مضمون کے اہم نکات
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیعت رضوان کے موقع پر مکہ تشریف لے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کے بارے میں فرمایا تھا: ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ”کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔“
صحيح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، باب مناقب عثمان رضی الله عنه، رقم: 3699
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم احد پہاڑ پر چڑھے تو پہاڑ ہل گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُحد ٹھہر جا تجھ پر نبی، صدیق اور دو شہید ہیں۔“
صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابه، باب من فضائل عثمان بن عفان رضی الله عنه، رقم : 2401 .
◈ محرمات شرعیہ سے اجتناب:
عرب اکثر شراب پی لیا کرتے تھے، بلکہ اس طرح کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے کہ شراب عرب کی گھٹی میں پڑی ہوتی تھی لیکن متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی فطرت سلیمہ کی ہدایت سے زمانہ جاہلیت ہی میں اس سے اجتناب کرتے تھے۔ ان صحابہ میں سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
صحيح البخاري، كتاب فضائل اصحاب النبى صلى الله عليه وسلم، رقم: 3675.
◈ تلاوت قرآن:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمیشہ تلاوت قرآن میں مصروف رہتے تھے، اور تلاوت کا طریقہ یہ تھا کہ قرآن مجید کے متعدد حصے کر لیے تھے، اور بلا ناغہ اس کی تلاوت فرماتے تھے، اور سخت سے سخت مصیبت میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس شوق میں کوئی فرق نہیں آتا تھا، بلکہ اس حالت میں قرآن مجید ہی ان کے لیے مایہ تسکین ہوتا تھا، جس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت واقع ہوئی، وہ قرآنِ مجید کی تلاوت میں مصروف تھے ۔ چنانچہ ان کے خون کے قطرے قرآن مجید کی اس آیت پر گرے:
﴿فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾
(2-البقرة:137)
”پس اللہ آپ کے لیے ان کے مقابلے میں کافی ہوا، اور وہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔“
الإستيعاب، تذکره عثمان بن عفان .
◈ خوف عذاب قبر:
قبر سفر آخرت کی پہلی منزل ہے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس منزل کو نہایت کٹھن سمجھتے تھے اس کے دشوار گزار اور پرخطر راستوں سے ہمیشہ لرزتے رہتے تھے۔ آپ جب کسی قبر کے پاس سے گزرتے تو اتنی رقت طاری ہوتی کہ روتے روتے ڈاڑھی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔
كنز العمال : 72/6
◈ محبت رسول ﷺ:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ذات رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ شیفتگی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا جوئی کے لیے اپنی کل کائنات نثار کرنے کے لیے ہر وقت آمادہ رہتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنیٰ تکلیف کو دیکھ کر تڑپ جاتے تھے۔ ایک مرتبہ بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی دن فقر و فاقہ سے گزر گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو معلوم پڑا تو بے چین ہوکر رونے لگے اور اس وقت کئی بورے گیہوں، آٹا، کھجور، بکری کا گوشت اور تین سو درہم نقد لے کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کر کے عرض کیا کہ جب اس قسم کی ضرورت پیش آئے تو عثمان کو یاد فرمایا جائے۔
كنز العمال : 376/6 .
◈ احترام رسول ﷺ:
ذات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا ادب و احترام تھا کہ جس ہاتھ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی تھی، اسے تاعمر محل نجاست سے مس نہیں کیا۔
طبقات ابن سعد : 3ق، تذکره عثمان رضي الله عنه
◈ فیاضی:
اگرچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تمام اخلاقی محاسن نے اسلام کو تقویت دی لیکن سب سے زیادہ اسلام کو صحابہ کی فیاضی سے رسوخ و ثبات حاصل ہوا، مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غربت کدہ تھا لیکن انصار کی فیاضی نے آپ کو اپنی آنکھوں میں جگہ دی، مہاجرین کو اپنے گھروں میں ٹھہرایا اور بعض شرائط کے ساتھ اپنی نخلستان کی پیداوار میں ان کو شریک کیا۔
صحیح بخاری، کتاب الحرث والمزارعة، باب إذا قال : اكفنى مؤونة النخل ……، رقم: 2325 .
