اسلام میں بچوں کے نام رکھنے کے اصول ، پسندیدہ اور ناپسندیدہ نام صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام کے شعبہ تصنیف و تالیف کی شائع کردہ کتاب ناموں کی ڈکشنری اور نومولود کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

پسندیدہ اور ناپسندیدہ نام

والدین اور خاندان کے سربراہوں پر لازم ہے کہ بچے کے لیے بامعنی خوبصورت اور دلکش نام کا انتخاب کریں جو ہر صاحب علم اور باشعور کو پیارا لگتا ہو کیونکہ ہمارے رہبر و رہنما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب دی ہے اور حکم بھی فرمایا ہے۔

❀ بہترین نام :

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أحب أسمائكم إلى الله عبد الله وعبد الرحمن
یقیناً تمہارے تمام ناموں میں سے دو نام عبد اللہ اور عبد الرحمن اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہیں۔
صحيح مسلم، الآداب، باب النهي عن التكنى. حديث : 2132 و سنن أبي داود الأدب، باب في تغيير الأسماء، حديث : 4949

❀ ناپسندیدہ اور مکروہ نام:

شریعت اسلامی ہر اعتبار سے پاکیزہ واضح اور شفاف ہے۔ اس نے جس طرح اپنے ماننے والوں کو دین و دنیا کے ہر شعبے میں ہمیشہ اچھے پہلو کی طرف ترغیب دی اور برے اخلاق بری عادات نازیبا حرکات اور غیر موزوں بات چیت سے نفرت دلائی ہے اسی طرح اس نے ایسے ناموں سے بھی بچنے کی تلقین کی ہے جو اسلامی شخصیت و وقار اور تہذیب و تمدن میں ایک داغ کی حیثیت رکھتے ہوں۔

❀ ناپسندیدہ اور مکروہ ناموں کی اقسام:

یہ ناپسندیدہ اور مکروہ نام چھ قسم کے ہو سکتے ہیں جنھیں ہم ذیل میں تفصیل کے ساتھ الگ الگ ذکر کریں گے۔
پہلی قسم: تربیت کرنے والوں پر لازم ہے کہ ایسے ناموں سے دور رہیں جو انتہائی قبیح اور برے ہوں جن سے آدمی کی عزت پر حرف آئے اس کی تکریم و تعظیم مجروح ہو اور جن کی وجہ سے وہ ہر وقت استہزاء اور تمسخر کا نشانہ بنتا رہے. اس بارے ميں حضرت عائشہ رضي الله عنها بيان كرتي ہيں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يغير الإسم القبيح
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برے نام تبدیل کر دیتے تھے۔
جامع الترمذى، الأدب، باب ماجاء في تغيير الأسماء حديث : 2839 و صحيح، انظر الصحيحة، حديث : 207
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أن ابنة لعمر كانت يقال لها عاصية، فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم جميلة
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک لخت جگر کا نام عاصیہ (نافرمانی کرنے والی) تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر جمیلہ (خوبصورت) رکھ دیا۔
صحيح مسلم، الآداب، باب استحباب تغيير الاسم. الحديث حديث : 2139 و جامع الترمذى، الأدب، باب ماجاء في تغيير الأسماء، حديث : 2838
امام ابوداود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل ناموں کو تبدیل کر دیا تھا: العاص (نافرمانی کرنے والا) عزیز (غالب/ اللہ کی صفت) عتلہ (سختی اور شدت) شیطان (ابلیس مردود) الحکم (فیصلہ کرنے والا اللہ کی صفت) غراب (خبیث پرندہ یا دوری) حباب (شیطان کا نام یا سانپوں کی ایک قسم)
