قبر پرستوں کا حج اکبر اور قبروں کے سفر کی بدعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

قبر پرستوں کا مقصد زیارت

قبروں، قبوں اور اہم جگہوں کی طرف سفر کرنے کی جو تفصیل سابقہ صفحات میں گزری ہے وہ مشرکین کے ہاں حج کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ عقیدہ ایسا ہے جو متقدمین اور متاخرین کے ہاں لفظاً و معنیً معروف ہے۔ کیونکہ قبر کے پاس جانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہاں خشوع و خضوع اور عجز و انکساری سے مخلوق اللہ سے دعا کی جائے۔ جیسے ایک سچا مسلمان موحد شخص کا عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ بیت اللہ میں حاضر ہو کر نہایت خشوع و خضوع سے رب کریم سے دعا و التجا کرے گا۔
❀ قرآن کریم میں ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ ‎﴿١٦٥﴾‏
”کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسی اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے۔ حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔“
(2-البقرة:165)

قبر پرستوں کا حج اکبر

گمراہ بدعتی اور انحرافی گروہ اپنے ائمہ، شیوخ اور پیروں کی قبروں اور مشاہد کا سفر کرنے نکلتے ہیں تو ان کا پیش رو دعوت عام دیتے ہوئے کہتا ہے کہ آؤ ”حج اکبر“ کو چلیں۔ اور پھر اس کا نام ”حج اکبر“ رکھتے ہیں اور اس سفر میں ایک خاص قسم کا جھنڈا بھی اٹھائے ہوتے ہیں، جس کا خاص طور پر اعلان بھی کرتے ہیں۔ جیسے مسلمان موحد حج بیت اللہ کا قصد کرتے ہوئے ایک خاص نشان اپنے ہمراہ رکھتے ہیں۔

قبر پرستوں کا علم در تعلم

ان بدعتی گروہوں کی گمراہی یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اعلان ہوتا ہے کہ آؤ حج اکبر کی ادائیگی کے لیے بغداد چلیں۔ یہ لوگ قبروں کی طرف سفر کرنے کو حج اکبر قرار دیتے ہیں۔ لیکن حج بیت اللہ کو حج اصغر کہتے ہیں۔ اس کا ذکر ان کے جاہل پیروں کی کتب میں مذکور ہے۔ حتیٰ کہ اس قسم کے اشعار بھی ان کی کتب میں موجود ہیں:
”وحق النبى الذى تحج المطايا إليه“