نمازِ تراویح کی رکعات: صحیح احادیث اور ائمہ کے اقوال کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مسنون رکعات تراویح

سوال:

تراویح کی مسنون رکعات کتنی ہیں؟

جواب:

تراویح سنت آٹھ رکعات ہی ہیں۔
❀ علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
لا مناص من تسليم أن تراويحه كانت ثمانية ركعات ولم يثبت في رواية من الروايات أنه صلى التراويح والتهجد على حدة في رمضان
”یہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تراویح آٹھ رکعت تھی اور کسی ایک روایت سے بھی ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں تہجد اور تراویح علیحدہ علیحدہ پڑھی ہوں۔“
(العرف الشذي: 1/166)
❀ علامہ خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:
”ابن ہمام (نے) آٹھ کو سنت اور زائد کو مستحب لکھا ہے، سو یہ قول طعن کے قابل نہیں۔“
(براہین قاطعہ: 18)
❀ مزید لکھتے ہیں:
”سنت مؤکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو باتفاق ہے، اگر اختلاف ہے تو بارہ میں۔“
(براہین قاطعہ: 195)
❀ علامہ اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
”بیماروں کو تو کہہ دیتا ہوں کہ تراویح آٹھ پڑھو، مگر تندرستوں کو نہیں کہتا۔“
(الکلام الحسن، حصہ دوئم، ص 89)
❀ علامہ عبدالشکور فاروقی لکھنوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:
”اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ تراویح مسنون ہے اور ایک ضعیف روایت میں ابن عباس سے بیس رکعت بھی ہے۔“
(علم الفقہ: 198)
یہی بات علامہ ابن ہمام حنفی (فتح القدير: 1/468)، علامہ عینی حنفی (عمدة القاري: 17/171)، ابن نجیم حنفی (البحر الرائق: 2/66)، ابن عابدین شامی حنفی (رد المحتار: 1/521)، ابو الحسن شرنبلالی حنفی (مراقي الفلاح: 244)، طحطاوی حنفی (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: 1/295) وغیرہم نے ذکر کی ہے۔
ہمارے حنفی بزرگوں کے آٹھ رکعت مسنون تراویح کے فیصلے کے بعد اب انتہائی اختصار کے ساتھ دلائل ملاحظہ ہوں:
➊ ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام رمضان کی کیفیت کیا تھی؟ فرمایا:
ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة
”رمضان ہو یا غیر رمضان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اکثر) گیارہ رکعت سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1147، 2013، صحيح مسلم: 738)
جمہور علما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے آٹھ رکعت تراویح ثابت کرتے ہیں۔
❀ علامہ ابو العباس قرطبی رحمہ اللہ (656ھ) فرماتے ہیں:
ثم اختلف في المختار من عدد القيام وقال كثير من أهل العلم إحدى عشرة ركعة أخذا بحديث عائشة المتقدم
”قیام کے مختار عدد میں اختلاف ہے۔ کثیر علمائے کرام نے عائشہ رضی اللہ عنہا والی مذکورہ حدیث سے دلیل لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گیارہ رکعات ہیں۔“
(المفهم: 2/389-390)
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) فرماتے ہیں:
فيه دلالة ظاهرة على أنه لم يصل التراويح عشرين ركعة وقد أفردت في ذلك كراسة
”اس حدیث میں واضح دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعت تراویح نہیں پڑھی، اس بارے میں میرا ایک مستقل رسالہ بھی ہے۔“
(التوشيح شرح الجامع الصحيح: 3/998)
❀ علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب (1352ھ) کہتے ہیں:
في الصحاح صلاة تراويحه عليه الصلاة والسلام ثماني ركعات وفي السنن الكبرى وغيره بسند ضعيف من جانب أبي شيبة فإنه ضعيف اتفاقا عشرون ركعة وأما عشرون ركعة الآن إنما هو سنة الخلفاء الراشدين ويكون مرفوعا حكما وإن لم نجد إسناده قويا
”صحیح احادیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح آٹھ رکعات ہی ثابت ہے اور سنن کبری وغیرہ میں بیس رکعتوں والی روایت ضعیف سند کے ساتھ ابو شیبہ سے آئی ہے، جو کہ بالاتفاق ضعیف راوی ہے۔ اب بیس رکعتیں خلفائے راشدین کی سنت ہے اور مرفوع کے حکم میں ہے، اگرچہ ہمیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) کوئی قوی سند نہیں ملی۔“
