بدعت کی تباہ کاریاں اور معاشرے میں پھیلی ہوئی مشہور بدعات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

بدعت کی حقیقت:

ان آثار و نصوص کی روشنی میں مندرجہ ذیل حقائق سامنے آتے ہیں:

[1] اللہ تعالیٰ نے جہاں احکامات وضع کیے ہیں وہیں ان احکامات پر عمل کرنے کا طریقہ بھی متعین فرما دیا ہے، لوگوں کی اپنی مرضی پر نہیں چھوڑ دیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو ہمارے لیے نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: [لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ] یقینا تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (الأحزاب:21)

اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اس نمونہ کو اختیار کریں۔ ارشاد ربانی ہے:

[وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا] جو رسول (ﷺ) تمھیں دیں اسے لے لو اور جس سے روک دیں رک جاؤ۔ (الحشر:7)

[2] اللہ تعالیٰ کی عبادت اپنی خواہشات کے مطابق نہیں بلکہ جس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے مشروع کی ہے اسی طرح کی جائے گی۔

[3] جو چیز کتاب وسنت سے ثابت ہو اس کو تقوی سمجھتے ہوئے ترک کر دینا گمراہی ہے۔ مثلاً نکاح جو کتاب وسنت سے ثابت ہے اگر کوئی زہد و تقویٰ سمجھتے ہوئے نکاح کو ترک کر دے تو وہ گمراہ ہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے ان تین آدمیوں کو جو زہد و تقویٰ میں آگے بڑھنا چاہتے تھے سختی سے منع فرما دیا۔[بخاری، کتاب النکاح باب الترغيب في النكاح:5063]

[4] بدعت اضافی بھی گمراہی ہے۔ بدعت اضافی اس بدعت کو کہتے ہیں جو اصل کے اعتبار سے تو مستند ہو لیکن کیفیت و ہیئت کے اعتبار سے ثابت نہ ہو۔ چنانچہ جو لوگ مسجد کوفہ میں بیٹھے ہوئے تسبیحات دانوں پر شمار کر رہے تھے وہ ذکر ہی کر رہے تھے جو مشروع عمل ہے لیکن چونکہ اس کی ہیئت و کیفیت رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہ تھی اسی لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انھیں اس سے منع کر دیا۔ [سنن الدارمی:ح210]،[تاریخ واسط: ص 199،198]

[5] بدعت سنت کو ختم کر دیتی ہے۔ چنانچہ مسجد کوفہ میں ذکر کرنے والوں نے ذکر کا جو طریقہ اختیار کیا ، اس سے رسول اللہ ﷺ کی سنت پامال ہو گئی۔ [سنن الدارمی:ح210]

اس حقیقت کو سلف صالحین نے اچھی طرح سمجھا تھا کہ بدعت اور سنت اکٹھے نہیں ہو سکتے، چنانچہ جلیل تابعی حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:[ما ابتدع قوم بدعة في دينهم إلا نزع الله من سنتهم مثلها]

جب بھی کوئی قوم دین میں بدعت ایجاد کرتی ہے تو ان میں سے اس کے مثل سنت اٹھالی جاتی ہے۔

[سنن الدارمي المقدمة، باب اتباع السنة:ح98]

[6] بدعت ہلاکت کا سبب ہے، کیونکہ اس سے سنت کا ترک لازم آتا ہے اور اس سے بڑھ کر ضلالت کیا ہوسکتی ہے؟ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ کا ارشاد ہے: [ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم] اگر تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ [مسلم کتاب المساجد، باب صلاة الجماعة من سنن الهدى:257/654]،[نسائی:850]،[ابن ماجه:777]

اور بدعت ضلالت و ہلاکت کا پیش خیمہ ہے۔ اسی لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مسجد کوفہ میں ذکر کرنے والوں سے کہا تھا: اے امت محمد تمھاری ہلاکت کتنی جلدی آگئی۔ [سنن الدارمی:ح210]

