ہے۔ خلاف شرع کسی چیز کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا، اور نہ ہی اس کام کی طرف چلتا ہے جس کے کرنے کی شریعت میں اجازت نہیں ہے۔

فرقہ حلولیہ اور اتحادیہ کا یہ خیال کہ یہ کلام حقیقت پر ہے۔ اور اللہ تعالی عین عبد بن جاتا ہے۔ یا اس میں حلول کر چکا ہے۔ عین گمراہی اور کفر ہے۔ حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ اگر اس نے مجھ سے سوال کیا تو میں اس کا سوال پورا کروں گا۔ اگر پناہ طلب کرے تو پناہ دوں گا۔ [بخاری:6502]

یہ الفاظ دلیل ہیں کہ اللہ اور بندہ الگ الگ ہیں ۔ اللہ انسان میں حلول نہیں کرتا ۔ اگر حلولیہ کے معنی مراد لیے جائیں تو پھر اس مرتبہ پر پہنچا ہوا شخص ہاتھ سے استنجا کیوں کرتا ہے۔ ہاتھ گندگی میں کیوں ڈالتا ہے۔ پاؤں سے بیت الخلا کو کیوں جاتا ہے؟ اسی طرح آنکھ اندھی، کان بہرا ہاتھ لو لہا یا پاؤں لنگڑا کیوں ہوتا ہے۔ کیا ان صفات کو اللہ کی طرف منسوب کرو گے [استغفر الله ثم استغفر اللہ] سب سے زیادہ اللہ کے قریب محمد رسول اللہﷺ ہیں۔ جنگ احد میں آپ ﷺ سر اور چہرہ زخمی ہو گیا۔ اس میں سے خون نکل آیا، کیا معاذ اللہ خود اللہ ہی کو یہ زخم ہوا تھا؟

اگر صوفیا کے معانی تسلیم کیے جائیں، تو جس کا ہاتھ پاؤں آنکھ اور کان اللہ ہے اس کو تکبر سے کیا منع؟ پھر جن آیات و احادیث میں تکبر کرنے سے منع فرمایا وہ کن کے لیے ہے؟ لہذا وہ معنی جو سلف صالحین نے بیان کیے وہی درست ہیں۔