مضمون کے اہم نکات
سوال:
کیا عیدین کے لیے اذان اور اقامت کا اجراء بدعت ہے؟
جواب:
جی ہاں، عیدین کے لیے اذان و اقامت کہنا بدعت ہے، کیونکہ عہد نبوی میں عیدین بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی جاتی تھیں۔
❀ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ، غَيْرَ مَرَّةٍ وَّلَا مَرَّتَيْنِ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَّلَا إِقَامَةٍ .
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ عیدین ادا کیں، اس کے لیے نہ اذان کہی گئی اور نہ اقامت۔“ (صحيح مسلم: 887)
❀ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”عید کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز عید) میں شرکت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے بجائے نماز سے ابتدا کی، اس میں نہ کوئی اذان تھی اور نہ اقامت۔“ (صحيح مسلم: 885)
سوال:
کیا عیدین کا غسل مسنون ہے؟
جواب:
عیدین کا غسل مستحب ہے۔
❀ زاذان ابوعمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا عَنِ الْغُسْلِ، قَالَ: اغْتَسِلْ كُلَّ يَوْمٍ إِنْ شِئْتَ، فَقَالَ: لَا، الْغُسْلُ الَّذِي هُوَ الْغُسْلُ، قَالَ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَوْمَ عَرَفَةَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، وَيَوْمَ الْفِطْرِ.
”ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے غسل کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: چاہو تو ہر روز غسل کر لیا کرو۔ اس نے عرض کیا: نہیں، وہ غسل جو شرعی غسل ہے۔ فرمایا: جمعہ کے دن، عرفہ کے دن، قربانی کے دن اور عید الفطر کے دن۔“(السّنن الكبرٰى للبيهقي: 278/3، وسندهٗ حسنٌ)
❀ نافع رحمہ اللہ کا بیان ہے:
”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربانی والے دن عیدگاہ جانے سے پہلے غسل فرماتے تھے۔“ (المؤطّأ للإمام مالك: 177/1، وسندهٗ صحيحٌ)
سوال:
عید کی نماز میں تکبیرات زوائد کتنی ہیں؟
جواب:
عید کی نماز میں زوائد تکبیرات بارہ ہیں، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔ تمام تکبیرات سورت فاتحہ کی قرأت سے پہلے کہی جائیں گی۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي الْعِيدِ يَوْمَ الْفِطْرِ سَبْعًا فِي الْأُولٰى وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ سِوٰى تَكْبِيرَةِ الصَّلَاةِ.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کی نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات کہیں۔“ (مسند الإمام أحمد: 180/2، سنن أبي داوٗد: 1152-1151، سنن ابن ماجه: 1278، وسندهٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (262) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
صَحَّحَهٗ أَحْمَدُ وَعَلِيٌّ وَّالْبُخَارِيُّ.
”اس حدیث کو احمد، علی ابن المدینی اور بخاری رحمہم اللہ نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔“ (التّلخيص الحبير: 84/2، ح: 691)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهٗ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الْأُولٰى وَخَمْسًا فِي الثَّانِيَةِ مِنْ طُرُقٍ كَثِيرَةٍ حِسَانٍ.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حسن سندوں کے ساتھ مروی ہے کہ آپ نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔“ (التّمهيد لما في المؤطإ من المعاني والأسانيد: 37/16)
عبد اللہ بن عبد الرحمٰن طائفی جمہور محدثین کے نزدیک ”موثق، حسن الحدیث“ ہے۔
❀ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا.
”ہمارا (اہل مدینہ کا) بھی یہی مذہب ہے۔“ (مؤطإ الإمام مالك: 180/1)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَنَا أَذْهَبُ إِلٰى هٰذَا.
”میرا بھی یہی مذہب ہے۔“ (مسند الإمام أحمد: 180/2، ح: 6688)
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اَلْعَمَلُ عَلٰى هٰذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ، …… وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَبِهٖ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.
”بعض اہل علم صحابہ اور تابعین کا اسی پر عمل ہے۔…… اہل مدینہ کا بھی یہی مذہب ہے، نیز امام مالک بن انس، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔“ (سنن الترمذي، تحت الحديث: 536)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
التَّكْبِيرُ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعٌ وَخَمْسٌ.
”عیدین کی پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں ہیں۔“ (مصنف ابن أبي شيبة: 174/2، وسندهٗ حسنٌ)
❀ نافع مولی ابن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
شَهِدْتُ الْأَضْحٰى وَالْفِطْرَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَكَبَّرَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولٰى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ.
”میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید الاضحیٰ اور عید الفطر ادا کیں، آپ رضی اللہ عنہ نے پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیرات کہیں۔“ (مؤطإ الإمام مالك: 180/1، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ عمار بن ابی عمار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَبَّرَ فِي عِيدٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً، سَبْعًا فِي الْأُولٰى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ.
”سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عید کی نماز میں بارہ تکبیرات کہیں، یعنی سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری میں۔“ (مصنف ابن أبي شيبة: 176/2، أحكام العيدين للفِريابي: 130-126، وسندهٗ صحيحٌ، لهٗ شواهد كثيرة)
فائدہ:
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے چھ تکبیرات بھی ثابت ہیں۔ (مصنّف عبد الرزاق: 5689، ومصنّف ابن أبي شيبة: 173/2، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ ولید بن مسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
قُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: كَمْ يُكَبِّرُ فِي صَلَاةِ الْعِيدِ؟ فَقَالَ: سَبْعَ وَخَمْسَ، سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: إِنَّ السُّنَّةَ مَضَتْ فِي صَلَاةِ الْعِيدِ أَنْ يُكَبِّرَ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ فِي الْأُولٰى ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعَ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُكَبِّرُ خَمْسًا، ثُمَّ يَقْرَأُ فَيُكَبِّرُ وَيَسْجُدُ.
”میں نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے عرض کیا: نماز عید میں کتنی تکبیرات کہی جائیں گی؟ فرمایا: سات اور پانچ۔ میں نے امام زہری رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک نماز عید میں سنت یہ ہے کہ (ہر نمازی) پہلی رکعت میں سات تکبیرات کہے، پھر قرأت کرے اور پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑا ہو اور پانچ تکبیرات کہے، پھر قرأت کرے اور تکبیر کہے (رکوع کرے) اور سجدہ کرے۔“ (أحكام العيدين للفِريابي: 107، وسندهٗ حسنٌ)
❀ عمرو بن مہاجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَانَ يُكَبِّرُ يَوْمَ الْأَضْحٰى وَالْفِطْرِ سَبْعًا وَخَمْسًا، يَبْدَأُ بِالتَّكْبِيرِ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَمِيعًا.
”امام عمر بن عبد العزیز عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی نماز میں سات اور پانچ تکبیرات کہا کرتے تھے، دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے ہی تکبیرات کہا کرتے تھے۔“ (أحكام العيدين للفريابي: 116، وسندهٗ حسنٌ)
❀ عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
صَلّٰى بِنَا أَمِيرُ الْأُمَرَاءِ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَالْتَفَتَ إِلٰى عُبَيْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهٗ عَنِ التَّكْبِيرِ فَقَالَ: كَبِّرْ سَبْعًا فِي الْأُولٰى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ، وَخَالِفْ بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ، قَالَ عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ: هٰذِهِ السُّنَّةُ عِنْدَنَا، وَقَالَ وُهَيْبٌ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: هٰذِهِ السُّنَّةُ عِنْدَنَا.
”ہمیں امیر الامرا نے عید کی نماز پڑھائی، امیر نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کی طرف دیکھا اور تکبیرات کے متعلق پوچھا، تو امام عبید اللہ بن عبد اللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں اور دوسری میں پانچ، نیز دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے تکبیرات کہیں۔ راوی عبید اللہ بن عمر عمری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے ہاں یہی عمل رائج ہے۔ راویٔ حدیث وہیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید انصاری رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارا اسی طریقہ پر عمل ہے۔“ (أحكام العيدين للفريابي: 119، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ سالم بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كَبِّرْ سَبْعًا فِي الْأُولٰى، وَاقْرَأْ فِيهَا بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى وَكَبِّرْ فِي الْآخِرَةِ خَمْسًا.
”پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں اور سورت اعلیٰ کی قرأت کریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہیں۔“ (أحكام العيدين للفريابي: 121، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ برد بن سنان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ فِي الْعِيدَيْنِ، يُكَبِّرُ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يَقْرَأُ.
