روزہ توڑنے، نیت، سفر، بھول کر کھانے اور رمضان کے عمرہ کے مسائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

جان بوجھ کر فرض روزہ توڑنے پر قضا ہے؟

جواب:

بغیر عذر کے جان بوجھ کر فرض روزہ توڑنے پر قضا ہے، کفارہ نہیں ہے۔ مرض یا سفر کی وجہ سے روزہ افطار کر دے تو دوسرے دنوں میں قضا دے گا، جس نے جان بوجھ کر افطار کیا وہ بالا ولی قضا دے گا، نیز توبہ کرے گا۔

سوال:

رمضان میں عمرہ کرنے کی کیا فضیلت ہے؟

جواب:

رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔
(صحيح مسلم: 3037)
یاد رہے کہ یہ برابری ثواب میں ہے۔ رمضان میں عمرہ کرنے سے صاحب نصاب سے فرضیت ساقط نہیں ہوتی، بلکہ اگر وہ صاحب حیثیت ہے تو اس پر حج بدستور فرض ہی رہے گا، تا آنکہ وہ حج ادا کر لے۔

سوال:

کیا ہر روزے کے لیے نیت ضروری ہے؟

جواب:

نیت ہر عمل کے لیے ہے، نیت دل کا عمل ہے۔

سوال:

کیا رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں زکوۃ نکال سکتے ہیں؟

جواب:

جی ہاں۔

سوال:

رمضان میں مریض یا مسافر سفر میں نفل روزے کی نیت کرے تو وہ روزہ نفل ہو گا یا فرض؟

جواب:

ماہ رمضان میں نفل روزے کی نیت کرنا جائز نہیں۔ مریض یا مسافر کو چاہیے کہ اگر روزہ رکھنا چاہتا ہے تو فرض روزے کی نیت کرے اور بعد میں اگر روزہ مکمل کرنا دشوار ہو تو توڑ سکتا ہے، اس پر کفارہ یا گناہ نہیں، صرف قضا واجب ہے۔

سوال:

جو روزے کی حالت میں بھول کر کھا پی لے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، یاد آنے کے بعد اسے چاہیے کہ کھانے پینے سے رک جائے اور روزہ مکمل کرے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أكل ناسيا أو شرب ناسيا فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه
”جس نے بھول کر کھا لیا یا پی لیا، وہ اپنا روزہ مکمل کرے، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے۔“
(صحيح البخاري: 6669)