شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ اور ماتم کی بدعت کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
مضمون کے اہم نکات

ماتم کی شرعی حیثیت

ماتم جاہلی رسم ہے۔ باتفاق علماء بدعت اور حرام ہے۔ اسلام کے اصولوں سے غم کم ہوتا ہے یا ختم ہو جاتا ہے۔ غیر اسلامی طریقے غم میں اضافہ کرتے ہیں۔

کتنے انبیاء علیہم السلام مظلومانہ شہادت سے دوچار ہوئے، بلکہ اسلام کی تاریخ شہادتوں سے لبریز ہے، تو کیا ہر ایک پر ماتم روا سمجھاجائے گا؟ پھر تو کوئی دن ماتم سے خالی نہ ہوگا! بعض لوگ حسینی ماتم کرتے ہیں، جبکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے والد گرامی سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی شہید ہیں۔ ان کا ماتم کوئی نہیں کرتا۔ بے شک سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت برحق ہے، انسانی تاریخ کا اندوہ ناک واقعہ ہے، ہر مسلمان کو اس سے دکھ پہنچا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ہم آپ رضی اللہ عنہ کا ماتم کریں۔ اہل بیت میں سے کسی نے کسی کی شہادت پر ماتم نہیں کیا۔

بعض لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ماتم قرآن سے ثابت ہے، ان سے سوال ہے، کیا علمائے اہل بیت اور علمائے امت نے قرآن کریم نہیں پڑھا؟ ہمارے مطابق نہ صرف پڑھا، بلکہ فہم بھی حاصل کیا، اس پر عمل کیا، اس کی تبلیغ کی۔ ان میں سے کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ماتم جائز ہے، چہ جائیکہ وہ قرآن سے اس کا ثبوت فراہم کرتے۔ اسلاف امت کے خلاف کوئی بھی موقف غیر مسموع ہے۔ اس پر سہاگہ یہ کہ علمائے امت نے ماتم کو حرام قرار دیا ہے۔ ان کے اتفاق و اجماع پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ وہ کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتے۔ ان میں سے ہر ایک اہل بیت کے حقوق کا پاسدار تھا، ان سے عقیدت و محبت رکھتا تھا، ان کا ادب و احترام واجب سمجھتا تھا۔

علامہ ابوبکر طرطوشی (520ھ) فرماتے ہیں:

[أما المأتم؟ فممنوعة بإجماع العلماء]

ماتم کے ممنوع ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ (الحوادث والبدع: ص 175)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ (728ھ) فرماتے ہیں:

مصیبت کے ایام کو ماتم کے دن بنا لینا، مسلمانوں کا دین نہیں، بلکہ یہ جاہلیت کے زیادہ قریب ہے۔

(اقتضاء الصراط المستقیم: 131/2)

نیز فرماتے ہیں:

ان کی ایک حماقت تو ماتم قائم کرنا ہے، اور ان لوگوں پر نوحہ کرنا، جو کئی برس پہلے وفات پا چکے تھے۔ یہ بات تو معلوم ہے کہ مقتول ہو یا کوئی دوسری میت ہو، ان کی موت کے بعد اس طرح کے کام، اللہ ورسول نے حرام قرار دیئے ہیں۔ (منہاج السنہ: 52/1)

نیز فرماتے ہیں:

مصیبت کے اوقات کو ماتم کے دن بنا لینا، اسلام نہیں ہے۔ یہ ایسا کام ہے، جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا، نہ سابقون الاولون میں سے کسی نے کیا، نہ تابعین نے اور نہ اہل بیت نے، نہ کسی اور نے۔ حالاں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت ان کے اہل بیت موجود تھے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بھی ان کے اہل بیت موجود تھے، اس پر کئی برس گزر گئے، مگر ان کے اہل بیت نے رسول اللہ ﷺ کی سنت کو تھامے رکھا، انہوں نے ماتم ایجاد نہیں کیا، نہ نوحہ ایجاد کیا۔ بلکہ وہ صبر کرتے تھے، اور اللہ و رسول کے حکم کے مطابق انا للہ وانا الیہ راجعون کا ورد کیا کرتے تھے۔ یا روتے بھی تو مصیبت کے ابتدائی لمحات میں، غمگین بھی ہوتے لیکن جائز طریقے کے ساتھ۔ (حقوق اہل البیت: ص 46)

نیز فرماتے ہیں:

ایک جاہل ظالم جماعت ہے، جو یا تو ملحد منافق ہے یا گمراہ بد بخت۔ یہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور اہل بیت سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، انہوں نے یومِ عاشورہ کو ’یوم ماتم‘ بنا لیا ہے۔ (الفتاوی الکبری: 200/1)،( مجموع الفتاویٰ: 307/25)

علامہ ابن ابی العز حنفی (792ھ) فرماتے ہیں:

عاشورہ کے دن سوائے روزے کے رسول اللہ ﷺ سے کچھ ثابت نہیں، یہ روافض ہیں، جنہوں نے عاشورہ کے دن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم اور اظہارِ غم کی بدعت ایجاد کی۔ (التنبیہ علی مشکلات الہدایہ: 930/2)،(فتاویٰ شامی: 418/2)

کبار علمائے عرب کا فتوی ہے:

اصلاً یہ فرعونوں کی عادت رہی ہے، اسلام سے قبل فرعونوں کے یہاں ایسے کام ہوا کرتے تھے، پھر ان سے آگے غیروں تک پھیل گئی۔ یہ منکر بدعت ہے، اس کی اسلام میں کوئی اصل موجود نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان اس کا رد کرتا ہے، جس شخص نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام کیا، تو وہ مردود و باطل ہے۔

(فتاویٰ اسلامیہ: 312/1)

دنیا میں سب سے پہلا ماتم حسین تین سو باون(352ھ) بغداد میں ہوا، اس سے پہلے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ماتم نہیں کیا گیا۔ یہ کیسا دین ہے کہ جس سے چار سو سال تک مسلمان ناواقف رہے۔