مہاجرین میں عثمان رضی اللہ عنہ جس طرح بہت بڑے دولت مند تھے، بہت بڑے فیاض بھی تھے۔ عہد نبوت میں جب مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو آپ نے مسجد کو وسیع کرنا چاہا، مسجد کے متصل ایک قطعہ زمین تھا جس کی نسبت آپ نے فرمایا کون اس کو خرید کر اللہ کے حوالہ کرتا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو بیس ہزار درہم میں خرید کر مسجد پر وقف کر دیا، مسلمانوں کو پانی کی تکلیف تھی، بیر رومہ کو خرید کر وقف عام فرمادیا۔ غزوہ تبوک میں ایک متمدن سلطنت کا مقابلہ تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سامان جہاد نہایت کم تھا۔ انھوں نے تنہا نہایت فیاضی کے ساتھ تمام سامان مہیا کیا۔
سنن نسائی، کتاب الجهاد، رقم: 3182- طبقات ابن سعد : 3 / 1 ، تذكره عثمان رضي الله عنه . ابن حبان نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
غزوہ تبوک کے زمانہ میں آپ کی خدمت میں ہرقل کا قاصد آیا۔ چونکہ آپ عموماً قاصدوں سے لطف و مراعات کے ساتھ پیش آتے تھے، اس لیے آپ نے معذرت کی کہ ”ہم لوگ اس وقت سفر میں ہیں اگر ممکن ہوا تو ہم تمھیں صلہ دیں گے، عثمان رضی اللہ عنہ نے سنا تو پکارے کہ ”میں صلہ دوں گا چنانچہ اپنے توشہ دان سے ایک حلہ صفوریہ نکال کر اس کو دیا پھر آپ نے فرمایا کہ کون اس کو اپنا مہمان بنائے گا؟“ ایک انصاری نے کہا ”میں اس کے لیے حاضر ہوں۔“
مسند أحمد : 442/3
◈ صبر و تحمل:
آپ حلم و عفو کا پیکر تھے۔ آپ میں اس وصف کا اتنا غلبہ تھا کہ لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے۔ کسی حالت میں حلم و صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتا تھا۔ آپ کے خلاف کتنا طوفان بپا ہوا۔ مخالفین نے رو در رو گستاخیاں کیں لیکن اس پیکر حلم نے سوائے صبر و تحمل کے کوئی جواب نہ دیا۔ اگر آپ چاہتے تو باغیوں کے خون کی ندیاں بہہ جاتیں لیکن آپ نے جان دے دی مگر صبر و حلم کے جادہ مستقیم سے نہ ہٹے۔
تاریخ اسلام از ندوی : 286/1-287.
◈ تواضع :
آپ کے پاس لونڈی غلاموں کی کمی نہ تھی لیکن اپنے کاموں کے لیے ان کی راحت میں خلل نہ ڈالتے تھے۔ شب کو تہجد کے وقت کسی غلام کو نہ جگاتے، خود ہی پانی لے کر وضو کر لیتے۔ لوگوں نے آپ سے عرض کیا: آپ کیوں زحمت فرماتے ہیں، کسی غلام کو جگا لیا کیجئے، فرمایا، رات کا وقت ان کے آرام کے لیے ہے۔
طبقات ابن سعد : 41/3 بحواله تاریخ اسلام : 287/1.
غلاموں کے ساتھ سلوک:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ رات کو اٹھ کر خود وضو کا پانی لیا کرتے تھے، لوگوں نے کہا: ”اگر آپ کسی خادم سے کہہ دیتے تو وہ یہ کام کر دیتا۔“ بولے! نہیں رات ان کے آرام کے لیے ہے۔
طبقات ابن سعد، تذكرة عثمان رضي الله عنه .
◈ شرم و حیاء:
شرم و حیاء کا یہ حال تھا کہ دروازہ بند ہوتا تھا لیکن کپڑا اتار کر نہیں نہاتے تھے۔
مسند أحمد : 74/1 .
نہانے کے بعد ان کی بی بی کی لونڈی کپڑے پہننے کے لیے لاتی تھی تو کہہ دیتے تھے کہ میری طرف نہ دیکھنا کیونکہ تمہارے لیے یہ جائز نہیں۔
طبقات ابن سعد، تذكرة عثمان رضي الله عنه .