”امام مکحول رحمہ اللہ نماز عیدین (کی پہلی رکعت) میں سات تکبیریں کہتے، پھر قرأت کرتے، پھر (دوسری رکعت میں) پانچ تکبیریں کہتے اور قرأت کرتے۔“ (أحكام العيدين للفريابي: 122، وسندهٗ حسنٌ)
فائدہ:
عیدین میں چھ تکبیرات بھی ثابت ہیں۔ (شرح مَعاني الآثار للطّحاوي: 345/4، وسندهٗ حسنٌ)
سوال:
چاند رات کی نماز کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟
جواب:
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی رات عبادت کے ساتھ خاص کرنا ثابت نہیں، بلکہ بدعت ہے۔ اس بارے میں پیش کردہ تمام روایات ضعیف و ناقابل احتجاج ہیں۔
سوال:
عیدین کے موقع پر تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ کہنا کیسا ہے؟
جواب:
درست ہے۔ مسلمانوں کا متوارث عمل ہے۔
❀ امام مالک رحمہ اللہ کو اس بارے میں سوال کیا گیا، تو فرمایا:
مَا زَالَ ذٰلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا مَا نَرٰى بِهٖ بَأْسًا.
”ہمارے ہاں یہ عمل شروع سے رائج ہے، ہم اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے۔“ (الثّقات لابن حبّان: 90/9، وسندهٗ حسنٌ)
❀ امام شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لَقِيَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَقَالَ: تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَمِنْكَ.
”عید کے دن میری ملاقات یونس بن عبید رحمہ اللہ سے ہوئی، تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَمِنْكَ“ (الدُّعاء للطّبراني: 929، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اس عنوان پر وُصُولُ الْأَمَانِيِّ بِأُصُولِ التَّهَانِئِ نامی رسالہ بھی لکھا ہے۔
سوال:
عیدین کی نماز کہاں ادا کی جائے؟
جواب:
سنت یہ ہے کہ عیدین کی نماز آبادی سے باہر عیدگاہ میں ادا کی جائے۔ مجبوری کی صورت میں مسجد وغیرہ میں بھی نماز عید ادا کی جا سکتی ہے۔
❀ علمائے احناف لکھتے ہیں:
الْخُرُوجُ إِلَى الْجَبَّانَةِ فِي صَلَاةِ الْعِيدِ سُنَّةٌ وَإِنْ كَانَ يَسَعُهُمُ الْمَسْجِدُ الْجَامِعُ، عَلٰى هٰذَا عَامَّةُ الْمَشَايِخِ وَهُوَ الصَّحِيحُ.
”نماز عید کے لیے صحرا کی طرف نکلنا مسنون ہے، اگرچہ جامع مسجد میں سارے نمازیوں کی گنجائش ہو۔ اکثر مشائخ کا یہی فتویٰ ہے اور یہی صحیح ہے۔“ (فتاویٰ عالمگیری: 150/1)
❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگ صحرا میں نماز عید ادا کرنے کے لیے نکلے تھے۔ (الأوسط لابن المنذر: 2141، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
مِنَ الْمَأْثُورِ فِي الْعِيدَيْنِ أَنْ تَكُونَ الصَّلَاةُ فِي الْجَبَانَةِ إِلَّا لِعُذْرٍ مِنْ مَطَرٍ أَوْ نَحْوِهٖ.
”سنت سے یہی ثابت ہے کہ عیدین کی نماز صحرا میں ادا کی جائے گی، الا کہ بارش وغیرہ کا کوئی عذر ہو۔“ (السّيل الجرّار، ص 196)
سوال:
عید پر نیا لباس پہننا کیسا ہے؟
جواب:
عید کے دن نیا یا عمدہ اجلا لباس پہننا مستحب ہے۔ یہ خوشی کا دن ہے۔ جب جمعہ کے دن عمدہ لباس پہننا مسنون ہے، تو عید پر بالاولیٰ جائز و مسنون ہے، کیونکہ عید، جمعہ سے زیادہ اہم موقع ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا عَلٰى أَحَدِكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهٗ ثَوْبَانِ سِوٰى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهٖ، لِجُمُعَتِهٖ أَوْ لِعِيدِهٖ.
”آپ پر کوئی حرج نہیں کہ آپ کے پاس کام کاج کے دو کپڑوں کے علاوہ جمعہ اور عید کے لیے بھی کپڑے ہوں۔“ (التّمهيد لابن عبد البر: 35/24، وسندهٗ حسنٌ)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہے:
كَانَ يَلْبَسُ فِي الْعِيدَيْنِ أَحْسَنَ ثِيَابِهٖ.
