مردوں اور عورتوں کے لیے سونا، ریشم اور زینت کے شرعی احکام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

سونا اور خالص ریشم، مردوں پر حرام ہے :

مصنف كے كلام سے ظاهر هوتا هے كه خالص ريشم پهننا مردوں كے ليے حرام هے جبكه كسي چيز سے ملا هوا ريشم پهننا جائز هے حالانكه اس كي تفصيل كچه اس طرح هے. اگر ريشم غائب هو تو اس كا حكم خالص رشيم والا هے كه وه مردوں كے ليے حرام هے اور اگر ريشم كم هو اور دوسري چيزيں اس پر غالب هو تو جمهور كے نزديك جائز هے كيونكه ريشم پر دوسري چيز غالب آچكي هے.
دیکھیے : الاعلام بنقد کتاب الحلال والحرام للفوزان : 28.26
اسلام نے جہاں زینت کو جائز بلکہ مطلوب ٹھہرایا ہے اور خود اپنی طرف سے حرام کر لینے کی مذمت کی ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے :
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ
”کہو! کس نے اللہ کی زینت کو حرام کر دیا جسے اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو؟“
(الاعراف : 32)
وہاں اس نے مردوں پر زینت کی دو چیزیں حرام کر دی ہیں، جبکہ عورتوں کے لیے وہ دونوں حلال قرار دی ہیں۔ یعنی سونے کے زیورات اور خالص ریشم پہننا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کو اپنے داہنے ہاتھ میں اور سونے کو اپنے بائیں ہاتھ میں رکھ کر فرمایا :
إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي
”یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔“
مسند احمد (1/115) ابوداود کتاب اللباس باب في الحرير للنساء ح : 4057 – نسائي کتاب الزينة باب تحريم الذهب على الرجال ح : 5147 ، 5148 – ابن ماجة کتاب اللباس: باب لبس الحرير والذهب للنساء ح : 3595
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
لا تلبسوا الحرير فإن من لبسه فى الدنيا لم يلبسه فى الآخرة
”ریشم نہ پہنو کیونکہ جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔“
صحيح البخاري کتاب اللباس باب لبس الحرير للرجال رقم الحدیث : 5832 – سنن ابی داود کتاب اللباس، باب ما جاء في لبس الحرير، رقم الحدیث : 4040 – سنن ابن ماجه کتاب اللباس باب كراهية لبس الحرير، رقم الحدیث : 3588 – مسند احمد بن حنبل، (1/201)، رقم الحدیث : 132 – صحيح مسلم کتاب اللباس والزينة، باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة، رقم الحدیث : 2069
اور ریشم کے ایک جوڑے کے بارے میں فرمایا :
إنما هذه لباس من لا خلاق له
”یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“
بخاری کتاب اللباس : باب لبس الحرير للرجال ح : 5834 – مسلم، کتاب اللباس : باب تحريم لبس الحرير : 11/ 2069 واللفظ له
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو نکال کر پھینک دی اور فرمایا :
يعمد أحدكم إلى جمرة من نار فيجعلها فى يده
”تم چاہتے ہو کہ اپنے ہاتھ میں آگ کا انگارہ رکھ لو؟“
بخاری کتاب العيدين باب في العيدين والتجمل فيه ح / 948 – مسلم، کتاب اللباس: باب تحریم لبس الحرير ح 2068/8
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد کسی نے اس شخص سے کہا کہ انگوٹھی اٹھا لو اور اپنے کام میں لے آؤ۔ اس شخص نے کہا :
لا والله لا آخذه وقد طرحه رسول الله
”قسم اللہ کی! میں اسے نہیں اُٹھاؤں گا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھینک دیا ہے۔“
