کتاب الصلح
صلح کرانے کی فضیلت
① سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أخبركم بأفضل من درجة الصيام والصلاة؟
”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو روزے اور نماز کے درجے سے افضل ہے؟“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ ضرور بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إصلاح ذات البين، فإن فساد ذات البين هي الحالقة
”لوگوں میں صلح کرانا، کیونکہ آپس میں فساد تو قطع رحمی ہے۔ “
ابو داؤد، کتاب الأدب، حدیث 4919، الترمذی، کتاب صفة القيامة، حدیث 2509۔
صلح اوربھائی چارہ
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تفتح أبواب الجنة يوم الاثنين ويوم الخميس، فيغفر لكل عبد لا يشرك بالله شيئا إلا رجلا كانت بينه وبين أخيه شحناء، فيقال: أنظروا هذين حتى يصطلحا، أنظروا هذين حتى يصطلحا
”سوموار اور جمعرات کے روز جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، پس مشرک کے سوا ہر شخص کو بخش دیا جاتا ہے بجز اس آدمی کے جس کی اپنے بھائی کے ساتھ کوئی رنجش ہو تو کہا جاتا ہے: ان دونوں کو ڈھیل دو حتیٰ کہ وہ صلح کر لیں، ان دونوں کو ڈھیل دو حتیٰ کہ وہ صلح کر لیں۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والاداب 36/ 2565، ابو داؤد، کتاب الادب 4916۔ اور مسلم ہی کی روایات میں ہے: ”ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں“۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث، ولا تجسسوا، ولا تنافسوا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا كما أمرتم، المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره، التقوى هاهنا التقوى هاهنا – ويشير إلى صدره – بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام دمه وعرضه وماله، إن الله لا ينظر إلى أجسادكم ولا إلى صوركم ولكن ينظر إلى قلوبكم وفی روایۃ أعمالكم ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تجسسوا ولا تناجشوا وكونوا عباد الله إخوانا
”بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، ٹوہ نہ لگایا کرو، مقابلہ بازی نہ کیا کرو، باہم حسد نہ کیا کرو، بغض نہ رکھا کرو اور نہ ہی قطع تعلقی کیا کرو اور اللہ کے بندو! جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے – آپ اپنے سینے (دل) کی طرف اشارہ فرما رہے تھے – کسی بندے کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، مسلمان مسلمان پر مکمل طور پر حرام ہے، اس کی جان، اس کی عزت اور اس کا مال اس پر حرام ہے۔ یقیناً اللہ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے نہ تمہاری صورتوں کو بلکہ وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور ایک روایت میں تمہارے اعمال کو، کے الفاظ ہیں۔ اور باہم حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، ٹوہ نہ لگاؤ، قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ دو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔“
اور ایک روایت میں ہے:
لا تقاطعوا ولا تدابروا ولا تباغضوا ولا تحاسدوا وكونوا عباد الله إخوانا
”آپس میں قطع رحمی کرو نہ قطع تعلقی کرو اور باہم بغض رکھو نہ حسد کرو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔“
اور ایک روایت میں ہے:
ولا تهاجروا ولا يبع بعضكم على بيع بعض
”باہم قطع تعلقی نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کی بیع پر بیع کرو۔“
بخاری، کتاب النکاح 5143، مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2563/28۔
③ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا ولا تقاطعوا وكونوا عباد الله إخوانا ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث
”باہم بغض رکھو نہ حسد کرو اور قطع تعلقی کرو نہ قطع رحمی کرو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لیے حلال / جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلقی کرے۔“
بخاری، کتاب الادب 6065، مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2559/23۔