نفل روزہ، نذر، رؤیت ہلال، شک کے دن اور روزے کی نیت کے مسائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

نفل روزے کی نیت کب کی جائے؟

جواب:

نفل روزہ کی نیت طلوع فجر کے بعد بھی کی جا سکتی ہے، بلکہ طلوع آفتاب کے بعد بھی کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ طلوع فجر کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو اور نہ ہم بستری کی ہو۔

سوال:

نذر کے روزے کی نیت کب کی جائے؟

جواب:

نذر کا روزہ واجب ہے، اس کی نیت طلوع فجر سے پہلے کرنا ضروری ہے۔

سوال:

ہندو کے پانی سے روزہ کھولنا کیسا ہے؟

جواب:

پانی پاک ہے تو کھولا جا سکتا ہے۔

سوال:

ثقہ لوگوں نے چاند دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہیں، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

ثقہ کی گواہی ماننا ضروری ہے۔ جنہوں نے روزہ نہیں رکھا، انہوں نے شرعی حکم کی خلاف ورزی کی۔

سوال:

چاند دیکھنے کے لیے مائیکروسکوپ یا جدید آلات کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہونا چاہیے، مگر رؤیت وہی معتبر ہوگی جو بصری ہو، یعنی آنکھ سے دیکھنے کے لیے جدید وسائل کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

سوال:

کیا بیوی نفلی روزہ شوہر کی اجازت کے بغیر رکھ سکتی ہے؟

جواب:

بیوی نفلی روزہ شوہر کی اجازت کے بغیر نہیں رکھ سکتی۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل للمرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه
”کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے۔“
(صحيح البخاري: 5195، صحيح مسلم: 1026)
❀ علامہ ابن عطار رحمہ اللہ (724ھ) فرماتے ہیں:
قد اتفق العلماء على أن المرأة لا يحل لها صوم التطوع وزوجها حاضر إلا بإذنه
”اہل علم کا اتفاق ہے کہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھے۔“
(العدة في شرح العمدة: 2/874، التوضيح لابن الملقن: 13/367)

سوال:

شک کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

شک کا روزہ رکھنا درست نہیں۔ اس بارے میں روایت ضعیف ہے۔

سوال:

درج ذیل روایت کا کیا حکم ہے؟
لا يصام يوم الشك إلا تطوعا
”شک والے دن کا (فرض) روزہ نہیں، البتہ نفلی روزہ رکھ سکتے ہیں۔“

جواب:

بے اصل روایت ہے۔
❀ حنفی علما نے بھی اسے بے اصل قرار دیا ہے۔
(درر الحكام لملا خسرو: 1/198، تبيين الحقائق للزيلعي: 1/318، فتح القدير لابن الهمام: 2/496، الدر المختار للحصكفي، ص 143، مجمع الأنهر لشيخي زاده: 1/234، حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 738)

سوال:

روزے کی حالت میں منجن کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

روزہ کی حالت میں سر میں تیل جذب کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

روزہ میں رومال بھگو کر سر پر ڈالنا کیسا ہے؟

جواب:

کوئی حرج نہیں۔

سوال:

کیا روزہ دار پانی میں غوطہ لگا سکتا ہے؟

جواب:

غوطہ لگا سکتا ہے، البتہ یہ احتیاط کرے کہ پانی منہ یا ناک کے ذریعہ پیٹ میں داخل نہ ہو۔