نابالغ کا نکاح، رخصتی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کا مسئلہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

انیسواں شبہ: سن بلوغ سے پہلے نکاح

اس کے متعلق پرویز اور اس کے ہم نواؤں کے شبہے کا تجزیہ حسب ذیل ہے:
➊ قرآن کریم نے بلوغت کو سن نکاح سے تعبیر کیا ہے۔ قرآن کریم میں ہے کہ جب کوئی بچے یتیم رہ جائیں تو تم معاملات کے ذریعے سے ان کا امتحان لو۔
حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ
”حتیٰ کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچیں۔“
(4-النساء:6)
➋ قرآن کریم نے نکاح کو معاہدہ قرار دیا ہے اور معاہدے میں فریقین کی رضامندی اور بالغ ہونا شرط ہے۔ نکاح کی رضامندی کے لیے پرویز صاحب نے (قرآنی فیصلے، ص: 134 میں) یہ دلیل پیش کی ہے۔
لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا
”تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کو میراث سمجھ کر ان پر زبر دستی قبضہ کر لو۔“
(4-النساء:19)
➌ طبی نقطہ نگاہ سے بھی نابالغ بچی قابل مجامعت نہیں۔ اس سے مجامعت ضرر انگیز ہے اور کئی جسمانی عوارض کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

جواب :

سن بلوغ سے پہلے نکاح کے جواز کو ہم قرآن کریم سے ثابت کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ
”اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں، وہ تمہارے لیے حلال کر دی گئی ہیں (شرط یہ ہے) کہ تم اپنے مال (مہر) کے بدلے انہیں حاصل کر کے پاک دامنی کے لیے ان سے نکاح کرو۔“
(4-النساء:24)
ما وراء ذٰلك ”جو اس کے علاوہ ہے۔“ اس لفظ کے عموم کے تحت نابالغ لڑکی بھی شامل ہے، اس کی تخصیص کے لیے کوئی صحیح اور صریح دلیل موجود نہیں۔
نیز فرمایا:
وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُم
”تم اپنے میں سے جو بے نکاح ہیں ان کے نکاح کرو۔“
(24-النور:32)
أيامىٰ جمع ہے أيم کی اور أيم ہر اس مرد کو کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو اور اسی طرح ہر اس عورت کو کہتے ہیں جس کا شوہر نہ ہو اور یہ بھی عام ہے، اس میں بالغ و نابالغ کی کوئی تخصیص نہیں۔
نیز فرمایا:
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ
”اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے ناامید ہو چکیں، اگر تم کو شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور اسی طرح وہ عورتیں بھی جنہیں حیض نہیں آتا۔“
(65-الطلاق:4)
اس آیت میں عدت کی ایک قسم بیان کی ہے جو تین ماہ گزارنا ہے اور یہ دو قسم کی بیویوں کے لیے ہے۔ ایک وہ جو بوڑھی ہو جائے اور بڑھاپے کی وجہ سے اس کا حیض منقطع ہو جائے اسے عربی میں آيسة کہتے ہیں۔ دوسری وہ بیوی جسے عدم بلوغت کی وجہ سے ابھی تک حیض شروع نہیں ہوا۔ مذکورہ آیت میں عدت طلاق کا مسئلہ ہے، یعنی نکاح کے بعد طلاق دی گئی ہے اور طلاق کے بعد اب عدت گزارنی ہے۔ یہ بات ثابت ہے کہ طلاق کے جواز کے لیے ضروری ہے کہ پہلے نکاح ہوا ہو، لہذا اس آیت سے سن بلوغت سے پہلے نکاح کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
بعض متجاہل قسم کے لوگوں نے لم يحضن کے متعلق لکھا ہے کہ اس سے وہ عورتیں مراد ہیں جو بالغ ہوں لیکن کسی عارضے کی وجہ سے انہیں حیض نہیں آتا تو اس سے نابالغ بچی کے نکاح کے جواز پر استدلال کرنا صحیح نہیں۔

جواب :

