کھیل اور تفریح
اسلام واقعیت پسند دین ہے جو انسان کو وہم و خیال کے دائرہ میں بند کر کے نہیں رکھتا، بلکه اسی زمین پر جو حقائق و واقعات کی زمین ہے رہنا سکھاتا ہے وہ لوگوں کو آسمان میں پرواز کرنے والے فرشتے سمجھ کر معاملہ نہیں کرتا بلکہ کھانا کھانے والے اور بازار میں چلنے پھرنے والے انسان سمجھ کر معاملہ کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے لوگوں پر یہ فرض گراں عائد نہیں کیا ہے کہ اس کی ہر بات ذکر اور ہر خاموشی فکر ہو۔ یا وہ صرف قرآن سماعت کریں اور اپنے تمام فارغ اوقات مسجد میں گزاریں بلکہ وہ ان کی فطرت اور ان کے طبائع کا پورا پورا لحاظ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق ہی اس طور سے فرمائی ہے کہ جس طرح کھانا اور پینا تقاضائے فطرت ہے اسی طرح شاداں و فرحاں رہنا اور ہنسنا اور کھیلنا بھی اس کی سرشت میں داخل ہے۔
ہر وقت یکساں کیفیت نہیں رہتی
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روحانیت کے غلبہ کے نتیجہ میں یہ خیال کرنے لگے کہ انہیں ہمیشہ عبادت میں سرگرم رہنا چاہیے اور دنیا کے فوائد و لذائذ سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہیے۔ کھیل اور تفریح سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے بلکہ تمام تر توجہ آخرت اور اس کے تقاضوں کی طرف مبذول ہونی چاہیے۔
اس سلسلہ میں ایک جلیل القدر صحابی سیدنا حنظلہ اسیدی رضی اللہ عنہ کا قصہ سننے کے قابل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے۔ موصوف فرماتے ہیں : مجھ سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ملے اور پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے کہا : حنظلہ منافق ہو گیا۔ فرمایا سبحان اللہ ! کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا : جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت و دوزخ کا ذکر فرماتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہم اپنی آنکھوں سے جنت و دوزخ کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں نہیں رہتے تو عورتوں، بچوں اور کاروبار میں دل لگ جاتا ہے اور جنت و دوزخ کو ہم بھول جاتے ہیں۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! ہمارا بھی یہی حال ہے۔ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر میں اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! حنظلہ منافق ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا بات ہے؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت و دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہم اپنی آنکھوں سے ان فرشتوں کو دیکھ رہے ہیں، لیکن جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو بیوی بچوں اور کاروبار میں دل لگ جاتا ہے اور جنت و دوزخ کو بھول جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری صحبت میں تم جو کیفیت محسوس کرتے ہو اگر ہمہ وقت اس پر قائم رہو اور جنت و دوزخ کو اسی طرح یاد کرتے رہو تو فرشتے آسمان سے آکر تم سے بستروں اور راستوں میں مصافحہ کرتے۔ لیکن اے حنظلہ رضی اللہ عنہ! ہمیشہ یکساں کیفیت نہیں رہتی۔
مسلم كتاب التوبة باب فضل دوام الذكر والفكر في امور الآخرة ح : 2750
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان تھے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ انسانی زندگی کے لیے نہایت اعلیٰ نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت میں خشوع و خضوع کے ساتھ اس طرح نماز پڑھا کرتے کہ طویل قیام کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ورم آجاتا۔
بخاری کتاب التهجد باب قيام النبى الليل ح : 1130 ۔ مسلم كتاب صفات المنافقين باب أكثار الاعمال ح : 2820 ، 2819
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حق کے معاملہ میں یہ تھا کہ اللہ کی خاطر کسی کی بھی پرواہ نہ کرتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک انسان ہی کی زندگی تھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاکیزہ چیزوں کو پسند فرماتے، خوش ہونا، مسکرانا اور ہنسی دل لگی کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج مبارک کی خصوصیات تھیں۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی بات نہ فرماتے جو خلاف حق ہوتی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوشی اور مسرت کو پسند فرماتے اور غم اور تکلیف کو نا پسند کرتے اور اکثر یہ دعا فرماتے :
