قربانی کی کھالیں بیچنا اور قیمت صدقہ کرنا:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من باع جلد أضحيته فلا أضحية لہ
”جس نے اپنی قربانی کی کھال بیچی تو اس کی کوئی قربانی نہیں۔“
(السنن الکبری للبیہقی: 9/ 294 وسندہ حسن، مستدرک حاکم: 2/ 389)
اس سے مراد وہ مالدار شخص ہے جو کھال بیچ کر اس کی قیمت خود کھا لیتا ہے اور اس بات کو کوئی حیثیت و اہمیت ہی نہیں دیتا بلکہ استخفاف و توہین کا مرتکب ہے۔ رہا وہ شخص جو بوجہ جہالت ایسا کرتا ہے تو وہ گناہگار ہے۔
❀ عقبہ بن صہبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سألت ابن عمر عن رجل أهدى بقرة أيبيع جلدها ويتصدق بثمنه قال لا بأس به
میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جسے گائے تحفہ دی جاتی ہے، کیا وہ اس کی کھال بیچ کر اس کی قیمت کو صدقہ کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔
(مسند مسدد المطالب العالیہ: 10/ 465 ح 2319 دوسرا نسخه 465/10 )
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنا قربانی کا جانور کسی دوسرے شخص کو تحفے میں دے اور کہے کہ تو قربانی کر لے تو یہ جائز ہے نیز قربانی کی کھال کو بیچ کر قیمت صدقہ کرنا بھی جائز ہے۔