كتاب الايمان
◈ایمان اور تقویٰ کی فضیلت:
تحویل قبلہ کے بعد بعض مسلمانوں نے اپنی نہایت خوشی کا اظہار کیا تو اس بارے میں ان کا تشدد اس حد تک پہنچ گیا کہ کعبہ کا قبلہ بننا ان کی نظر میں دین کی سب سے بڑی غرض و غایت ٹھہر گیا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ نیکی یہ نہیں کہ آدمی مشرق یا مغرب کی طرف اپنا رخ پھیر لے بلکہ نیک وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے (جو ہر صفت کمال کے ساتھ متصف اور ہر نقص سے پاک ہے) اور یوم آخرت اور اس کی ان تمام تفصیلات پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ عز وجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے اور فرشتوں پر ان تمام تفصیلات کے ساتھ ایمان لائے جن کی خبر اللہ عز وجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے اور تمام کتابوں پر ایمان لائے جنہیں اللہ نے اپنے رسولوں پر نازل کیا اور خاص طور پر اللہ کی عظیم ترین کتاب قرآن کریم پر اور تمام انبیائے کرام پر اور خاص طور پر خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ اسی طرح نیک وہ ہے جو اپنا عمدہ مال رشتہ داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور مانگنے والوں پر اور غلاموں کو آزاد کرنے پر خرچ کرے اور جس نے نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کی اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کیا اور جس نے تکلیف و مصیبت کے وقت اور دشمنان اسلام سے جہاد کرتے ہوئے صبر و استقامت سے کام لیا۔
فرمایا کہ یہی لوگ اپنے ایمان میں صادق ہیں اس لیے کہ ان کے اقوال و افعال نے ان کے ایمان قلبی کی تصدیق کر دی اور انہوں نے ثابت کر دیا کہ خوف و دہشت اور حالات زمانہ انہیں نہیں بدل سکتے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو کوئی ایمان کے بعد مذکورہ بالا اوصاف سے متصف نہیں ہوتا وہ اپنے دعوائے ایمان میں صادق نہیں ہوتا۔ اور یہی لوگ حقیقی معنوں میں متقی ہیں کیونکہ انہوں نے محرمات و ممنوعات کو چھوڑ دیا اور نیک کاموں کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ﴾
حقیقی معنوں میں نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق و مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر یوم آخرت پر فرشتوں پر کتاب پر اور تمام انبیاء پر اور مال خرچ کرے اس کی محبت کی خاطر رشتہ داروں پر یتیموں پر مسکینوں پر مسافروں پر مانگنے والوں پر اور غلاموں کو آزاد کرنے پر اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور جب کوئی عہد کرے تو اسے پورا کرے اور دکھ اور مصیبت میں اور میدان کارزار میں صبر سے کام لے۔ یہی لوگ (اپنے قول و عمل میں ) سچے ہیں اور یہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔
(2-البقرة:177)
جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کے عذاب و عقاب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی پابندی کرے گا نواہی سے بچے گا اور اس کے حدود کا پاس و لحاظ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے شدائد سے نکلنے کے لیے راستے بنا دے گا اور اس کے لیے ایسی جگہ سے روزی کا سامان کر دے گا جو اس کے شان و گمان میں بھی نہیں تھا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا . وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ.﴾
”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے راستہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جہاں کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔“
(64-الطلاق:2،3)
اللہ تعالیٰ عظیم و برتر نے سیدنا نوح علیہ السلام کو ان کی قوم پر رحم فرماتے ہوئے رسول بنا کر مبعوث کیا اور انہیں حکم فرمایا کہ وہ اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیں شرک سے ڈرائیں اور انہیں بتائیں کہ اگر وہ شرک سے باز نہ آئے تو اللہ جبار و قہار کا درد ناک عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
چنانچہ سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی فوراً تعمیل کی اور اپنی قوم سے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں کفر و شرک سے پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ میری دعوت یہ ہے کہ تم سب صرف معبود برحق کی عبادت کرو اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ہر حال میں اس کا تقویٰ اختیار کرو اور میرے اوامر و نواہی میں میری اطاعت اور فرمانبرداری کرو کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں اس کے حکم کے مطابق تمہیں کسی کام کا حکم دیتا ہوں اور اس کے حکم سے کسی کام سے روکتا ہوں۔
اگر تم میری اس دعوت کو قبول کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور تمہیں تمہاری مقررہ عمر تک زندہ رہنے دے گا یعنی عذاب دینے میں جلدی نہیں کرے گا۔ تو اسے ٹالا نہیں جائے گا۔ کاش! کہ تم ان باتوں کو سمجھتے تو ضرور اللہ کی طرف رجوع کرتے اپنے گناہوں سے توبہ کرتے اور اس سے مغفرت طلب کرتے:
﴿قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ . أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ . يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ.﴾
انہوں نے کہا: اے میری قوم! میں تمہارے لیے پوری صراحت کے ساتھ ڈرانے والا آیا ہوں کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت کرو۔ وہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دے گا بے شک اللہ کا وقت مقرر جب آ جائے گا تو اسے ٹالا نہیں جا سکتا کاش! کہ تم یہ بات سمجھ جاتے۔
