نماز تسبیح، نماز حاجت، نماز توبہ اور دورانِ سفر دو نمازیں اکٹھی پڑھنے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

نماز تسبیح

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
يا عباس يا عماه ألا أعطيك ألا أمنحك ألا أحبوك ألا أفعل بك عشر خصال إذا أنت فعلت ذلك غفر الله ذنبك أوله وآخره قديمه وحديثه خطأه وعمده صغيره وكبيره سره وعلانيته عشر خصال أن تصلي أربع ركعات تقرأ فى كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة فإذا فرغت من القراءة فى أول ركعة وأنت قائم قلت سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة ثم تركع فتقولها وأنت راكع عشرا ثم ترفع رأسك من الركوع فتقولها عشرا ثم تهوي ساجدا فتقولها عشرا ثم ترفع رأسك من السجود فتقولها عشرا ثم تسجد فتقولها عشرا ثم ترفع رأسك فتقولها عشرا فذلك خمس وسبعون فى كل ركعة تفعل ذلك فى أربع ركعات إن استطعت أن تصليها فى كل يوم مرة فافعل فإن لم تفعل ففي كل جمعة مرة فإن لم تفعل| ففي كل شهر مرة فإن لم تفعل ففي كل سنة مرة فإن لم تفعل ففي عمرك مرة
”سیدنا عباس، چچا جان! کیا میں آپ کو کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو کچھ بیان نہ کروں؟ کیا میں تمہیں کوئی تحفہ پیش نہ کروں؟ کیا میں آپ کو (درج ذیل عمل کی وجہ سے) دس خصلتوں والا نہ بنا دوں؟ کہ جب آپ یہ عمل کریں گے تو اللہ عزوجل آپ کے اگلے پچھلے، پرانے نئے، انجانے میں اور جان بوجھ کر کیے گئے تمام چھوٹے بڑے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف فرما دے گا؟ (وہ یہ) کہ آپ چار رکعات نفل اس طرح ادا کریں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں۔ جب آپ اس قراءت سے فارغ ہو جائیں تو قیام کی حالت میں ہی یہ کلمات پندرہ بار پڑھیں سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر پھر رکوع میں جا کر دس مرتبہ یہ کلمات ادا کریں۔ پھر آپ رکوع سے اٹھ جائیں اور دس بار یہی کلمات پڑھیں۔ پھر سجدہ میں جائیں اور یہی کلمات دس بار پڑھیں، پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس بار انہی کلمات کو دہرائیں اور پھر (دوسرے) سجدے میں چلے جائیں، دس بار اس تسبیح کو دہرائیں۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور (جلسہ استراحت میں) دس بار اس تسبیح کو دہرائیں۔ اس طرح ہر رکعت میں یہ پچھتر مرتبہ ہوئیں۔ اس طرح چاروں رکعتوں میں یہ عمل دہرائیں۔ اگر آپ طاقت رکھتے ہوں تو نماز تسبیح روزانہ ایک بار پڑھیں۔ اگر آپ ایسا نہ کر سکتے ہوں تو ہر جمعہ ایک بار پڑھیں۔ یہ بھی نہ کر سکتے ہوں تو ہر ماہ ایک بار پڑھیں، اگر یہ بھی نہ کر سکیں تو پھر سال میں ایک بار، اگر آپ سال میں بھی نہ کر سکیں تو پھر اپنی زندگی میں ایک بار ضرور پڑھیں۔“
② ایک روایت میں ہے:
إنك لو كنت أعظم أهل الأرض ذنبا غفر لك
”اگر آپ تمام اہل زمین سے بڑھ کر گناہ گار ہوں تو بھی آپ کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
ابو داؤد، کتاب الصلوة 1297۔ ابن ماجه، اقامة الصلوة والسنة فيها 1387۔ روايت صحيح ہے ۔

نماز حاجت کے احکامات

① سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كانت له إلى الله حاجة أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ وليحسن الوضوء ثم ليصلي ركعتين ثم ليثن على الله وليصل على النبى ثم ليقل لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم لا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها يا أرحم الراحمين
”جس شخص کو اللہ سے یا کسی انسان سے کوئی حاجت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے۔ پھر دو رکعتیں پڑھے، پھر اللہ کی ثنا بیان کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے۔ پھر یہ دعا پڑھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو حلیم و کریم ہے۔ پاک ہے اللہ، عرشِ عظیم کا رب۔ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ میں تجھ سے تیری رحمت کے موجبات، تیری مغفرت کے عزائم کا، ہر نیکی کی غنیمت اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں، میرے تمام گناہ معاف کر دے، میرے تمام غم دور کر دے اور میری تمام حاجتیں جو تجھے پسند ہیں انہیں پورا فرما دے، اے سب سے زیادہ رحم فرمانے والے!“
ترمذی، کتاب الصلوة 479۔ ابن ماجه، اقامة الصلوة والسنة فيها 1384۔ روایت نہایت ضعیف ہے۔ سند میں فائد ابوالورقاء متروک الحدیث ہے ۔

نماز توبہ کے احکامات

① سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری یہ کیفیت تھی کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ جس قدر چاہتا مجھے اس سے فائدہ پہنچاتا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی مجھے حدیث سناتا تو میں اس سے حلف لیتا، اگر وہ حلف دیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا۔ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور انہوں نے سچ فرمایا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ما من عبد يذنب ذنبا فيحسن الطهور ثم يقوم فيصلي ركعتين ثم يستغفر الله إلا غفر الله له ثم قرا : ﴿وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ﴾
”جب کوئی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں پڑھتا ہے اور اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الصلوة 1521۔ ترمذی، کتاب تفسیر القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 406۔ روایت حسن ہے ۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ﴾
”جو لوگ کسی بے حیائی کا ارتکاب کر لیتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کر سکتا۔“
آل عمران:135

دوران سفر دو نمازیں اکٹھی پڑھنا

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کو وقتِ عصر تک مؤخر کرتے اور پھر انہیں ایک ساتھ پڑھ لیتے، اور مغرب کو مؤخر کرتے حتیٰ کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔
بخاری، کتاب الجمعة 1110، 1108۔ مسلم، كتاب صلوة المسافرين وقصرها 46/704، 48۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر ہوتے تو نمازِ ظہر اور نمازِ عصر کو جمع فرماتے اور مغرب اور عشاء کو جمع فرماتے۔
بخاری، کتاب الجمعة 1107۔ مسلم، كتاب صلوة المسافرين وقصرها 51/704، 53۔