مضمون کے اہم نکات
مسلمانوں کی انفرادی زندگی میں حلال و حرام
ماکولات ومشروبات
اشیاء خورد و نوش اور خاص طور سے حیوانی غذاؤں کے بارے میں اقوام و ملل کا یہ اختلاف قدیم زمانہ سے چلا آ رہا ہے کہ کون کون سی چیزیں جائز ہیں اور کون کون سی چیزیں ناجائز ہیں۔
جہاں تک نباتاتی غذاؤں اور مشروبات کا تعلق ہے تو ان میں اختلافات کا دائرہ وسیع نہیں ہے۔ اور اسلام نے بھی تو شراب کو حرام ٹھہرایا ہے خواہ وہ انگور سے بنائی گئی ہو یا کھجور یا جو یا کسی بھی اور چیز سے ہے۔ اسی طرح اس نے اُن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے جو عقل میں فتور یا بے حسی کی کیفیت پیدا کرتی ہوں، نیز وہ چیزیں جو مضر صحت ہوں۔
رہیں حیوانی غذائیں تو اس معاملہ میں قوموں اور ملتوں کے درمیان شدید اختلاف رہا ہے۔
برہمنوں کے نزدیک جانور کو ذبح کرنے اور کھانے کا مسئلہ :
برہمنوں جیسے اہل مذاہب اور بعض فلسفیوں نے جانور کا ذبح کرنا اور اس کا کھانا اپنے اوپر حرام کر لیا ہے۔ ان کا گزارہ سبزی خوری پر ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک جانور کو ذبح کرنا بڑا سنگدلانہ کام ہے۔
لیکن جب ہم کائنات پر غور کرتے ہیں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان حیوانات کی تخلیق بجائے خود مقصود نہیں ہے کیونکہ ان کو عقل و ارادہ کی قوت عطا نہیں ہوئی ہے اور ان کی طبعی ساخت ہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انسان کی خدمت کے لیے مسخر کر دیئے گئے ہیں۔ انسان جس طرح ان کی تسخیر سے فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح اگر ذبح کر کے ان کے گوشت سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ ہم اس سنت الہی کو بھی جانتے ہیں کہ ادنیٰ نوع کی مخلوق کو اعلیٰ نوع کی مخلوق کے لیے قربان ہونا پڑتا ہے۔ چنانچہ سبز نباتات حیوان کے چارہ کے لیے کاٹ ڈالی جاتی ہیں۔ اس طرح جانور کو انسان کی غذا کے لیے ذبح کیا جاتا ہے بلکہ انسانی فرد کو بھی اجتماعی مصالح کی خاطر لڑنا اور قربان ہونا پڑتا ہے۔
پھر انسان اگر جانوروں کو ذبح کرنے سے رک بھی جائے تو بھی انہیں موت یا ہلاکت سے بچایا نہیں جاسکتا۔ ایسی صورت میں یا تو دوسرے جانور انہیں چیر پھاڑ کر کھا جائیں گے یا وہ اپنی موت آپ مرجائیں گے اور یہ صورت بعض مرتبہ جانور کے لیے اس کے گلے پر چھری چلائے جانے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔
حرام جانور، یہود و نصاری کے نزدیک :
کتاب رکھنے والے مذاہب میں سے یہود پر اللہ تعالیٰ نے خشکی و تری کے بہت سے جانور حرام کر دیئے تھے۔ جس کی تفصیل توریت کی ”dسفر لاویین“ کی گیارہویں فصل میں بیان ہوئی ہے۔ یہود پر اللہ کی حرام کردہ چیزوں میں سے بعض کا ذکر قرآن نے بھی کیا ہے اور ان کی تحریم کا سبب ان کے ظلم و معصیت کو قرار دیا ہے :
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِبَغْيِهِمْ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
”اور جو یہودی ہوئے ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کیے تھے۔ اور گائے اور بکری کی چربی بھی، بجز اس کے جو اُن کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا کسی ہڈی سے لگی رہ جائے۔ یہ ہم نے اُن کو اُن کی سرکشی کی سزا دی تھی اور ہم بالکل سچے ہیں۔“
الانعام : 146
یہ تو ہے یہود کا معاملہ۔ اور نصاریٰ ان کے تابع ہی ہیں۔ چنانچہ انجیل کا بیان ہے کہ مسیح علیہ السلام ناموس (شریعت) کو ختم کرنے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ اس کو مکمل کرنے کے لیے آئے تھے، لیکن نصاری نے خود ناموس کو ختم کیا اور تورات کی حرام کردہ چیزوں میں سے جن کو انجیل نے منسوخ نہیں کیا تھا، ان کو وہ خود جائز قرار دے بیٹھے۔ اسی طرح خورد و نوش کے معاملہ میں انہوں نے مقدس پولس کے احکام کی پیروی اختیار کی اور صرف اُس جانور کو حرام قرار دیا جو بتوں کے لیے ذبح کر دیا گیا ہو۔ پولس نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ پاک لوگوں کے لیے ہر چیز پاک ہے اور جو چیز منہ کے اندر رہ جاتی ہے وہ نجس نہیں کرتی، بلکہ جو کچھ منہ سے نکلتا ہے وہ نجس کر دیتا ہے۔