(71-نوح:2 تا 4)
انسان سب کے سب آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ لہذا نسب کے اعتبار سے سب برابر ہیں۔ اب ان میں جو جتنا زیادہ متقی ہو گا اللہ اور اس کے رسول کا مطیع و فرمانبردار ہوگا اتنا ہی اس کا مقام اللہ کے نزدیک بلند ہو گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں اللہ کے نزدیک تم سب میں سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔“
(49-الحجرات:13)
امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون شخص سب سے زیادہ باعزت ہے؟ تو آپ نے فرمایا:
أكرمهم عند الله أتقاكم
”اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے باعزت وہ ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔“
صحیح بخاری كتاب التفسير رقم: 4689۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إن الله لا ينظر إلى صوركم وأموالكم ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم.“
”یقیناً اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔“
صحیح مسلم كتاب البر والصلة رقم: 6543
ذیل کی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی کامیابی کے لیے کوشش کرنے کا درس دیا ہے کہ اے بندو! دنیا کی زندگی لہو ولعب سے زیادہ کچھ بھی نہیں اس لیے اس کی لذتوں کے اسیر نہ بنو اور اپنی آخرت کو کامیاب بنانے کی کوشش میں لگے رہو اس لیے کہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے اور وہ صرف پرہیز گار لوگوں کے لیے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾
”اور دنیاوی زندگانی تو سوائے لہو ولعب کے کچھ بھی نہیں اور آخرت کا گھر متقیوں کے لیے بہتر ہے کیا تم سوچتے نہیں ہو؟“
(6-الأنعام:32)
ہر وقت ہر حال میں بندہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھے اس کا تقویٰ اختیار کرے اس کے عقاب سے ڈرتا رہے اور اس کی عظمت و جلال کا اعتراف اس کے دل و دماغ پر مسلط رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾
”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ہی ڈرو جیسا اس سے ڈرنا چاہیے اور تم مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔“
(3-آل عمران:102)
سورۃ التغابن میں فرمایا کہ لوگو! جتنی طاقت رکھتے ہو اتنا اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ کے اوامر کو خوب اچھی طرح سمجھو اور اُن پر عمل پیرا ہو جاؤ۔ اور اللہ مالک الملک نے تمہیں جو مال و دولت دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اس میں تمہارے لیے بھلائی ہے۔ اور جان لو کہ آخرت میں فلاح و نجات پانے والے صرف وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ مال و دولت کے لالچ اس کی عبادت اور بخل کی بیماری سے بچا لے جس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال اس کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ رب العزت نے فرمایا:
﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنفِقُوا خَيْرًا لِّأَنفُسِكُمْ ۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
”تم سے جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ اور اللہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لیے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے۔“
(64-التغابن:16)
ذیل کی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو دو باتوں کی نصیحت کی ہے: پہلی بات یہ کہ وہ اس کا تقویٰ اختیار کریں یعنی اس کے عقاب سے ڈریں فرائض کو ادا کریں اور نواہی محرمات سے اجتناب کریں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ ہر حال میں حق اور سچی بات کہیں۔
اور اس پر مستزاد ان دونوں کا رہائے خیر و بھلائی کا ثمرہ یہ بتایا کہ اللہ غفور رحیم ان کے نیک اعمال قبول کرے گا اور ان کے گناہ بخش دے گا کیونکہ نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ اور آخر میں انہیں خوش خبری دی کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اوامر کو بجالائے گا اور نواہی سے اجتناب کرے گا تو وہ بہت بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا . يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا.﴾
”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو درست بات کہا کرو۔ وہ تمہارے کاموں کی اصلاح کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ یقیناً بڑی کامیابی سے سرفراز ہو گا۔“
(33-الأحزاب:70،71)
تقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں انسان کی ہیبت وعزت بٹھا دیتا ہے اور کوئی شخص اس کے اہل وعیال مال و دولت اور عزت و ناموس پر دست درازی کرنے کی جرات نہیں کرتا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾
”اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہیں نور بصیرت عطا کرے گا اور تم سے تمہارے گناہ مٹا دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔“
(8-الأنفال:29)
اور سورۃ الحشر میں مؤمنوں کو اللہ تعالیٰ نے نصیحت کی ہے کہ وہ ظاہر اور پوشیدہ ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہیں ہر لمحہ اپنی آخرت کی سدھار کی کوشش میں لگے رہیں اور ہر دم یہ خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور انہیں ریکارڈ میں لا رہا ہے کوئی چیز بھی اس کے علم سے پوشیدہ اور مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾
