سونے چاندی کے برتن اور ریشمی بستر کا حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

سونے چاندی کے برتن :

اسی لیے اسلام نے اس بات کو حرام ٹھہرایا ہے کہ مسلمان کے گھر میں سونے چاندی کے برتن یا خالص ریشم کا بستر ہو۔ اس سے انحراف کرنے والے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید سنائی ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
إن الذى يأكل ويشرب فى أنية الذهب والفضة إنما يجرجر فى بطنه نار جهنم
”جو شخص سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھاتا پیتا ہے، بلاشبہ وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔“
بخاری کتاب الاشربة باب آنية الفضة ح : 5634 – مسلم، کتاب اللباس، باب تحریم استعمال اواني الذهب… ح : 2065
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نشرب فى أنية الذهب والفضة وان ناكل فيها وعن لبس الحرير والديباج وأن نجلس عليه وقال: هو لهم فى الدنيا ولنا فى الآخرة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے اور پینے سے منع فرمایا ہے، نیز حریر و دیباج کے کپڑے پہننے اور ان پر بیٹھنے کی بھی ممانعت کی ہے اور فرمایا : یہ چیزیں کفار کے لیے دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہوں گی۔“
بخاری کتاب الاشربة باب الشرب في آنية الذهب ح : 5632 واللفظ له رواه مسلم کتاب اللباس : باب تحريم استعمال اناء الذهب ح : 2057 – نحوه
اور جب یہ سب چیزیں حرام ہیں تو ان کو تحفہ میں دینا اور سجاوٹ کے طور پر استعمال کرنا بھی حرام ہے۔ سونے چاندی کے برتنوں اور ریشم کے بستر وغیرہ کی یہ حرمت مرد اور عورت دونوں کے لیے (یکساں) ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کو اس لیے حرام کر دیا گیا ہے کہ گھر کو ناپسندیدہ سامان تعیش سے پاک رکھا جائے۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے اس پر بڑے اچھے انداز سے روشنی ڈالی ہے۔ فرماتے ہیں :
حدیث کے حکم کی عمومیت کے پیش نظر مرد اور عورت دونوں کے لیے یہ حکم یکساں ہے کیونکہ ان چیزوں کو حرام کر دینے کی علت اسراف، تکبر اور غریبوں کی دل شکنی ہے جس کا تعلق دونوں فریق سے ہے۔ رہا عورتوں کے لیے زیورات کا جواز تو وہ اس بنا پر ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے سنگھار کر سکیں۔ اسی ضرورت کے پیش نظر اسے مُباح کر دیا گیا۔
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر حرمت کی علت یہی ہے تو پھر یا قوت وغیرہ کے برتن کیوں نہیں حرام کیے گئے جو سونے چاندی سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ غریب لوگ ان چیزوں سے آشنا نہیں ہوتے اس لیے دولتمندوں کے اس چیز کو استعمال کرنے سے غریبوں کی دل شکنی نہیں ہوتی، نیز یہ جواہرات اتنی قلیل مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ ان کے برتن بنانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ لہذا ان کو حرام قرار دینے کی ضرورت باقی نہیں رہتی، لیکن سونے اور چاندی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔
المغنى ج 8 ص 323
ان وجوہ کے علاوہ ایک وجہ اقتصادی پہلو بھی ہے جس کی طرف ہم اس سے پہلے اشارہ کر چکے ہیں۔ دراصل سونے اور چاندی کی حیثیت نقدی کے لیے بین الاقوامی محفوظ سرمایہ کی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اموال کی قیمت کے لیے معیار بنایا ہے۔ اس میں ایک قسم کی حاکمانہ قوت موجود ہے جو قیمتوں میں صحیح توازن پیدا کرتی ہے اور زرمبادلہ کا کام دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح اس کے استعمال کی رہنمائی فرما کر انسان کو اپنی نعمت سے نوازا ہے تا کہ وہ اس کو گردش میں رکھیں اور یہ نعمت انہیں اس لیے نہیں عطا کی گئی ہے کہ وہ اس کو نقد خزانہ کی شکل میں گھر میں بند کر رکھیں یا برتن اور سامان زینت کی شکل میں بے کار بنا کر رکھ دیں۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے احیاء العلوم میں یہ بات کس قدر خوبی کے ساتھ بیان فرمائی ہے۔
جس نے درہم و دینار سے سونے چاندی کے برتن بنائے اس نے کفرانِ نعمت کیا اور اُس کا حال اس شخص سے بھی بدتر ہے جو خزانہ جمع کر کے رکھتا ہے کیونکہ اس کا معاملہ اس شخص کا سا ہے جس نے حاکم شہر کو کپڑا بننے، جھاڑو دینے جیسی خدمت میں لگایا جس کو معمولی لوگ انجام دیتے ہیں۔ اس کو اس طرح استعمال کرنے کے مقابلہ میں جمع کر رکھنا اچھا ہے کیونکہ مٹی، لوہا، سیسہ اور تانبا سیال چیزوں کو محفوظ کرنے کے لیے سونے چاندی کے قائم مقام ہیں اور برتن سیال چیزوں کو محفوظ کرنے ہی کے لیے ہوتے ہیں، لیکن پکی ہوئی مٹی اور لوہے وغیرہ سے نقدی کا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا اور جو شخص اس حقیقت سے نا آشنا ہو اس پر تشریح ربانی کے ذریعہ یہ بات واضح ہو جانی چاہیے اور اُسے یہ حدیث سنانا چاہیے :
من شرب فى أنية من ذهب أو فضة فكأنما يجرجر فى بطنه نار جهنم
”جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ گویا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔“
بخاری کتاب الاشربة باب آنية الفضة ح : 5634 – مسلم كتاب اللباس : باب تحريم استعمال أواني الذهب… ح : 2065 ، احیاء العلوم کتاب الشکر و الصبر 4-89
یہ خیال کرنا صحیح نہ ہوگا کہ اس (مذکورہ اشیاء کی) حرمت کے نتیجہ میں مسلمانوں کے لیے گھر کے معاملات میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے، نہیں! بلکہ پاک اور حلال چیزوں کا دائرہ اس کے علاوہ بھی کافی وسیع ہے۔ کانچ، مٹی، چینی، تانبے اور بہت سی دوسری دھاتوں کے برتن کتنے بہترین ہیں! اور روئی اور کتان وغیرہ کے بستر اور تکیے کتنی عمدہ چیزیں ہیں!