فنِ موسیقی، رقص اور خوش الحانی سے موسیقی کے جواز کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد الحق اثری کی کتاب اسلام اور موسیقی پر اشراق کے اعتراضات کا جائزہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

فنِ موسیقی

اہلِ اشراق نے ”فنِ موسیقی“ کے جواز میں السنن الکبریٰ للبیہقی کی ایک روایت سے استدلال کیا، جس میں ذکر تھا کہ آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: یہ فلاں قبیلے کی گانے والی ہے کیا تم اس کا گانا پسند کرو گی؟ چنانچہ اس نے سیدہ رضی اللہ عنہا کو گانا سنایا۔ اس سے استدلال کے بارے میں عرض کیا گیا تھا کہ اس سے استدلال درست نہیں اور اس روایت کا حوالہ بھی غلط ہے، یہ روایت السنن الکبریٰ للنسائی کی ہے امام بیہقی کی نہیں۔ ہماری اس وضاحت کو قبول کر لینے کے باوجود ان کی سخن سازی اس فقیر کے خلاف [وما تخفی صدورھم اکبر] کا مصداق ہے۔ اور استدلال کے بارے میں عرض کیا تھا کہ حدیث میں [قینۃ] کا لفظ ہے جس پر استدلال کی پوری عمارت قائم ہے اس لفظ کے اصل معنیٰ لونڈی کے ہیں خواہ وہ گانا گائے یا نہ گائے۔ اسی لئے اسے پیشہ ور مغنیہ قرار دینا درست نہیں، جیسا کہ اس سے قبل آپ اس کی تفصیل پڑھ آئے ہیں کہ اس نے شعر اونچی آواز سے پڑھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سنے۔ اس پر اہل اشراق کے اعتراضات کا خلاصہ یہ ہے:

① یہ اطلاع کہاں سے ملی کہ قینہ کا اندازِ اونچی آواز میں شعر پڑھنے کا تھا؟ روایت میں توکوئی ایسا لفظ نہیں۔ یہاں لفظِ غنا استعمال ہوا ہے جس کے معروف معنی گانا گانے کے ہیں۔

② شعر اور آواز کے بلند آہنگ کو آپ نے غنا کے مصداق سے الگ کیسے کر لیا؟

③ جب آپ کی دانست میں قینہ کے معنی گانے والی کے نہیں بلکہ عام لونڈی کے ہیں اور اس نے اونچی آواز سے شعر پڑھنے ہی پر اکتفا کی ہے تو پھر آپ کے قلم سے اس کے ”گانے کے انداز“ کے الفاظ کیوں نکل گئے؟

تینوں کے جواب میں علی الترتیب عرض ہے۔

① اونچی آواز سے شعر پڑھنے کا استدلال [فغنتہا] اس نے ”گانا سنایا“ سے ہے، پہلے ہم ثابت کر آئے ہیں کہ عرب غنا کا اطلاق ”رفعِ صوت“ سے پڑھے ہوئے اشعار پر بھی کرتے ہیں، اور لہو و لعب کے طور پر جو معروف غنا ہے وہی مراد نہیں لیتے۔

② ترنم سے نصب کے انداز پر پڑھے گئے اشعار کو بھی عرب غنائے معروف میں شمار نہیں کرتے ہیں جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔

③ دوسرے نمبر کے تحت جو کچھ عرض کیا گیا اس سے اس کا جواب آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سوال سے پہلے پورا جملہ پیشِ نظر ہوتا تو اس کی ضرورت ہی نہ محسوس ہوتی۔ ہم نے عرض کیا تھا ”اس کے گانے کا انداز ماہرِ فن مغنیہ کا نہیں اونچی آواز سے شعر پڑھنے کا تھا“ اونچی آواز سے ترنم کے ساتھ الفاظ کو دُہرانے کو فی الجملہ غنا ہے۔ مگر ایسا گانے والے کو مغنی اور گویا نہیں کہا جاتا۔ لیکن غنائے معروف ایک فن ہے اس کے مرتکب کو مغنی (موسیقار) کہا جاتا ہے، افسوس یہ فرق اہل اشراق کی سمجھ میں نہیں آتا۔

خوئے بد را بہانۂ بسیار

السنن الکبریٰ للنسائی کی جس روایت سے استدلال کیا گیا تھا اس کے بارے میں مزید عرض کیا گیا کہ روایت کے آخر میں ہے [وقد نفخ الشیطان فی منخریہا] (یعنی) شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونک ماری ہے، جس سے اس کے عمل کی شناعت معلوم ہوتی ہے۔

اس حوالے سے ہماری تمام معروضات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اہل اشراق کی تلخی اور طول بیانی دیدنی ہے۔ جس کے بارے میں بالآخر انہوں نے لکھا ہے کہ ”یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ غنا کو آپ ﷺ شیطان سے منسوب قرار دیں اور پھر یہی غنا اپنی زوجۂ محترمہ کو سنوائیں؟ ایسے تضادِ فکر و عمل کی نبی ﷺ سے نسبت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اس روایت کو رد کر دیا جائے تا کہ نبی ﷺ سے کوئی ایسی بات منسوب نہ ہو جو ادنیٰ درجے میں بھی تضاد بیانی کا تاثر دے۔ (اشراق: ص 55)

آگے بڑھنے سے پہلے دو باتیں عرض ہیں اگر اس روایت کو رد کرنا ہی آپ کی رائے ہے تو یہ اس جملے کو رد کرنا مراد ہے یا پوری روایت؟ پوری روایت مراد لی گئی ہے تو آئندہ کے لئے اسے ”فنِ موسیقی“ پر استدلال کے دائرہ ہی سے نکال دیجئے۔ ہمیں انتظار رہے گا کہ وہ یہ ”فریضہ“ سر انجام دیتے ہیں یا نہیں، دیدہ باید۔ اور اگر یہ جملہ مراد ہے جیسا کہ بحث کے اختتام پر انہوں نے فرمایا تو پھر کہنے دیجئے کہ سند کی صحت کے باوجود اہل اشراق کی یہ جسارت [افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض] کا مصداق ہو گی۔ أعاذنا الله منه