مسلم کتاب اللباس : باب تحريم خاتم الذهب على الرجال ح : 2090
سونے کی انگوٹھی ہی کی طرح وہ چیزیں ہیں، جن کو آج عیش پرست لوگ استعمال کرتے ہیں، مثلاً سونے کا قلم، سونے کی گھڑی، سونے کا سگریٹ لائٹر، سونے کی سگریٹ کی ڈبیہ اور سونے کا سگریٹ ہولڈر وغیرہ۔
البتہ چاندی کی انگوٹھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے لیے جائز قرار دی ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
اتخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما من ورق، وكان فى يده ثم كان بعد فى يد أبى بكر، ثم كان بعد فى يد عمر، ثم كان بعد فى يد عثمان حتى وقع بعد فى بئر أريس
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی اور اخیر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی یہاں تک کہ اریس نامی کنویں میں گر پڑی۔“
بخاری کتاب اللباس باب نقش الخاتم ح : 5873 ، مسلم کتاب اللباس باب لبس النبي صلی اللہ علیہ وسلم خاتماً من ورق ح : 2091/54
رہی دوسری دھاتوں کی انگوٹھی، مثلاً لوہے وغیرہ کی تو اس کی خدمت کسی صحیح نص سے ثابت نہیں ہے، بلکہ صحیح بخاری کی حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے مہر کے بارے میں فرمایا :
التمس ولو خاتما من حديد
”کوئی چیز تلاش کرو خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔“
بخاری کتاب اللباس باب خاتم الحديد ح : 5871 ، مسلم في کتاب النکاح باب الصداق ح : 1425
اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے لوہے کی انگوٹھی کے جواز پر استدلال کیا ہے۔
سنن ميں سيدنا بريده رضى الله عنه كي روايت ميں هے كه ايك شخص رسول الله صلى الله عليه وسلم كي خدمت ميں لوهے كي انگوٹهي پهنے حاضر هوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے فرمايا كيا هے كه ميں ديكه رها هوں كه تو نے دوزخيوں كا زيور پهن ركها هے؟ پهر رسول الله صلى الله عليه وسلم نے اسے چاندي كي انگوٹهي پهننے كا كها.
(ابو داود کتاب الخاتم : ما جاء في خاتم الحديد : ح 4223، ترمذی، کتاب اللباس باب ماجاء فى خاتم الحديد ح 1785 نسائی کتاب الزينة : باب مقدار ما يجعل في الخاتم من الفضة ح : 5198)
يه حديث حسن لذاته هے اور اس سے لوهے كي انگوٹهي كي ممانعت نكلتي هے. امام بخاري رحمه الله كا استدلال درست نهيں هے كيونكه نبي كريم صلى الله عليه وسلم كا اس شخص سے كهنا كه تلاش كرو اگر چه لوهے كي انگوٹهي هي كيوں نه هو. اس كا يه مطلب نهيں كه لوهے كي انگوٹهي پهننا جائز هے. اگر نبي كريم صلى الله عليه وسلم ريشم و ديباج تلاش كرنے كا كهتے تو كيا ان كا پهننا بهي درست هو جاتا ؟ بلكه اس سے كم سے كم قيمت والي حقير چيز كا تلاش كرنا اور لانا مراد هے. اور شعب الايمان ميں عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما سے مرفوعا روايت هے كه : نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب وعن خاتم الحديد
(صحيح الجامع الصغير : 6955 والصحيحة: 1242 شعب الایمان: 6349)
اس حديث سے صراحتا لوهے كي انگوٹهي كا پهننا ممنوع قرار پاتا هے. والله اعلم !
نیز دیکھئے : فتح الباری تحت الحديث المذكور، آداب الزفاف (ص : 133-134) غاية المرام (ص : 60) وغيرها (نصیر احمد کاشف)