اور شہاب (شعلہ چنگاری کا نام )ہشام (فیاضی و سخاوت) رکھا۔ حرب (جنگ وجدال کا نام) سلم (صلح و سلامتی) تجویز کیا۔ مضطجع (لیٹنے والے کا نام) منبعث (اٹھنے والا) پسند فرمایا۔ عفیرہ (بنجر زمین) آپ نے اس کا نام خضرہ (سرسبز و شاداب) رکھ دیا۔ شعب الضلالہ (گمراہی کی گھائی) آپ نے اس کا نام شعب الہدیٰ (رہنمائی کی گھائی) انتخاب فرمایا۔ بنو الزنا (زنا کی اولاد) کو بنو الرشدۃ (بھلائی والے) سے تبدیل کر دیا اور بنو مغویہ (گمراہی والے) کا نام بھی بنو رشدۃ سے بدل دیا۔
امام ابوداود فرماتے ہیں: میں نے اختصار کے پیش نظر ان تمام مذکورہ ناموں والی احادیث کی سندیں چھوڑ دی ہیں۔
سنن أبى داود الأدب، باب في تغيير الاسم القبيح، بعد حديث: 4956
دوسری قسم: ہر مومن کے لیے ایسے ناموں سے بچنا ضروری ہے جن سے نحوست و بدشگونی والے معانی ظاہر ہوتے ہوں تاکہ بچہ اس مصیبت سے محفوظ رہے جو اس نام کی بنا پر لوگوں کی طرف سے پیش آسکتی ہے کیونکہ وہ اس کو منحوس سمجھنے لگ جائیں گے۔ اس بارے میں ہم ذیل میں دو احادیث پیش کرتے ہیں۔
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں:
أن أباه جاء إلى النبى الله صلى الله عليه وسلم فقال : ما اسمك؟ قال: حزن، قال : أنت سهل، قال: لا أغير اسما سمانيه أبى ، قال ابن المسيب : فما زالت الحزونة فينا بعد
بلا شبہ ان کا باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس کا نام دریافت کیا۔ اس نے جواب دیا: میرا نام حزن (غم و پریشانی) ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنا نام سہل (آسانی سہولت) رکھ لے۔“ اس نے کہا: میں اپنے باپ کا رکھا ہوا نام تبدیل نہیں کر سکتا۔ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ اس کے بعد ہمارے گھرانے میں ہمیشہ غم واندوہ قلق و پریشانی اور بے چینی و اضطراب موجود رہا۔
صحيح البخارى، الأدب، باب اسم الحزن، حديث: 6190 و سنن أبي داود، الأدب، باب في تغيير الاسم القبيح، حديث : 4956
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن عمر بن الخطاب قال لرجل : ما اسمك؟ فقال جمرة، فقال ابن من؟ فقال : ابن شهاب، قال: ممن قال: من الحرقة، قال : أين مسكنك؟ قال : بحرة النار، قال بأيها ؟ قال : بذات لظى قال عمر : أدرك أهلك فقد احترقوا ، قال فكان كما قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: جمرہ (آگ کا انگارہ) پوچھا: تیرے باپ کا نام؟ اس نے کہا: شہاب (آگ کا شعلہ) پوچھا: قبیلے کا نام؟ کہا: حرقہ (آگ کا جلایا ہوا) پوچھا: رہائش گاہ کہاں ہے؟ کہا: حرۃ النار (دو آگ کا علاقہ) پھر پوچھا: رہائش گاہ والی وادی کا نام؟ کہا: ذات لظی (شعلے والی) حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تو پھر جاؤ اپنے اہل وعیال کی فکر کرو۔ آگ نے انہیں جلا کر راکھ بنا دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ واقعی اس کا گھر بار اور اہل و عیال جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا تباہی و بربادی کا نشانہ بن چکے تھے۔
موطأ إمام مالك الاستئذان، باب ما يكره من الأسماء، حديث : 1871
تیسری قسم: ان ناموں سے پرہیز کرنا چاہیے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات بابرکت کے ساتھ خاص ہیں لہذا [الااحد، الصمد، الخالق، الرزاق] وغیرہ نام رکھنے منع ہیں۔ ہاں! ان کے ساتھ شروع میں لفظ ”عبد“ لگا کر یہ نام رکھے جا سکتے ہیں۔