(العرف الشذي: 1/101)
دیکھئے! شاہ صاحب آٹھ رکعت تراویح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت کر رہے ہیں اور ساتھ ہی فرما رہے ہیں کہ ہم بیس رکعت تراویح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قوی سند کے ساتھ نہیں پاسکے۔
آپ خود اندازہ فرمائیں کہ ایک مسئلہ جو قوی سند کے ساتھ ثابت بھی نہ ہو، پھر بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث کے خلاف بھی ہو تو اس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اس کے علاوہ خلفائے راشدین سے کسی صحیح اور من گھڑت روایت سے بھی بیس رکعت تراویح پڑھنا ثابت نہیں ہے، لہذا بیس رکعت تراویح کو خلفائے راشدین کی سنت قرار دینا صریح خطا ہے۔
جناب انور شاہ کشمیری صاحب کے علاوہ متعدد حنفی فقہا نے بھی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کو آٹھ رکعت تراویح کی دلیل بنایا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ تراویح اور تہجد میں کوئی فرق نہیں ہے، یہ ایک ہی نماز کے دو مختلف نام ہیں۔
(فيض الباري: 2/420 وغيره)
➋ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أمر عمر بن الخطاب أبي بن كعب وتميما الداري أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کو گیارہ رکعت تراویح (مع وتر) پڑھانے کا حکم دیا۔“
(الموطأ للإمام مالك: 1/115، شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/293، السنن الكبرى للبيهقي: 2/496، مشكاة المصابيح: 1/407، وسنده صحيح)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ حکم صحیح بخاری و صحیح مسلم والی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے موافق ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ حکم سنت نبویہ عالیہ کے عین مطابق ہے۔ ثابت ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آٹھ رکعات تراویح پڑھانے کا حکم دیا تھا، نیز اس سے بیس رکعت تراویح کے قائلین و عاملین کا رد ہوتا ہے اور ان کا بیس رکعتوں کے سنت مؤکدہ ہونے کا نظریہ خطا قرار پاتا ہے۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ ہم بیس رکعت نماز تراویح اس لیے پڑھتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیس رکعات پڑھی تھیں۔ لیکن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیس رکعت ادا کرنا ثابت نہیں ہو سکتا، بلکہ عہد فاروقی میں آٹھ رکعت تراویح پر صحابہ کرام کا اجماع تھا۔
➌ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن عمر جمع الناس على أبي وتميم فكانا يصليان إحدى عشرة ركعة
”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کیا۔ وہ دونوں گیارہ رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/391، تاريخ المدينة لابن شبه: 2/713، وسنده صحيح)
➍ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا نقوم في زمان عمر بن الخطاب بإحدى عشرة ركعة
”ہم (صحابہ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں گیارہ رکعات (تراویح) پڑھتے تھے۔“
(سنن سعيد بن منصور، نقلا عن الحاوي للفتاوي للسيوطي: 1/349، حاشية آثار السنن للنيموي الحنفي: 250، وسنده صحيح)
❀ علامہ سبکی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
إسناده في غاية الصحة
”اس کی سند انتہا درجے کی صحیح ہے۔“
(شرح المنهاج، نقلا عن الحاوي للفتاوي: 1/350)
مذکورہ بالا دلائل سے ثابت ہوا کہ آٹھ رکعت تراویح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کو وتر سمیت گیارہ رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کے حکم کی تعمیل و تکمیل میں گیارہ رکعت تراویح پڑھائی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پڑھی۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