پھر جس تضاد کا خطرہ اہل اشراق نے محسوس فرمایا اور بظاہر متضاد روایتوں کے بارے میں جو طریقہ انہوں نے اختیار کیا یہ ملحدین و منکرینِ حدیث کا تو ہو سکتا ہے بلکہ ہر دور میں یہ ان کا وتیرہ رہا، جب کہ حضراتِ محدثین رحمہم اللہ نے ایسی روایات، اختلاف الحدیث، مختلف الحدیث، مشکل الآثار وغیرہ کتب میں ذکر کر کے حدیث کی صحیح پوزیشن کو واضح کیا۔ اہل اشراق کا یہ طرزِ فکر بھی انھیں منکرین و منحرفین کے زمرے میں شمار کرتا ہے، مؤمنین و مسلمین کا یہ طرزِ فکر بہر حال نہیں۔ یہ روایت امام احمد، امام نسائی، امام طبرانی رحمہم اللہ اور متاخرین ائمۂ حدیث نے بھی ذکر کی حتیٰ کہ مؤرخِ اسلام علامہ سید سلیمان ندوی نے بھی (سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا:ص 85) میں اسے نقل کیا ہے۔ ہم اہل اشراق کی ”ذہانت و فطانت“ کے معترف ہیں وہ اس فقیر کے بارے میں جو چاہیں رائے رکھیں کم از کم ان ائمۂ محدثین اور فقہائے اسلام کو تو وہ تمغے نہ دیں جو اس فقیر کو دیے گئے ہیں۔

طعنہ زنی اور لن ترانی کے بعد اہل اشراق بڑی معصومیت سے فرماتے ہیں:تاہم ہمارے نزدیک اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ اس جملے کا مفہوم وہ نہیں جو الاعتصام نے بیان کیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اس حد تک تجاوز کیا جس حد تک جانا اس کے لیے مناسب نہ تھا۔“ الخ (اشراق:ص55)

اس کے بعد انھوں نے تاج العروس اور اقرب الموارد سے نقل کیا کہ [نفخ الشیطان فی أنفہ] کا جملہ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو اس حد تک پہنچ جائے جو حقیقت میں اس کے لئے نہیں۔ (اشراق:ص55-56)

مگر کاش! اہل اشراق اپنے تمام تر دعویٰ دین و دانش کے باوصف اس جملے کو اسی معنی ہی میں سمجھنے کی کوشش کرتے تو نہ انھیں کوئی تضاد نظر آتا، نہ کوئی غیر معقولیت ہی محسوس ہوتی۔ غور کیجیے لونڈی نے اشعار ترنم سے پڑھنا شروع کیے مگر جب وہ حد سے تجاوز کرنے لگی تو آپ نے نفرت کا اظہار کیا اور فرمایا اس کے نتھنوں سے شیطان باجا بجاتا ہے۔ انصاف کیجیے روایت کا جو مفہوم عرض کیا گیا اس کے بعد اہل اشراق کے تمام اعتراضات پادرہوا ثابت ہوئے یا نہیں؟ گویا آپ کی ناپسندیدگی صرف اشعار ترنم سے پڑھنے پر نہیں، اس میں حد سے تجاوز کرنے اور پیشہ ور مغنیوں کی طرح اشعار پڑھنے پر ہے۔ بتلائیے اب کیا اشکال ہے؟

شیطان کی طرف انتساب اس کی شناعت کے لئے کافی ہے۔

حدیث میں گانے والی کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمانا: کہ اس کے نتھنوں میں شیطان باجا بجاتا ہے۔ پیشہ ورانہ غنا کی حرمت و شناعت کی ایک دلیل ہے مگر اربابِ اشراق فرماتے ہیں: عربی زبان کے استعمالات میں شیطان کا لفظ حرمت یا شناعت کے مفہوم میں صریح نہیں، روایتوں میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ نبی ﷺ نے بعض چیزوں کو شیطان کی نسبت سے بیان فرمایا: مگر اس سے آپ کا مقصود انھیں حرام یا شنیع قرار دینا ہرگز نہیں۔ (اشراق:ص56)

اس کے بعد انھوں نے بعض احادیث مبارکہ کے الفاظ نقل کیے جن میں بعض اعمال کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے ان اعمال کی وضاحت سے قبل یہ دیکھیے کہ [نفخ الشیطان] کا جو مفہوم اہل اشراق نے تاج العروس سے نقل کیا ہے اسی تاج العروس میں مشہور نحوی مفسر امام زجاج سے منقول ہے کہ [إن الشیء إذا استقبح شبہ بالشیطان] ”جب کسی چیز کی قباحت بیان کی جاتی ہے تو اسے شیطان سے تشبیہ دی جاتی ہے۔“ (تاج:ص294 ج 2)

اہل اشراق [نفخ الشیطان فی أنفہ] سے حرمت مراد نہیں لیتے تو نہ سہی لیکن شیطانی نسبت والے عمل کی کراہت و قباحت کو تسلیم کریں۔ اور اسے مباحاتِ فطرت میں شمار کرنے سے اجتناب کریں، شیطان عدو مبین ہے اس سے نسبت میں خیر کا کوئی پہلو نہیں۔ مسلمانوں کو تو اس سے اور اسے خوش کرنے والے اعمال سے بچنا ہی چاہیے۔ لیکن اگر کسی کے نصیب میں اسے خوش کرنے کا داعیہ سما جائے تو ہم اس کے بارے میں دعا ہی کر سکتے ہیں۔

