نیکیوں کی طرف جلدی کرنے کی فضیلت
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ تمہارا شیوہ ہر خیر اور ہر بھلائی کی طرف سبقت والا ہونا چاہیے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾
”ہر صاحب مذہب کا ایک قبلہ ہوتا ہے، پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔ جہاں کہیں بھی تم ہو گے، اللہ تمہیں لے آئے گا۔ اللہ ہر چیز پر (پوری طرح) قادر ہے۔“
(2-البقرة:148)
مذکورہ بالا آیت کریمہ میں کلمہ ”مسابقت“ استعمال ہوا ہے جو کہ ”مسارعت“ سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ اس میں دوسروں پر سبقت لے جانے کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ اور ”خیرات“ سے مراد وہ تمام اعمالِ صالحہ اور نیکی کے کام ہیں جن کے ذریعے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس پر مستزاد اس میں اعمالِ صالحہ کے لیے ایک قسم کی ترغیب اور تحریض ہے ، کیونکہ آدمی کو جب یقین ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور اس کے اعمال کا بدلہ چکائے گا، تو پھر وہ آخرت کی تیاری میں تیز تر ہو جائے گا۔
ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ ان اعمالِ صالحہ اور اُمورِ خیر کی طرف سبقت کریں جو اللہ کی مغفرت کا ذریعہ بنتے ہیں، اور جن کی وجہ سے اللہ اپنے فضل و کرم سے انہیں جنت میں داخل کرے گا، جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ جو پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾
”اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔“
(3-آل عمران:133)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا أو يمسي مؤمنا ويصبح كافرا، يبيع دينه بعرض من الدنيا .
”نیک اعمال کرنے میں جلدی کر لو ایسے فتنوں کے آنے سے پہلے جو شب تاریک کے مختلف ٹکڑوں کی طرح رونما ہوں گے۔ صبح کو آدمی مؤمن ہوگا اور شام کو کافر۔ شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کو کافر۔ وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی سامان کے عوض بیچ دے گا۔“
صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الحث على المبادرة بالأعمال قبل تظاهر الفتنة، ، رقم: 313.
پس بندوں کو اللہ کی مغفرت، اس کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور یہ چیز میں صدقِ دل سے توبہ، طلب غفرت، گناہوں سے دوری، عملِ صالح اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے سے حاصل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾
”لوگو! تم اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو، اور اس کی جنت کی طرف جس کی کشادگی آسمان وزمین کی کشادگی کی مانند ہے، ان کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے۔“
(57-الحديد:21)