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی شرم و حیا کا لحاظ رکھتے تھے۔ ایک بار آپ کی خدمت میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما آئے اس وقت آپ گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ کی ران کھلی ہوئی تھی لیکن جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور آپ نے اس کو ڈھانک لیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ عثمان شرمیلے آدمی ہیں اگر میں اسی حالت میں رہتا تو وہ اپنی حاجت پیش نہ کرتے۔
صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة، رقم: 6210.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔“
صحيح البخاری، کتاب المغازی، باب عمرة القضاء، رقم: 4251 .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کی موسیٰ علیہما السلام سے تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوه تبوك، رقم: 4416 .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا تھا کہ تجھ سے ایمان دار محبت، اور منافق بغض رکھے گا۔“
صحیح مسلم، کتاب الايمان، باب الدليل على ان حب الانصار وعلى رضى الله عنهم من الايمان، رقم: 78
◈ اتباع سنت:
قرآن مجید کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا محور عمل صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی اس لیے وہ تمام اعمال میں آپ کی سنت کی اتباع کرتے تھے۔ ایک دفعہ علی رضی اللہ عنہ سوار ہونے لگے تو رکاب میں «بسم اللہ» کہہ کر پاؤں رکھا، پشت پر پہنچے تو «الحمد للہ» کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی:
لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ﴿١٣﴾ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ﴿١٤﴾
(43-الزخرف:13 ،14)
پھر تین بار الحمد لله اور تین بار الله اكبر کہا۔ اس کے بعد یہ دعا پڑھی۔ سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي ، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت
پھر ہنس پڑے، لوگوں نے ہنسنے کی وجہ پوچھی، بولے ”ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہی پابندیوں کے ساتھ سوار ہوئے اور اخیر میں ہنس پڑے، میں نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جب بندہ علم و یقین کے ساتھ یہ دعا کرتا ہے تو اللہ سے خوش ہوتا ہے۔“
سنن ابوداؤد، کتاب الجهاد، باب ما يقول الرجل اذا ركب، رقم : 2602 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
◈ رحمت و شفقت:
سیّدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ بازاروں میں جاتے تو بھولے بھٹکے لوگوں کو راستہ دکھاتے، حمالوں کے سر پر بوجھ اٹھا دیتے۔ اگر کسی کے جوتے کا تسمہ گر جاتا تو اسے اٹھا کر دے دیتے اور یہ آیت پڑھتے:
﴿تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ﴾
(28-القصص:83)
”ہم نے دار آخرت کو ان لوگوں کے لیے بنایا ہے جو زمین میں فساد اور غلبہ حاصل کرنا نہیں چاہتے اور عاقبت صرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔“
الرياض النضرة : 234/2 .
◈ سیرۃ المرتضی پر ایک جامع تبصرہ:
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے استفسار پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک حاشیہ نشین ضرار صدائی نے آپ کے حسب ذیل اوصاف بیان کیے تھے جو آپ کی سیرت پر ایک جامع تبصرہ ہے۔ وہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے، فیصلہ کن بات کہتے تھے، عادلانہ فیصلہ کرتے تھے، ان کے ہر بات سے علم پھوٹتا تھا اور حکمت ٹپکتی تھی۔ دنیا اور اس کی دلفریبیوں سے وحشت کرتے تھے۔ رات کی تاریکی اور اس کی وحشت سے انس رکھتے تھے۔ عبرت پذیر اور بہت غور وفکر کرنے والے تھے۔ چھوٹا لباس اور موٹا جھوٹا کھانا پسند کرتے تھے۔ ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے۔ جب ہم کچھ پوچھتے تھے تو اس کا جواب دیتے تھے باوجودیکہ وہ ہم کو اپنے قریب رکھتے تھے اور خود ہمارے قریب رہتے تھے، لیکن ہم ہیبت سے ان سے گفتگو نہ کر سکتے تھے۔
وہ دینداروں کی تعظیم کرتے تھے۔ غریبوں کو مقرب بناتے تھے۔ ان کے سامنے طاقتور باطل میں طمع نہیں کر سکتا تھا، اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا، بعض مواقع پر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات گزر رہی ہے، ستارے جھلملا رہے ہیں، اپنی ڈاڑھی مٹھی میں دبائے مارگزیدہ کی طرح بے قرار اور غم رسیدہ کی طرح اشکبار کہہ رہے ہیں ۔ ”اے دنیا! کسی اور کو فریب دے، تو مجھ سے لگاوٹ کر رہی ہے، میری مشتاق ہے، افسوس! افسوس! میں نے تجھے تین طلاقیں دیں، تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے، ہائے ہائے سفر طویل، راستہ وحشت ناک اور زاد سفر تھوڑا ہے۔“
كنز العمال ، ص : 410 .
یہ اوصاف سن کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رو دیے اور کہا، اللہ ابوالحسن (علی رضی اللہ عنہ) پر رحم کرے، واللہ! وہ ایسے ہی تھے۔
روضة النضرة : 212/2 بحواله تاریخ اسلام : 353/1