جن اعمال کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ شیطان کی نسبت کے باوجود انھیں حرام یا شنیع قرار دینا ہرگز مقصود نہیں۔ ان میں ایک عمل جمائی لینا ہے۔ بخاری کی روایت ہے: [التثاؤب من الشیطان] حالانکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الادب میں یہ روایت [باب ما یستحب من العطاس وما یکرہ من التثاؤب] میں ذکر کر کے اس کی کراہت و شناعت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ ہی نے اس کے بعد یہ حدیث بھی ذکر فرمائی کہ [إن اللہ یحب العطاس ویکرہ التثاؤب] کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند اور جمائی کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ آپ ﷺ نے جمائی کی کراہت کی وضاحت بھی فرما دی کہ جب کسی کو جمائی آئے تو اسے حتیٰ الوسع روکنا چاہیے کیوں کہ جب کوئی جمائی لیتا ہے تو [ضحک منہ الشیطان] شیطان اس سے ہنستا ہے۔ (بخاری، کتاب الأدب، باب إذا تثاءب فلیضع یدہ علی فیہ، رقم: 6226)

اب جس عمل کو اللہ تعالیٰ ناپسند کریں شیطان اس سے خوش ہو، رسول اللہ ﷺ اسے روکنے کی تاکید کریں، ہر مسلمان کے ہاں تو وہ کام بہر حال شنیع، قبیح اور ناپسندیدہ مگر اہل اشراق کا شاید باوا آدم نرالا ہے کہ انھیں ایسے کام میں کوئی شناعت نظر نہیں آتی۔ اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے خصائص میں سے ہے کہ آپ کو کبھی جمائی نہیں آئی اور علامہ ابن العربی نے فرمایا کہ: [إن كل فعل مكروه نسبه الشرع إلى الشيطان] ”ہر مکروہ فعل کو شرع نے شیطان کی طرف منسوب کیا ہے۔“ (فتح الباری:ص614، ج2)

چوں کہ اہل اشراق لنگر لنگوٹ باندھ کر شریعت سازی کے لیے نکلے ہیں، اس لیے شاید انھیں ایسے اعمال میں کوئی کراہت و شناعت نظر نہیں آتی۔

اسی طرح ایک دوسری دلیل صحیح بخاری سے یہ دی کہ [الحلم من الشيطان] خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ حالانکہ یہاں الحلم سے مراد ہر خواب نہیں، نبی کریم ﷺ نے خود اس بات کی وضاحت فرمائی [الرؤيا الصادقة من الله والحلم من الشيطان] سچے خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جھوٹے خواب شیطان کی طرف سے ہیں۔ (بخاری، رقم: 6984)

گویا آپ نے سچے اور امورِ خیر پر مشتمل خوابوں کو ”رؤیا“ قرار دیا اور جھوٹ اور غلط امور پر مبنی خواب کو ”حلم“ سے تعبیر فرمایا۔ یہ تو اہل اشراق کی چابک دستی ہے کہ انھوں نے حدیث کے مکمل الفاظ نقل نہ کر کے ”حلم“ کے معنی خواب کر دیے مگر رسول اللہ ﷺ نے جس اسلوب میں اس کی وضاحت فرمائی اسے نظر انداز کر دیا۔ معلوم شد کہ اہل لغت عموماً رؤیا اور حلم کو مترادف کہتے ہیں مگر لغت کی کتابوں ہی میں تصریح ہے کہ: [فرق بينهما الشارع فخص الرؤيا لخير وخص الحلم بضده ويؤيده حديث الرؤيا من الله والحلم من الشيطان]

شارع علیہ السلام نے دونوں کے مابین فرق کیا ہے الرؤیا سے اچھے خواب اور ”حلم“ سے برے خواب مراد ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ فرق بیان کر دیا تو اس کے بعد بھی یہ فرق ملحوظ نہ رکھنا آخر کس بات کا آئینہ دار ہے؟ اس لیے ”حلم“ کو اگر شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے تو وہ صدق اور خیر کے مقابلے میں جھوٹ اور شر کی بنا پر ہے جو شیطانی صفات ہیں اور بہر حال بری ہیں۔ (تاج العروس:ص355 ج8)

اسی طرح ایک حدیث [العجلة من الشيطان] جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ (ترمذی: 2012، ص 149 ج 3 مع التحفہ) کے حوالے سے اہل اشراق نے نقل کی ہے، جس سے ان کا مقصد واضح ہے کہ جلد بازی کی شیطان کی طرف نسبت میں کوئی شناعت نہیں۔ حالانکہ یہاں بھی معاملہ پہلی حدیث کا سا ہے مکمل الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔ [الأناة من الله والعجلة من الشيطان] اطمینان و وقار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔

اللہ کی طرف منسوب عمل کے مقابلے میں جو عمل ہو گا وہ بہر نوع مذموم ہے محمود نہیں۔ جلد بازی ہمیشہ عواقب کو نظر انداز کر کے اختیار کی جاتی ہے اور انسان بالآخر پریشان ہوتا ہے، نیکی کے کام کی طرف جلد آنا اور نیکی کے کام فی نفسہ جلدی جلدی کرنا دونوں میں فرق ہے، پہلا محمود جب کہ دوسرا مذموم۔ اور جلدی جلدی پڑھی ہوئی نماز بھی غیر مقبول ہے۔ اہل اشراق اس حدیث کو اپنے مقصد کے لیے نقل کرنا بھی ہم جلد بازی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ مکمل روایت سامنے رکھ کر اطمینان سے غور و فکر کرتے تو اہل اشراق اسے اپنی تائید میں نقل نہ کرتے۔

اسی طرح ایک روایت (صحیح مسلم رقم:510) کے حوالے سے ہے کہ فرمایا گیا: [الكلب الأسود من الشيطان] کالا کتا شیطان ہے۔ ایک مؤمنِ صادق کے لیے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے تو یہ بالکل درست ہے۔ سیاہ کتے کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شیطان ہے تو اس میں شک کیا ہے؟ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حقیقت کی عقدہ کشائی کرتےہوئے لکھتے ہیں: [إن الكلب الأسود شيطان الكلاب والجن تتصور بصورته كثيرا وكذلك بصورة القط الأسود، لأن الأسود أجمع للقوى الشيطانية من غيره] سیاہ کتا، کتوں کا شیطان ہے۔ جن اکثر سیاہ کتے کی صورت بن جاتا ہے اسی طرح وہ سیاہ بلی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ سیاہ رنگ دوسرے رنگوں کے نسبت شیطانی قویٰ کے زیادہ اثر پذیر ہوتا ہے۔ (مجموع الفتاوى: ص52 ج19)

