نیکی کا ارادہ کرنے کے فضائل
اسلام کی دعوت آنے کے بعد لوگ دو جماعتوں میں بٹ گئے۔ ایک جماعت نے اس دعوت کو قبول کیا، دنیا کی رنگینیوں اور خواہشات نفس سے ہٹ کر اللہ کی رضا جوئی کو اپنا مقصد حیات بنایا، اور اس کی اس طرح عبادت کی کہ جیسے وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں۔ ایسے مومنین مخلصین کو اللہ تعالیٰ نے جنت کی خوشخبری دی ہے، اور اس سے بھی عظیم تر نعمت دیدار کا وعدہ کیا ہے:
﴿لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ . وَالَّذِينَ كَسَبُوا السَّيِّئَاتِ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ مَّا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ ۖ كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ.﴾
جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے جنت ہے، اور اللہ کا دیدار بھی، اور ان کے چہروں پر نہ کدورت چھائے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جن لوگوں نے بد کاری کی ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ہوگی اور ان کو ذلت چھائے گی ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی نہ بچا سکے گا گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت لپیٹ دیئے گئے ہیں یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
(10-يونس:26،27)
امام احمد اور امام مسلم نے صہیب رومی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور کہا کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے، تو ایک منادی آواز لگائے گا کہ اے اہل جنت! اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا جسے اب پورا کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگ کہیں گے کہ کیا اللہ نے ہمارے ترازو کو بھاری نہیں بنا دیا، کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا اور ہمیں جہنم سے ہٹ کر جنت میں داخل نہیں کر دیا، اب اور کیا چیز باقی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ پردہ ہٹا دے گا، اور جنتی اسے دیکھنے لگیں گے۔ اللہ کی قسم، اس نعمت دیدار سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہو گی، اور اس سے بڑھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی کوئی شے نہیں ہوگی۔“
صحیح مسلم، کتاب الايمان، رقم: 267 .
عن ابن عباس رضي الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم ، فيما يروي عن ربه ، عزوجل قال: إن الله عزوجل كتب الحسنات والسيئات ثم بين ذلك ، فمن هم بحسنة فلم يعملها كتبها الله له عنده حسنة كاملة ، فإن هم بها وعملها كتبها الله له عنده عشر حسنات إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة ، ومن بسيئة فلم يعملها كتبها الله له عنده حسنة كاملة ، فإن هو هم بها فعملها كتبها الله سيئة واحدة
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رب تعالیٰ سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھا پھر انہیں واضح کر دیا اب جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے انجام نہیں دے پاتا، تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں اپنے پاس سے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، اور اگر وہ ارادہ کرنے کے بعد اس پر عمل بھی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیاں بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ نیکیوں کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ اور وہ شخص جو برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن برائی کرتا نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر وہ ارادہ کرنے کے بعد اس برائی کو کرتا ہے تب اس کے نامہ اعمال میں ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الرقاق، باب من هم بحسنة أو سيئة ، رقم: 6491 ـ صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب إذا هم العبد بحسنة كتبت، وإذا هم بسئية لم تكتب، رقم: 131.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جس کسی نے نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کیا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اور جس نے نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل کر بھی لیا تو اس کے لیے دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور جس نے برائی کا ارادہ کر کے اس پر عمل نہیں کیا، تو اس کا گناہ نہیں لکھا جاتا، اور اگر عمل کر لے تو صرف ایک گناہ ہی لکھا جاتا ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الايمان، رقم: 130