”آپ رضی اللہ عنہما عیدین میں عمدہ ترین لباس پہنتے ہیں۔“ (السنن الكبرىٰ للبيهقي: 281/3، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔ (فتح الباري: 439/2)
سوال:
کیا نماز جمعہ اور نماز عید کی قرأت میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ پڑھنا مسنون ہے؟
جواب:
مسنون ہے کہ نماز جمعہ اور نماز عید کی قرأت میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ پڑھی جائے۔
❀ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید میں سورت اعلی اور سورت غاشیہ پڑھا کرتے تھے، اگر عید اور جمعہ اکٹھے آ جاتے تو دونوں میں یہی سورتیں پڑھتے۔“ (صحيح مسلم: 878، المنتقى لابن الجارود: 265)
سوال:
نماز عید کے بعد قبرستان کی زیارت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
قبرستان کی زیارت مشروع اور جائز ہے، لیکن اسے کسی دن کے ساتھ خاص کرنا، جیسا کہ عید کے دن قبرستان جا کر دعا کرنا اور قبر پر پھول نچھاور کرنا وغیرہ بدعت ہے۔ خیر القرون کے مسلمان اس سے ناواقف تھے۔ وہ سب سے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے اور محبت رسول کے تقاضوں کو پورا کرنے والے تھے۔ دین کا وسیع علم ہونے کے باوجود انہوں نے ایسا نہیں کیا، تو یہ دین کیسے بن گیا؟
❀ امام مالک بن انس رحمہ اللہ (179ھ) فرماتے ہیں:
مَنْ أَحْدَثَ فِي هٰذِهِ الْأُمَّةِ الْيَوْمَ شَيْئًا لَّمْ يَكُنْ عَلَيْهِ سَلَفُهَا فَقَدْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَانَ الرِّسَالَةَ لِأَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى يَقُولُ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا، فَمَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ دِينًا لَّا يَكُونُ الْيَوْمَ دِينًا.
”جس نے آج کوئی ایسی چیز جاری کی، جس پر اسلاف امت کا عمل نہیں تھا، وہ زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابلاغِ رسالت میں خیانت کی۔ اللہ کا فرمان ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ”آج ہم نے تمہارا دین مکمل کر دیا، اتمام نعمت کیا اور اسلام دین آپ کے لئے پسند فرمایا۔“ لہٰذا جو چیز اس دن دین نہ تھی، وہ آج دین نہیں ہو سکتی۔“ (الإحكام في أصول الأحكام لابن حزم: 58/6، وسندهٗ حسنٌ)
❀ علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ (737ھ) فرماتے ہیں:
”یہ بھی شیطانی ہتھکنڈا ہے کہ وہ ترکِ سنت کا نہیں کہتا، بلکہ کسی اور کام پر لگا کر خیال ڈالتا ہے کہ یہ ثواب کا کام ہے۔ شیطان نے لوگوں کے ساتھ یہ چال چلی کہ وہ عید کے دن گھر واپس لوٹنے سے پہلے قبروں کی زیارت کریں، اس عمل کو مختلف تخیلات سے مزین کر دیا اور انہیں ذہنی دلائل مہیا کیے کہ اس دن اپنے اعزا و اقارب کی قبروں کی زیارت، نیکی اور ان سے محبت کا اظہار ہے۔ اس عید پر ان کے نہ رہنے کا افسوس ہوتا ہے۔ لوگوں نے عام دنوں میں بھی قبروں کے حوالے سے بدعات و خرافات کا بازار گرم کر دیا۔ تو عید کے دن کیا حال ہوگا، جب کہ اس دن عورتیں خوش گوار ملبوسات اور زیورات زیب تن کیے ہوتی ہیں اور زینت کی حدیں پار کیے ہوتی ہیں، ابھی تو یہ عید کے لیے نہیں نکلتیں، جب یہ زیارتِ قبور کے لیے نکلیں گی، تو دیکھ لینا یہ قبروں پر اپنا پردۂ حیا تار تار کر دیں گیں۔ یوں شیطان نے سنت کے بدلے حرام کام کا مرتکب بنا دیا۔“ (المَدخل: 286/1)
سوال:
کیا نماز عیدین کے لیے تیمّم کیا جا سکتا ہے؟
جواب:
اگر پانی میسر نہیں یا پانی استعمال کرنا ممکن نہیں، تو نماز عیدین کے لیے بھی تیمّم کیا جا سکتا ہے۔
سوال:
کیا نماز عید میں سہو ہونے پر سجدہ سہو لازم آئے گا؟
جواب:
ہر نماز میں سہو اور بھول پر سجدہ سہو ہے۔ کسی نماز کی استثناء نہیں۔
سوال:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن باہر تشریف لائے، دو رکعات (نماز عید) ادا کی، نہ ان سے پہلے کوئی نماز ادا کی اور نہ بعد میں۔“ (صحيح البخاري: 989، صحيح مسلم: 884، المُنتقٰى لابن الجارود: 261)
اس حدیث میں ہے کہ نماز عید سے پہلے نفل نماز نہیں۔ اگر نماز عید مسجد میں ادا کی جائے، تو کیا مسجد میں داخل ہونے پر تحیۃ المسجد ادا کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ مسجد میں داخل ہونے پر تحیۃ المسجد مشروع و مستحب ہیں۔
❀ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَّجْلِسَ.