➊ یہ تحریف معنوی ہے، عربی گرامر کے بالکل خلاف ہے۔ عربیت کا قانون یہ ہے کہ حرف لم جب فعل مضارع میں داخل ہو جائے تو وہ اس فعل مضارع کو فعل ماضی کے معنی میں بدل دیتا ہے۔ تو پھر لم يحضن کا معنی یہ ہے کہ ”انہیں حیض نہیں آیا“۔ اردو مفسرین نے اسی قسم کا معنی کیا ہے۔ شاہ رفیع الدین نے فرمایا: ”اور وہ جو کہ حائض نہیں ہوئی۔“ فتح الحمید میں ہے: ”جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا۔“ اور تفہیم القرآن میں ہے: ”اور یہی حکم ان کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔“ اس مفہوم کے اور بھی شواہد ہیں جبکہ اس اعتراض میں جس ترجمے کا ذکر ہے، اس کے لیے اردو تراجم میں کوئی شہادت نہیں ملتی، چنانچہ ”حیض نہیں آیا“ کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ نابالغ ہے۔
➋ اگر وہی معنی تسلیم کر لیا جائے جو سوال میں مذکور ہے تو پھر آیت کا یہ ٹکڑا لَمْ يَحِضْنَ تین قسم کی عورتوں کو عام ہے:
● نابالغ ہونے کی وجہ سے حیض نہ آنا
● کسی بیماری کی وجہ سے کافی عرصہ حیض نہ آنا
● ساری عمر حیض نہ آنا
تو عموم کی وجہ سے پہلی قسم کو بھی محیط ہے تو پھر بھی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نابالغ لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ قرآن سے استدلال کے تذکرے کے بعد ہم ان کے شبہات کے جوابات کی طرف آتے ہیں۔ ان کے شبہات مع جوابات مندرجہ ذیل ہیں: ان کا پہلا استدلال حتىٰ إذا بلغوا النكاح ”حتیٰ کہ وہ نکاح کی عمر (بلوغت) کو پہنچ جائیں۔“ سے ہے۔
● اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے یہ قانون ثابت نہیں ہوتا کہ نکاح کے لیے بلوغت شرط ہے بلکہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ جب انسان بالغ ہو کر اپنی مرضی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس وقت اس کے لیے مال کی ضرورت پڑتی ہے تو دانش مندی معلوم کرنے کے بعد اس کا مال اس کے حوالے کر دو، یعنی النكاح میں الف لام عہدی ہے۔ اس نکاح سے مراد وہ ہے جو سورۂ نساء کی آیت: 3 میں امر کے صیغے سے مذکور ہے، یعنی اس سے مراد اپنی مرضی سے نکاح کرنا ہے۔
● اس کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم بعض اوقات جو شرط لگاتا ہے وہ لازمی نہیں ہوتی بلکہ کسی خاص فائدے کے لیے بیان کی جاتی ہے۔ یہاں بھی فائدہ یہ ہے کہ جب انسان بالغ ہو جائے تو اسے نکاح کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لیے مال کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر بالغ ہو جائے اور وہ نکاح نہ کرنا چاہے تو اس کی صلاحیت کا امتحان لینے کے بعد اس کا مال اسے دے دیا جاتا ہے۔
● یہاں لفظ نکاح سے لغوی معنی مراد ہے، یعنی جماع کرنا، اور اس قید کا فائدہ یہ ہے کہ جب انسان میں قوت شہوانیہ پیدا ہوتی ہے تو اس میں قوت حفاظت مال ضرور آ جاتی ہے۔
➌ نکاح معاہدہ ہے اور معاہدے میں فریقین کی رضامندی شرط ہے اور رضا کے لیے بلوغت ضروری ہے۔
یہ صحیح ہے کہ انعقاد نکاح کے لیے عاقدین کی رضامندی ضروری ہے لیکن رضامندی کی دو قسمیں ہیں۔ ① بذات خود بشرطیکہ فریقین میں اہلیت ہو۔ ② بواسطہ وکیل، متولی و نائب وغیرہ۔ پوری دنیا میں عقود، خرید و فروخت، ملازمت اور نوکری وغیرہ کے انعقاد کے لیے دونوں طریقے جاری ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ
