جن عورتوں سے نکاح حرام ہے : نسب، رضاعت، مصاہرت اور عدت کے احکام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

جن عورتوں سے نکاح حرام ہے

جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے، وہ یہ ہیں :
➊ باپ کی بیوی (یعنی سوتیلی ماں) خواہ باپ نے اسے طلاق دے دی ہو یا بیوہ ہوگئی ہو۔ زمانہ جاہلیت میں یہ نکاح جائز تھا، لیکن اسلام نے اس کو باطل قرار دیا، کیونکہ باپ کی منکوحہ ماں کے درجہ میں ہوتی ہے۔ اس لیے مناسب یہی تھا کہ باپ کے احترام کے پیش نظر اسے حرام کر دیا جائے۔ یہ حرمت ابدی ہے جس کے بعد نہ بیٹے کے دل میں خواہش پیدا ہوسکتی ہے۔ نہ سوتیلی ماں کے دل میں۔ بلکہ دونوں کے درمیان احترام اور تقدس کا رشتہ استوار ہو چکا ہوتا ہے۔
➋ ماں : اسی طرح دادی اور نانی اور جو اس سے اوپر کے درجہ میں ہوں۔
➌ لڑکی : اسی طرح پوتی اور نواسی جو اس سے نیچے کے درجہ میں ہوں۔
➍ بہن : خواہ سگی ہو یا علاتی یا اخیافی۔
➎ پھوپھی : یعنی باپ کی سگی، علاتی یا اخیافی بہن۔
➏ خالہ : یعنی ماں کی سگی، علاتی یا اخیافی بہن۔
➐ بھتیجیاں۔
➑ بھانجیاں۔
یہ رشتہ دار خواتین اسلام میں محارم کہلاتی ہیں، کیونکہ یہ مسلمان کے لیے ابدی طور پر حرام ہیں۔ کسی وقت اور کسی حال میں ان سے نکاح جائز نہیں ہو سکتا۔ مرد کو بھی ان کی نسبت ”محرم“ کہا جاتا ہے۔

ان رشتوں کو حرام قرار دینے کی مصلحتیں

➊ مہذب انسان کی فطرت کبھی اس بات کو گوارا نہیں کرتی کہ وہ اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اپنی ماں بہن اور بیٹی سے تعلق قائم کر لے۔ انسان تو انسان بعض حیوانات بھی ایسا نہیں کرتے۔ خالہ اور پھوپھی کے بارے میں بھی آدمی اپنی ماں ہی کی طرح احترام کے جذبات رکھتا ہے۔ اور چچا اور ماموں، عورت کے لیے بمنزلہ والد کے ہوتے ہیں۔
➋ اگر شریعت نے ان محرمات کے سلسلہ میں احکام نہ دیئے ہوتے جس نے شہوانی تعلق کے تصور ہی کو ختم کر کے رکھ دیا ہے تو ان کے ساتھ خلوت میں رہنے اور سد اختلاط کی وجہ سے عجب نہیں تھا کہ ان کے ساتھ جنسی تعلقات پیدا ہو جاتے۔
➌ ان اقرباء کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی ہوتی ہے جس کی بنا پر آدمی ان کا احترام کرتا ہے اور ان کے ساتھ ہمدردی و شفقت سے پیش آتا ہے۔ اس لیے مناسب یہی تھا کہ آدمی محبت کے جذبات کے ساتھ اجنبی عورتوں سے ازدواجی تعلق قائم کرے۔ اس طرح نئے تعلقات قائم ہو جاتے ہیں اور لوگوں کے درمیان محبت و مودت کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے :
وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
”اور تمہارے درمیان مودت و رحمت پیدا کر دی۔“
سورہ الروم : 21
➍ جو فطری جذبہ ان رشتہ داروں کے بارے میں انسان کے اندر پایا جاتا ہے اس کا برقرار رہنا اشد ضروری ہے تاکہ ان کے درمیان جو دائمی رشتہ ہے، وہ پختہ ہو سکے اور ان سے محبت اور ان کی سر پرستی وغیرہ کے لیے بنیاد فراہم ہو سکے۔ اس کے برعکس ان کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے کا مطلب ان سے اختلاف اور نزاع کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے، جس کا نتیجہ علیحدگی اور تعلقات کے انقطاع کی شکل میں ظاہر ہوگا۔
➎ ان رشتہ داروں سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صورت میں جو نسل پیدا ہوگی اس کا کمزور ہونا اغلب (زیادہ غالب) ہے۔ اور اگر کسی کنبہ میں جسمانی یا عقلی عیب ہوگا تو اس کی نسل میں وہ منتقل ہوسکتا ہے۔
➏ عورت اس بات کی ضرورت مند ہوتی ہے کہ اس کی طرف سے کوئی مقدمہ لڑنے والا ہو اور اس کے شوہر کے پاس اس کے مفاد کی حمایت کرنے والا ہو۔ خاص طور سے ایسی صورت میں عورت اس کی شدید ضرورت محسوس کرتی ہے جبکہ میاں بیوی کے تعلقات خراب ہو جائیں۔ لیکن جب پوزیشن یہ ہو کہ اس کا حامی ہی حریف بن جائے تو پھر عورت کا کیا حال ہوگا ؟

