نماز عید کے بعد نوافل، تکبیرات عیدین میں رفع الیدین اور دیگر مسائل

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

نماز عید کے بعد چار رکعت ادا کرنا کیسا ہے؟

جواب:

بعض سلف سے نماز عید کے بعد چار رکعت ادا کرنا ثابت ہے۔
❀ اسود بن ہلال کوفی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ، فَلَمَّا صَلَّى الْإِمَامُ، قَامَ فَصَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعًا .
”میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ (نماز عید کے لیے) نکلا، جب امام نے نماز عید پڑھا دی، تو اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر چار رکعت نفل ادا کیے۔“ (مصنّف ابن أبي شيبة: 5753، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا .
”آپ رضی اللہ عنہ نماز عید سے پہلے اور بعد چار چار رکعت نوافل ادا کرتے تھے۔“ (مصنّف ابن أبي شيبة: 5757، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ عاصم احول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
رَأَيْتُ الْحَسَنَ، وَابْنَ سِيرِينَ يُصَلِّيَانِ بَعْدَ الْعِيدِ وَيُطِيلَانِ الْقِيَامَ .
”میں نے حسن بصری اور محمد بن سیرین رحمہما اللہ کو نماز عید کے بعد نوافل پڑھتے دیکھا، جن میں آپ رحمہما اللہ لمبا قیام کرتے تھے۔“ (مصنّف ابن أبي شيبة: 5756، وسندهٗ صحيحٌ)
اس باب میں سلف سے مزید آثار بھی آئے ہیں۔

تنبیہ:

نماز عید کے بعد گھر لوٹنے پر دو رکعت کے بارے میں منقول روایات ضعیف ہیں، ان پر تبصرہ ملاحظہ ہو:
❀ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُصَلِّي قَبْلَ الْعِيدِ شَيْئًا، فَإِذَا رَجَعَ إِلٰى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید سے پہلے نماز نہیں پڑھتے تھے، گھر واپس آ کر دو رکعتیں ادا فرماتے۔“ (مسند الإمام أحمد: 40، 28/3، سنن ابن ماجه: 1293)
سند ضعیف ہے۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل ”ضعیف“ ہے۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضَعِيْفٌ عِنْدَالْأَكْثَرِيْنَ .
”جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔“ (المَجموع: 155/1، تهذيب الأسماء واللُّغات: 50/4)
❀ حافظ ابوالفتح ابن سید الناس یعمری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ لِسُوْءِ حِفْظِهٖ .
”خرابی حافظہ کے سبب اکثر محدثین کرام نے ضعیف کہا ہے۔“ (فيض القدير للمَناوي: 527/5)
❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هُوَ ضَعِيْفٌ عِنْدَ الْأَكْثَرِيْنَ .
”جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔“ (مَجمع الزّوائد: 134/1)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”ضعیف“ کہا ہے۔ (فتح الباري: 324، 10/10)
❀ حافظ بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هُوَ ضَعِيْفٌ، ضَعَّفَهٗ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَابْنُ مَعِينٍ وَّأَبُو حَاتِمٍ وَّعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَغَيْرُهُمْ .
”ضعیف ہے، امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام ابوحاتم رازی، امام علی بن مدینی اور امام ابن خزیمہ رحمہم اللہ وغیرہم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“ (إتّحاف الخيرة المهرة: 458/5)
❀ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عید الفطر کے دن نماز عید کے بعد چار رکعت ادا کرتا ہے، پہلی رکعت میں سورت فاتحہ اور سورت اعلیٰ، دوسری میں سورت شمس، تیسری میں سورت ضحیٰ اور چوتھی میں سورت اخلاص پڑھتا ہے، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام کتابیں پڑھیں اور گویا تمام یتیم بچوں کو پیٹ بھر کھانا کھلایا، انہیں تیل لگایا اور پاک صاف کیا، نیز اسے ہر اس چیز کے برابر اجر ملے گا، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔“ (الموضوعات لابن الجوزي: 447/2)
جھوٹی روایت ہے۔
① محمد بن احمد بن صدیق کی توثیق نہیں مل سکی۔
② ابوبکر احمد بن جعفر مروزی کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
③ یعقوب بن عبدالرحمٰن ہو سکتا ہے کہ ابو یوسف جصاص ہو، اس کے متعلق؛
❀ ابومحمد بن غلام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لَيْسَ بِالْمَرْضِيِّ .
”یہ پسندیدہ نہیں۔“ (سؤالات السّهمي، ص 261، الرقم: 380)
❀ خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فِي حَدِيْثِهٖ وَهْمٌ كَثِيْرٌ .
”اس کی حدیث میں بہت زیادہ وہم ہے۔“ (تاريخ بغداد: 431/16)
④ عبداللہ بن محمد بن ربیعہ قدامی کے متعلق حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَحَدُ الضُّعَفَاءِ، أَتٰى عَنْ مَّالِكٍ بِمَصَائِبَ .
”ضعیف ہے، امام مالک رحمہ اللہ سے منسوب مصیبتیں ذکر کرتا ہے۔“ (ميزان الاعتدال: 488/2)