بیس رکعات تراویح کے دلائل کا جائزہ:

بیس رکعت تراویح کو مسنون قرار دینا درست نہیں، اس کے دلائل کا علمی و تحقیقی مختصر، مگر جامع جائزہ پیش خدمت ہے:
➊ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعتیں اور وتر پڑھا کرتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/294، السنن الكبرى للبيهقي: 2/496، المعجم الكبير للطبراني: 11/393)
سخت ضعیف ہے، ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان ”متروک الحدیث“ ہے۔
❀ علامہ قدوری حنفی رحمہ اللہ نے کذاب کہا ہے۔
(التجريد: 1/203)
❀ علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هو معلول بأبي شيبة إبراهيم بن عثمان جد الإمام أبي بكر بن أبي شيبة وهو متفق على ضعفه ولينه ابن عدي في الكامل ثم إنه مخالف للحديث الصحيح عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه سأل عائشة كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان قالت ما كان يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة
”یہ روایت ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کی وجہ سے معلول (ضعیف) ہے، جو کہ امام ابو بکر بن ابو شیبہ کا دادا ہے۔ اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے الکامل میں اسے کمزور قرار دیا ہے۔ نیز یہ روایت اس صحیح حدیث کے مخالف بھی ہے، جس میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔“
(نصب الراية: 2/153)

ابو شیبہ کی روایت اور علمائے احناف:

➊ علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
أما النبي صلى الله عليه وسلم فصح عنه ثمان ركعات وأما عشرون ركعة فهم عنه عليه السلام بسند ضعيف وعلى ضعفه اتفاق
”آٹھ رکعات تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہیں اور بیس رکعت کی روایت ضعیف ہے، اس کے ضعف پر اتفاق ہے۔“
(العرف الشذي: 1/166)
➋ علامہ عبدالشکور فاروقی صاحب نے اسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔
(علم الفقہ ص 198)
➌ مفتی دارالعلوم دیوبند، علامہ عزیز الرحمن صاحب لکھتے ہیں:
”ہاں اس میں شک نہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔“
(فتاوی دارالعلوم دیوبند: 1/249)
➍ علامہ ابن عابدین شامی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضعيف بأبي شيبة متفق على ضعفه مع مخالفته للصحيح
”حدیث ضعیف ہے، کیونکہ ابو شیبہ (ابراہیم بن عثمان) بالاتفاق ضعیف ہے، نیز یہ حدیث (صحیح بخاری و صحیح مسلم کی) صحیح (حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا) کے بھی خلاف ہے۔“
(منحة الخالق: 2/66)
یہی بات علامہ ابن ہمام حنفی (فتح القدير: 1/468)، علامہ عینی حنفی (عمدة القاري: 17/177)، ابن نجیم حنفی (البحر الرائق: 2/66)، ابن عابدین شامی حنفی (رد المحتار: 1/521)، ابو الحسن شرنبلالی حنفی (مراقي الفلاح: 244)، طحطاوی حنفی (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: 1/295) وغیرہم نے بھی کہی ہے۔
❀ امام صالح بن محمد جزرہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو منکر قرار دیا ہے۔
(تاريخ بغداد للخطيب: 7/21، وسنده صحيح)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔
(فتح الباري: 4/254)
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا الحديث ضعيف جدا لا تقوم به حجة
”یہ حدیث سخت ضعیف ہے، اس سے حجت و دلیل قائم نہیں ہو سکتی۔“
(المصابيح في صلاة التراويح: 17)
❀ مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب اپنی کتاب ”جاء الحق“ (2/243) میں ”نماز جنازہ میں الحمد شریف تلاوت نہ کرو“ کی بحث میں امام ترمذی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ منکر حدیث ہے۔“
لیکن اپنی اسی کتاب (1/447) کے ضمیمہ میں مندرج رسالہ ”لمعات المصابیح علی رکعات التراویح“ میں اس کی حدیث کو بطور حجت پیش کرتے ہیں۔ یہ منصفانہ رویہ نہیں ہے۔ واللہ اعلم!