اسی کے سبب سیاہ کتے کو شیطان کہا گیا ہے۔

اہل اشراق نے اپنے دعویٰ پر ایک دلیل یہ بھی دی آپ ﷺ نے فرمایا: [إن المرأة تقبل صورة شيطان وتدبر في صورة شيطان] عورت شیطان کی صورت میں آتی اور شیطان کی صورت میں لوٹتی ہے۔ (مسلم، كتاب النكاح:1403)

اسی روایت کے بقیہ حصہ پر اگر اہل اشراق غور و تدبر فرما لیتے تو ان الفاظ کو معرضِ استدلال میں پیش نہ کرتے۔ آپ ﷺ نے اس کے متصل بعد فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے تو اپنی اہلیہ کے پاس چلا جائے، اس طرح اس کے خیالات دور ہو جائیں گے۔ حدیث کے یہ الفاظ ایک معاشرتی برائی کا حل ہیں۔ عورت کو آتے جاتے دیکھ کر جو شیطانی وساوس و خیالات پیدا ہوتے ہیں اس اعتبار سے آپ ﷺ نے عورت کے آنے جانے کو شیطان سے تعبیر فرمایا اور اس کا حل بھی بتلا دیا کہ جب کسی کے دل میں راہ چلتی عورت کو دیکھ کر وساوسِ شیطانی پیدا ہوں تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس جا کر اپنی خواہش پوری کرے۔ یوں شیطانی وسوسے سے انسان بچ جائے گا، یہی وجہ ہے کہ فی الجملہ احادیث میں سے اس حدیث سے بھی علمائے کرام نے استدلال کیا ہے کہ عورت کو بلا ضرورت مردوں کی مجلسوں میں نہیں آنا جانا چاہیے، بتلائے عورت کو آتے جاتے دیکھ کر شیطانی وساوس پیدا ہوں تو عورت اس سے بری الذمہ کیوں کر ہے؟ اور اسی حقیقت کو نفرت دلانے کے لئےشیطان سے تعبیر کرنا ناگوار کیوں ہے؟

ایک اور روایت ترمذی کے حوالے سے یہ بھی ذکر کی گئی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: [الراكب شيطان والراكبان شيطانان] ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں۔

یہ روایت ترمذی کے علاوہ موطأ امام مالک، ابو داؤد وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے الصحیحہ (رقم:62) میں ذکر کیا ہے۔ احادیثِ پاک میں اکیلے سفر کرنے کی ممانعت ہے اور یہ روایت بھی اسی تناظر میں ہے کہ ایک صاحب سفر سے واپس آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا کس کے ساتھ آئے ہو؟ اس نے عرض کیا میں اکیلا تھا میرے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ اسی کو مخاطب کر کے آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جن ہی نہیں، انسانوں میں سے بھی بعض کو شیطان قرار دیا ہے اور یہ حکم ان کی نافرمانی کی بنا پر ہے۔ علامہ المنذری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہاں بھی شیطان سے نافرمان مراد ہے، کیوں کہ جنگلوں اور صحراؤں میں اکیلے سفر کرنے سے آپ نے منع فرمایا۔ اب جو اس حکم کی مخالفت کرتا ہے تو اس بنا پر اسے شیطان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بتلائیے نبی کریم ﷺ کی مخالفت کرنے والا شیطان کا چیلا ہے یا نہیں؟

اسی حوالے سے اہل اشراق کی ذکر کردہ آخری روایت یہ ہے کہ نماز میں چھینک، جمائی، حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہے۔ یہ روایت ترمذی کے حوالے سے منقول ہے۔ یہ چوں کہ سنداً ضعیف ہے، ابو الیقظان عثمان بن عمیر اس کا راوی ضعیف، مختلط اور مدلس ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: [ضعيف واختلط وكان يدلس] (تقریب: ص355)

بلکہ علامہ البوصیری رحمہ اللہ نے تو کہا ہے: [أجمعوا على ضعفه] کہ اس کے ضعف پر سب محدثین کا اتفاق ہے۔ (مصباح الزجاجة: ص 353،190، ج1) اس لیے جب یہ حدیث ہی ضعیف ہے تو اس سے استدلال اہل علم کا شیوہ نہیں۔

ان روایات کی بنیاد پر یہ کہنا کہ بعض چیزوں کو شیطان کی نسبت سے بیان فرمایا گیاہے مگر اس سے مقصود انھیں حرام یا شنیع قرار دینا ہرگز نہیں، سراسر دھوکا اور حقائق سے بے خبری ہے۔ آپ پڑھ آئے ہیں کہ ان کی ذکر کردہ روایات میں شیطان کی نسبت سے جن اعمال وغیرہ کا ذکر آیا ہے کیا ان میں کراہت و شناعت بیان نہیں ہوئی؟ اللہ تعالیٰ نے شیطان اور شیطانی اعمال سے بہر نوع بچنے ہی کا حکم دیا ہے وہ اعمال حرام ہوں، مکروہ ہوں یا ان میں اور قباحت ہو، شیطان کی نسبت سے وہ قبیح ہی رہیں گے جائز اور فطری تقاضا قرار نہیں پائیں گے۔

