سخت گرمی میں نماز کو ٹھنڈا کرنا اور اس کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
”جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز ظہر کو ٹھنڈا کرو۔ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی آگ کی بھاپ کی وجہ سے ہے۔“
بخاری، كتاب المواقيت الصلوة، حديث 536۔ مسلم كتاب المساجد، حديث 615/180۔
② سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أبردوا بالظهر فإن شدة الحر من فيح جهنم
”نماز ظہر کو ٹھنڈا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تیزی کی وجہ سے ہے۔“
بخاری ، کتاب مواقيت الصلاة، حديث 538۔ ابن ماجه، کتاب الصلاة، حديث 679۔
عشاء تاخیر سے پڑھنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم أن يؤخروا العشاء إلى ثلث الليل أو نصفه
”اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کریں۔“
یہ روایت صحیح ہے۔ ترمذی، کتاب الصلوة 167۔ ابن ماجه، كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها 691۔ مسند احمد، باقی مسند المكثرين 2 / 250۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بتأخير العشاء ، وبالسواك عند كل صلاة
”اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا تو میں انہیں نماز عشاء تاخیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم فرماتا“۔
روایت صحیح ہے۔ نسائی، کتاب الإمامة 266/1، 267۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو مؤخر کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! نمازی عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔ “
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:
لولا أن أشق على أمتي أو على الناس لأمرتهم بالصلاة هذه الساعة
”اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا تو میں انہیں اس وقت نماز پڑھنے کا حکم فرماتا۔“
بخاری، کتاب التمني 7239،571۔
شام کے کھانے کو نماز عشاء پر مقدم کرنا
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أقيمت الصلاة و حضر العشاء فابدؤوا به قبل صلاة المغرب ، ولا تعجلوا على عشائكم
”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے اور شام کا کھانا بھی آ جائے تو نماز مغرب سے پہلے اسے شروع کرو۔ اور نماز عشاء کے لیے جلدی نہ کرو۔“
بخاری، کتاب الاذان 672۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 557۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا وضع عشاء أحدكم و أقيمت الصلاة فابدؤوا بالعشاء ، ولا يعجل حتى يفرغ منه
”جب تم میں سے کسی کا شام کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو پہلے کھانا کھاؤ، جلدی نہ کرو حتیٰ کہ اس سے فارغ ہو جاؤ۔“
بخاری، کتاب الاذان 673۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 559۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایسے ہی کیا کرتے تھے کہ اگر ان کے لیے کھانا لگا دیا جاتا اور نماز کھڑی ہو جاتی تو وہ نماز کے لیے نہ آتے حتىٰ کہ کھانے سے فارغ ہو جاتے، حالانکہ وہ امام کی قرآت سن رہے ہوتے تھے۔
نماز عشاء کو عتمہ کہنے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم ألا إنها العشاء وهم يعتمون بالإبل
”دیہاتی تمہاری نماز عشاء کے نام پر تم پر غالب نہ آ جائیں۔ سن لو! اس کا نام عشاء ہے اور وہ عشاء کے وقت اونٹوں کا دودھ دوہتے ہیں۔“
مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوة 644/229 – ابو داؤد، کتاب الادب 4984۔
② سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسم صلاتكم العشاء فإنها فى كتاب الله العشاء فإنها تعتم بحلاب الإبل
”تمہاری نماز کا نام عشاء ہے اس لیے کہ اللہ کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہے اور اونٹوں کا اس وقت دودھ دوہنے کی وجہ سے اسے عتمہ کہا جاتا ہے۔“
مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوة 229/ 644۔