رسول اللہ سب جن وانس کے لیے وسیلہ ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور اس کی اطاعت کرنا بندے کے درمیان وسیلہ ہے۔ ایمان اور اطاعت کے بغیر کوئی وسیلہ نہیں ہے جسے اختیار کیا جا سکتا ہو۔ اس وقت پوری مخلوق کا اللہ کے ہاں پہنچنے کا وسیلہ صرف یہ ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا جائے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے۔ انسان جہاں بھی ہو اسے ایمان بالرسول اور ان کی اطاعت کا حکم ہے البتہ جو عبادات کسی خاص مقام سے مختص ہیں وہ وہیں ادا کی جائیں اور جس وقت ادا کرنے کا حکم ہے جیسے جج روزہ اور جمعہ۔
رہا حجرہ مبارک تو شریعت میں اس کے اندرونی حصے کی کوئی حیثیت ثابت نہیں، چہ جائیکہ بیرونی حصے کو اس میں عبادت میں سے کسی چیز کو کوئی خصوصیت حاصل ہے اور نہ اس حجرہ میں ایسا کوئی کام کیا گیا۔ ائمہ اسلام کا اتفاق ہے کہ حجرہ مبارک سے دور رہنا اور قرب الہی کو حاصل کرنا افضل ترین اعمال سے ہے۔
رہی مسجد نبوی! تو قبر مکرم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہی سے اس کی فضیلت مسلم ہے۔ لہذا قبر مکرم کی وجہ سے مسجد کو کوئی فضیلت نہیں ہے۔
مولوی احمد رضا خان صاحب سے سوال کیا گیا کہ ”کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بوسہ دینا قبر اولیائے کرام اور طواف کرنا گرد قبر کے اور سجدہ کرنا تعظیماً از روئے شرع شریف موافق مذہب حنفی جائز ہے یا نہیں؟“
الجواب: بلاشبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اور بوسہ قبر میں علماء کو اختلاف ہے۔ اور احوط منع ہے۔ خصوصاً مزارات طیبہ اولیائے کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم از کم چار ہاتھ فاصلہ سے کھڑا ہو۔ یہی ادب ہے۔ پھر تکمیل کیونکر متصور ہے۔ (احکام شریعت ص 258 حصہ نمبر سوم مسئلہ نمبر :4 )
مندرجہ بالا تو اسی سے معلوم ہوا کہ قبر نبوی و مزارات اولیاء سے کم از کم چار ہاتھ دور کھڑا ہو۔ جب چار ہاتھ دور کھڑا ہوگا تو پھر قبر کو چومنا اس سے پڑنا اس کی جالیوں کو ہاتھ لگانا تو قطعاً ممکن نہیں۔