حضرت ہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إنه لما وقد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع قومه، سمعهم يكنونه بأبي الحكم، فدعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن الله هو الحكم وإليه الحكم، فلم تكنى أبا الحكم؟ فقال : إن قومي إذا اختلفوا فى شيء أتوني فحكمت بينهم فرضي كلا الفريقين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما أحسن هذا فمالك من الولد؟ قال : لي شريح ومسلم وعبد الله، قال: فمن أكبرهم؟ قال : قلت : شريح قال: فأنت أبو شريح
جب وہ (ہانی) اپنی قوم کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے سنا کہ لوگ ان کو ابو الحکم کی کنیت سے پکارتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: (الحکم) انصاف کے ساتھ صحیح فیصلے کرنے والا ،سب کا حاکم تو اللہ کا نام ہے اور اس کی طرف سے ہی تمام فیصلے قرار پاتے ہیں لہذا تو ابو الحکم کنیت کیوں رکھتا ہے؟ اس نے جواب دیا: میری قوم کے لوگ جب کسی مسئلہ میں اختلاف کرتے ہیں تو میرے پاس آتے ہیں، میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہوں تو دونوں فریق راضی ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کام تو بہت بہترین ہے (لیکن یہ کنیت مناسب نہیں۔) تمھاری اولاد کتنی ہے؟ اس نے کہا: میرے تین بچے شریح، مسلم اور عبد اللہ ہیں۔ آپ نے پوچھا: ان میں سے بڑا کون ہے؟ اس نے جواب دیا: شریح سب سے بڑا بیٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب سے تیری کنیت ابو شریح ہے۔
آداب القضاة، باب إذا حكموا رجلا فقضى بينهم، حديث : 5389 و الحديث صحيح انظر: الإرواء، حديث : 2615
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أغيظ رجل على الله يوم القيامة، وأخبثه وأغيظه عليه، رجل كان يسمى ملك الأملاك، لا ملك إلا الله
روز قیامت اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ بدترین اور خبیث شخص وہ ہوگا جو خود کو” ملك الاملاك“ یعنی شاہان شاہ یا شہنشاہ کہلواتا تھا کیونکہ تمام بادشاہوں کا بادشاہ تو صرف اللہ رب العزت کی مکرم و معظم اور جلیل القدر ذات ہے۔
صحیح مسلم، الآداب، باب تحريم التسمى بملك الأملاك ……. حديث : 2143
چوتھی قسم: ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ ایسے ناموں سے گریز کرے جن میں خوشحالی و برکت وغیرہ کا مفہوم ہو کیونکہ ایسے ناموں کے رکھنے میں یہ قباحت ہے کہ جب کسی دوسرے شخص سے اس نام والے کی بابت دریافت کیا جائے کہ کیا وہ شخص گھر میں ہے؟ اور اتفاقاً وہ شخص موجود بھی نہ ہو تو جواب میں کہا جائے گا نہیں۔ جیسے کہ پوچھا جائے کیا ”یسار“( آسانی) گھر میں ہے اور وہ موجود نہ ہو تو جواب ملے گا نہیں کہ ”یسار“ (آسانی) گھر میں نہیں اور یہ صورتحال خوشحالی کے خلاف ہے۔ اس قسم کے اور نام بھی ہیں جیسا کہ افلح (کامیاب) نافع (نفع والا) رباح (فائدے والا) نجیح (کامیابی والا) وغیرہ۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أحب الكلام إلى الله أربع: سبحان الله، والحمد لله، ولا إلٰه إلا الله، والله أكبر، لا يضرك بأيهن بدأت، لا تسمين غلامك يسارا، ولا رباحا، ولا نجيحا، ولا أفلح، فإنك تقول: أثم هو؟ فلا يكون، فيقول: لا، إنما هن أربع فلا تزدن علي
