دجال کا سب سے بڑا فتنہ : خدائی کا جھوٹا دعویٰ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

دجال خدائی کا دعوی کریگا ؟

عن سمرة بن جندب رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى ….. فإنه سوف يزعم أنه الله، فمن آمن به وصدقه واتبعه لم ينفعه صالح من عمله سلف ومن كفر به وكذبه لم يعذب بشيء من عمله
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس 30 کذاب نکلیں گے، سب سے آخر میں کانا دجال نکلے گا جس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہوگا کہ وہ اللہ ہے نعوذ باللہ من ذلک لہذا جس شخص نے اس پر ایمان لا کر اس کی تصدیق اور تابعداری کی اسے اس کے سابقہ اعمال صالحہ کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور جس شخص نے اس کا کفر کیا اور اسے جھٹلایا تو اس سے اس کے اعمال کا بالکل مواخذہ نہیں ہوگا۔
احمد 22/5 مجمع الزوائد 448/2 المعجم الكبير 227/7 السنن الكبرى 339/3 الاصابة 26/4 فتح البارى 706/6 ، وسنده صحيح
عن أبى قلابة رحمه الله عن رجل من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن من بعدكم الكذاب المضل وإن رأسه من ورائه حبك حبك وإنه سيقول : أنا ربكم فمن قال : كذبت لست ربنا ولكن الله ربنا وعليه توكلنا وإليه أنبنا ونعوذ بالله منك قال : فلا سبيل له عليه
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے صحابہ ! تمہارے بعد جھوٹا گمراہ کرنے والا دجال نکلے گا اس کا سر پچھلی جانب سے گنج پن کا شکار ہوگا وہ کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں ! جس شخص نے کہا کہ تو جھوٹا ہے ہمارا رب نہیں بلکہ ہمارا رب تو اللہ ہے اسی پر ہم توکل کرتے ہیں، اس کی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے تیری پناہ مانگتے ہیں تو وہ دجال اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
احمد 509/5 – 461 حاكم : كتاب الفتن 554/4 مجمع الزوائد : كتاب الفتن 658/7 السلسلة الصحيحة 727/6
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة … فيأتي على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له فيأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا … دجال ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں اپنی ربوبیت پر ایمان لانے کی دعوت دے گا تو وہ لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کے مطیع فرمان ہو جائیں گے۔ دجال آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا تو وہ نباتات اگائے گی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2937 ترمذی 2240 ابن ماجة 4126 حاکم 537/4 طبری 95/9
عن أبى سعيد رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما حديثا طويلا عن الدجال فكان فيما ….. أشهد أنك الدجال الذى حدثنا رسول الله حديثه فيقول الدجال : أرأيتم إن قتلت هذا ثم أحييته هل تشكون فى الأمر ؟ فيقولون : لا ، فيقتله ثم يحييه فيقول حين يحييه : والله ما كنت فيك قط أشد بصيرة مني الآن قال : فيريد الدجال أن يقتله فلا يسلط عليه
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دجال کے بارے میں طویل حدیث سنائی۔ جس میں یہ تھا کہ ایک آدمی کو دجال کے فوجی پکڑ کر کہیں گے کیا تو ہمارے رب کو مانتا ہے؟ وہ انکار کرے گا تو وہ فوجی اس آدمی کو دجال کے پاس لے جائیں گے اور دجال اس سے کہے گا کہ تو مجھے مانتا ہے؟ تو وہ آدمی جواب دے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال کذاب ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث سنائی تھی۔ دجال لوگوں سے کہے گا، کیا خیال ہے اگر میں اس کو قتل کر کے زندہ کر دوں تو میرے رب ہونے کے متعلق کوئی شک رہے گا؟ لوگ کہیں گے، نہیں۔ تو دجال اسے قتل کرے گا پھر زندہ کریگا۔ تو وہ زندہ ہو کر کہے گا، اللہ کی قسم! مجھے تو پہلے سے زیادہ یقین ہو گیا کہ تو ہی دجال ہے۔ دجال دوبارہ اسے قتل کرنا چاہے گا مگر قتل نہ کر سکے گا۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في صفة الدجال 2938 بخاری کتاب الفتن 7132 احمد 46/3 عبد الرزاق 393/11