نیز اس روایت میں حکم بن عتیبہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رمضان میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام کو چوبیس رکعتیں اور تین رکعات وتر پڑھائے۔
(تاريخ جرجان لأبي قاسم حمزة بن يوسف السهمي، ص 275)
موضوع ہے:
➊ عمر بن ہارون بلخی ”متروک و کذاب“ ہے۔ اسے امام احمد بن حنبل، امام عبدالرحمن بن مہدی، امام عبداللہ بن مبارک، امام عجلی، امام علی ابن مدینی، امام نسائی، امام دارقطنی، امام ابن حبان اور امام ابو حاتم رازی رحمہم اللہ وغیرہم نے مجروح اور غیر ثقہ قرار دیا ہے۔ حافظ ابو علی نیشاپوری رحمہ اللہ نے ”متروک“ کہا ہے۔ امام یحییٰ بن معین اور امام صالح جزرہ رحمہما اللہ نے کذاب کہا ہے۔
❀ امام ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الناس تركوا حديثه
”محدثین کرام نے اس کی حدیث کو متروک کہا ہے۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 6/141)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أجمع على ضعفه
”اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔“
(تلخيص المستدرك: 848)
➋ محمد بن حمید رازی جمہور کے نزدیک ضعیف و کذاب ہے۔
➌ ایک غیر معروف راوی ہے۔
➍ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رمضان میں لوگوں کو نماز پڑھایا کریں۔ فرمایا: لوگ دن میں روزہ تو رکھتے ہیں لیکن قراءت اچھی طرح نہیں کر سکتے، اگر آپ رات کو ان پر قرآن پڑھیں تو اچھا ہو۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: امیر المؤمنین! پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: معلوم ہے، تاہم یہ ایک اچھی چیز ہے، چنانچہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعات پڑھائیں۔
(الأحاديث المختارة للضياء: 1161، كنز العمال: 8/409)
سند ضعیف ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ ربیع بن انس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
الناس يتقون حديثه ما كان من رواية أبي جعفر عنه لأن فيها اضطراب كثير
”محدثین اس کی ان روایات سے بچتے ہیں جو ابو جعفر نے ان سے بیان کی ہیں، کیونکہ ان میں بہت اضطراب ہے۔“
(الثقات: 4/228)
مذکورہ بالا روایت بھی ربیع بن انس سے عیسیٰ بن ابو عیسیٰ بن ماہان ابو جعفر رازی بیان کر رہا ہے، یہ جرح مفسر ہے، جسے رد کرنا جائز نہیں۔
➊ حسن بصری رحمہ اللہ سے منسوب ہے:
إن عمر بن الخطاب رضي الله عنه جمع الناس على أبي بن كعب فكان يصلي لهم عشرين ركعة
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کیا، وہ انہیں بیس رکعات پڑھاتے تھے۔“
(سير أعلام النبلاء: 10/400، جامع المسانيد والسنن لابن كثير: 1/55)
عشرين ركعة کے الفاظ صریح تحریف کا شاخسانہ ہیں۔ اصل الفاظ عشرين ليلة تھے۔ بعض ناشرین نے بیس راتوں کے الفاظ کو بدل کر عشرين ركعة کر دیا، صد افسوس!