”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ بھال لے کہ اس نے کل (روز قیامت) کے واسطے کیا تیاری کی ہے۔ اور( ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔“
(59-الحشر:18)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى
”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت پرہیز گاری (تقویٰ) پاک دامنی اور( لوگوں سے) بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔“
صحیح مسلم كتاب الذكر والدعاء رقم: 6904۔
انسان کو ہمیشہ تقویٰ و پرہیز گاری والا عمل اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف على يمين ، ثم رأى أتقى لله منها فليأت التقوى
”جو شخص کسی بات پر قسم کھالے پھر اس سے زیادہ پرہیز گاری والا عمل دیکھے تو اسے اختیار کرے۔“
صحیح مسلم كتاب الإيمان باب ندب من حلف يمينا فرأى غيرها خيرا منها رقم: 4275۔
تقویٰ انسان کو جنت میں لے جاتا ہے چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کس عمل کی وجہ سے لوگ زیادہ تر جنت میں داخل ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قال: تقوى الله وحسن الخلق وسئل عن أكثر ما يدخل الناس النار ، فقال: الفم والفرج
”تقویٰ اور اچھا اخلاق۔“ پھر آپ سے سوال کیا گیا: ”کون سا عمل سب سے زیادہ لوگوں کے جہنم کی آگ میں جانے کا باعث بنے گا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منہ اور شرم گاہ (کا غلط و نا جائز استعمال)۔“
سنن الترمذي كتاب البر والصلة باب ما جاء في حسن الخلق رقم: 2004۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن الاسناد قرار دیا ہے۔
تقویٰ اختیار کرنے سے دنیا و آخرت میں آسانیوں اور برکتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا
”اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔“
(64-الطلاق:4)
اللہ تعالیٰ نے ہلاک کی جانے والی قوموں کی قلت ایمان کا حال بیان کیا کہ وہ لوگ ایمان و تقویٰ سے عاری تھے اگر وہ اپنے زمانے کے انبیاء پر ایمان لائے ہوتے اور محرمات سے اجتناب اور اعمال صالحہ کا التزام کیا ہوتا تو اللہ عز وجل آسمان اور زمین سے اپنی برکتوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیتا لیکن انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کے کفر و شرک کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا۔ فرمایا:
﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾
”اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کی نافرمانی سے بچتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات( کے دروازے) کھول دیتے لیکن انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کے کئے کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا۔“
(7-الأعراف:96)
حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا رہتا ہے اور اللہ سے خائف رہتا ہے۔ اور فاجر انسان گناہ کرتا رہتا ہے اور پھر بھی اپنے آپ کو مامون سمجھتا ہے۔ (تيسير الرحمن: 382/1)
اللہ تعالیٰ صرف متقی لوگوں ہی کی نیکی کو قبول فرماتا ہے۔ چنانچہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے جس کی قربانی کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اس ہی کے قول کو اللہ تعالیٰ نے بائیں الفاظ ذکر فرمایا ہے:
﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾
”اللہ صرف صاحب تقویٰ لوگوں کے نذرانے قبول کرتا ہے۔“
(5-المائدة:27)
تقویٰ بہترین زادِ راہ ہے۔ چنانچہ اللہ رب العزت نے فرمایا:
﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾
”اور زادِ راہ (سفر کا خرچ )لے لیا کرو بے شک سب سے اچھا زادِ راہ تقویٰ سے بچنا ہے اور اے عقل والو مجھ سے ڈرتے رہو۔“
(2-البقرة:197)
بہترین لباس ایمان و تقویٰ ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾
”اے آدم کے بیٹو! ہم نے تمہارے لیے لباس اتارا ہے جو تمہاری شرمگاہوں کو پردہ کرتا ہے اور وسیلہ زینت بھی ہے اور پرہیز گاری کا لباس ہی بہترین ہے۔ یہ لباس اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔“
(7-الأعراف:26)
کسی بھی بندے کے لیے مال و دولت اور صحت وقوت میں صرف اسی حالت میں بھلائی اور خیر ہے جب کہ وہ دولت تقویٰ سے بہرہ ور ہو یعنی ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرے۔ احمد ابن ماجہ اور حاکم نے عبد اللہ بن حبیب کے حوالے سے ان کے چچا (یسار بن عبد اللہ المزنی رضی اللہ عنہ) سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”ہم ایک مجلس میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے سر مبارک پر پانی (کے استعمال )کا اثر باقی تھا۔ ہم میں سے کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آج ہم آپ کو خوش طبع دیکھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں الحمد للہ! پھر لوگ آسودگی کے تذکرہ میں لگ گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لا بأس بالغنى لمن اتقى والصحة لمن اتقى خير من الغنى وطيب النفس من الغنى.“
”متقی کے لیے تو نگری میں کچھ مضائقہ نہیں اور متقی شخص کے لیے صحت آسودگی سے بہتر ہے اور خوش طبعی تو نگری میں سے ہے۔“
مسند احمد، رقم: 23158 – سنن ابن ماجه، ابواب التجارات، رقم : 2157 ـ مستدرك حاكم: 3/2۔ حاکم نے اسے ”صحیح“ کہا ہے، اور حافظ ذہبی نے ان سے موافقت کی ہے۔ بوصیری نے بھی اس کو ”صحیح“ قرار دیا ہے۔ سلسلة الصحيحة: 125/1 – 126.
