خواتین کا عیدگاہ جانا، خطبہ عید اور عید سے پہلے نوافل کے مسائل

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

کیا عورتیں بھی نماز عید کے لیے عید گاہ جاسکتی ہیں؟

جواب:

عورتیں بھی نماز عید ادا کرنے کے لیے عید گاہ جاسکتی ہیں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، ثُمَّ مَالَ عَلَى النِّسَاءِ، وَمَعَهٗ بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُلْبَ وَالْخُرْصَ.
”ایک عید کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (عید گاہ میں) تشریف لائے، دو رکعت نماز پڑھائی، اس سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں پڑھی، پھر عورتوں کی طرف آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وعظ فرمایا اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو عورتیں انگوٹھیاں اور کنگن (چادر میں) ڈالنے لگیں۔“
(صحيح البخاري: 1431، صحيح مسلم: 884)
❀ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُّخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحٰى، الْعَوَاتِقَ، وَالْحُيَّضَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ؛ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ: لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں دوشیزائیں، حائضہ عورتیں اور پردہ نشین خواتین کو بھی عید گاہ میں لے کر جائیں، البتہ حائضہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں، جبکہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو؟ فرمایا: اس کی اسلامی بہن اسے اپنی چادر دے دے۔“
(صحيح البخاري: 981، صحيح مسلم: 890)
❀ صحیح مسلم (11/890) میں ہے:
الْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ، فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ.
”حائضہ عورتیں نکلتیں اور لوگوں کے پیچھے بیٹھ جاتیں، وہ لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتیں۔“
❀ صحیح بخاری (971) کے الفاظ ہیں:
يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ، وَيَدْعُونَ بِدُعَائِهِمْ، يَرْجُونَ بَرَكَةَ ذٰلِكَ الْيَوْمِ، وَطُهْرَتَهٗ.
”ماہواری والی لوگوں کے پیچھے ہوتیں، وہ ان کی تکبیروں کے ساتھ تکبیریں کہتیں، ان کی دعا کے ساتھ دعا مانگتیں اور اس مبارک دن کی برکت و فضیلت کی امید رکھتیں۔“
معلوم ہوا کہ حائضہ عید گاہ جائے گی، ہاں! باپردہ، چادروں میں لپٹی ہوئی، شریف زادیوں کی طرح نگاہیں جھکا کر، ذکر الٰہی میں مشغول ہو کر عید گاہ کا رخ کریں۔ نیز خاوند یا ولی کی اجازت بھی شامل ہونی چاہئے۔ سلف سے ایسا ہی ثابت ہے؛
❀ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ يُخْرِجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْ أَهْلِهٖ.
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خواتین خانہ کو عید گاہ لے جایا کرتے تھے۔“
(مُصنّف ابن أبي شَيْبة: 191/2، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
اَلْقَوْلُ بِكَرَاهَةِ الْخُرُوجِ عَلَى الْإِطْلَاقِ رَدٌّ لِلْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ بِالْآرَاءِ الْفَاسِدَةِ، وَتَخْصِيصُ الشَّوَابِّ يَأْبَاهُ صَرِيحُ الْحَدِيثِ الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ وَغَيْرُهٗ.
”مطلق طور پر عورتوں کا عید گاہ کی طرف نکلنے کو مکروہ کہنا دراصل فاسد آراء کے ساتھ احادیث صحیحہ کا رد کرنا ہے۔ اسی طرح عمر رسیدہ عورتوں کو خاص کرنے کو بخاری و مسلم وغیرہ کی صریح حدیث رد کرتی ہے۔“
(نَيل الأوطار: 342/3)

تنبیہ:

