مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں کفیں چڑھانا اور کپڑوں سے کھیلنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

نماز میں قمیص کی آستینوں کی کفوں کو اوپر چڑھانا جائز ہے یا نہیں ؟ حدیث کی رو سے واضح کر دیں۔

جواب :

قمیص کی کفیں چڑھا کر نماز پڑھنا سخت منع ہے جیسا کہ امام المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں حدیث بیان کی ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ( اور یہ بھی حکم دیاگیا ہے ) کہ نماز میں نہ بالوں کا جوڑا بناؤ اور نہ کپڑوں کو اکٹھا کرو۔ “ [صحيح بخاري، كتاب الاذان : باب السجود على السبعة، 810 ]
نماز کے دوران اکثر و بیشتر افراد کو دیکھا گیا ہے کہ وہ بالوں یا کپڑوں کو درست کرتے رہتے ہیں، یہ امور نماز کے منافی ہیں، جب نماز ادا کر رہے ہوں تو ساری توجہ اور دھیان عبادت میں ہونا چاہیے اور ان تمام حرکا ت سے اجتناب کرنا چاہیے جن کا نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