ایمان اور تقویٰ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی دوستی مل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ وَاتَّقَىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ﴾
”ہاں جو شخص اپنا عہد پورا کرے گا اور اللہ سے ڈرے گا تو اللہ متقیوں سے محبت رکھتا ہے۔“
(3-آل عمران:76)
تقویٰ سے آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست بننے کے عظیم المرتبت اعزاز سے سرفراز ہو جاتا ہے۔ چنانچہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو آپ وصیت کرتے ہوئے ان کے ساتھ نکلے اور( دوران وصیت )آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إن أهل بيتي هؤلاء يرون أنهم أولى الناس بي وإن أولى الناس بي المتقون من كانوا وحيث كانوا.“
”بلاشبہ میرے یہ اہل بیت سمجھتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ تمام لوگوں سے زیادہ تعلق رکھنے والے ہیں اور در حقیقت متقی لوگ مجھ سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے ہیں وہ کوئی بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں۔“
الاحسان في ترتيب صحيح ابن حبان : 414/2، 410 ، رقم : 647 – مسند احمد: 376/36، رقم: 52-22 – شیخ شعیب نے اس حدیث کی اسناد کو قوی قرار دیا ہے۔
امام ابن حبان نے اس حدیث پر بائیں الفاظ عنوان قائم کیا ہے:
”ذكر الخبر الدال على أن أولياء المصطفى صلى الله عليه وسلم هم المتقون دون أقربائه إذا كانوا فجرة.“
”اس بات پر دلالت کرنے والی حدیث کا ذکر کہ بلاشبہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست ان کے اقارب کے بجائے متقی لوگ ہیں جب کہ وہ اقارب فاجر ہوں۔“
تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ وَاتَّقَىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ﴾
”ہاں جو شخص اپنا عہد پورا کرے گا اور اللہ سے ڈرے گا تو اللہ متقیوں سے محبت رکھتا ہے۔“
(3-آل عمران:76)
تقویٰ کا ایک ثمرہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ﴾
”اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔“
(2-البقرة:194)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار کے شر و فساد سے بچنے کا یہ طریقہ بتایا کہ مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے آزمائشوں پر صبر کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو کافروں کا مکر و فریب انہیں نقصان نہیں پہنچائے گا اس لیے کہ جو اللہ پر توکل کرے گا آزمائشوں پر صبر کرے گا اور صرف اسی سے مدد مانگے گا وہ یقیناً اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گا۔ اللہ اسے کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا اور دشمن کے مقابلہ میں اسے فتح و نصرت عطا کرے گا اور جو غیروں سے مدد چاہے گا اللہ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دے گا اور اپنی نصرت سے اسے محروم کر دے گا:
﴿وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ﴾
”اور اگر تم صبر کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو گے تو ان کا مکرو فریب تمہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا بے شک اللہ ان کے کرتوتوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔“
(3-آل عمران:120)
کاش مسلمان آج بھی یہ نسخہ استعمال کر کے دیکھتے اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے جبہ سائی نہ کرتے ۔ بڑی طاقتوں کو اپنا معبود نہ بناتے ، اللہ کے بجائے ان سے مدد نہ مانگتے ، تو اللہ کا وعدہ ہمیشہ کے لیے ایک ہی ہے۔ فتح و کامیابی ان کا قدم چومتی ، عزت و سیادت ان کا سرتاج ہوتی اور دوسری قومیں ان کے سامنے گھٹنا ٹیک دیتیں ۔ کیا کوئی ہے جو اس آواز پر کان دھرے ۔(تیسرالرحمن، ص : 204)