رقص

موسیقی کی اشیائے ترکیبیہ اور اس کے لوازمات میں ایک رقص بھی ہے، اس لیے اربابِ اشراق نے اس کے ثبوت پر بھی بحث کی، جس کے جواب میں عرض کیا گیا تھا کہ اس استدلال کی بنیاد زفن کا لفظ ہے اور علامہ ابن درید نے (جمهرة اللغة: ص12 ج3) میں فرمایا ہے: کہ زفن [شبیہ بالرقص] رقص کی طرح حرکت کرنے کا نام ہے۔ تقریباً یہی معنی ہم نے علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ اور علامہ نووی رحمہ اللہ وغیرہ سے نقل کیے کہ اس کے معنی اچھلنے، کودنے کے ہیں، اور یہ بھی عرض کیا کہ زفن کے معنی یہاں رقص کرنا درست نہیں؟ جس کے جواب میں اہل اشراق نے فرمایا ہے کہ یہ کہنا کہ زفن کے معنی رقص نہیں اچھلنے اور پاؤں اوپر نیچے کرنا ہے، یہ اسی طرح کی بات ہے کہ کوئی شخص کہے کہ تناول کرنے کے معنی کھانے کے نہیں بلکہ کوئی چیز منہ میں ڈال کر چبانے اور نگل لینے کے ہیں۔ اس کے بعد لسان العرب وغیرہ سے زفن کے معنی رقص نقل کیے ہیں۔ (اشراق:ص 58-59)

ہم اہل اشراق کی ”ادبی خدمات“ کے معترف ہیں، مگر کسی پیرایۂ بیان سے حقائق نہیں بدلا کرتے، ایک ہے زفن کے معنی رقص یا رقص کی طرح اچھلنا اور ایک ہے زیرِ بحث روایات میں اس کے معنی، زفن کے معنی رقص کی طرح اچھلنا، ہم نے اپنی طرف سے نہیں کیے، اس کا باقاعدہ ہم نے حوالہ دیا اور حدیث کے معنی بھی شارحینِ حدیث سے نقل کر دیے۔ اور اسی بنا پر عرض کیا گیا کہ ان روایات میں اس ”زفن“ کا مظاہرہ مسجد میں ہوا، اگر اس کے معنی ”رقص“ ہی ہیں تو اس ”فنِ رقص“ کا مظاہرہ مسجدوں میں ہونا چاہیے اور انھیں معاذاللہ (Dancing club) قرار دینا چاہیے، مگر اسے تو اہل اشراق جذباتیت پر محمول کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں، مگر غور نہیں کرتے کہ اگر یہ موسیقی اور رقص مباحاتِ فطرت میں سے ہیں تو ان کے مساجد میں مظاہرے کی ممانعت کی کون سی دلیل ہے؟ بلکہ اہل اشراق کے استدلال کے مطابق تو دلیل مساجد میں جواز کی ہے، پھر اس میں جذباتیت کی کون سی بات ہے؟ جب موسیقی کو مباحاتِ فطرت آپ نے قرار دے دیا تو یہ فتویٰ بھی صادر فرما دیجیے تا کہ مسجدوں سے بھی ”روشن خیالی“ کی دلیل آپ اہل مغرب کو دے سکیں۔

یہاں یہ بات مزید غور طلب ہے کہ ”زفن“ کو جو [شبیہ بالرقص] رقص کی طرح حرکت کرنا کہا گیا ہے یہاں معاملہ مشبہ اور مشبہ بہ کا ہے اور اس حقیقت سے ادب کا ادنیٰ طالب علم واقف ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مغایرت ہوتی ہے۔ لیکن اہل اشراق اپنی تمام تر لن ترانیوں کے ان دونوں کو ایک باور کرانے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔

تناول کرنا، کھانا اور کسی چیز کو چبا کر نگلنا ایک حقیقت کی ادائیگی کے تین انداز ہیں ان میں مغایرت نہیں پائی جاتی۔ جبکہ ”رقص“ اور ”شبیہ بالرقص“ میں مغایرت ہے ورنہ رقص جیسا یا رقص کی طرح کہنا محض تکلف ہے۔ نیز لسان میں اگر ”زفن“ کو رقص کہا گیا ہے تو کیا اسی میں شبیہ بالرقص بھی ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ بھی لکھا ہے: [أصل الزفن اللعب] کہ زفن اصل میں کھیل ہے اسی بنیاد پر شارحین نے اس کے معنی کھیل اور اچھلنا کودنا، مراد لیے ہیں۔ اس لیے ”زفن“ کے معنی رقص بلکہ ماہرین فن کا رقص کرنا اہل اشراق کا تجدد ہے اور [سبیل المؤمنین] سے انحراف ہے۔

اہل اشراق نے لکھا تھا کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہر فن مغنی اور مغنیات اور رقاص اور رقاصائیں عرب میں موجود تھیں اور نبی کریم ﷺ ان کے فن سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی اس جسارت پر ہم نے عرض کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کو ماہرین فن کے غنا اور پیشہ ور رقاصاؤں کے رقص سے ”لطف اندوز“ ہونے کا علی الاطلاق جو ثبوت انھوں نے پیش کیا، وہ ان کی کج بحثی بلکہ کج فہمی کا نتیجہ ہے، جس کے جواب میں اہل اشراق فرماتے ہیں: یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ہم نے رقص و موسیقی یا دیگر فنونِ لطیفہ کی طرف نبی ﷺ کے ذاتی میلان کا کوئی تاثر ظاہر نہیں کیا، روایتوں میں بعض فنونِ لطیفہ کا ذکر اگر آپ کی نسبت سے آیا بھی ہے تو ان سے فقط ان فنون کی اباحت معلوم ہوتی ہے، پسندیدگی اور اشتغال کا ادنیٰ درجہ بھی کوئی تاثر نہیں ہوتا۔ (اشراق:ص59)

عذرِ گناہ بدتر از گناہ

ہماری معروضات کے بعد اہل اشراق کی یہ معذرت اور وضاحت گو قابلِ ستائش ہے مگر یہ بات انھوں نے (میری مراد منظور الحسن صاحب ہیں) شاید اپنے دفاعی تبصرے کے حوالے سے کہی ہے۔ جہاں تک جناب غامدی صاحب کے افادات کے افادات سے متعلقہ بات ہے اس میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

اس روایت سے بات واضح ہوتی ہے کہ نبی ﷺ فنِ موسیقی کو اصلاً باطل نہیں سمجھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو آپ اس پیشہ ور مغنیہ کو ٹوک دیتے یا کم از کم سیدہ رضی اللہ عنہا کو اس کا گانا ہرگز نہ سننے دیتے، بعض دوسری روایتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماہر فن مغنی اور مغنیات اور رقاص اور رقاصائیں عرب میں موجود تھیں اور نبی ﷺ ان کے فن سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ (اشراق: ص33 مارچ2004ء)

