قبروں کا حج :
ائمہ کرام ہی ایک ایسی جماعت ہے جنہوں نے فرمان رسول اور دیگر اقوال میں فرق واضح کیا۔ پس رسول اللہ جس کام کا حکم فرما دیں وہ عبادت، اطاعت اور قرب الہی کا ذریعہ ہوگا ۔ اور جس کام سے منع فرما دیں وہ بسا اوقات شرک تک لے جاتا ہے اور جیسے گمراہ فرقے مشرکین اور اہل کتاب وغیرہ کر رہے ہیں۔ جیسے انبیاء کرام اور صالحین امت کی قبور پر مساجد تعمیر کرتے ہیں وہاں نماز پڑھتے اور نذریں مانتے ہیں اور بعض قبروں کا حج کرتے ہیں۔ بلکہ بعض تو قبروں کے حج کو بیت اللہ کے حج سے زیادہ افضل خیال کرتے ہیں، قبر کے حج کا نام ”حج اکبر“ رکھتے ہیں۔ ان کے بزرگوں نے اس موضوع پر کتب بھی لکھی ہیں۔ جیسے مفید بن نعمان نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ”مناسك المشاهد“ رکھا ہے۔ اس مصنف نے مخلوق کے گھر کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیا ہے حالانکہ اسلام یہ ہے کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کی مخلوق میں کسی کو بھی اس کا ہمسر، مد مقابل اور ہم نام قرار نہ دیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ۚ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا ﴿٦٥﴾
”پس تم اس کی بندگی کرو۔ اور اسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو۔ کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ؟“
(19-مريم:65)
وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
”اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔“
(112-الإخلاص:4)
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
”کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں۔ وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے“
(42-الشورى:11)
فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
”پس جب تم جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا یہ متقابل نہ ٹھہراؤ“
(2-البقرة:22)