عن أنس بن مالك رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رجع من غزوة تبوك فدنا من المدينة فقال إن بالمدينة أقواما ما سرتم مسيرا ولا قطعتم واديا إلا كانوا معكم قالوا يا رسول الله وهم بالمدينة قال وهم بالمدينة حبسهم العذر
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے، آپ جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا: ”مدینہ میں ایسے لوگ ہیں جو (مدینہ میں موجود ہونے کے باوجود) سفر اور وادیوں میں تمہارے ساتھ رہے ہیں۔ “ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! وہ مدینہ میں ہی موجود رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ مدینہ میں ہی موجود تھے، ان کو عذر نے جنگ میں شرکت سے روک دیا۔ “
(صحیح بخاری ) (رواه البخاري: كتاب المغازي باب (81) الرقم: 4423)
تشریح
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ان مخلص لوگوں کے بارے میں فرمائی جو دلی طور پر جنگ میں شرکت چاہتے تھے مگر عذر ان کے لیے رکاوٹ بن گئے، بعض کے ساتھ جسمانی اور بعض کے ساتھ مالی مجبوریاں تھیں، ان کے اخلاص کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی جنگ میں شرکت کرنے والوں کے ساتھ ثواب میں شریک کر دیا۔