اس دلیل سے انہوں نے سور کا گوشت بھی جائز کر لیا حالانکہ تورات میں صریح حکم موجود ہے جس سے آج تک اُن پر یہ چیز حرام چلی آرہی ہے۔
جاہلیت میں عربوں کے نزدیک :
رہے عرب تو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو بزعم خود نجس و پلید سمجھ کر اور بعض کو بربنائے وہم یا بتوں کے تقرب کے لیے حرام قرار دیا تھا۔ مثلاً : بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام، جن کی وضاحت اس سے پہلے کی جا چکی ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں انہوں نے مردار اور بہتا ہوا خون جیسی بہت سی ناپاک چیزیں جائز کر لی تھیں۔
اسلام نے پاک چیزوں کو جائز قرار دیا :
اسلام جب نمودار ہوا تو لوگ حیوانی غذا کے معاملہ میں بُری قسم کی افراط و تفریط میں مبتلا تھے۔ لہذا اسلام نے تمام انسانوں سے خطاب کر کے کہا :
يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
”لوگو! زمین کی چیزوں میں سے جو حلال اور پاک ہیں ان کو کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“
سورۃ البقرہ: 168
گویا اسلام نے دعوتِ عام دی کہ لوگ آئیں، اور اس وسیع دستر خوان (زمین) سے پاک چیزیں نوش کریں اور شیطان کی راہوں پر چل نہ پڑیں۔ بالفاظ دیگر اللہ نے جس کو حلال ٹھہرایا ہے، اس کو حرام ٹھہرا کر گمراہی کے گڑھے میں نہ جا گریں۔ اس کے بعد اہل ایمان سے خصوصی خطاب کر کے فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ 173 إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
”اے ایمان والو! جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں ان کو کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی بندگی کرنے والے ہو۔ اس نے تو بس تم پر مردار، خون اور سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ حرام کر دیا ہے۔ البتہ جو شخص مجبور کیا جائے اور وہ اس کا نہ خواہش مند ہو اور نہ حد ضرورت سے تجاوز کرنے والا تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔“
البقرہ : 172 – 173
اس خصوصی خطاب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ پاک چیزیں کھائیں اور اپنے محسن کے شکر گزار بن کر اس کی نعمتوں کا حق ادا کریں۔ اس کے بعد بیان فرمایا کہ آیت میں جن چار اصناف کا ذکر کیا گیا ہے ان کے علاوہ کسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام نہیں ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ فرمایا :
قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
”کہو! جو وحی میرے پاس آئی ہے اُس میں تو میں کوئی ایسی چیز کسی کھانے والے پر حرام نہیں پاتا، بجز اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو کہ یہ ناپاک ہے یا فسق ہو کہ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں کچھ کھالے بغیر اس کے کہ وہ اس کا خواہش مند ہو یا حدِ ضرورت سے تجاوز کرنے والا ہو تو یقینا تمہارا رب بخشنے والا اور مہربان ہے۔“
سورۃ الانعام : 145
سورۃ مائدہ میں ان محرمات کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے :
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَة وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ
”تم پر حرام کیا گیا مردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جسے غیر اللہ کے لیے نامزد کیا گیا ہو، وہ جو گلا گھٹ کر مرا ہو، جو چوٹ کھا کر مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو، جو سینگ لگ کر مرا ہو، جسے کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو بجز اس کے جسے تم نے ذبح کر لیا ہو اور وہ جو کسی استھان پر ذبح کیا گیا ہو۔“
سورۃ المائدہ : 3
اس آیت میں دس محرمات بیان کیے گئے ہیں اور اس سے پہلے والی آیت میں صرف چار محرمات۔ دونوں آیات میں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر ہے۔ کیونکہ منخنقہ، موقوذہ، متردیہ، نطیحہ اور درندوں کا پھاڑ کھایا ہوا جانور یہ سب مردار ہی کے حکم میں ہیں اور اسی کی یہ تفصیل ہے۔ استھانوں پر ذبح کیا ہوا جانور بھی غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کے حکم میں شامل ہے۔ اس طرح گویا محرمات اجمالاً چار ہیں اور تفصیلاً دس۔