امام ابو جعفر طحاوی حنفی رحمہ اللہ (321ھ) نے مذکورہ حدیث کی تاویل یوں کی ہے:
يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ ذٰلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ قَلِيلٌ فَأَرَادَ التَّكْثِيرَ بِحُضُورِهِنَّ إِرْهَابًا لِلْعَدُوِّ وَالْيَوْمَ فَلَا يَحْتَاجُ إِلٰى ذٰلِكَ.
”ممکن ہے کہ یہ اس وقت ہوتا ہو، جب مسلمانوں کی تعداد کم تھی، لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو ساتھ لے جانے سے تعداد کی کثرت کا ارادہ کیا ہو، تاکہ دشمن خوف زدہ ہو جائے، لہٰذا اب اس کی ضرورت باقی نہ رہی۔“
(مُختصر اختلاف العلماء: 232/1)
❀ طحاوی رحمہ اللہ کے جواب میں علامہ کرمانی رحمہ اللہ (786ھ) فرماتے ہیں:
هُوَ مَرْدُودٌ لِأَنَّهٗ يَحْتَاجُ إِلٰى مَعْرِفَةِ تَارِيخِ الْوَقْتِ وَالنَّسْخُ لَا يَثْبُتُ إِلَّا بِيَقِينٍ، وَأَيْضًا فَإِنَّ التَّرْهِيبَ لَا يَحْصُلُ بِهِنَّ وَلِذٰلِكَ لَمْ يَلْزَمْهُنَّ الْجِهَادُ.
”یہ باطل توجیہ ہے، کیونکہ اس دعویٰ کے لیے اس عمل کی وقت تاریخ کو جاننا ضروری ہے اور نسخ ہمیشہ یقین کے ساتھ ہی ہوتا ہے (محض احتمال کے ساتھ نہیں)۔ پھر یہ بھی کہ عورتوں کے ساتھ دشمن پر خوف طاری کیا ہی نہیں جاسکتا، اسی لیے عورتوں کے لیے جہاد میں شرکت کرنا ضروری نہیں ہے۔“
(الكواكب الدّراري: 83/6)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
بَلْ هُوَ مَعْرُوفٌ بِدَلَالَةِ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهٗ شَهِدَهٗ وَهُوَ صَغِيرٌ وَكَانَ ذٰلِكَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ فَلَمْ يَتِمَّ مُرَادُ الطَّحَاوِيِّ وَقَدْ صُرِّحَ فِي حَدِيثِ أُمِّ عَطِيَّةَ بِعِلَّةِ الْحُكْمِ وَهُوَ شُهُودُهُنَّ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجَاءُ بَرَكَةِ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَطُهْرَتِهٖ وَقَدْ أَفْتَتْ بِهٖ أُمُّ عَطِيَّةَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُدَّةٍ كَمَا فِي هٰذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَثْبُتْ عَنْ أَحَدٍ مِّنَ الصَّحَابَةِ مُخَالَفَتُهَا فِي ذٰلِكَ وَأَمَّا قَوْلُ عَائِشَةَ: «لَوْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسَاجِدَ»، فَلَا يُعَارِضُ ذٰلِكَ لِنُدُورِهٖ إِنْ سَلَّمْنَا أَنَّ فِيهِ دَلَالَةً عَلٰى أَنَّهَا أَفْتَتْ بِخِلَافِهٖ مَعَ أَنَّ الدَّلَالَةَ مِنْهُ بِأَنَّ عَائِشَةَ أَفْتَتْ بِالْمَنْعِ لَيْسَتْ صَرِيحَةً وَفِي قَوْلِهٖ: «إِرْهَابًا لِلْعَدُوِّ» نَظَرٌ لِأَنَّ الْاِسْتِنْصَارَ بِالنِّسَاءِ وَالتَّكَثُّرَ بِهِنَّ فِي الْحَرْبِ دَالٌّ عَلَى الضَّعْفِ وَالْأَوْلٰى أَنْ يُّخَصَّ ذٰلِكَ بِمَنْ يُؤْمَنُ عَلَيْهَا وَبِهَا الْفِتْنَةُ وَلَا يَتَرَتَّبُ عَلٰى حُضُورِهَا مَحْذُورٌ وَلَا تُزَاحِمُ الرِّجَالَ فِي الطُّرُقِ وَلَا فِي الْمَجَامِعِ.
”بلکہ عورتوں کا عید گاہ میں جانا معروف عمل تھا، اس کی دلیل سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے، آپ رضی اللہ عنہما اس عید میں حاضر تھے، تب آپ چھوٹے تھے اور یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ لہٰذا امام طحاوی رحمہ اللہ کی مراد پوری نہ ہوئی۔ پھر سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اس حکم کی علت بھی واضح کی گئی ہے، وہ تھی عورتوں کا خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شامل ہونا، نیز اس دن کی برکت اور پاکیزگی کی اُمید رکھنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کی وفات) کے ایک مدت بعد سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا نے اسی کا فتویٰ دیا (کہ عورتیں عید گاہ کی طرف نکلیں)۔ جیسا کہ اس حدیث میں ہے اور کسی بھی صحابی سے اس مسئلہ میں سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کی مخالفت کرنا ثابت نہیں۔ باقی رہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان: ”خواتین نے اب جو کام شروع کر دیے ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں (ایسا کرتے) پا لیتے، تو انہیں (مسجد میں آنے سے) منع کر دیتے۔“ تو اگر اس سے استدلال کر بھی لیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کے خلاف فتویٰ دیا تھا، تب بھی یہ حدیث اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کے معارض نہیں ہے، کیونکہ عید گاہ میں کبھی کبھی جایا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قول عائشہ رضی اللہ عنہا سے ممانعت ثابت کرنا صریح دلالت نہیں ہے۔ علامہ طحاوی رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ ”یہ دشمن کو خوف زدہ کرنے کے لیے تھا۔“ یہ بات محل نظر ہے، کیونکہ جنگ میں عورتوں سے مدد لینا اور ان کی کثرت ہونا، یہ کمزوری پر دلالت کرتا ہے۔ جبکہ درست بات یہ ہے کہ اس حدیث میں (عید گاہ میں حاضری کے لیے) ان عورتوں کو خاص کیا جائے گا، جن کے متعلق کسی فتنے کا اندیشہ نہیں ہے اور نہ ان کے حاضر ہونے سے کوئی خلاف شرع کام لازم آتا ہے، نیز وہ راستوں اور اجتماع گاہوں میں مردوں کے ساتھ اختلاط بھی نہیں کرتیں۔“
(فتح الباري: 471-470/2)