تنبیہ :

مصنف رحمه الله نے اس حديث سے لوهے كي انگوٹهي پهننے كے جواز پر استدلال كيا هے. اس كے آگے فرماتے هيں : ديگر معدنيات مثلا : لوها، پيتل، سلور وغيره اس كو حرام قرار دينے ميں كوئي بهي صحيح نص (حكم) وارد نهيں هوئي بلكه صحيح بخاري ميں وارد اس مذكوره حديث هي كے ذريعه بخاري رحمه الله نے لوهے كي انگوٹهي پهننے كي اجازت پر استدلال كيا هے.
ميں كهتا هوں اس پر دو طرح مزيد غور كرنے كي ضرورت هے :
➊ يه هے كه فتح الباري ميں حافظ ابن حجر رحمه الله نے مذكوره استدلال كي ترديد كي هے. فرماتے هيں : ”اس ميں لوهے كي انگوٹهي كي اجازت كي حجت نهيں. كيونكه لوهے كي انگوٹهي بنانے كے جواز سے اس كے پهننے كا جواز لينا لازم نهيں آتا. اس ميں احتمال هے كه لوهے كي انگوٹهي كے حاصل كرنے كا آپ صلى الله عليه وسلم نے اس ليے كها هو كه اس كي قيمت سے بيوي فائده اٹها سكے.“
➋ يه هے كه لوهے كي انگوٹهي پهننے كي ممانعت صحيح سند سے وارد هے. امام بخاري رحمه الله نے الادب المفرد رقم نمبر 1021 ميں روايت بيان كي هے جو كه امام احمد رحمه الله نے عمرو بن شعيب سے انهوں نے اپنے باپ سے اور دادا سے بيان كي هے. ايك آدمي نبي صلى الله عليه وسلم كے پاس حاضر هوا اس نے هاته ميں سونے كي انگوٹهي پهن ركهي تهي تو نبي صلى الله عليه وسلم نے اس سے اعراض كيا جب آدمي نے آپ صلى الله عليه وسلم كي ناپسنديدگي ملاحظه كي تو انگوٹهي پهينك دي اور لوهے كي انگوٹهي بنوائي اسے پهن كر نبي صلى الله عليه وسلم كے پاس آيا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : ”يه اس سے بهي بدتر هے يه تو دوزخ كے باسيوں كا زيور هے.“ پهر اس نے وه بهي پهينك دي اور چاندي كي انگوٹهي پهن لي پهر نبي صلى الله عليه وسلم خاموش رهے. تنقيد نه فرمائي.
ميں كهتا هوں: اس كي سند جيد هے. امام بخاري رحمه الله نے صحيح كے علاوه ديگر مقامات پر اس قسم كي سند سے حجت لي هے. امام احمد، ابن راهويه اور ترمذي وغيرهم نے اسے قابل حجت سمجها هے.
اور اسي پر زياده تر فقهي احكام كا دارومدار هے جيسا كه اعلام الموقعين ميں علامه ابن قيم رحمه الله نے واضح كيا هے جبكه اس حديث كي دوسري سنديں اور تائيدي احاديث بهي هيں جنهيں ميں نے (آداب الزفاف رقم : 145) ميں ذكر كيا هے. پس يه حديث بالكل صحيح هے اس كي روشني ميں ائمه فقهاء كي ايك جماعت نے يه عمل اپنايا هے.
اسحاق بن منصور مروزي رحمه الله اپني كتاب ”مسائل“ ميں امام احمد رحمه الله اور امام اسحاق بن راهويه رحمه الله سے بيان كرتے هيں، سونے يا لوهے كي انگوٹهي پهننا ناجائز هے (صفحه نمبر : 234) اور كهتے هيں. الله كي قسم ! جيسا فتويٰ امام احمد رحمه الله نے ديا هے اسي طرح امام اسحاق رحمه الله نے بهي ديا هے اور اسي طرح امام مالك رحمه الله نے كها هے جيسا كه عبد الله بن وهب رحمه الله نے ”جامع“ كے صفحه نمبر : 101-110 ميں بيان كيا هے اور ابن سعد رحمه الله نے ”طبقات الكبري“ صفحه نمبر : 4114 ميں سيدنا عمر رضى الله عنه سے بيان كيا هے اور اسي طرح عبد الرزاق رحمه الله اور بيهقي رحمه الله نے شعب الايمان ميں بيان كيا هے. اسي طرح ”الجامع الكبير“ ميں سيوطي رحمه الله نے بيان كيا هے. (91/ج) (ناصر الدين الباني رحمه الله)
اور ریشم کا کپڑا پہننے کا جواز اس صورت میں ہے جبکہ اس کی واقعی ضرورت ہو، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو خارش کی وجہ سے ریشم کے کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔
بخاری کتاب الجهاد باب الحرير في الحرب، ح: 2919 ، 2920 ، مسلم کتاب اللباس : باب اباحة لبس الحرير للرجل، ح : 2076

مردوں پر ریشم حرام کرنے کی مصلحت :