”مسجد میں داخل ہوں، تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ادا کر لیں۔“ (صحيح البخاري: 444، صحيح مسلم: 714)
❀ ایک روایت میں ہے:
لَا يَجْلِسْ حَتّٰى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ.
”اس وقت تک نہ بیٹھئے، جب تک دو رکعت نہ پڑھ لیں۔“ (صحيح البخاري: 444، صحيح مسلم: 714)
اس تعارض اور اشکال کا کیا جواب ہے؟
جواب:
اگر نماز عید مسجد میں ادا کی جائے، تو مسجد میں داخل ہونے پر تحیۃ المسجد ادا کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ تحیۃ المسجد سببی نماز ہے، جو مسجد میں داخل ہونے پر مشروع ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید سے پہلے نفل ادا نہیں کیے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نماز عید صحرا اور عیدگاہ میں ادا کی۔ اس لیے نماز عید سے پہلے نفل مشروع نہیں، لیکن اگر کسی دوسرے سبب مثلاً تحیۃ المسجد کی وجہ سے دو نفل مشروع ہو جائیں، تو انہیں ادا کیا جا سکتا ہے۔
سوال:
عید کے بعد مصافحہ یا معانقہ کرنا کیسا ہے؟
جواب:
مصافحہ یا معانقہ ملاقات کے وقت مسنون ہے۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
الْمُصَافَحَةُ سُنَّةٌ عِنْدَ التَّلَاقِي لِلْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ وَإِجْمَاعِ الْأَئِمَّةِ.
”صحیح احادیث اور اجماع ائمہ کی رو سے ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے۔“ (المَجموع: 633/4)
مصافحہ یا معانقہ کو بغیر دلیل کسی وقت یا جگہ کے ساتھ خاص کرنا اسے بدعت بنا دیتا ہے۔ کسی نماز کے بعد مصافحہ یا معانقہ ثابت نہیں۔
❀ علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ (737ھ) فرماتے ہیں:
أَمَّا الْمُصَافَحَةُ فَإِنَّهَا وُضِعَتْ فِي الشَّرْعِ عِنْدَ لِقَاءِ الْمُؤْمِنِ لِأَخِيهِ، وَأَمَّا فِي الْعِيدَيْنِ عَلَى مَا اعْتَادَهٗ بَعْضُهُمْ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الصَّلَاةِ يَتَصَافَحُونَ فَلَا أَعْرِفُهٗ.
”مصافحہ اس وقت مشروع ہے، جب مؤمن اپنے بھائی سے ملاقات کرے۔ یہ جو بعض لوگوں نے عادت بنا لی ہے کہ وہ عیدین کی نمازوں کے بعد مصافحہ کرتے ہیں، تو میں اس بارے میں (کوئی دلیل) نہیں جانتا۔“ (المَدخل: 288/2)
❀ نیز فرماتے ہیں:
”نمازی کو چاہیے کہ وہ نماز فجر و عصر اور جمعہ کے بعد اس مصافحہ سے باز رہے، جسے لوگوں نے دین میں اضافہ کر کے رواج دیا ہے۔ بعض لوگوں نے تو اس میں اور اضافہ کیا اور پانچوں نمازوں کے بعد ایسا کرنے لگے ہیں۔ یہ سب بدعات ہیں۔ شریعت میں مصافحہ کا وقت مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی سے ملنا ہے، نہ کہ پانچوں نمازوں کے بعد۔ اس طرح کے سارے کام بدعت ہیں۔ شریعت نے جس کام کو جیسے رکھا ہے، ہم ویسے ہی رکھیں گے۔ اس کام سے روکا جائے اور ایسا کرنے والے کو ڈانٹا جائے، کیونکہ اس نے خلاف سنت فعل کا ارتکاب کیا ہے۔“ (المَدخل: 223/2)
❀ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ (1252ھ) فرماتے ہیں:
”نماز ادا کرنے کے بعد مصافحہ کرنا بہر صورت مکروہ ہے، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کبھی نماز کی ادائیگی کے بعد مصافحہ نہیں کیا، نیز یہ رافضیوں کا طریقہ ہے۔“ (فتاویٰ شامی: 381/6)
❀ علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ (1304ھ) فرماتے ہیں:
”ہمارے زمانے میں اکثر علاقوں، خصوصاً دکن کے علاقوں، جو بدعتوں اور فتنوں کا گڑھ ہیں، میں دو کام رواج پا گئے ہیں، جنہیں ترک کرنا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ لوگ نمازِ فجر کے وقت مسجد میں داخل ہوتے ہوئے سلام نہیں کہتے، بلکہ داخل ہو کر سنتیں ادا کرتے ہیں، پھر فرض ادا کرنے اور اذکار کرنے کے بعد ایک دوسرے کو سلام کہتے ہیں۔ یہ ایک قبیح امر ہے، کیونکہ سلام کہنا تو ملاقات کے وقت سنت ہے، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے، نہ کہ مجلس کے دوران۔ دوسرے یہ کہ وہ نمازِ فجر و عصر، عیدین اور جمعہ کے بعد مصافحہ کرتے ہیں، حالانکہ مصافحہ بھی ملاقات کے شروع ہی میں سنت ہے۔“ (السّعاية في الكشف عمّا في شرح الوقاية، ص 264)