”اگر وہ شخص کہ جس کے ذمے حق ہے، نادان یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو چاہیے کہ اس کا ولی انصاف سے لکھواتا جائے۔“
(2-البقرة:282)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تین صورتوں میں ولی کو معاہدہ کرنے کا مختار بنایا ہے۔
① نادان ہو۔
② ضعیف ہو، اس میں نابالغ بچے بھی داخل ہیں کیونکہ صفت ضعف قرآن کریم نے بچے کے لیے بیان کی ہے، فرمایا:
وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ
”اس کے لیے چھوٹے کمزور بچے ہوں۔“
(2-البقرة:266)
③ لکھوانے کی اہلیت نہیں رکھتا، یعنی لغت نہیں سمجھتا یا زبان سے گونگا ہو جبکہ نابالغ میں یہ تینوں صفات بیک وقت موجود ہیں۔ بالغ کے نکاح کے لیے ولی کی رضامندی شرط ہے، جس کے ذریعے سے عقد نکاح اور دوسرے عقود صحیح ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں عورت کی رضامندی کی شرط کے لیے پرویز صاحب نے
لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا
”اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم زبر دستی عورتوں کو وراثت میں لے لو۔“
(4-النساء:19)
جو استدلال کیا ہے وہ ناقص ہے۔ اس میں بالغہ عورت کے نکاح کا تذکرہ ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص وفات پا گیا اور اس کی منکوحہ ہے تو وارث اس کی بیوہ کے ساتھ اس کی رضامندی کے بغیر خود نکاح کر سکتے ہیں نہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کر سکتے ہیں تو ظاہر ہے کہ منکوحہ بالغہ ہے۔ اور اگر بالغہ نہیں تو پھر کرھا کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ولی کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے۔
➌ طبی نقطہ نظر سے نابالغہ سے مجامعت مضر ہے۔ یہ اعتراض تب بنتا ہے کہ نکاح کے ساتھ ساتھ رخصتی بھی بچپن میں ہو جائے۔ عربوں کا معمول تھا کہ وہ نکاح تو بچپن میں کر دیتے جبکہ رخصتی بلوغت کے بعد کرتے تھے جیسا کہ ہمارے ہاں بھی بعض لوگ اس طرح کر لیتے ہیں۔ اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح بچپن میں ہوا اور رخصتی نو سال کی عمر میں (بلوغت کے بعد) ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کو چھ سال کی عمر میں ہونے کو پرویز نے بھی مشروط طور پر تسلیم کیا ہے۔
قرآنی فیصلے، ص: 35
لیکن پھر اس نے اسے منسوخ قرار دیا ہے اگرچہ یہ نظریہ غلط ہے۔ مزید برآں طبی نقطہ نظر سے نابالغہ سے مجامعت کے متعلق یہ خیال غلط ہے کہ یہ مضر ہے۔ بسا اوقات بلوغت سے قبل زمانہ مراہقت میں جماع کیا جا سکتا ہے اور اس پر کوئی بدنی ضرر مرتب نہیں ہوتا۔
◈ نوٹ: عائشہ رضی اللہ عنہا کے چھ سال کی عمر میں نکاح اور نو سال کی عمر میں رخصتی کے متعلق حدیث صحیح ہے امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے صحیح اسانید کے ساتھ اسے نقل کیا ہے۔
صحيح البخاري، مناقب الأنصار، باب تزويج النبي صلى الله عليه وسلم عائشة وقدومها حديث : 3894، وصحیح مسلم، النکاح باب جواز تزويج الأب البكر الصغيرة، حديث : 1422
البتہ دور حاضر کے بعض خود ساختہ ناقدین نے اس حدیث کی سند پر جرح کی ہے جو قابل اعتماد نہیں۔