سنن ابو داؤد کے کسی نسخہ میں بیس رکعتوں کے الفاظ نہیں ہیں۔ تمام نسخوں میں بیس راتوں کا ہی ذکر ہے۔ حال ہی میں محمد عوامہ کی تحقیق سے جو سنن ابو داؤد کا نسخہ چھپا ہے، جس میں سات آٹھ نسخوں کو سامنے رکھا گیا ہے، اس میں بھی عشرين ليلة یعنی بیس راتوں ہی کا ذکر ہے۔
❀ علامہ محمد عوامہ لکھتے ہیں:
من الأصول كلها
”تمام بنیادی نسخوں میں یہی الفاظ ہیں۔“
(سنن أبي داود بتحقيق محمد عوامة: 2/256)
عشرين ركعة کے الفاظ محرف ہونے پر ایک زبردست دلیل یہ بھی ہے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الكبرى: 2/298) نے یہی روایت امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی سند سے ذکر کی ہے اور اس میں عشرين ليلة (بیس رات) کے الفاظ ہیں۔
یہی الفاظ فقہائے احناف اپنی کتابوں میں ذکر کرتے رہے ہیں۔
رہا مسئلہ سیر اعلام النبلاء اور جامع المسانید والسنن میں عشرين ركعة کے الفاظ کے پائے جانے کا، تو یہ ناسخین کی غلطی ہے، کیونکہ سنن ابو داؤد کے کسی نسخے میں یہ الفاظ نہیں ہیں، یہاں تک کہ علامہ عینی حنفی نے شرح ابی داؤد (5/343) میں صرف عشرين ليلة کے الفاظ ذکر کیے ہیں، نسخوں کا اختلاف تک ذکر نہیں کیا۔
اگر ركعة کے الفاظ کسی نسخے میں ہوتے تو علامہ عینی حنفی ضرور بالضرور نقل کرتے۔ اسی لیے علامہ ظفر احمد عثمانی تھانوی نے بھی اسے بیس رکعت تراویح کے دلائل میں ذکر نہیں کیا۔
➋ اگر بعض حضرات کی بات صحیح تسلیم کر لی جائے تو بھی یہ ان کی دلیل نہیں بن سکتی۔
❀ علامہ خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی صاحب (1346ھ) لکھتے ہیں:
”ایک عبارت بعض نسخوں میں ہو اور بعض میں نہ ہو تو وہ مشکوک ہوتی ہے۔“
(بذل المجهود: 4/471، بیروت)
❀ علامہ سرفراز خان صفدر دیوبندی صاحب ایک دوسری روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
”جب عام اور متداول نسخوں میں یہ عبارت نہیں تو شاذ اور غیر مطبوعہ نسخوں کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟“
(خزائن السنن: 2/97)
لہذا فریق ثانی کے مذکورہ اصول سے بھی روایت مشکوک ہوئی۔
مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب (1391ھ) نے بھی اس روایت میں عشرين ليلة کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔
(جاء الحق: 2/95، بحث: قنوت نازلہ پڑھنا منع ہے)
➌ نیز یہ انقطاع کی وجہ سے ”ضعیف“ بھی ہے۔
❀ علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ اور علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم يدرك عمر بن الخطاب
”حسن بصری رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔“
(نصب الراية: 2/126، شرح أبي داود: 5/343)
لہذا یہ روایت منقطع ہوئی۔
➍علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ نے اسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔
(شرح سنن أبي داود: 5/343)
➎ حافظ نووی رحمہ اللہ نے بھی ”ضعیف“ کہا ہے۔
(خلاصة الأحكام: 1/565)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا گیارہ رکعت تراویح بمع وتر کا حکم دینا صحیح سند سے ثابت ہے۔
(الموطأ للإمام مالك: 1/115، السنن الكبرى للبيهقي: 2/496، شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/293، معرفة السنن والآثار للبيهقي: 4/42، فضائل الأوقات للبيهقي: 274، قيام الليل للمروزي: 220، مشكاة المصابيح: 1/407، وسنده صحيح)
یزید بن رومان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لوگ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں رمضان میں تئیس رکعات پڑھا کرتے تھے۔
(الموطأ للإمام مالك: 1/98، السنن الكبرى للبيهقي: 1/494)
سند ضعیف ہے۔ یزید بن رومان نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يزيد بن رومان لم يدرك عمر بن الخطاب
