نیک اعمال میں جلدی کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بادروا بالأعمال سبعا : هل تنتظرون إلا فقرا منسيا ، أو غنى مطغيا ، أو مرضا مفسدا ، أو هرما مفندا ، أو موتا مجهزا ، أو الدجال فشر غائب ينتظر ، أو الساعة فالساعة أدهى وأمر
”قیامت کی سات نشانیاں ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو۔ تم مشغول کر دینے والے فقر یا سرکش بنا دینے والی تو نگری یا مفسد مرض یا مخبوط الحواس بنا دینے والے بڑھاپے یا اچانک آ جانے والی موت یا دجال کے منتظر ہو؟ کیا شر یا قیامت کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ قیامت بہت سخت اور بہت تلخ ہے۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2306۔
اللہ کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کرنے کے احکامات
① سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کون سی چیز ترک (ہجرت) کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أن تهجر ما كره ربك
”یہ کہ تم اپنے رب کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کر دو۔“
نسائی 129/7، مسند احمد 2/ 257 حدیث 6803۔
② سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده ، والمهاجر من هجر ما نهي عنه
”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مہاجر وہ ہے کہ جس چیز سے اسے منع کیا گیا ہے وہ اس سے رک جائے۔“
بخاری، کتاب الایمان 10، ابو داؤد، کتاب الجهاد 2481۔
لوگوں پر ضرورت پیش کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نزلت به فاقة فأنزلها بالناس لم تسد فاقته ، و من نزلت به فاقة فأنزلها بالله أوشك الله له بالغنى إما بموت عاجل أو غنى عاجل
”جس شخص کو کسی چیز کی اشد ضرورت ہو اور وہ اسے لوگوں پر پیش کرے تو وہ اس کی ضرورت پوری نہیں کر سکتے، اور جس شخص کو کسی چیز کی اشد ضرورت ہو اور وہ اسے اللہ پر پیش کرے تو قریب ہے کہ اللہ اسے بے نیاز کر دے، یا تو جلدی موت سے دو چار کرنے سے یا جلد مال دے کر۔“
ابو داؤد، کتاب الزکاة 1645، ترمذی، کتاب الزہد 2326۔