[7] بدعت کفر کا پیش خیمہ ہے، اس لیے کہ بدعتی اپنے آپ کو مشرع اور شریک کے مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔

[8] بدعت اختلاف کے دروازے کو پوری طرح کھول دیتی ہے اور یہ ضلالت و گمراہی کا دروازہ ہے۔

[9] بدعات کی پروا نہ کرنا انسان کو فسق و عصیان تک پہنچا دیتا ہے۔ جیسا کہ کوفہ کی مسجد والوں کا حشر ہوا کہ خوارج کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ مصروف جنگ ہو گئے۔ [سنن الدارمی:ح210]

[10] اعمال صالحہ کا دارو مدار نیت صالحہ پر ہے لیکن نیت کا اچھا ہونا کسی باطل کام کو صالح نہیں بنا سکتا۔ اس لیے کہ کسی عمل کے صالح ہونے کے لیے صرف نیت کافی نہیں بلکہ اتباع سنت اور شریعت کی پابندی بھی ضروری ہے۔ (مدارج السالكين لابن القيم الجوزيه:85/1)

[11] خیر میں زیادتی ہمیشہ خیر نہیں ہوتی بلکہ اکثر حالات میں شر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مثلاً شجاعت میں زیادتی جنون کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور کمی بزدلی قرار پاتی ہے۔ اسی طرح سخاوت اگر اپنی حد سے بڑھ جائے تو اسراف و تبذیر اور اگر تم ہو جائے تو بخالت قرار پاتی ہے، لہذا میانہ روی ہی بہتر چیز ہے۔

بدعات کی فہرست:

ذیل میں چند مشہور بدعات کی فہرست پیش کی جا رہی ہے، تاکہ ہمارے مسلمان بھائی جان سکیں کہ ان کے وہ کون سے اعمال ہیں جن کو وہ ثواب سمجھ کر انجام دیتے ہیں، لیکن در حقیقت ان کا ثواب سے دور کا بھی تعلق نہیں بلکہ ہمیں سنت کے اتباع سے دور کر دیتے ہیں اور بدعتی بنا دیتے ہیں:

[1] تقلید ائمہ اربعہ (کیونکہ یہ چار صدی ہجری کے بعد شروع ہوئی) تفصیل آگے آرہی ہے۔

[2] عید میلاد النبیﷺ

جشن عید میلاد النبیﷺ کے متعلق پہلی یہ بات ہے کہ یہ نبوت اور اس کے بعد پہلے تین زمانوں یعنی خیر القرون سے ثابت نہیں، جیسا کہ طاہر القادری صاحب نے اپنی کتاب ،،عید میلاد النبی،، میں خود تسلیم کیا ہے۔

دوسری بات: یہ ہے کہ فتاوی رضویه از احمد رضا خان صفحۃ 412 تا 415 جلد26 میں ثابت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تاریخ پیدائش 8 ربیع الاول ہے۔ اور آپ کی تاریخ وفات 12 ربیع الاول ہے۔ عجب بات تو یہ ہے کہ بریلوی حضرات 12 ربیع الاول کو جشن مناتے ہیں جو کہ آپ کی تاریخ وفات ہے۔

بدعت کی تباہ کاریاں اور معاشرے میں پھیلی ہوئی مشہور بدعات – Haq-Ki-Talash_page-0423بدعت کی تباہ کاریاں اور معاشرے میں پھیلی ہوئی مشہور بدعات – Haq-Ki-Talash_page-0424
[3]آخری بدھ

[4]شب معراج

[5]شب براءت

[6]رسومات محرم

[7] کونڈے

[8]مزارات پر عرس اور میلے

[9]گیارھویں شریف

[10] نماز وحشت

[11] قرآن خوانی (مردے بخشوانے کیلئے )

[12] تیجہ، دسواں، چالیسواں (مردوں سے متعلق بدعات)