❀ علامہ عظیم آبادی رحمہ اللہ (1329ھ) فرماتے ہیں:
الْمُصَافَحَةُ وَالْمُعَانَقَةُ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ مِنَ الْبِدَعِ الْمَذْمُومَةِ الْمُخَالِفَةِ لِلشَّرْعِ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ.
”عیدین کے بعد مصافحہ اور معانقہ مذموم بدعت اور خلاف شرع ہے، واللہ اعلم!“ (عون المَعبود: 82/14)
سوال:
عید کے دن نوجوانوں کا اسلحہ سے کھیلنا کیسا ہے؟
جواب:
احتیاط کے ساتھ کھیلا جا سکتا ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كَانَ يَوْمَ عِيدٍ، يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهٗ، خَدِّي عَلٰى خَدِّهٖ، وَهُوَ يَقُولُ: دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ حَتّٰى إِذَا مَلِلْتُ، قَالَ: حَسْبُكِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاذْهَبِي.
”عید کا دن تھا، حبشی ڈھالوں اور نیزوں کے ساتھ (جنگی کھیل) کھیل رہے تھے، یا تو میں نے سوال کیا تھا یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا تھا، کیا آپ دیکھنے کی خواہش مند ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا، میرا رخسار آپ کے رخسار کے اوپر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: کھیلتے رہو، بنی ارفدہ! جب میں تھک گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: اچھا جائیں۔“ (صحيح البخاري: 950، صحيح مسلم: 20/892)
❀ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں:
جَاءَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ.
”عید کے دن حبشی لوگ مسجد میں جنگی مشقیں کرنے لگے۔“
❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كَانَتِ الْحَبَشَةُ يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرْقُصُونَ وَيَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَقُولُونَ؟ قَالُوا: يَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ.
”حبشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگی مشقیں کر رہے تھے اور رقص کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نیک آدمی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا: یہ کہہ رہے ہیں کہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیک آدمی ہیں۔“ (مُسند الإمام أحمد: 152/3، وسندهٗ صحيحٌ)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5870) نے صحیح قرار دیا ہے۔
سوال:
درج ذیل روایت بلحاظ سند کیسی ہے؟
❀ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مروی ہے:
أَوَّلُ مَنْ نَقَصَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ وَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْعِيدَيْنِ وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَنَقَصَ الْإِقَامَةَ وَالتَّسْلِيمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ.
”سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما وہ پہلے شخص تھے، جنہوں نے نماز میں تکبیرات انتقال کو ختم کیا، عیدین میں نماز سے پہلے خطبہ جاری کیا، منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیا اور اقامت اور سلام میں کمی کی۔“ (الحجّة على أهل المدينة لمحمد الشّيباني، ص 84)
جواب:
جھوٹی روایت ہے۔
① صاحب کتاب محمد بن حسن شیبانی پر ”کذاب“ کی جرح ہے۔
② محمد بن ابان بن صالح ”ضعیف“ ہے۔
③ حماد بن ابی سلیمان سیء الحفظ ہیں۔
④ ابراہیم نخعی نے کسی صحابی سے سماع نہیں کیا۔
❀❀❀❀❀❀❀