قبر مبارک پر داخل ہونا ممکن نہ تھا اور نہ ہے
جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر مکرم میں مدفون ہیں، اس وقت سے آج تک کسی کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ قبر مکرم کی زیارت کے لیے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام یا دعا وغیرہ کے لیے حجرہ مبارک میں داخل ہو سکے۔ البتہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس میں رہائش پذیر تھیں کیونکہ وہ ان کا گھر تھا اور وہ بھی قبر مکرم سے ایک جانب، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی قبریں دروازہ کے پاس ہی ہیں اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا حجرہ کے بالکل آخری حصہ میں رہتی تھیں۔ کوئی صحابی اندر داخل نہ ہوتا تھا۔
صحابہ کے دور تک حجرہ مبارک مسجد سے باہر ہی رہا۔ ولید بن عبد الملک بن مروان کے دورِ حکومت میں جب مسجد نبوی کی توسیع کی گئی تو حجرہ مبارک کو مسجد میں داخل کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ اس وقت تک ابن عمر، ابن عباس، ابن زبیر اور ابن عمرو رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ فوت ہو چکے تھے، بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب اور صحیح ہے کہ مدینہ منورہ میں کوئی ایک صحابی بھی بقید حیات نہ تھا، سب اپنے مالک حقیقی سے جا ملے تھے۔ تمام صحابہ کے بعد 70ھ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور مسجد کی توسیع 80ھ کے بعد عمل میں آئی۔
صحابہ کرام کا آپ پر سلام کہنے کا محتاط طریقہ کار
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ عادت نہ تھی کہ وہ حجرہ مبارک کے اندر قبر مکرم کے پاس جاتے یا حجرہ کے باہر کھڑے رہتے، حالانکہ وہ رات دن مسجد نبوی میں آتے جاتے تھے۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی معلوم تھا:
صلاة فى مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد الحرام
”عام مساجد سے میری اس مسجد میں ایک نماز کا ثواب ہزار نماز سے بہتر ہے، سوائے مسجد الحرام کے۔“
(صحيح البخارى كتاب فضل الصلاة فى مسجد مكة والمدينة، حديث: 1190، صحيح مسلم كتاب الحج: باب فضل الصلاة بمسجدى مكة والمدينة، حديث: 1394)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی بھی ان کے پیش نگاہ رہتا:
لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد المسجد الحرام ومسجدي هذا والمسجد الأقصى
”تین مساجد یعنی مسجد الحرام، میری یہ مسجد اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی مسجد کے لیے رختِ سفر نہ باندھا جائے۔“
(صحيح البخارى حديث: 1189، صحيح مسلم كتاب الحج: باب فضل المساجد الثلاثة، حديث: 1397)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دور دراز کا سفر طے کر کے خلفائے راشدین کے پاس بعض اہم امور میں مشورہ کے لیے مدینہ منورہ تشریف لاتے رہے، وہ مسجد میں نماز ادا کرتے اور نماز میں نیز مسجد میں داخل ہوتے اور مسجد سے نکلتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کہتے، لیکن قبر مکرم کے پاس جانے کی ضرورت محسوس نہ کرتے کیونکہ ان کو علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ تو اس کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اسے سنت قرار دیا ہے۔ ہاں! نماز کے اندر، مسجد میں داخل ہوتے اور مسجد سے نکلتے وقت آپ پر سلام کہنا سنت ہے۔ البتہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ ذاتی فعل تھا کہ وہ جب بھی سفر سے واپس مدینہ منورہ پہنچتے تو قبر مکرم کے قریب آ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں پر سلام کہتے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے علاوہ بعض صحابہ سے کبھی کبھار ایسا کرنا ثابت ہے۔ اسی لیے بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ ان صحابہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قبر کے پاس جا کر سلام کہنا جائز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات ہمیشہ پیش نگاہ رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سلام کہہ کر فوراً واپس چلے آتے، وہاں زیادہ دیر تک نہ رکتے تھے۔ آپ قبر مکرم کے پاس کھڑے ہو کر یوں سلام کہتے:
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَتِ
”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو۔ اے ابوبکر! آپ پر سلام ہو۔ اے ابا جان! آپ پر سلام ہو۔“
جمہور صحابہ، ازواج مطہرات اور اہل یمن کا طرز عمل
ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح جمہور صحابہ کرام کا یہ معمول نہ تھا، بلکہ وہ تو حج سے فارغ ہو کر جب مدینہ منورہ پہنچتے تو اس وقت بھی قبر مکرم کے پاس جا کر سلام نہ کہتے۔ اسی طرح ازواجِ مطہرات بھی حج سے فارغ ہو کر جب مدینہ منورہ واپس پہنچتیں تو سیدھی اپنے اپنے گھروں کو چلی جاتیں، جیسا کہ انہیں وصیتِ رسول تھی۔
اور سنیے! یمن کے وہ قافلے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ
”تو عنقریب اللہ ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہو گا۔“
(5-المائدة:54)
ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں جب لوگ فوج در فوج جہاد کی خاطر مدینہ منورہ آتے اور مسجد نبوی میں
خلفاء کے پیچھے نمازیں ادا کرتے، تو ان میں سے کوئی ایک شخص بھی سلام کہنے کی غرض سے حجرہ کے اندر داخل ہوتا اور نہ ہی باہر کھڑا ہونے کی ضرورت محسوس کرتا، کیونکہ ان کو سلام کہنے کا طریقہ معلوم تھا جیسا کہ ان کو صحابہ اور تابعین نے سکھلایا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقوق اللہ کے حقوق کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اللہ کے وہ تمام احکام جن کی بجا آوری کا حکم ہے اور جو اس نے پسند فرمائے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام حقوق کی ادائیگی ہر مسلمان پر فرض ہے خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہائش پذیر ہو۔