”یزید بن رومان نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔“
(فضائل الأوقات للبيهقي، تحت الرقم: 127، نصب الراية للزيلعي: 2/163)
لہذا یہ روایت منقطع ہوئی، جبکہ موطا امام مالک میں اس منقطع روایت سے متصل پہلے صحیح متصل سند کے ساتھ ثابت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گیارہ رکعت کا حکم دیا تھا۔
❀ علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
ترجيح المتصل على المنقطع
”ضابطہ یہ ہے کہ متصل کو منقطع پر ترجیح ہوتی ہے۔“
(العرف الشذي: 11)
❀ علامہ اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
”روایت موطا امام مالک منقطع ہے۔“
(اشرف الجواب: 172)
صحیح احادیث کے مقابلہ میں منقطع روایت سے حجت پکڑنا درست نہیں۔
➏ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات پڑھائے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/393)
سند ضعیف ہے۔ یحییٰ بن سعید انصاری رحمہ اللہ نے سیدنا عمر کا زمانہ نہیں پایا۔
❀ علامہ نیموی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يحيى بن سعيد لم يدرك عمر
”یحییٰ بن سعید انصاری نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔“
(التعليق الحسن: 253)
➐ عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رمضان میں لوگوں کو مدینہ میں بیس رکعات اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/393)
سند منقطع ہے۔
❀ علامہ نیموی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عبد العزيز بن رفيع لم يدرك أبي بن كعب
”عبدالعزیز بن رفیع نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔“
(التعليق الحسن: 253)
➑ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں لوگ رمضان میں بیس رکعتیں پڑھتے تھے۔
(مسند علي بن الجعد: 2825، السنن الكبرى للبيهقي: 2/496، وسنده صحيح)
یہ بیس رکعتیں پڑھنے والے لوگ صحابہ کرام کے علاوہ اور لوگ تھے، کیونکہ صحابی رسول سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں:
كنا أي الصحابة نقوم في عهد عمر بن الخطاب بإحدى عشرة ركعة
”ہم (صحابہ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں گیارہ رکعات (نماز تراویح بمع وتر) پڑھتے تھے۔“
(سنن سعيد بن منصور، نقلا عن الحاوي للفتاوي للسيوطي: 1/349، حاشية آثار السنن للنيموي الحنفي: 250، وسنده صحيح)
علامہ سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إسناده في غاية الصحة
”اس کی سند انتہا درجے کی صحیح ہے۔“
(شرح المنهاج، نقلا عن الحاوي للفتاوي للسيوطي: 1/350)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف دوسرے لوگوں کا عمل حجت نہیں، نیز روایت میں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ آیا یہ غیر معروف لوگ بیس رکعات سنت مؤکدہ سمجھ کر پڑھتے تھے یا ویسے نفل کے طور پر پڑھتے تھے۔
اگر کوئی آٹھ کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور بارہ کو زائد نفل سمجھ کر پڑھے تو اس میں کیا حرج ہو سکتا ہے، یہ لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہوں گے۔
❀ علامہ خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
”ابن ہمام نے آٹھ رکعات کو سنت اور زائد کو مستحب لکھا ہے، سو یہ قول قابل طعن کے نہیں۔“
(براہین قاطعہ: 18)
❀ مزید لکھتے ہیں:
”سنت مؤکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو باتفاق ہے، اگر خلاف ہے تو بارہ میں۔“
(براہین قاطعہ: 195)
➒ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعات تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔
(معرفة السنن والآثار للبيهقي: 4/42)