[13] عہد نامہ

[14]قبر پر اذان

[15]عرفه

[16]تبرک کی روٹیاں اور شادی بیاہ سے متعلق رسومات اور بدعات ۔

[17]شرع محمدی مهر

[18]چوتھی کھیلنا

[19]بی بی کی فاتحہ

[20]نوبیاہتا عورت کا محرم اور شعبان کا چاند میکے میں دیکھنا

[21]بی بی کی کہانی ماننا

[22]بی بی کی صحنک

[23]بارہ اماموں کے پیالے

[24]امام ضامن باندھنا

[25]منت کی بالی اور کڑے پہننا

[26]بڑے پیر صاحب کی ہنسلی پہننا

[27]سہاگنیں کھلانا

[28]محافل میلاد

[29]صلوۃ و سلام (خود ساختہ)

[30] شرکیہ نعتیں لکھنا

[31]شرکیہ نعت خوانی

[32]خود ساختہ درود پڑھنا

[33]انگوٹھے چومنا

[34]خود ساختہ دعائیں

[35]خود ساخته و ظائف

[36]دعاؤں میں اضافے

[37]نماز، روزے اور وضو کی زبان سے نیت کرنا

[38]ندا ،،لغيرالله،،

[39]ہرے اور کتھئی رنگ کا صافہ باندھنا

[40]سلسلہ ہائے طریقت

[41]قوالیاں

[42]تعویذ گنڈے

[43]ختم خواجگان

[44]شبینہ

[45]،،بسم اللہ،، کرنا

[46] آمین

[47]روزہ کشائی

[48]مساجد پر چراغاں کرنا

[49]مساجد میں ٹوپیاں رکھنا

[50]مزارات پر گنبد بنانا

[51]مزارات پر چراغاں کرنا

[52]مزارات کو غسل دینا

[53]قبروں پر پھول چڑھانا

[54]قبر پر اگر بتی جلانا

[55]بزرگوں کے ختم

[56]تلاوت قرآن مجید کے بعد ،،صدق اللہ العظیم،، کہنا

[57]فرض نماز کے بعد مروجہ اجتماعی دعا

[58]خانقاہیں تعمیر کرنا

[59]مساجد، مدارس اور گھروں میں مردوں کی تدفین

[60]وضو میں گردن کا مسح کرنا

[61]وضو کے دوران کلمہ شہادت پڑھنا

[62]مساجد میں مینا کاری اور آرائش

[63]گھروں اور دکانوں پر تصاویر، مزارات کے طغرے لگانا

[64]قبر پر قرآن پڑھنا اور پڑھوانا

[65]برائے دفع بلیات اذان دینا

[66]بارش روکنے کے لیے اذان دینا

[67] نماز کے قرآن پڑھتے ہاتھ باندھنا

[68]غیراللہ کے لیے قیام تعظیمی کرنا

[69]نماز عید سے قبل تقریر کرنا

[70]چار ہاتھوں سے مصافحہ کرنا اور سینے پر ہاتھ رکھنا

[71]جمعہ کی نماز میں تین خطبے دینا

[72]خطبہ جمعہ سے قبل برائے ادائیگی سنت وقفہ دینا

[73]بعد نماز: نماز جمعہ ظہر احتیاطی پڑھنا

[74]مردوں اور عورتوں کا جدا جدا طریقے سے نماز پڑھنا

[75]چھ کلمے پڑھنا اور پڑھوانا

[76]نماز پڑھ کر امام کا صرف شمال کی طرف ہی منہ کر کے بیٹھنا

[77]نماز غوثیہ

[78]نماز رغائب یا صلوة رجبیه

[79]نماز پڑھ کر ہتھیلیاں آسمان کی طرف کر کے سجدہ کرنا

[80]چلے لگانا اور چلہ کشی کرنا

[81]عقیق کی انگوٹھی مؤثر سمجھ کر پہننا

[82]نویت سنت الاعتکاف کہنا

[83]قبرستان میں مساجد بنانا

[84]مردے سے معافی مانگنا اور کہا سنا معاف کرنا

[85]سوگ میں کالے کپڑے پہننا اور کالی پٹیاں باندھنا