سفر سے واپسی پر نماز، قصر نماز، نمازِ خوف اور نمازِ عیدین کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

سفر سے واپسی پر نماز

① سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، جب وہ غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے، اپنی لمبی حدیث میں روایت کرتے ہیں، اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے، پھر حدیث بیان کی۔
بخارى، كتاب الوصايا 2757۔ مسلم، کتاب التوبة 2779۔

قصر نماز کے احکامات

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ میں) نمازِ ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ جانے کے ارادے سے روانہ ہوئے اور مقامِ ذوالحلیفہ پر (نمازِ عصر کی) دو رکعتیں پڑھیں۔
بخاري، كتاب الجمعة 1089۔ مسلم، كتاب صلوة المسافرين وقصرها 690۔ ابوداؤد، کتاب المناسك 1202۔
② سیدنا نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوئے تو انہوں نے ذوالحلیفہ کے مقام پر قصر نماز ادا کی۔
موطا مالك 147/1 (10)۔

نماز خوف کے متعلق احکامات

① سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ایام میں نمازِ خوف ادا کی۔ ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز کے لیے) کھڑا ہو جاتا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل ہوتا۔ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ ایک رکعت پڑھ کر چلے جاتے، پھر دوسرے آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ایک رکعت پڑھاتے۔ اور دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھی۔
بخاري، كتاب الجمعة 942۔ مسلم، كتاب صلوة المسافرين وقصرها 843۔

نماز عیدین کے احکامات

① سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم دونوں عیدیں خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
بخاری، کتاب الجمعة 920۔ مسلم، كتاب صلوة العيدين 888۔
② سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ عید پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم فرمایا، اس کی اطاعت پر ترغیب دلائی، لوگوں کو وعظ و نصیحت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے پاس آئے، انہیں بھی وعظ و نصیحت کی اور فرمایا:
تصدقن فإنكن أكثر حطب جهنم
”صدقہ کیا کرو اس لیے کہ جہنم کا زیادہ ایندھن تم ہو۔“
پس لوگوں کے وسط میں سے ایک عورت دونوں رخساروں کو زور سے پکڑتے اور کھینچتے ہوئے بولی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لأنكن تكثرن الشكاة وتكفرن العشير
”اس لیے کہ تم بہت زیادہ شکوہ شکایت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔“
پھر وہ اپنے زیورات اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ کے طور پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔
بخاری، کتاب الجمعة 935۔ مسلم، كتاب صلوة العيدين 885۔