اس کے بعد ترمذی اور بیہقی کی روایات ذکر کی ہیں جن میں ذکر ہے کہ حبشیہ نے ”رقص“ کیا، مدینہ کے بچے اس کے اردگرد کھڑے دیکھ رہے تھے آپ نے بھی اس کا ”رقص“ دیکھا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دکھایا، اور روایات کے اختتام پر اشراق نے لکھا: حبشہ کے غلام اور لونڈیاں رقص اور موسیقی کے فن کی مہارت رکھتے تھے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حبشی مردوں اور عورتوں نے نبی ﷺ کی موجودگی میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور آپ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ (اشراق: ص35 مارچ2004ء)

ان دونوں عبارتوں کے بعد بھی اگر اہل اشراق فرماتے ہیں: کہ ہم نے رقص و موسیقی کی طرف نبی ﷺ کے ذاتی میلان کا کوئی تاثر ظاہر نہیں کیا۔ تو نا معلوم تاثر کس بلا کا نام ہے۔

① کیا آپ نے سیدہ رضی اللہ عنہا کو ”رقص“ دیکھنے کی پیش کش نہیں کی؟

② کیا آپ نے اور سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ”رقص“ نہیں دیکھا؟

③ کیا بچے بھی ”رقص“ نہیں دیکھ رہے تھے؟

④ کیا آپ نہیں فرماتے کہ وہ ماہر فن رقاصہ اور مغنیہ تھی؟

⑤ کیا سب کے سامنے اس نے فن کا مظاہرہ نہیں کیا؟

⑥ کیا آپ نے کسی قسم کی اس پر نکیر کی؟

جب یہ سب باتیں اہل اشراق کے ہاں مسلمہ ہیں تو پھر اب انکار کس بات کا؟ اہل اشراق بڑی ہوشیاری سے الفاظ کی مینا کاری کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے موسیقی وغیرہ کو اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا۔ آپ کی نسبت سے فقط ان فنونِ لطیفہ کی اباحت معلوم ہوتی ہے پسندیدگی اور اشتغال کا ادنیٰ درجے میں بھی تاثر نہیں ہوتا۔ (اشراق:ص59)

گویا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ مشغول تو آپ ﷺ عبادت و اطاعت میں رہتے تھے، لیکن بطورِ اباحت کبھی کبھی آپ نے یہ ”شوق“ بھی پورا فرمایا۔ (استغفراللہ)

قابلِ غور نکتہ یہ ہے: کہ اس اباحت کے طور پر سنے گئے گیت، ماہرین فن رقاص اور رقاصاؤں کے فن کا جو نظارہ آپ ﷺ نے کیا، وہ لطف اندوز ہونے کے لئے کیا تھا، یا اس پر نکیر کی تھی؟ نکیر کو تو آپ کسی دائرہ میں تسلیم نہیں کرتے، اور اب بڑی ہوشیاری سے فنونِ لطیفہ کی پسندیدگی کا انکار کر رہے ہیں جب کہ اس سے قبل فرما چکے ہیں: عام عورتوں اور بچوں اور مغنیات نے دف بجا کر استقبالیہ نغمے بھی گائے، جنھیں نبی ﷺ نے پسند فرمایا۔ (اشراق: ص26 مارچ2004ء)

بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ: گانا اور آلاتِ موسیقی اگر فی نفسہ باطل ہوتے تو آپ نہ صرف یہ کہ پسندیدگی کا اظہار نہ کرتے بلکہ اس سے منع بھی فرماتے۔ (اشراق: ص46 مارچ2004ء)

غور فرمائیے: کیا آپ ﷺ کے بارے میں آلاتِ موسیقی اور گانے کی ”پسندیدگی“ کا اعتراف ہے یا نہیں؟ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ آپ کی نسبت ”پسندیدگی“ اور اشتغال کا ادنیٰ درجے میں بھی تاثر نہیں ہوتا۔ بلکہ آگے بڑھ کر یہ بھی کہ: منصبی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی ذات کی حد تک ان سے بالعموم گریز ہی کا رویہ اختیار کیا۔ (اشراق: ص60)

حالاں کہ قبل ازیں ایک روایت کے خود ساختہ مفہوم کی بنا پر یہ بات بھی کہی گئی کہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور خود نبی ﷺ کے گانا سننے کے عمل کو کیا معنی پہنائے جائیں گے؟ (اشراق: ص34 مارچ2004ء)

جب آپ نے بالعموم گریز کی راہ اختیار کی تو جن روایات کی بنیاد پر اہل اشراق اباحت کا فتویٰ صادر فرما رہے ہیں ان میں آپ کے معمولات کو تو ”پسندیدگی“ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور اسے اباحت کی دلیل قرار دیا جاتا ہے، لیکن اب جب ”پسندیدگی“ کا انکار ہے تو اباحت کیسے ثابت ہوئی؟

عجب مشکل میں پڑا ہے سینے والا چاک داماں کا

جو یہ ٹانکا تو وہ ادھڑا جو وہ ٹانکا تو یہ ادھڑا

چلئے اب اہل اشراق نے نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی کے بارے میں جس حقیقت کو تسلیم کیا ہم اسے خوش آئند تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کے یہ معنی بھی قطعاً نہیں کہ مدینۂ طیبہ میں موسیقار اور پیشہ ور مغنی اور مغنیات موجود تھے، محفلِ موسیقی جمتی تھی اور فن کار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس میں شامل ہوتے اور انھیں داد و تحسین دیتے تھے۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے اس باطل تصور کی تردید کی ہے، فرماتے ہیں: [إن الغناء المطرب لم يكن من عادة النبي ﷺ ولا فعل بحضرته ولا اتخذ المغنيين ولا اعتنى بهم، فليس ذلك من سيرته ولا سيرة خلفائه من بعده ولا من سيرة أصحابه ولا عترته فلا يصح بوجه نسبته إليه ولا أنه من شريعته]