سوال:

جو قیام میں تکبیرات زوائد بھول جائے، کیا وہ رکوع سے اٹھ کر کہہ سکتا ہے؟

جواب:

نہیں کہہ سکتا، قومہ تکبیرات زوائد کا محل نہیں۔ جو تکبیرات زوائد کہنا بھول جائے، وہ آخر میں سجدہ سہو سے کمی پوری کر لے۔

سوال:

بلا عذر مسجد میں عید پڑھانا کیسا ہے؟

جواب:

بلا عذر مسجد میں عید پڑھانا ثابت نہیں۔ سنت یہ ہے کہ آبادی سے باہر کھلی جگہ عید پڑھی جائے۔

سوال:

امام نے تکبیرات زوائد کہہ دی ہیں، مگر اونچی سورت فاتحہ پڑھنا بھول گیا، تنبیہ کرنے پر کیا کرے؟

جواب:

اگر پہلے تکبیرات زوائد کہہ دی ہیں، تو تنبیہ کرنے پر سورت فاتحہ کی قرأت کرے، دوبارہ تکبیرات نہیں کہے گا۔

سوال:

عیدین کی نماز میں زوائد تکبیرات کتنی ہیں؟

جواب:

عیدین میں مسنون زوائد تکبیرات بارہ ہیں۔ سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔

سوال:

نماز عید کے لیے نقارہ بجانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز نہیں۔

سوال:

کیا عید کی نماز کے لیے مقتدیوں کا انتظار کرنا جائز ہے؟

جواب:

حاضرین کو کوئی اعتراض نہ ہو، تو کچھ دیر انتظار کیا جا سکتا ہے۔

سوال:

ایک عیدگاہ کو گرا کر اس کا ملبہ دوسری جدید عیدگاہ پر لگانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

ایک علاقہ میں دو عیدگاہیں ہیں، دو جماعتیں ہوتی ہیں، کیا حکم ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

غیر مسلموں کی بنائی ہوئی عمارت میں عید پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

جگہ پاک ہے، تو جائز ہے۔

سوال:

کیا تکبیرات عیدین میں رفع الیدین کیا جائے گا؟

جواب:

تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتّٰى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَّرْكَعَ رَفَعَهُمَا، حَتّٰى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، كَبَّرَ وَهُمَا كَذٰلِكَ، فَرَكَعَ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَّرْفَعَ صُلْبَهٗ رَفَعَهُمَا، حَتّٰى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ، ثُمَّ يَسْجُدُ، فَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ، وَرَفَعَهُمَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَّتَكْبِيرَةٍ كَبَّرَهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ، حَتّٰى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهٗ .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو دونوں ہاتھوں کو بلند فرماتے، حتی کہ جب وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کا ارادہ فرماتے، تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے، حتی کہ وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، اسی حالت میں آپ اللہ اکبر کہتے۔ پھر رکوع فرماتے۔ جب آپ رکوع سے اپنی کمر اٹھانے کا ارادہ فرماتے، تو دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ پھر سجدہ کرتے، لیکن سجدے میں رفع الیدین نہیں فرماتے تھے، البتہ ہر رکوع اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر پر رفع الیدین فرماتے تھے، حتی کہ اسی طرح آپ کی نماز مکمل ہو جاتی۔“ (سنن أبي داوٗد: 722، المنتقىٰ لابن الجارود: 178، والسياق لهٗ، وسندهٗ حسنٌ)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رکوع سے پہلے کہی جانے والی ہر تکبیر پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین فرماتے تھے۔ تکبیراتِ عیدین بھی چونکہ رکوع سے پہلے ہوتی ہیں، لہٰذا ان میں رفع الیدین کرنا سنتِ نبوی سے ثابت ہے۔

ائمہ دین کا مذہب:

ائمہ دین بھی تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کے قائل تھے۔

امام اوزاعی رحمہ اللہ:

