رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
نضر الله وجه امرئ سمع منا شيئا فبلغه كما سمعه فرب مبلغ أوعىٰ من سامع
”اللہ اس شخص کے چہرے کو ترو تازہ رکھے، جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور پھر جیسے اسے سنا تھا ویسے ہی اسے آگے پہنچا دیا۔ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جاتی ہے وہ سامع سے زیادہ حفاظت کرتا ہے۔“
(ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2657، 2658. ابن ماجه، المقدمة، حدیث: 232۔) روایت صحیح ہے.
② سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بلغوا عني ولو آية، وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج، ومن كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
”میری طرف سے پہنچا دو خواہ ایک آیت ہو، بنی اسرائیل سے روایت بیان کرو کوئی حرج نہیں، جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“
(بخاری، کتاب احادیث الانبياء، حدیث: 3461. ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2669)
احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سماع کی فضیلت
① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
نضر الله امرأ سمع منا شيئا فبلغه كما سمعه فرب مبلغ أوعىٰ من سامع
”اللہ اس شخص کو خوش رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور پھر اسے ویسے ہی آگے پہنچا دیا جیسے اسے سنا تھا۔ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جاتی ہے وہ سامع کی نسبت زیادہ حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔“
(ابوداؤد، کتاب العلم، حدیث: 3660. ترمذی: 2656)
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”تم سنتے ہو اور تم سے سنا جاتا ہے اور جو تم سے سنتا ہے اس سے بھی سنا جاتا ہے۔“
(ابوداؤد، کتاب العلم، حدیث: 3659. مسند احمد، من مسند ہاشم: 1/ 321)۔ یہ روایت امام اعمش کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے.
سنتِ حسنہ کے متعلق احکامات
① سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سن فى الإسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء، ومن سن فى الإسلام سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أوزارهم شيء
”جس شخص نے اسلام میں کوئی سنتِ حسنہ جاری کی تو اس کو اس کا ثواب ملے گا اور اس کے بعد جو شخص اس پر عمل کرے گا اس کا بھی اسے ثواب ملے گا اور ان کے اجر میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی، اور جس شخص نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا تو اس پر اس کا بوجھ اور گناہ ہوگا اور اس کے بعد جو اس پر عمل کرے گا اس کا بوجھ اور گناہ بھی اس پر ہوگا اور ان کے گناہوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔“
(مسلم، کتاب الزکاة، حدیث: 1017۔ ترمذی، کتاب العلم عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث: 2675)