دوسروں کو خود پر ترجیح دینا، ہم سفر پر صدقہ اور صدقہ کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

باب الصدقہ

دوسروں کو خود پر ترجیح دینا

① سیدنا مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ بات پہنچی ہے کہ وہ روزے سے تھیں کہ کسی مسکین نے ان سے سوال کیا اور گھر میں صرف ایک روٹی تھی۔ انہوں نے اپنے غلام سے فرمایا کہ وہ اسے دے دو۔ اس نے کہا: آپ کے افطار کے لیے پھر اور کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تم وہ اسے دے دو۔ وہ (غلام) بیان کرتے ہیں، میں نے ایسے ہی کیا (یعنی وہ روٹی اسے دے دی)۔ پس جب شام ہوئی تو ایک گھر سے بکری کا پکا گوشت آیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے غلام کو بلا کر کہا: یہ تیری روٹی سے بہتر ہے۔
الموطا، باب الترغيب في الصدقة۔

ہم سفر پر صدقہ

① سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک دفعہ سفر میں تھے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر آیا۔ وہ دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ، و من كان له فضل زاد فليعد به على من لا زاد له
”جس شخص کے پاس زائد سواری ہو تو وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زاد راہ میں سے کچھ زائد ہو تو وہ اسے دے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں۔“
مسلم، كتاب اللقطة 1728/18۔ ابو داؤد، کتاب الزكاة، حدیث 1663۔
راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی بہت سی اصناف کا ذکر کیا، حتی کہ ہم نے سمجھا کہ ہم میں سے جس کے پاس کچھ زائد مال ہے اسے اس پر کوئی حق نہیں۔

صدقہ کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما تصدق أحد بصدقة من طيب ولا يقبل الله إلا الطيب إلا أخذها الرحمن بيمينه و إن كانت تمرة فتربو فى كف الرحمن حتى تكون أعظم من الجبل كما يربي أحدكم فلوه أو فصيله
”جو شخص پاکیزہ چیز صدقہ کرتا ہے اور اللہ بھی صرف پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے تو رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ اگر وہ (صدقہ) کھجور ہو تو وہ رحمان کے ہاتھ میں بڑھتی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے۔ (اور رحمان اس کی ایسے نشو و نما کرتا ہے) جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے یا اپنے دودھ چھڑائے بچے کی پرورش کرتا ہے۔“
مسلم 63/1014۔ مسند احمد 331/2۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا تصعد إلى الله إلا الطيب فإن الله يتقبلها بيمينه ثم يربيها لصاحبها كما يربي أحدكم فلوه حتى تكون مثل الجبل
”جو شخص پاکیزہ مال سے کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے اللہ کی طرف پاکیزہ چیز ہی بلند ہوتی ہے تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول کر لیتا ہے پھر اسے اس کے خرچ کرنے والے کے لیے اس طرح بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی نشو و نما اور پرورش کرتا ہے حتی کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔“
بخاری، کتاب الزكاة 1410۔ مسلم ، كتاب الزكاة 46/1014۔ ترمذى، كتاب الزكاة 661۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سبق درهم مائة ألف درهم
”ایک درہم ایک لاکھ درہم پر سبقت لے گیا۔“
نسائي، کتاب الزكاة 5/59۔ ابن خزیمہ 2443۔ ابن حبان، کتاب الزكاة، باب صدقة التطوع 3336۔ روایت حسن ہے۔
صحابه کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كان لرجل درهمان فتصدق بأحدهما و انطلق رجل إلى عرض ماله فأخذ منه مائة ألف درهم فتصدق بها
”ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے پس اس نے ان میں سے ایک صدقہ کر دیا جبکہ دوسرا آدمی اپنے مال کے پاس آیا اور وہاں سے ایک لاکھ درہم لے کر صدقہ کر دیا۔“
ترمذي، كتاب الزكاة 664۔ یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بجائے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الصدقة تطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء
”صدقہ رب کے غضب کو ٹھنڈا کر دیتا ہے اور بری موت کو دور کر دیتا ہے۔“
ترمذي، كتاب الزكاة 664۔ یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بجائے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
⑤ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صدقہ کرنے کا حکم فرمایا تو ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول! میرے پاس ایک درہم ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تصدق به على نفسك ”اسے اپنی ذات پر خرچ کر۔“
اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تصدق به على ولدك ”اسے اپنی اولاد پر خرچ کر۔“
اس نے عرض کیا، میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تصدق به على زوجك ”اسے اپنی بیوی پر خرچ کر۔“
اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تصدق به على خادمك ”اسے اپنے خادم پر خرچ کر۔“
اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنت أبصر ”تم پھر بہتر جانتے ہو!“
ابوداؤد، کتاب الزكاة 1691۔ نسائی 5/62۔ روایت حسن ہے۔
⑥ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من استطاع منكم أن يستتر من النار ولو بشق تمرة فليعد
”تم میں سے جو شخص جہنم سے بچنے کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ ضرور بچے خواہ کھجور کے ایک حصے کے ذریعے سے ہو“۔
ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت مسلم، کتاب الزكاة 1012 میں ہے۔ صحیح بخاری میں نہیں۔
⑦ سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الصدقة على المسكين صدقة ، و على ذي الرحم اثنتان صدقة وصلة
”مسکین پر صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے جبکہ رشتہ دار پر (صدقہ کرنا) دوہرا اجر ہے صدقہ اور صلہ رحمی۔“
نسائی، کتاب الزكاة 5/92۔ ترمذی، کتاب الزكاة 658۔ روایت صحیح ہے۔
⑧ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ کسی مسکین نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کھانا طلب کیا، اس وقت ان کے پاس انگور تھے۔ انہوں نے لڑکے سے فرمایا: انگور کا ایک دانہ لے کر اسے دے دو۔ پس اس نے آپ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور تعجب کرنے لگا۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم ذرے کی مقدار کے برابر اس دانے سے تعجب کرتے ہو؟
الموطا 2/997۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ یہ بلغنی کے صیغے سے مروی ہے اور یہ اقسامِ ضعیف میں سے ہے۔
⑨ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا تصدقت المرأة من طعام بيتها غير مفسدة فلها أجرها بما تصدقت و للزوج بما كسب وللخازن مثل ذلك لا ينقص بعضهم من أجر بعض
”جب عورت کسی بگاڑ کے بغیر اپنے خاوند کے گھر کے اناج میں سے صدقہ کرتی ہے تو اسے صدقہ کرنے کی وجہ سے، خاوند کو کمانے کی وجہ سے اور خزانچی کو برابر ثواب ملتا ہے۔ اور ایک دوسرے کی وجہ سے ان کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔“
بخاری، كتاب الزكاة 1425۔ مسلم، كتاب الزكاة 1024۔ ابوداؤد، کتاب الزكاة 1685۔ ترمذی، کتاب الزكاة 671۔
⑩ ابواللحم کے آزاد کردہ غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں مملوک تھا، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کیا میں اپنے مالکوں کے مال میں سے کچھ صدقہ کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم و الأجر بينكما نصفان
”ہاں! اور تمہیں نصف نصف اجر ملے گا۔“
مسلم، کتاب الزكاة 1025۔