نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کی تکریم کرنے کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کی تکریم کرنے کے فضائل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کا احترام، توقیر اور تکریم ایمان کا جزء ہے، بلکہ عین ایمان ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی آپ کے اہل بیت کے ساتھ محبت کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
ارقبوا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم فى أهل بيته .
”تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (خوشنودی)، ان کے اہل بیت کے ساتھ (محبت) کے ذریعے تلاش کرو۔“
صـحـيـح بـخـاري، كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب الحسن والحسين رضي الله عنهما، رقم: 3751
آپ کے اہل بیت سے اللہ تعالیٰ بھی محبت کرتا اور آپ بھی محبت رکھتے، لہذا اس سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، ہمیں بھی ان سے محبت رکھنی چاہیے، ان کی تکریم کرنی چاہیے۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رأيت النبى صلى الله عليه وسلم والحسن بن على على عاتقه، يقول: اللهم إني أحبه فأحبه .
”میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر سوار دیکھا، اور آپ نے یہ دعا مانگی، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما۔“
صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب الحسن والحسين، رقم: 3749۔ صحیح مسلم، كتاب فضائل الصحابة ، باب فضائل الحسن والحسين، رقم: 6259 .
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت سے محبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہے، اور آپ کے اہل بیت سے بغض آپ سے بغض رکھنے کے مترادف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
لا تؤذيني فى عائشة، فإن الوحي لم يأتني وأنا فى ثوب امرأة إلا عائشة قالت: فقلت أتوب إلى الله من أذاك يا رسول الله ، ثم إنهن دعون فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تقول: إن نسانك ينشدنك الله العدل فى بنت أبى بكر فكلمته فقال: يا بنية ألا تحين ما أحب؟ قالت: بلى ، فرجعت إليهن وفي رواية مسلم قال: فاحبى هذه
”مجھے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے تکلیف مت پہنچاؤ! عائشہ کے علاوہ اور کسی بیوی کے بستر پر مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ ! میں آپ کی ایذا رسانی پر اللہ تعالیٰ کے حضور معافی مانگتی ہوں ، پھر انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، انہوں نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا: بیٹی کیا تمہیں اس سے محبت نہیں جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، یہ پیغام لے کر وہ امہات المومنین کی طرف لوٹیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عائشہ سے محبت کیا کرو۔“
صحیح بخارى، كتاب الهبة، باب من اهدى الى صاحبه، رقم: 2580 ـ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل عائشه رقم: 6290 .