رضاعت کی بنا پر حرام رشتے

جس عورت نے بچپن میں دودھ پلایا ہو اس سے نکاح کرنا ایک مسلمان مرد کے لیے حرام ہے۔ دودھ پلانے کی وجہ سے عورت ماں کے حکم میں ہوگئی۔ دودھ نے اس کے گوشت اور ہڈیوں کے بننے میں حصہ لیا ہے اور رضاعت نے دونوں کے درمیان ماں بیٹے کا جذباتی تعلق پیدا کر دیا ہے۔ رضاعت کے مؤثر ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ بچپن میں یعنی بچہ کی عمر دو سال ہونے سے قبل اسے دودھ پلایا گیا ہو۔ اس زمانہ میں بچہ کے دودھ پینے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ خود سیری کے احساس سے پستان چھوڑ دے۔ پانچ مرتبہ کی قید مختلف روایتوں کے پیش نظر راجح اور مبنی بر اعتدال ہے۔
رضاعی بہنیں : جس طرح عورت بچہ کی رضاعی ماں بن گئی اسی طرح اس (ماں) کی لڑکیاں بچہ کی رضاعی بہنیں بن گئیں۔ نیز اس عورت کی بہنیں بچہ کی رضاعی خالائیں بن گئیں۔ اسی طرح عورت کے دوسرے رشتہ دار بھی اس کے رضاعی رشتہ دار بن گئے۔
حدیث نبوی ہے :
يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب
”جو رشتے نسب سے حرام ہو جاتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔“
بخاري كتاب الشهادات باب الشهادة على الانساب ح : 2645 – مسلم كتاب الرضاع باب تحريم ابنة الاخ من الرضاعة ح : 1447
جس طرح نسب سے پھوپھی، خالہ، بھتیجی اور بھانجی کا رشتہ حرام ہے اسی طرح رضاعت سے بھی یہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں۔

مصاہرت سے رشتوں کی حُرمت

➊ بیوی کی ماں : (ساس) کا رشتہ بھی حرام رشتوں میں شامل ہے۔ اسلام میں یہ رشتہ اس کی بیٹی کے ساتھ محض عقد ہو جانے کی بنا پر حرام ہو جاتا ہے خواہ اس بیٹی سے زن و شو کا تعلق قائم نہ ہوا ہو کیونکہ ساس ماں کے درجہ میں ہے۔
➋ ربیبہ : یعنی جس بیوی سے مرد و زن کا تعلق قائم کر چکا ہو اس کی لڑکی (جو دوسرے شوہر سے ہو) لیکن اگر اس سے زن و شو کا تعلق قائم نہ کر چکا ہو تو اس کی لڑکی سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
➌ بیٹے کی بیوی : بیٹے سے مراد صلبی بیٹا ہے نہ کہ متبنی (لے پالک) کیونکہ اسلام نے تبنیت کے قاعدہ کو باطل قرار دیا ہے کہ یہ خلاف حقیقت اور خلاف واقع بات ہے اور اس سے حلال حرام اور حرام حلال ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ
”اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا نہیں بنایا ہے۔ یہ محض تمہارے منہ سے نکلی ہوئی باتیں ہیں۔“
سورہ الاحزاب : 4
یعنی یہ محض منہ سے نکلی ہوئی بات ہے۔ اس سے حقیقت بدلتی نہیں ہے اور نہ اجنبی آدمی رشتہ دار بن سکتا ہے۔ مذکورہ تینوں رشتوں کی حُرمت مصاہرت کی وجہ سے ہے۔ مصاہرت سے جو رشتہ استوار ہوتا ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ درج ذیل یہ رشتے حرام قرار پائیں۔