کہ غنا نبی کریم ﷺ کی عادت نہ تھی، نہ ہی آپ کی موجودگی میں یہ کام کسی نے کیا، نہ گانے والے بلائے گئے، اور نہ ہی اس کا کوئی اہتمام کیا گیا، اس لیے غنا آپ کا طریقہ نہیں، نہ آپ کے بعد آپ کے خلفاء کا ہے نہ ہی دوسرے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے نہ ہی آپ کی آل اولاد کا، اس لیے آپ کی طرف غنا کی نسبت صحیح نہیں، نہ ہی یہ آپ کی شریعت ہے۔ (کف الرعاع: ص280)

یہ بات علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے کف الرعاع (ص:289) میں امام ابو القاسم الدولقی سے نقل کی، اور اسی حقیقت کا اظہار شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموعۃ الرسائل الکبریٰ (ص 299 ج 2) میں فرمایا ہے۔ لہٰذا موسیقی شغل نہ نبی ﷺ کا پسندیدہ ہے اور نہ ہی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کا۔

خوش الحانی کی تحسین

اہلِ اشراق نے اسی عنوان کے تحت صحیح بخاری کی ایک حدیث نقل کی کہ آپ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی تلاوتِ قرآن پاک سن کر فرمایا کہ تجھے تو آلِ داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز دیا گیا ہے، اور اس سے استدلال کیا کہ اس روایت میں ”مزامیر آلِ داؤد“ کے الفاظ مثبت انداز سے استعمال فرمائے ہیں، اور ان سے بائبل کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضرت داؤد، اللہ کی حمد و ثنا کے لئے آلاتِ موسیقی استعمال کرتے تھے، ان کے اسی استدلال پر ہم نے جو معروضات پیش کیں ان کو نقل کرنے کی بجائے یہ دیکھیے کہ ان کے بارے میں اہل اشراق کیا فرماتے ہیں۔ چنانچہ کہا گیا ہے:

اولاً: ہم نے کہاں بیان کیا کہ نبی ﷺ کی مذکورہ تحسین آمیز کلمات سے مراد خوش الحانی نہیں بلکہ مزمار (ساز) ہے، ہم نے تو اس روایت کا عنوان ہی ،،خوش الحانی کی تحسین،، قائم کیا اور صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ نبی ﷺ خوش الحانی کو پسند فرماتے تھے، یہ نہیں لکھا کہ نبی ﷺ مزامیر یا آلاتِ موسیقی کو پسند فرماتے تھے۔ الخ (اشراق: ص61)

”خوش الحانی کی تحسین“ کا عنوان ہماری نگاہ سے اوجھل نہیں، لیکن جو نتیجہ اس روایت سے نکالا ہمیں اس بارے میں تأمل ہے، کیا یہ نہیں کہا گیا کہ: نبی ﷺ نے تلاوت میں غنا کو پسند فرمایا، آپ نے خوش الحانی سے تلاوتِ قرآن کو ساز سے تعبیر کیا، آپ نے مثبت انداز سے قومِ داؤد کے سازوں کا ذکر کیا۔ (اشراق: ص37 مارچ2004ء)

غور فرمائیے! پہلے حضرت ابو موسیٰ کی تلاوت کو ”غنا“ سے تعبیر کیا اور ”غنا“ سے اہل اشراق کی کیا مراد ہے اس کے لئے اشراق (ص 39تا41 مارچ 2004ء) کے صفحات دیکھ لیں وہ اس سے بہر نوع موسیقی اور معروف گانا ہی مراد لیتے ہیں۔ جب کہ تمام فقہائے کرام ”غنا“ سے تلاوتِ قرآن کی اجازت نہیں دیتے۔ ”غنا“ پر ہی اکتفا نہیں بلکہ یہ بھی فرمایا گیا کہ آپ نے خوش الحانی سے تلاوت کو ”ساز“ سے تعبیر کیا، اور مثبت انداز میں قومِ داؤد کے سازوں کا ذکر فرمایا، کیا ”ساز“ آلۂ موسیقی نہیں؟ ”غنا اور ساز“ کا اتفاق کس بات کا غماز ہے؟ اس پر مستزاد یہ ہے کہ کہا گیا: ”مزامیرِ آلِ داؤد“ کہہ کر ”آپ نے بائبل کی روایات کی تائید کر دی کہ وہ حمد و ثنا کے لئے آلاتِ موسیقی استعمال کرتے تھے“ ”ساز“ کا لفظ گویا ”آلاتِ موسیقی“ کا آئینہ دار ہے، مگر افسوس کہ اس کے باوجود بڑی دلیری سے کہا جاتا ہے کہ ہم نے کہاں کہا ہے کہ ”نبی ﷺ کے مذکورہ تحسین آمیز کلمات سے مراد خوش الحانی نہیں بلکہ مزمار ’ساز‘ ہے“ ”خوش الحانی“ کے جال میں جو شکار آپ کھیلنا چاہتے ہیں اسے اگر ہم نے تشت از بام کر دیا ہے تو اس سے آپ چیں بہ جبیں کیوں ہیں؟

تلاوتِ قرآن کو موسیقی مزاج جب ”ساز“ قرار دیں اور ”آلاتِ موسیقی“ کے عنوان سے ثابت کریں کہ خوشی کی تقریب میں آلاتِ موسیقی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ بائبل سے دلیل لائیں کہ حضرت داؤد حمد و ثنا کے لئے آلاتِ موسیقی استعمال کرتے تھے، ان مقدمات کے بعد بھی وہ اگر کہیں کہ ہم نے یہ نہیں لکھا کہ ”نبی ﷺ مزامیر یا آلاتِ موسیقی کو پسند فرماتے تھے۔“ تو یہ ان کی سادہ لوحی بلکہ ہوشیاری ہے۔ ”کیا اسلام اور موسیقی“ کی اس ساری بحث میں انھوں نے بالکل نہیں لکھا آپ ﷺ آلاتِ موسیقی کو پسند فرماتے تھے۔ جب امرِ واقع یہ ہے کہ وہ پہلے لکھ چکے ہیں ”گانا اور آلاتِ موسیقی اگر فی نفسہ باطل ہوتے تو آپ نہ صرف یہ کہ پسندیدگی کا اظہار نہ کرتے بلکہ اس سے منع بھی فرماتے۔ (اشراق: ص46 مارچ2004ء)