اللہ رب العزت کو چار کلمات [سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله اكبر ] بہت زیادہ محبوب اور پسند ہیں۔ تو ان میں سے جس کلمے کے ساتھ بھی ابتدا کرے گا اس کا تجھے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ تم اپنے بیٹے کا نام یسار، رباح نجیح اور افلح وغیرہ نہ رکھو کیونکہ اگر تمہیں کسی وقت ایسے نام والے کے بارے میں یہ دریافت کرنا پڑے کہ فلاں شخص مثل افلح (کامیاب) وہاں موجود ہے اور وہ وہاں موجود نہ ہو تو دوسرا شخص جواب میں کہے گا کہ (افلح یعنی کامیاب شخص موجود) نہیں ہے۔ گویا گھر میں ناکام لوگ ہیں۔
(حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ تو اپنے شاگرد سے کہتے ہیں) یہ صرف چار نام ہیں ان اسماء میں اضافہ کر کے انہیں میری طرف منسوب نہ کرنا۔
صحیح مسلم، الآداب، باب كراهية التسمية حديث : 2137 و سنن أبي داود، الأدب، باب في تغيير الاسم القبيح، حديث : 4958
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نسمي رقيقنا أربعة أسماء: أفلح ونافع ورباح ويسار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم اپنے غلاموں کے نام چار ناموں افلح ،نافع ،رباح اور یسار میں سے کوئی ایک تجویز کریں۔
سنن أبي داود، الأدب، باب في تغيير الإسم القبيح، حديث : 4959 وسنن ابن ماجه، الأدب، باب ما يكره من الأسماء، حديث : 3730 واللفظ له
پانچویں قسم: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والوں کو ان ناموں سے اجتناب کرنا چاہیے جن میں لفظ ”عبد“ کو غیر اللہ کے ساتھ ملایا گیا ہو۔ مثلاً عبد العزی (عزی کا بندہ) عبد الكعبہ (کعبہ کا بندہ) عبد النبی (نبی کا بندہ) وغیرہ۔ پوری امت مسلمہ کے نزدیک اس قسم کے نام رکھنا حرام ہیں۔
اعتراض : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین میں کفار کے مقابلے میں یہ الفاظ کہے تھے : أنا النبى لا كذب، أنا ابن عبد المطلب
میں سچا نبی ہوں، جھوٹا نہیں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔
صحيح البخارى الجهاد والسير، باب من قاد دابة غيره فى الحرب، حدیث : 2864 و صحیح مسلم، الجهاد ، باب غزوة حنين، حديث – 1776
اگر اس قسم کے نام ممنوع ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دادا عبدالمطلب (مطلب کا بندہ) کا نام اپنی زبانِ اطہر کے ساتھ کیوں ادا کیا ؟
جواب : اس اعتراض کا جواب علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے یوں دیا ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا تعلق نیا نام رکھنے کی جنس سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تو صرف ایسے نام کے ساتھ لوگوں کو خبر دار کرنے کی جنس سے ہے کہ جس نام کے ساتھ وہ شخص مشہور ہے اور نام کا تعارف کروانے کے لیے اس انداز سے لوگوں کو کسی شخص کے بارے میں مطلع کرنا حرام نہیں ہے۔“
یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جاہلیت والے مشہور و معروف قبائل بنو عبد شمس، بنو عبد الدار وغیرہ کا نام لیتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو روکتے نہیں تھے۔
مختصر یہ کہ کسی نام کی خبر دینے یا اس کا تعارف کرانے میں ایسے ناموں کو اپنی زبان سے ادا کرنا جائز ہے جو ابتدائی طور پر رکھنے ممنوع اور حرام ہوں۔
تحفة المودود ص: 112، بتغير يسير