امام عبدالرحمٰن بن عمرو، اوزاعی رحمہ اللہ (157ھ) سے تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا:
نَعَمْ، اِرْفَعْ يَدَيْكَ مَعَ كُلِّهِنَّ .
”ہاں، تمام تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین کیجئے۔“ (أحكام العيدين للفِريابي: 136، وسندهٗ صحيحٌ)

امام مالک رحمہ اللہ:

امام مالک بن انس رحمہ اللہ (179ھ) سے پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا:
نَعَمْ، اِرْفَعْ يَدَيْكَ مَعَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ، وَلَمْ أَسْمَعْ فِيهِ شَيْئًا .
”ہاں، ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کیجئے، میں نے اس بارے کوئی اختلاف نہیں سنا۔“ (أحكام العيدين للفِريابي: 137، وسندهٗ صحيحٌ)

امام شافعی رحمہ اللہ:

امام محمد بن ادریس، شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:
يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ عَلٰى جَنَازَةٍ خَبَرًا، وَقِيَاسًا عَلٰى أَنَّهٗ تَكْبِيرٌ وَّهُوَ قَائِمٌ، وَفِي كُلِّ تَكْبِيرِ الْعِيدَيْنِ .
”نمازِ جنازہ اور عیدین کی ہر تکبیر پر رفع الیدین کیا جائے گا، حدیثِ نبوی کی بنا پر بھی اور یہ قیاس کرتے ہوئے بھی کہ قیام کی تکبیر پر رفع الیدین کیا جاتا ہے۔“ (كتاب الأمّ: 127/1)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ:

امام اہل سنت، احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ) فرماتے ہیں:
يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ . ”ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرے گا۔“ (مسائل الإمام أحمد برواية أبي داوٗد: 87)

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ:

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (238ھ) کا بھی یہی مذہب ہے۔ (مسائل الإمام أحمد وإسحاق: 4054/8، م: 2890)

امام ابن منذر رحمہ اللہ:

امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَيَّنَ رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُّكَبِّرُهَا الْمَرْءُ وَهُوَ قَائِمٌ، وَكَانَتْ تَكْبِيرَاتُ الْعِيدَيْنِ وَالْجَنَائِزِ فِي مَوْضِعِ الْقِيَامِ، ثَبَتَ رَفْعُ الْيَدَيْنِ فِيهَا ……
”اس لیے بھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام میں ہر تکبیر پر رفع الیدین بیان فرمایا ہے اور عیدین و جنازہ کی تکبیرات بھی قیام ہی میں ہیں، لہٰذا ان تکبیرات میں رفع الیدین ثابت ہو گیا۔“ (الأوسط في السّنن والإجماع والاختلاف: 426/5)
❀ نیز فرماتے ہیں:
سَنَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَّرْفَعَ الْمُصَلِّي يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوعِ، وَكُلُّ ذٰلِكَ تَكْبِيرٌ فِي حَالِ الْقِيَامِ، فَكُلُّ مَنْ كَبَّرَ فِي حَالِ الْقِيَامِ رَفَعَ يَدَيْهِ اسْتِدْلَالًا بِالسُّنَّةِ .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرنے کو سنت بنایا ہے۔ یہ ساری صورتیں قیام کی حالت میں تکبیر کی ہیں۔ لہٰذا جو بھی شخص قیام کی حالت میں تکبیر کہے گا، وہ اسی سنت سے استدلال کرتے ہوئے رفع الیدین کرے گا۔“ (الأوسط: 282/4)

امام بیہقی رحمہ اللہ:

امام بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) نے مذکورہ بالا حدیث پر یوں باب قائم فرمایا ہے:
بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي تَكْبِيرِ الْعِيدِ .
”عید کی تکبیرات میں رفع الیدین کا بیان۔“ (السّنن الكبرىٰ: 411/3)

احناف کا مؤقف:

