سورۃ الزلزال، سورۃ الاخلاص اور معوذتین کے فضائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

سورة الزلزلة

① سیدنا ابن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ پڑھنا مقرر فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقرأ ثلاثا من ذوات حم
”حم سے شروع ہونے والی تین سورتیں پڑھو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا۔ آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے کوئی جامع سورت پڑھا دیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورت ”إِذَا زُلْزِلَتِ“ پڑھائی۔ حتیٰ کہ اس کی قراءت سے فارغ ہوئے تو اس آدمی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس میں کبھی بھی کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ پھر وہ آدمی واپس چلا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفلح الرويجل مرتين
”یہ آدمی کامیاب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا۔“

سورة الإخلاص

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا:
إن الله تعالى جزأ القرآن ثلاثة أجزاء، فجعل قل هو الله أحد جزءا من أجزاء القرآن
”اللہ نے قرآن کو تین اجزا میں تقسیم کیا، اور قل ھو اللہ احد کو اجزاءِ قرآن میں سے ایک جز قرار دیا۔“
مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 811۔ مسند احمد، مسند الانصار 443/6۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا:
أقرأ عليكم ثلث القرآن
”میں تمہیں تہائی قرآن سناتا ہوں۔“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏ اللَّهُ الصَّمَدُ آخر سورت تک سنائی۔
مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 812۔ ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2900۔
③ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قرأ قل هو الله أحد كل يوم مائتي مرة محيت عنه ذنوب خمسين سنة إلا أن يكون عليه دين
”جو شخص روزانہ دو سو مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھتا ہے تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
اور فرمایا:
من أراد أن ينام على فراشه فنام على يمينه ثم قرأ: قل هو الله أحد مائة مرة، قال له الرب عز وجل يوم القيامة: يا عبدي! ادخل على يمينك الجنة
”جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے اور دائیں پہلو پر لیٹ کر سو مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھے تو رب عز و جل قیامت کے دن اس سے فرمائے گا: دائیں طرف سے جنت میں داخل ہو جا۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2898۔ سند میں محمد بن مرزوق ہے جو کہ وہم کا شکار ہے۔ دیکھیے التقریب 205/2۔ نیز اس کی سند میں حاتم بن میمون راوی بھی ضعیف ہے۔ الشیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ضعیف الجامع 5795۔
④ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اس سورت قل ھو اللہ احد سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن حبك إياها أدخلك الجنة
”تمہاری اس سے محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2901۔ روایت صحیح ہے۔

المعوذتین

① سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألم تر آيات أنزلت الليلة لم ير مثلهن قط : قل أعوذ برب الفلق ، وقل أعوذ برب الناس
”کیا تم نے اس رات نازل ہونے والی آیات نہیں دیکھیں، ان جیسی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ وہ قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس ہیں“۔
مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 814؛ ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2902۔ ابو داؤد، کتاب الصلاة 1462۔
② سیدنا عبد اللہ بن خبیب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم بارش اور اندھیری رات میں (مسجد میں) آئے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا:
قل”کہو“۔
میں نے عرض کیا: میں کیا کہوں؟ فرمایا:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ، والمعوذتين حين تمسي وحين تصبح ثلاثا تكفيك من كل شيء
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ اور معوذتین صبح و شام پڑھا کرو، یہ تمہیں ہر چیز سے کافی ہو جائیں گی“۔
ابو داؤد، کتاب الأدب 5082. ترمذی، کتاب فضائل القرآن 3575 روایت صحیح ہے۔