روایت شاذ ہے۔ امام مالک، امام یحییٰ بن سعید قطان اور امام دراوردی رحمہم اللہ وغیرہم کے مخالف ہونے کی وجہ سے اس میں شذوذ ہے۔ اگرچہ خالد بن مخلد ”ثقہ“ ہے، لیکن کبار ثقات کی مخالفت کی وجہ سے اس کی روایت قبول نہ ہو گی۔ اسی روایت میں کبار ثقات گیارہ رکعات بیان کر رہے ہیں۔
➓ ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں قرائے کرام کو بیس تراویح پڑھانے کا حکم دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ انہیں وتر پڑھاتے تھے۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 2/496)
روایت ضعیف ہے۔
➊ حماد بن شعیب ضعیف ہے۔ امام یحییٰ بن معین، امام ابو زرعہ، امام نسائی اور حافظ ذہبی رحمہم اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔
➋ عطاء بن السائب مختلط ہے۔ حماد بن شعیب ان لوگوں میں سے نہیں جنہوں نے اس سے قبل از اختلاط سنا ہے۔
➌ ابو حسناء بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو بیس تراویح پڑھانے کا حکم دیا۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/393)
سند ضعیف ہے۔ ابو حسناء مجہول ہے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يعرف
”غیر معروف ہے۔“
(ميزان الاعتدال: 4/515)
اللہ تعالیٰ نے ہمیں غیر معروف راویوں کی روایات کا مکلف نہیں ٹھہرایا۔
➍ اعمش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیس تراویح پڑھا کرتے تھے۔
(مختصر قيام الليل للمروزي: 157)
سند ضعیف ہے۔ عمدة القاري (11/127) میں یہ روایت حفص بن غیاث عن الاعمش کے طریق سے ہے، جبکہ حفص بن غیاث اور اعمش دونوں مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔

گیارہ رکعت تراویح پر ایک تائید:

قال الإمام أبو بكر النيسابوري (م: 324) حدثنا يوسف بن سعيد ثنا حجاج عن ابن جريج حدثني إسماعيل بن أمية أن محمد بن يوسف ابن أخت السائب بن يزيد أخبره أن السائب بن يزيد أخبره قال جمع عمر بن الخطاب الناس على أبي بن كعب وتميم الداري فكانا يقومان بمائة في ركعة فما ننصرف حتى نرى أو نشك في فروع الفجر قال فكنا نقوم بأحد عشر قلت أو واحد وعشرين قال لقد سمع ذلك من السائب بن يزيد ابن خصيفة فسألت يزيد بن خصيفة فقال حسبت أن السائب قال أحدا وعشرين
”سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور تمیم داری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تراویح پڑھنے کے لیے جمع کر دیا، یہ دونوں ایک رکعت میں سو آیات پڑھاتے تھے، پھر جب ہم نماز سے فارغ ہونے لگتے تو ہم کو گمان ہوتا کہ فجر ہو چکی ہے، سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم گیارہ رکعت پڑھتے تھے۔
اس روایت کے راوی اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ نے جب محمد بن یوسف رحمہ اللہ سے سنا تو پوچھا: گیارہ رکعات یا اکیس رکعات؟ محمد بن یوسف رحمہ اللہ نے کہا: اس طرح کی بات یزید بن خصیفہ رحمہ اللہ نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یزید بن خصیفہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: میرا گمان ہے کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے اکیس کہا تھا۔“
(فوائد أبي بكر النيسابوري: 16)
یاد رہے کہ محمد بن یوسف نے گیارہ رکعت بیان کی ہیں۔
اسماعیل بن امیہ نے جب محمد بن یوسف سے پوچھا کہ گیارہ یا اکیس؟ کہنے لگے کہ اکیس والی بات یزید بن خصیفہ نے سنی تھی۔ اسماعیل بن امیہ نے یزید بن خصیفہ سے پوچھا کہ واقعی آپ نے اکیس والی سنی ہے؟ کہنے لگے: میرا گمان ہے کہ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے اکیس بیان کیں ہیں۔
اکیس رکعت بیان کرنے میں یزید بن خصیفہ کو وہم ہوا ہے، کیونکہ:
➊ یزید بن خصیفہ نے حسبت کہہ کر شک کا اظہار کیا ہے۔
➋ یزید بن خصیفہ جب حفظ سے بیان کریں تو اکثر وہم کا شکار ہو جاتے ہیں۔
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان يهم كثيرا إذا حدث من حفظه