سوال:

کیا عیدین کی نماز میں سہو پر سجدہ سہو ہے؟

جواب:

جی ہاں۔

سوال:

عیدین کی زائد تکبیرات بھول جائیں، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

سجدہ سہو کرلیا جائے، نماز مکمل ہے۔

سوال:

عیدین کا خطبہ منبر پر کھڑے ہو کر پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

ثابت نہیں۔ اگر عذر ہو، تو بیٹھ کر خطبہ دیا جاسکتا ہے۔

سوال:

عیدین میں پہلے خطبہ ہے یا نماز؟

جواب:

پہلے نماز ادا کی جائے گی۔ (بخاری: 957، مسلم: 888)

سوال:

نماز عید سے پہلے خطبہ دینے کا آغاز کب ہوا؟

جواب:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت یہ ہے کہ عید کے دن پہلے نماز پڑھی جائے گی اور پھر خطبہ دیا جائے گا، اس سنت کے برعکس پہلے خطبہ اور بعد میں نماز کا اجراء سب سے پہلے مروان بن حکم نے کیا، جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نکیر بھی فرمائی۔
❀ سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هٰذَا فَقَدْ قَضٰى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ، فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ، فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.
”عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینے کا اجراء سب سے پہلے مروان بن حکم نے کیا، تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: خطبہ سے پہلے نماز عید ہے۔ مروان نے کہا: پہلے جو طریقہ یہاں رائج تھا، اسے ترک کر دیا گیا ہے۔ تو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے (مروان پر نکیر کر کے) اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آپ میں کوئی شخص جب برائی دیکھے، تو اسے ہاتھ سے ختم کرے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو، تو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی استطاعت و طاقت نہ ہو، تو دل میں برا جانے، یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔“
(صحيح مسلم: 49)
❀ حافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (702ھ) فرماتے ہیں:
فِي هٰذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلٰى أَنَّهٗ لَمْ يَعْمَلْ بِذٰلِكَ أَحَدٌ قَبْلَ مَرْوَانَ.
”اس حدیث میں دلیل ہے کہ یہ کام (نماز عید سے پہلے خطبہ دینا) مروان سے پہلے کسی نے نہیں کیا۔“
(شرح الأربعين النّووية، ص 111)

سوال:

عیدین کی نماز کے بعد دعا کا کیا حکم ہے؟

جواب:

عیدین میں خطبہ کے بعد یا نماز کے بعد اجتماعی دعا کی جاسکتی ہے، البتہ دعا کو بغیر شرعی دلیل کے کسی موقع یا وقت کے ساتھ خاص کرنا جائز نہیں۔

سوال:

کیا عید کی نماز کے لیے جانا واجب ہے؟

جواب:

واجب ہے۔

سوال:

کیا خواتین عید کے لیے جائیں گی؟

جواب:

خواتین بھی عید کی نماز کے لیے جائیں گی۔
❀ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں دوشیزائیں، حائضہ عورتیں اور پردہ نشین خواتین کو بھی عید گاہ میں لے کر جائیں، البتہ حائضہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں، جبکہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو؟ فرمایا: اس کی اسلامی بہن اسے اپنی چادر دے دے۔“
(صحيح البخاري: 981، صحيح مسلم: 890)

سوال:

کیا حائضہ عورت عید گاہ جاسکتی ہے؟

جواب:

ماہواری میں عید گاہ جاسکتی ہے، بلکہ حدیث میں اس کی تاکید ہے۔
(صحيح البخاري: 981، صحيح مسلم: 890)
❀ صحیح مسلم (11/890) میں ہے؛
الْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ، فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ.
”حائضہ عورتیں نکلتیں اور لوگوں کے پیچھے بیٹھ جاتیں، وہ لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتیں۔“
❀ صحیح بخاری (971) میں یہ الفاظ ہیں:
فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ، وَيَدْعُونَ بِدُعَائِهِمْ، يَرْجُونَ بَرَكَةَ ذٰلِكَ الْيَوْمِ، وَطُهْرَتَهٗ.
”ماہواری والی لوگوں کے پیچھے ہوتیں، وہ ان کی تکبیروں کے ساتھ تکبیریں کہتیں، ان کی دعا کے ساتھ دعا مانگتیں اور اس مبارک دن کی برکت و فضیلت کی امید رکھتیں۔“
معلوم ہوا کہ حائضہ عید گاہ جائے گی، ہاں! باپردہ، چادروں میں لپٹی ہوئی، شریف زادیوں کی طرح نگاہیں جھکا کر، ذکر الٰہی میں مشغول ہو کر عید گاہ کا رخ کریں۔ نیز خاوند یا ولی کی اجازت بھی شامل ہونی چاہئے۔ سلف سے ایسا ہی ثابت ہے؛
❀ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ يُخْرِجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْ أَهْلِهٖ.
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خواتین خانہ کو عید گاہ لے جایا کرتے تھے۔“
(مصنّف ابن أبي شيبة: 191/2، وسندهٗ صحيحٌ)

سوال:

کیا خطبہ عیدین کی ابتدا تکبیرات عیدین سے کرسکتے ہیں؟

جواب:

کرسکتے ہیں۔

سوال:

عیدین کا خطبہ کہاں کھڑا ہو کر دیا جائے؟

جواب:

جہاں نماز پڑھائی ہے، وہیں پر کھڑے ہو کر خطبہ دے دیا جائے۔

سوال:

کیا عیدین کا خطبہ سننا واجب ہے؟

جواب:

عیدین کا خطبہ سننا واجب نہیں۔

سوال:

خطبہ مختصر ہو یا طویل؟

جواب:

خطبہ مختصر کرنا مستحب ہے، تاکہ سامعین اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں۔
❀ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز لمبی پڑھانا اور خطبہ مختصر دینا آدمی کے سمجھدار ہونے کی نشانی ہے۔ نماز لمبی پڑھایا کریں اور خطبہ مختصر دیا کریں، بعض بیان سحر طاری کر دیتے ہیں۔“ (صحيح مسلم: 869)

سوال:

نماز عید سے پہلے کوئی نماز مشروع ہے؟

جواب:

عیدین سے پہلے خاص نوافل نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید سے پہلے یا بعد کوئی نوافل مشروع نہیں کیے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن باہر تشریف لائے، دو رکعات (نماز عید) ادا کی، نہ ان سے پہلے کوئی نماز ادا کی اور نہ بعد میں۔“ (صحيح البخاري: 989، صحيح مسلم: 884، المُنتقىٰ لابن الجارود: 261)
ثابت ہوا کہ نماز عید سے پہلے یا بعد کوئی خاص نوافل مشروع نہیں۔
البتہ چونکہ یہ نوافل کے لیے ممنوع وقت نہیں، لہٰذا اس وقت اگر کوئی مطلق نفل نماز پڑھنا چاہتا ہے، تو کوئی حرج نہیں۔ کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کی ایک بڑی جماعت سے نماز عید سے پہلے نوافل پڑھنا ثابت ہیں۔
❀ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا .
”آپ رضی اللہ عنہ نماز عید سے پہلے اور بعد چار چار رکعت نوافل ادا کرتے تھے۔“ (مصنّف ابن أبي شيبة: 5757، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ يَعْنِي يَوْمَ الْعِيدِ .
”میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حسن بصری رحمہ اللہ کو دیکھا، آپ دونوں عید کے دن امام کے آنے تک نوافل ادا کرتے تھے۔“ (مصنّف ابن أبي شيبة: 5760، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ سلیمان بن طرخان تیمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَالْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ، وَجَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ يُصَلُّونَ قَبْلَ الْإِمَامِ فِي الْعِيدِ .
”میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، حسن بن ابی الحسن بصری، جابر بن زید ازدی اور سعید بن ابی الحسن رحمہم اللہ کو دیکھا، وہ سبھی عید کے دن امام کے آنے سے پہلے نوافل پڑھتے تھے۔“ (السّنن الكبرىٰ للبيهقي: 425/3، الرقم: 6230، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ عبداللہ بن فیروز داناج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
رَأَيْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَفْعَلُهُ .
”میں نے سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے (یعنی عید کے دن امام کے آنے تک نوافل ادا کرتے رہے)۔“ (مصنّف ابن أبي شيبة: 5763، وسندهٗ صحيحٌ)
اسی طرح کئی تابعین کا بھی اسی پر عمل ہے۔
بعض صحابہ کا عمل اس کے برعکس ہے، وہ نماز عید سے پہلے اور بعد میں نوافل نہیں پڑھتے تھے۔
❀ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا .
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن نماز عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔“ (موطأ الإمام مالك: 181/1، وسندهٗ صحيحٌ)