ریشم اور سونا مردوں پر جن مصالح کی بنا پر حرام کر دیا گیا ہے وہ نہایت اہم تربیتی اور اخلاقی مصالح ہیں۔ اسلام جو جہاد اور قوت کا دین ہے ان مظاہر کے مقابلہ میں جو کردار میں کمزوری، ڈھیلا پن اور گراوٹ پیدا کرتے ہیں۔ مرد کو اللہ تعالیٰ نے عورت سے مختلف جسمانی ساخت عطا کی ہے اس لیے یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ وہ حسین عورتوں کا مقابلہ کرنے لگے اور زیورات سے آراستہ ہونے اور خوبصورت پوشاک زیب تن کرنے میں ان کی ہمسری کرنے لگے۔
علاوہ ازیں اس حرمت کے پیچھے اجتماعی مصلحتیں بھی کارفرما ہیں۔ اسلام نے تعیش کے خلاف جنگ کا جو پروگرام بنایا اس کا ایک جز سونے اور ریشم کی حرمت بھی ہے۔ قرآن کی نظر میں عیش پرستی وہ اخلاقی گراوٹ ہے جس نے کتنی ہی قوموں کو تباہی کے گھاٹ اتارا۔ یہ عیش پرستی اجتماعی ظلم کا مظہر ہے، کیونکہ ایک قلیل التعداد طبقہ کثیر التعداد اور مفلوک الحال طبقہ کے بل پر مزے اڑاتا ہے۔ یہ طبقہ ہمیشہ حق، خیر اور اصلاح کا مخالف رہا ہے۔ قرآن کہتا ہے :
وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا
”اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اُسے بالکل تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔“
(الاسراء : 16)
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡہَاۤ ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ
”ہم نے جس بستی میں بھی کوئی خبردار کرنے والا بھیجا تو اس بستی کے عیش پرست لوگوں نے یہی کہا کہ تم جو پیغام لے کر آئے ہو اس سے ہم انکاری ہیں۔“
(السبا : 34)
قرآن کی اس اسپرٹ کے پیشِ نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی زندگی میں تعیش کے جملہ مظاہر کو حرام قرار دیا۔ جس طرح سونا اور ریشم مردوں کے لیے حرام کیا اسی طرح سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مرد و عورت دونوں کے لیے حرام ٹھہرایا۔
بخاری کتاب الاشربة باب آنية الفضة ح : 5633 ، مسلم کتاب اللباس: باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة ح : 2067
ان تمام مصالح کے علاوہ اقتصادی لحاظ سے بھی اس میں کافی وزن ہے، کیونکہ سونا نقدی کے لیے بین الاقوامی طور پر محفوظ سرمایہ کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے اس کا استعمال مرد کے زیور یا برتن جیسی چیزوں کے لیے ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔

عورتوں کے لیے مباح ہونے کی مصلحت :

اس حکم سے عورتوں کو مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ یہ استثناء عورت کے حق میں رعایت بھی ہے اور نسوانیت کا تقاضا بھی، نیز یہ ان کی زینت پسند فطرت کے عین مطابق بھی ہے بشرطیکہ اس کا مقصود غیر مردوں کو راغب کرنا اور شہوانی جذبات کو برانگیختہ کرنا نہ ہو۔ حدیث میں ہے :
أيما امرأة استعطرت فمرت على قوم ليجدوا ريحها فهي زانية وكل عين زانية
”جو عورت خوشبو لگا کر لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ اس کی مہک ان تک پہنچے پس وہ زانیہ ہے اور ہر نظرِ بد زانیہ ہے۔“
ابو داود کتاب الترجل باب في طيب المرأة للخروج ح: 4173، ترمذی کتاب الادب: باب ماجاء في كراهية خروج المرأة متعطرة، ح : 2786، نسائی کتاب الزينة : باب ما يكره للنساء من الطيب ح : 5129 ، صحيح ابن حبان (الاحسان) ح : 4407
اور اللہ تعالی نے عورتوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :
وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ
”وہ اپنے پاؤں زور سے مارتی ہوئی نہ چلیں، تا کہ انہوں نے اپنی جس زینت کو چھپا رکھا ہے وہ معلوم ہو جائے۔“
سورة النور : 31