دو بہنوں کو جمع کرنا

اسلام نے دو بہنوں کو جمع کرنا بھی حرام ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ زمانہ جاہلیت میں یہ جائز تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دو بہنوں کا باہمی رشتہ اخوت، جس کو اسلام دائمی طور پر برقرار رکھنا چاہتا ہے، ایسی صورت میں برقرار نہیں رہ سکتا جبکہ دو بہنیں آپس میں سوکنیں بھی ہوں۔
قرآن نے دو بہنوں کو جمع کرنے کی حرمت صراحت کے ساتھ بیان کی ہے۔
صحيح ابن حبان (1666) – معجم كبير طبرانی : (11 / 337)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید یہ حکم دیا :
لا يجمع بين المرأة وعمتها ولا بين المرأة وخالتها
”عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ جمع نہ کیا جائے۔ اور نہ اسے اس کی خالہ کے ساتھ ایک نکاح میں جمع کیا جائے۔“
وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ
”اور یہ کہ تم دو بہنیں (ایک نکاح) میں جمع کرو۔“
سورہ النساء : 23
جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں ہے۔ نیز فرمایا :
إنكم إن فعلتم ذلك قطعتم أرحامكم
”اگر تم ایسا کرو گے تو قطع رحمی کرو گے۔“
بخاري كتاب النكاح باب لا تنكح المرأة على عمتها ح 5109 – مسلم کتاب النکاح باب تحريم الجمع بين المرأة و عمتها … ح : 1408
اسلام نے صلہ رحمی کی نہایت تاکید کی ہے لہذا وہ ایسی بات کو کس طرح جائز قرار دے سکتا ہے جو قطع رحمی کا باعث ہو؟

شادی شدہ عورتیں

شادی شدہ عورت کے لیے جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے نکاح میں ہے دوسرے شخص سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ دوسرے کے ساتھ نکاح کا جواز دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہے :
(1) شوہر کا انتقال ہو جائے یا وہ طلاق دے دے۔
(2) اللہ تعالیٰ نے جس عدت کا حکم دیا ہے وہ پوری ہو جائے۔
یہ عدت سابق زوجیت کے حق میں وفا اور عورت کے لیے تحفظ کا ذریعہ ہے۔
حاملہ کے لیے عدت کی مدت وضع حمل تک ہے، خواہ یہ مدت کم ہو یا زیادہ۔
اور جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا اس کی عدت چار ماہ دس راتیں ہیں۔
اور مطلقہ کی عدت تین حیض ہے۔ تین حیض کی قید اس لیے رکھی گئی ہے تا کہ رحم پاک ہو جائے (استبراء رحم) اور سابق شوہر سے حمل قرار پانے کا جو امکان ہوتا ہے اس کے پیش یہ حکم دیا گیا احتیاط کے طور پر ہے تا کہ اختلاط نسب سے روکا جائے۔ یہ عدت ان عورتوں کے لیے نہیں ہے جو اس قدر کم سن یا اتنی بوڑھی ہو چکی ہوں کہ ان کو حیض نہ آتا ہو۔ ایسی عورتوں کی عدت تین ماہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنِ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ
”مطلقہ عورتیں تین حیض تک اپنے کو روکے رکھیں۔“
البقرة : 228
اور فرمایا :
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ
”تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اگر تمہیں ان کے معاملہ میں شبہ ہے۔ تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور یہی عدت ان کی بھی ہے جن کو ابھی حیض نہ آیا ہو۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وضع حمل ہو جائے۔“
الطلاق : 4
نیز فرمایا :
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار مہینے دس راتیں اپنے آپ کو روکے رکھیں۔“
البقرة : 234
عورتوں کی مذکورہ پندرہ اصناف سے نکاح کرنا حرام ہے۔ یہ پندرہ اصناف قرآن کریم کی سورہ نساء میں مذکور ہیں :
وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا ‎22 حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا ‎23 وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ
”جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں ان سے نکاح نہ کرو۔ مگر جو کچھ پہلے ہو چکا۔ بے شک یہ بے حیائی اور ناپسندیدہ بات ہے اور نہایت برا چلن ہے۔ تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں۔ تمہاری بیٹیاں۔ تمہاری بہنیں۔ تمہاری پھوپھیاں۔ تمہاری خالائیں۔ تمہاری بھتیجیاں۔ تمہاری بھانجیاں۔ اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو۔ اور تمہاری رضاعی بہنیں۔ اور تمہاری بیویوں کی مائیں (ساسیں)۔ اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پلی ہوں۔ اور تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تمہارا تعلق زن وشو ہو چکا ہو۔ اگر ان سے تمہارا تعلق زن وشو نہ ہوا ہو تو (ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں ہے۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں۔ اور یہ کہ تم دو بہنوں کو بیک وقت جمع کرو مگر جو کچھ پہلے ہو چکا۔ بے شک اللہ غفور و رحیم ہے۔ اور وہ عورتیں بھی (حرام ہیں) جو (کسی دوسرے کی) قید نکاح میں ہوں۔“
النساء : 22 تا 24