اس کے بعد یہ کتنی سادہ لوحی ہے کہ ہم نے ”خوش الحانی کی تحسین“ کا عنوان دیا ہے۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا کہ اس عنوان کے تحت موسیقی مزاج لوگوں کا استدلال جن خطوط پر ہے وہ کیا ہیں؟ یہ تو ہم نے عرض کیا کہ ”مزامیر“ سے مراد خوش الحانی ہے، مگر وہ اسے ”ساز“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ بلکہ تلاوتِ قرآن کو ”غنا“ کا نام دیتے ہیں۔ اس کے باوجود فرماتے ہیں ہم نے عنوان تو ”خوش الحانی کی تحسین“ رکھا ہے۔ معاف کیجیے! شراب کی بوتل پر شربت کا لیبل لگانے سے شراب، شربت نہیں بن جاتی۔ آپ ”غنا“، ”ساز“ سے آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ اہل اشراق اپنے ”علم و فضل“ کے باوجود خوش الحانی کو ”ساز“ قرار دیں مگر لغت بدل دینے کا الزام اس فقیر پر عائد کریں تو ہم اس کے بجز اور کیا کہہ سکتے ہیں:

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

ایک اور حیلہ بازی

اہلِ اشراق کی ایک اور حیلہ بازی دیکھیے، کہ مزامیر اور آلِ داؤد کے الفاظ کے استعمال سے نبی ﷺ نے گویا سیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی قوم کے بارے میں بائبل کی ان روایات کی تصدیق فرما دی جن کے مطابق وہ اللہ کی حمد و ثنا کے لئے آلاتِ موسیقی استعمال کیا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے اس استدلال کو بڑا سادہ قرار دیا اور فرمایا یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے نبی ﷺ نے فرمایا: کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو میں اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دوں اس روایت کی بنا پر اگر یہ کہا جائے کہ نبی ﷺ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ کرۂ ارض پر احد نام کا پہاڑ پایا جاتا ہے تو یہ غلط نہ ہو گا مزامیرِ آلِ داؤد کے الفاظ سے ہمارے استدلال کو ایسے ہی سمجھنا چاہیے۔ (اشراق:ص61)

عجیب بات ہے کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ ہم نے کہاں کہا ہے کہ نبی ﷺ کے مذکورہ تحسین آمیز کلمات سے مراد خوش الحانی نہیں بلکہ مزمار ’ساز‘ ہے، مگر دوسری طرف کہا گیا کہ مزامیر آلِ داؤد کے الفاظ نے گویا سیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی قوم کے بارے میں بائبل کی روایات کی تصدیق کر دی جن کے مطابق وہ اللہ کی حمد و ثنا کے لیے آلاتِ موسیقی استعمال کرتے تھے۔ ایک طرف ’مزامیر آلِ داؤد‘ سے ساز کی نفی کر کے خوش الحانی مراد لی جاتی ہے، دوسری طرف انھی لفظوں سے بائبل کی تصدیق سمجھی جاتی ہے جس میں ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام حمد و ثنا کے لئے آلاتِ موسیقی استعمال کرتے تھے۔ بتلائیے اسے تضادِ فکری کہیں یا حواس باختگی کا نتیجہ سمجھیں۔

ہمیں بتلایا جائے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی سے تورات کے اس بیان کی تائید کیسے ہو گئی؟ کہ اے خداوندمیں تیرے لیے نیا گیت گاؤں گا، دس تاروں والی بربط پر میں تیری مدح سرائی کروں گا۔ (زبور: 9/144، اشراق: ص13 مارچ2004ء) کجا خوش الحانی، کجا دس تاروں والی بربط۔

ثانیاً: یہ کیوں کر معلوم ہوا کہ کتابِ مقدس کا یہ بیان محفوظ، اور احد پہاڑ کی طرح ثابت شدہ حقیقت ہے، اور کتابِ مقدس تحریف سے پاک ہے؟ ممکن ہے کہ اہل اشراق اپنے اصول کے مطابق کہیں کہ قرآن کا صوتی آہنگ موسیقی کے جواز کا اشارہ ہے کیوں کہ موسیقی ظاہر ہے کہ آواز اور الفاظ کے آہنگ ہی کی ایک صورت ہے۔ اور اسی کا ذکر تورات میں ہے۔ جو اس بات کا قرینہ ہے کہ تورات کا بیان محفوظ ہے حالانکہ کہاں قرآنِ پاک کا صوتی آہنگ اور کہاں تاروں والی بربط، ڈھول، بینڈ، باجے کے ساتھ قرآن یا حمد و نعت کا پڑھنا، کہاں مغنی اور مغنیات کی محفلیں جس کے جواز کی سند اہل اشراق دے رہے ہیں اور کہاں خوش الحانی سے شعر خوانی، قرآن میں صرف خوش الحانی سے حمد و ثنا کا ذکر ہے ”دس تاروں والی بربط“ کا قطعاً نہیں۔ جس کی بنیاد پر اہل اشراق آلاتِ موسیقی کا جواز ڈھونڈ رہے ہیں، ہماری اس وضاحت سے اہل اشراق کا احد پہاڑ کی مثال ذکر کرنے کا بودا پن بھی آپ سے آپ ظاہر ہو جاتا ہے۔

موسیقی کے جواز پر جو تبصرہ ہم نے کیا تھا اس پر تنقید کا جائزہ قارئین کرام کے پیشِ خدمت ہے۔ آئندہ ہم موسیقی کی حرمت کے دلائل پر ان کی تنقید کا جائزہ پیش کریں گے۔

[إن شاءالله وما توفيقي إلا بالله العلي العظيم]