اللهم إنى أعوذبك من الهم والحزن
”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں پریشانی اور غم سے۔“
ابو داود كتاب الوتر باب فى الاستعاذة ح : 1555 واسناده ضعيف لكن اخرجه البخارى وغيره من حديث انس بهذا اللفظ انظر كتاب الدعوات باب التعوذ من غلبة الرجال ح : 6363
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح خوش طبعی فرماتے تھے آپ کو اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوگا کہ ایک بڑھیا حاضر خدمت ہوئی اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لیے جنت کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہیں ہوگی۔ یہ سن کر وہ بڑھیا گھبرا گئی اور رونے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ حال دیکھا تو فرمایا : بڑھیا جنت میں بڑھاپے کی حالت میں داخل نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ اسے نئی خلقت عطا فرمائے گا اور وہ نوجوان کنواری بن کر جنت میں داخل ہو گی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تائید میں یہ آیت تلاوت فرمائی:
اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءً (35) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا (36) عُرُبًا اَتْرَابًا
”ہم ان کو خاص طور پر نئی خلقت عطا کریں گے اور انہیں باکرہ (کنواری) بنا ئیں گے اپنے شوہروں کو محبوب رکھنے والیاں اور ہم عمر۔“
سورۃ الواقعہ : 35 تا 37 ترمذی في الشمائل ح : 241
دل اُکتا جاتے ہیں
اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے پاکیزہ نفوس ہنستے کھیلتے اور دل لگی کی باتیں کرتے تھے وہ اپنی فطرت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے نفس کو محفوظ کرتے اور راحت قلب کا سامان کرتے تا کہ تازہ دم ہو کر اور سبک رفتاری کے ساتھ کام کرسکیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جسم کی طرح دل کو بھی تکان لاحق ہوتی ہے لہذا دلی تکان کو ہلکا کرنے کے لیے عجائب حکمت بیان کرو۔ نیز فرمایا : دلوں کو وقفہ وقفہ سے آرام دو کیونکہ دل کی ناخوشگواری اسے اندھا بنا دیتی ہے۔
جامع بيان العلم وفضله : 136/1
اور امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں اپنے نفس کو کسی قدر باطل سے دل لگی کرنے دیتا ہوں تا کہ اس سے حق پر چلنے میں مدد ملے۔
غرضیکہ ہنسی مذاق کی باتیں کرنے میں، جس سے انبساط کی کیفیت پیدا ہو کوئی حرج نہیں ہے۔ اور نہ اس بات میں کوئی حرج ہے کہ مباح کھیل کے ذریعہ اپنے دل کو اور اپنے ساتھیوں کے دل کو بہلانے کا سامان کیا جائے بشرطیکہ اسے مستقل عادت نہ بنا لیا جائے۔ کہ صبح و شام کا مشغلہ یہی بن کر رہ جائے اور جس کے نتیجہ میں آدمی اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے لگے نیز جہاں سنجیدگی اختیار کرنے کی صورت ہو وہاں ہنسی مذاق کرنے لگے۔
اسی لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے :
”بات چیت میں مذاق اسی قدر ہونا چاہیے جس قدر کہ کھانے میں نمک۔“
اسی طرح ایک مسلمان کو کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ لوگوں کی عزت اور ان کی قدرو منزلت کا خیال نہ کرے اور ان کا مذاق اڑانے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ
”اے ایمان والو ! لوگ ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں، ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔“
سورۃ الحجرات : 11
اور نہ ہی کسی مسلمان کے لیے یہ بات روا ہے کہ وہ لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹ سے کام لے۔ اس سے بچنے کی ہدایت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
ويل للذى يحدث بالحديث ليضحك منه القوم فيكذب ويل له ويل له
”تباہی ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹی باتیں کرتا ہے۔ اس کے لیے تباہی ہے اس کے لیے تباہی ہے۔“
ابو داود کتاب الادب باب في التشديد في الكذب ح : 4990 ۔ ترمذی کتاب الزهد باب فيمن تكلم بكلمة يضحك بها الناس ح : 2315