چھٹی قسم: تمام مسلمانوں کو ایسے ناموں سے پرہیز اور احتیاط برتنی چاہیے جن سے اسلامی قدر و منزلت اور وقار مجروح ہونے کا اندیشہ ہو نیز ان سے کفار اور غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت کا پہلو نکلتا ہو یا ان الفاظ سے ہلاکت و عذاب یا تاوان جیسے معانی کا اظہار ہوتا ہو مثلاً ہیام (مستانہ دیوانہ) ھیفاء (پتلی کمر والی) میادہ (جھوم جھوم کر ناز و نخرے سے مٹک مٹک کر چلنے والی عورت) ناریمان (چمک دار چہرے اور روشن جسم والی عورت) غادہ (نرم و نازک عورت چڑھتی جوانی والی عورت) احلام (پراگندہ خواب دیکھنے والی ذات) وغیرہ۔ اس قسم کے تمام ناموں سے اجتناب اور پرہیز کرنا چاہیے۔
حکمت: ایسے ناموں سے بچنے کی وجہ اور حکمت یہ ہے کہ امت مسلمہ اپنی شخصیت اور ذات میں ممتاز اور نمایاں نظر آئے۔ اپنی خصوصیات و ذاتیات کے ساتھ اس کا تعارف ہو۔ جبکہ ان مذکورہ ناموں سے نہ صرف اسلامی شخصیت کا وقار مجروح اور پامال ہوتا ہے بلکہ اس کے معتبر و مقبول ہونے سے ترقی کے بجائے تنزلی اور پستی کا سامنا کرنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور حقائق و معنویت سے بھر پور اسلامی شریعت و نظام کمزور و بے معنی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ آج جب کہ امت مسلمہ پستی و تنزلی اور زوال کا شکار ہے اس کا شیرازہ بکھرتا جا رہا ہے اور ہر دشمن اس پر قبضہ جمانے کی کوشش میں ہے۔ باعزت مسلمانوں کو ذلیل ورسوا کرنا ان کی حرمت کو پامال کرنا اور ان کی عزت وعفت کی دھجیاں بکھیرنا اس کے لیے انتہائی آسان ہو گیا ہے تو ایسی صورت میں ہمیں ان تمام خطرات کے مقابلے میں ہر قدم بڑی احتیاط سے پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر پہلو میں اپنی لغزشوں کو چھوڑ کر پوری توجہ کے ساتھ نبوی طریق کار اور اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ ہی سے ہم التجا کرتے ہیں کہ اے مولا کریم ! تیرے پاس ہر قوت و طاقت کے خزانے ہیں، ہمیں مد دو تعاون نصیب فرما ! اور اس قسم کے ناموں سے حتی الوسع اجتناب اور گریز کرنے اور ہر ممکن جدو جہد کرنے کی توفیق نصیب فرما۔
ایک جامع حدیث شریف: ایسے حالات میں یہ بات ہرگز عجیب محسوس نہ ہوگی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ خصوصی ارشادات کیوں فرمائے کہ اپنے نام انبیاء علیہم السلام کے ناموں کی طرح رکھو اور وہ نام پسند کرو جن سے اللہ کی بندگی اور عبودیت کا اظہار ہوتا ہو۔ حضرت ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تسموا بأسماء الأنبياء، وأحب الأسماء إلى الله: عبد الله وعبد الرحمن، وأصدقها حارث وهمام، وأقبحها حرب ومرة
تم انبیائے کرام علیہم السلام والے نام رکھا کرو اور اللہ کو تمام ناموں میں سے دو نام یعنی عبد اللہ اور عبد الرحمن زیادہ محبوب ہیں اور تمام ناموں میں سب سے زیادہ صداقت و سچائی کا اظہار کرنے والے بھی دو نام ہیں: حارث (کمائی کرنے والا) ہمام (سوچ و بچار میں مشغول رہنے والا) اور قبیح ترین بدصورت اور بدترین نام بھی دو ہیں: حرب (جنگ) اور مرۃ (کڑوا)۔
سنن أبى داود الأدب، باب فى تغيير الأسماء، حديث : 4950 ومسند أحمد: 345/4 والحديث صحيح دون قوله: تسموا بأسماء الأنبياء، انظر: الإرواء، حديث : 1178 والصحيحة، حديث : 1040
یقینا اس خوبی سے امت محمدیہ زندگی کے ہر شعبے میں دوسری امتوں سے فائق ہوگی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہترین امت بن جائے گی جسے لوگوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے تا کہ وہ انسانیت کی رشد و ہدایت اور اسلام کے بنیادی قوانین وضوابط کی طرف رہنمائی کرے۔