وصیت کے احکامات، وقتِ وفات نقصان سے بچنا اور مسلمانوں کے لیے وقف کرنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

کتاب الوصایا

وصیت کے متعلق احکامات

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما حق امرئ مسلم له شيء يريد أن يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده
”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اس کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس کے متعلق وصیت کرنا چاہے اور وہ دو راتیں اس طرح گزار دے کہ اس کے پاس وصیت لکھی ہوئی نہ ہو۔“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سنا ہے تو کوئی ایک رات بھی ایسی نہیں گزری کہ میرے پاس لکھی ہوئی وصیت نہ ہو۔
بخاری، کتاب الوصایا 2738، مسلم، کتاب الوصیة 1627/4۔

وقتِ وفات وصیت کرتے ہوئے نقصان نہ پہنچانا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن الرجل ليعمل والمرأة بطاعة الله تعالى ستين سنة ثم يحضرهما الموت فيضاران فى الوصية فتجب لهما النار
”مرد اور عورت ساٹھ سال تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت والے عمل کرتے رہتے ہیں، پھر ان کی موت کا وقت اا جاتا ہے اور وہ وصیت کرتے وقت نقصان پہنچا دیتے ہیں تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے۔“
پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی:
﴿مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾
وصیت کے بعد جس کی وصیت کی گئی یا قرض کی ادائیگی کے بعد نقصان نہ پہنچاتے ہوئے۔
اللہ کے اس فرمان تک:
﴿ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴾
یہ بڑی کامیابی ہے۔
ابو داؤد، کتاب الوصایا 2867۔ ترمذی، کتاب الوصایا 2117۔
یعنی مکمل آیت تلاوت فرمائی۔

مسلمانوں کے لیے وقف کرنے کے احکامات

① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے خیبر کی اراضی میں سے کچھ زمین ملی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے ایسی زمین ملی ہے جس طرح کا پسندیدہ مال مجھے پہلے نہیں ملا اور نہ ہی اس سے قیمتی مال میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها
”اگر آپ چاہیں تو اس کا اصل روک لیں اور اسے صدقہ کر دیں۔“
پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ کرتے ہوئے فرمایا: اسے فروخت کیا جائے نہ ہبہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کی وراثت میں دیا جائے اور انہوں نے اسے فقراء، رشتہ داروں، غلاموں کو آزاد کرنے، ضعیفوں اور مسافروں پر صدقہ کر دیا۔ اور جو شخص اس کی سرپرستی کرے اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ بھلے طریقے سے اس میں سے کھائے اور ایسے شخص کو کھلا دے جو مال میں اضافہ نہ کرنا چاہتا ہو۔
بخاری، کتاب الشروط 3737، مسلم، کتاب الوصیة 1632/15۔
اور ایک روایت میں ہے، وہ بیان کرتے ہیں، میں نے اپنی پھلوں والی زمین کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أحبس أصلها وسبل ثمرها
”اس کی اصل روک لو اور اس کا پھل اللہ کی راہ میں دے دو۔“
نسائی 6/ 194۔ ابن ماجه، کتاب الاحکام 2 / 801۔