”جب حافظے سے بیان کرے تو بہت زیادہ وہم کا شکار ہوتے ہیں۔“
(مشاهير علماء الأمصار: 1066)
یہاں یہ روایت یزید بن خصیفہ نے اپنے حافظے سے ہی بیان کی ہے۔ لہذا یہ ان کا وہم ہے، جیسا کہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ محمد بن یوسف سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے ہی بلاتر دد گیارہ رکعت بیان کرتے ہیں۔
پھر اسماعیل بن امیہ محمد بن یوسف سے بیان کرنے میں متفرد نہیں ہیں، بلکہ ان کے علاوہ چھ اور شاگردوں نے محمد بن یوسف سے یہی روایت گیارہ رکعت کے الفاظ سے بیان کی ہے، کسی نے بھی محمد بن یوسف پر اعتراض نہیں کیا۔ ملاحظہ ہو:
➊ امام مالک بن انس رحمہ اللہ (موطا امام مالک: 138)
➋ اسامہ بن زید اللیثی رحمہ اللہ (فوائد ابی بکر نیشاپوری: 17)
➌ اسماعیل بن جعفر انصاری رحمہ اللہ (احادیث اسماعیل بن جعفر: 140)
➍ عبدالعزیز بن محمد دراوردی رحمہ اللہ (سنن سعید بن منصور بحوالہ الحاوی للفتاوی للسیوطی: 1/416)
❀ علامہ سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
في الموطأ وفي مصنف سعيد بن منصور بسند في غاية الصحة عن السائب بن يزيد إحدى عشرة ركعة
”موطا امام مالک اور سنن سعید بن منصور میں حد درجہ کی صحیح سند سے مروی ہے کہ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے گیارہ رکعت کا ذکر کیا۔“
(الحاوي للفتاوي للسيوطي: 1/417)
➎ امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ (مصنف ابن ابی شیبہ: 7671)
➏ امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ (فوائد ابی بکر نیشاپوری: 19)
تمام شاگرد اپنے استاذ محمد بن یوسف رحمہ اللہ سے گیارہ رکعات ہی بیان کرتے ہیں، کوئی تردد یا شک کا اظہار نہیں کرتا۔ ثابت ہوا کہ اسماعیل بن امیہ کا محمد بن یوسف سے استفسار کرنا تردد یا شک کی بنا پر نہ تھا۔ والحمد للہ!
❀ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے اکیس رکعت کے الفاظ یزید بن خصیفہ کے علاوہ کسی نے بیان نہیں کیے۔
مصنف عبدالرزاق (7733) کی ایک روایت میں الحارث بن عبدالرحمن بن ابی ذباب سدوسی سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے 23 رکعات کا ذکر کرتے ہیں لیکن وہ روایت ہی جھوٹی ہے۔
➊ ابراہیم بن محمد اسلمی متروک و کذاب ہے۔
➋ امام عبدالرزاق بن ہمام رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
❀ جو احباب یزید بن خصیفہ رحمہ اللہ کی 21 رکعات والی روایت کو درست مان کر مسنون 20 رکعات تراویح کی دلیل بناتے ہیں، انہیں ایک وتر کے جواز کا فتویٰ بھی دینا پڑے گا، کیا ہمارے بھائی ایک وتر کا فتوی دیں گے؟

الحاصل:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی سے بیس تراویح پڑھنا قطعاً ثابت نہیں، سنت صرف آٹھ رکعات ہیں۔
❀ علامہ زرکشی رحمہ اللہ (794ھ) فرماتے ہیں:
دعوى أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم في تلك الليلة عشرين ركعة لم يصح
”یہ کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات صحابہ کرام کو بیس رکعت پڑھائی تھیں، درست نہیں۔“
(المصابيح في صلاة التراويح للسيوطي)
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) فرماتے ہیں:
الحاصل أن العشرين ركعة لم تثبت من فعله صلى الله عليه وسلم
”خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیس تراویح پڑھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔“
(المصابيح في صلاة التراويح)
باقی امام عطاء بن ابی رباح، امام ابن ابی ملیکہ، امام سوید بن غفلہ رحمہم اللہ وغیرہم کا بیس رکعت پڑھنا ہمارے احباب کے لیے مفید نہیں، کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ بیس رکعت کو سنت مؤکدہ سمجھ کر پڑھتے تھے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں حق کا فہم عطا فرمائے۔ آمین!