احناف بھی عیدین کی زائد تکبیروں میں رفع الیدین کے قائل ہیں، لیکن ان کی دلیل امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک قول ہے، جو کہ ان سے ثابت نہیں۔
❀ وہ قول یوں ہے:
تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ؛ فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، وَفِي التَّكْبِيرَاتِ لِلْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ، وَفِي الْعِيدَيْنِ ……
”سات مواقع پر رفع الیدین کیا جائے گا؛ نماز کے شروع میں، وتروں میں قنوت کی تکبیرات میں، عیدین میں……۔“ (شرح مَعاني الآثار للطّحاوي: 178/2)
یہ قول سخت ضعیف ہے۔
① شعیب بن سلیمان بن سلیم کیسانی کی توثیق نہیں مل سکی۔
② قاضی ابو یوسف جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔
❀ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
تَرَكُوهُ . ”محدثین کرام نے اسے ترک کر دیا تھا۔“ (التّاريخ الكبير: 397/8، ت: 3463)
③ امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ باتفاقِ محدثین حدیث میں ضعیف ہیں۔
معلوم ہوا کہ احناف کے پاس تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کے ثبوت پر کوئی دلیل نہیں۔ اگر وہ حدیث پر عمل کرتے ہیں، تو انہیں رکوع جاتے اور سر اٹھاتے وقت کا رفع الیدین بھی کرنا چاہئے، کیونکہ حدیث میں تو قاعدہ وکلیہ بیان ہوا ہے کہ رکوع سے پہلے کہی گئی ہر تکبیر پر رفع الیدین کرنا سنت نبوی ہے۔
ہمارے بھائی ایک طرف تو رکوع جاتے اور سر اٹھاتے وقت کے رفع الیدین کے تارک ہیں، تو دوسری طرف عیدین کی زائد تکبیرات میں رفع الیدین کے قائل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نمازِ جنازہ کی تکبیرات میں رفع الیدین کے قائل نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تمام عبادات میں سنتِ رسول کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

سوال:

تکبیرات عیدین میں ہر تکبیر پر رفع الیدین کر کے ہاتھ باندھے جائیں یا چھوڑ دیے جائیں؟

جواب:

ہر تکبیر پر رفع الیدین کے بعد ہاتھ باندھ لیے جائیں، کیونکہ رکوع سے پہلے قیام میں ہاتھ باندھے جاتے ہیں، چھوڑنا ثابت نہیں۔

سوال:

ہر سال مختلف جگہ پر عید پڑھنے کے لیے جانا کیسا ہے؟

جواب:

درست ہے۔

سوال:

کیا جیل خانے میں عید کی نماز پڑھی جا سکتی ہے؟

جواب:

پڑھی جا سکتی ہے۔

سوال:

کیا خطبہ عید کے بعد دعا کرنا مسنون ہے؟

جواب:

خطبہ عید کے بعد دعا مسنون ہے، اس میں وہ خواتین بھی شریک ہوں گی، جو خاص ایام گزار رہی ہوں۔

سوال:

کیا عیدگاہ مسجد کے حکم میں ہوتی ہے؟

جواب:

عیدگاہ کے بہت سے اُمور مسجد کے حکم میں ہوتے ہیں۔

سوال:

جس کی عید کی نماز رہ جائے، وہ کیا کرے؟

جواب:

بہتر ہے کہ کسی کو ساتھ ملا کر باجماعت دو رکعت نماز عید ادا کرے، ورنہ اکیلے دو رکعت مع تکبیرات زوائد پڑھ لے۔

سوال:

جو عذر کی بنا پر عیدگاہ نہ پہنچ سکتا ہو، وہ کیا کرے؟

جواب:

گھر میں ہی باجماعت دو رکعت مع تکبیرات زوائد ادا کر لے۔

سوال:

تکبیرات زوائد میں کیا مقتدی جہر کریں گے؟

جواب:

امام اونچی تکبیر کہے گا، مقتدی آہستہ کہیں گے۔

سوال:

ایک شخص عیدگاہ پہنچا، تو نماز ہو چکی تھی، تو وہ کیا کرے؟

جواب:

چاہیے یہ کہ کسی کو ساتھ ملا کر دو رکعت باجماعت مع تکبیرات زوائد ادا کر لے اور خطبہ و دعا میں شریک ہو جائے۔

سوال:

کیا نماز عیدین کے لیے بھی فرش کا پاک ہونا ضروری ہے؟

جواب:

عیدین کی نماز بھی نماز ہے، اس کے لیے فرش کا پاک ہونا ضروری ہے۔

سوال:

عید کی نماز کے بعد چار رکعت نفل باجماعت پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

بدعت ہے۔

سوال:

کیا چھوٹے گاؤں میں عید پڑھی جائے گی؟

جواب:

چھوٹے گاؤں میں جمعہ اور عید دونوں پڑھے جائیں گے۔

سوال:

کیا عیدین کی امامت پر اجرت لینا جائز ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

کیا ایک شخص دو جگہ عید کی امامت کرا سکتا ہے؟

جواب:

مجبوری کی صورت میں کرا سکتا ہے، دوسری جگہ نفل کی نیت کر لے۔

سوال:

رشوت کی آمدنی سے عیدگاہ بنانا کیسا ہے؟

جواب:

رشوت مالِ حرام ہے، اس سے کی گئی نیکی قبول نہیں۔ البتہ رشوت کی آمدنی سے بنائی گئی عیدگاہ میں نماز درست ہے۔

سوال:

بارش کی صورت میں مسجد میں عید پڑھانا کیسا ہے؟

جواب:

بارش عذر ہے، عذر کی وجہ سے مسجد میں عید پڑھی جا سکتی ہے۔

سوال:

آبادی سے باہر ہر سال الگ جگہ عید کا اہتمام کرنا کیسا ہے؟

جواب:

آبادی سے باہر کسی بھی جگہ عید پڑھی جا سکتی ہے، ہر سال الگ الگ جگہ کو عیدگاہ بنایا جا سکتا ہے۔

سوال:

نماز عید کے وقت جنازہ آ جائے، تو پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟

جواب:

کوئی نماز بھی پہلے پڑھی جا سکتی ہے۔

سوال:

کیا ایام تشریق اور عید الفطر میں کچھ نہ کچھ کھانا ضروری ہے؟

جواب:

ان ایام میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ البتہ کھانا پینا ضروری نہیں۔

سوال:

مطلع ابر آلود تھا، چاند نظر نہ آیا، اگلے دن عید نہ پڑھی، رات کو معلوم پڑا کہ چاند دوسرے دن کا ہے، اب عید کی نماز ہو گی یا نہیں؟

جواب:

جی ہاں، ضرور۔

سوال:

نماز عید میں بھول جائے، تو کیا سہو کرے گا؟

جواب:

جی ہاں، کرے گا۔

سوال:

جہاں گائے کی قربانی نہ ہوتی ہو، کیا وہاں عید اور جمعہ جائز ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

جس گاؤں میں سوا سو گھر آباد ہوں، وہاں جمعہ اور عید کا کیا حکم ہے؟

جواب:

ایسے گاؤں میں جمعہ اور عید درست ہیں۔

سوال:

کیا شوال کے چھ روزے عید کے اگلے روز ہی شروع کرے؟

جواب:

شوال کے چھے روزے پورے مہینے میں کبھی بھی رکھے جا سکتے ہیں، عید کے اگلے روز رکھنا ضروری نہیں۔

سوال:

کیا عید کے دن روزہ رکھنے سے ثواب ملے گا؟

جواب:

ثواب تو نہیں، البتہ حرام کے ارتکاب سے گناہ ملے گا۔

سوال:

کیا دارالحرب میں عید اور پنجگانہ نمازیں باجماعت پڑھنا جائز ہے؟

جواب:

جس دارالحرب میں عید، جمعہ اور پنجگانہ نمازیں باجماعت پڑھنا ممکن ہو، وہاں انہیں باجماعت ہی ادا کرنا ضروری ہے۔

سوال:

کیا تکبیرات عیدین میں مقتدی بھی رفع یدین کریں گے؟

جواب:

جی ہاں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو دونوں ہاتھوں کو بلند فرماتے، حتی کہ جب وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کا ارادہ فرماتے، تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے، حتی کہ وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، اسی حالت میں آپ اللہ اکبر کہتے۔ پھر رکوع فرماتے۔ جب آپ رکوع سے اپنی کمر اٹھانے کا ارادہ فرماتے، تو دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ پھر سجدہ کرتے، لیکن سجدے میں رفع الیدین نہیں فرماتے تھے، البتہ ہر رکوع اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر پر رفع الیدین فرماتے تھے، حتی کہ اسی طرح آپ کی نماز مکمل ہو جاتی۔“ (سنن أبي داوٗد: 722، المنتقىٰ لابن الجارود: 178، والسياق لهٗ، وسندهٗ حسنٌ)
رکوع سے پہلے کہی جانے والی ہر تکبیر پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین فرماتے تھے۔ تکبیراتِ عیدین بھی چونکہ رکوع سے پہلے ہوتی ہیں، لہٰذا ان میں رفع الیدین کرنا سنتِ نبوی سے ثابت ہے، ائمہ اہل سنت کا بھی یہی مؤقف ہے۔ اور یہ سنت امام اور مقتدی دونوں کے لیے ہے، کیونکہ مقتدی کے لیے استثنیٰ ثابت نہیں۔
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرنے کو سنت بنایا ہے۔ یہ ساری صورتیں قیام کی حالت میں تکبیر کی ہیں۔ لہٰذا جو بھی شخص قیام کی حالت میں تکبیر کہے گا، وہ اسی سنت سے استدلال کرتے ہوئے رفع الیدین کرے گا۔“ (الأوسط: 282/4)