توحید فی التصرف کے شرکیہ امور:
اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو حقیقی مالک سمجھنا شرک ہے، وہی کائنات میں حکومت اور فرماں روائی کے تمام اختیارات رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کسی کو اس میں کوئی اختیار نہیں۔ (الحشر:23)
اللہ تعالیٰ نے سورہ الرعد میں فرمایا:
[اَللّٰہُ الَّذِیۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَہَا ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّکُمۡ تُوۡقِنُوۡنَ]
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے، جنھیں تم دیکھتے ہو، پھر وہ عرش پر بلند ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ہر ایک ایک مقرر وقت کے لیے چل رہا ہے، وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے، کھول کھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرلو۔ [الرعد:2]
کائنات کا سارا نظام اللہ تعالیٰ چلا رہا ہے او ہے اور وہی زمین اور آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے، کسی اور کو داتا گنج بخش، مشکل کشا، یا دستگیر وغیرہ سمجھنا شرک ہے۔ اور داتا ہے نیز فرمایا:
[اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُفَعَآءَ ؕ قُلۡ اَوَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَمۡلِکُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَعۡقِلُوۡنَ]،[ قُلۡ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا ؕ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ]
[یا انھوں نے اللہ کے سوا کچھ سفارشی بنا لیے ہیں۔ کہہ دے کیا اگرچہ وہ کبھی نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں]،[کہہ دے شفاعت ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے، آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے] [الزمر:44،43]
قیامت کے روز کسی کو سفارش کرنے کی اجازت دینے یا نہ دینے ، سفارش قبول کرنے یا نہ کرنے ، کسی کو ثواب یا عذاب دینے اور کسی کو پکڑنے یا چھوڑنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہو گا:
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ قَلۡبِہٖ وَ اَنَّہٗۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ]
مومنو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو، جبکہ رسول تمھیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں، جو تم کو زندگی بخشتا ہے اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے در میان حائل ہو جاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے رو برو جمع کیے جاؤ گے۔ [الأنفال:24]
دلوں کو پھیر نے والا، ہدایت دینے والا، نیکی کی توفیق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، کسی اور کو اس پر قادر سمجھنا شرک ہے۔ (الانفال:24)
رزق کی تنگی یا فراخی، صحت اور بیماری، نفع اور نقصان زندگی اور موت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ کے علاوہ کسی اور مخلوق کو اس پر قادر سمجھنا شرک ہے۔ (هود:6)
اولاد دینے یا نہ دینے والا، بیٹے اور بیٹیاں دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کسی کو اس پر قادر سمجھنا شرک ہے:
[لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ]،[ اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ]
[آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے]،[یا انھیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، یقینا وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے] [شوری:50،49]
دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں کسی اور کو اس پر قادر سمجھنا شرک ہے:
[قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ]
کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ (آل عمران: 26)
دلوں کے بھید اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور وہی دلوں کو پھیرنے والا ہے، کسی مخلوق کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا شرک ہے۔ (الانفال:43)
یہاں ہم احمد رضا خان صاحب کے قرآنی ترجمہ مع تفسیر سے وہ حوالے درج کریں گے جن سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنی زندگی میں تصرف کا اختیار نہ تھا یعنی آپ نفع و نقصان کا اختیار نہ رکھتے تھے، بلکہ ہر موقع پر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر آپ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کی مدد فرمائی اور آپ ﷺ اور صحابہؓ کی حفاظت فرمائی۔
جب افضل الانبیاء ﷺ اور سب سے بڑے ولیوں یعنی صحابہ کرامؓ کا یہ حال ہے تو باقی بزرگوں کا ذکر ہی کیا؟
آپ ﷺ کے تصرف کے بارے میں مراد آبادی تفسیر کے حوالے:
[آل عمران، فوائد: 47، 340]،[المائدہ، ف: 134]،[الانعام، فوائد: 79، 78، 126، 128]،[یونس، فوائد: 33 تا 40، 149، 177، 208، 222، 225]،[الانفال، (مکمل سورت)]،[ الرعد، فوائد: 84، 86، 90]،[بنی اسرائیل، فوائد: 71، 72، 167، آیت: 54، 26، 27]، [الکہف، فوائد 9، 48، 49]،[مریم، فوائد: 109 تا 111]،[الضحیٰ، فوائد: 4 تا 12]،[النصر فوائد: 2، 3] اور اس تفسیر میں بے شمار اور جگہ۔
آپ ﷺ کی دعاؤں کے بارے میں مراد آبادی تفسیر کے حوالے:
[البقرۃ، ف 388]،[ آل عمران، فوائد 116، 340] ،[النساء، ف 283]،[ الانعام، ف 141]،[الانفال، فوائد 19، 89 بدر]،[التوبہ:ف273]،[الرعد: ف 39]،[بنی اسرائیل، فوائد 72، 175، 176]،[المؤمنون، فوائد: 101، 124]،[الزخرف، فوائد: 15، 141]،[الدخان، ف 8]،[القلم: 18]
اور مراد آبادی تفسیر میں ایک بہت بڑی بات لکھی گئی: کہ رسول اللہ ﷺ [کفار] کے مقابلہ میں جنگ کرنے کے لیے نکلے تو آپ [حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ] پڑھتے پڑھتے تشریف لے گئے۔ [آل عمران: 173، ف 340] اور جب ابراہیم علیہ السلام کو نمرود نے آگ میں ڈالا تو انہوں نے بھی یہی الفاظ پڑھے۔ [الانبیاء: 68، ف 123] ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کو اور ابراہیم علیہ السلام کو تصرف کا کوئی اختیار نہ تھا بلکہ انہوں نے نازک مواقع پر یہی کہا کہ ہمیں اللہ ہی کافی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے۔
فرق صاف ظاہر ہے:
جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یکا یک خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ (سورۃ الزمر:45)
نام نہاد مسلمان کی پکار:بھر دو جھولی میری یا محمد (ﷺ)
اللہ کا فرمان:اے نبی! ان سے کہہ دو کہ میں تمھارے نفع و نقصان میں کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ [الجن: 21]
نام نہاد مسلمان کی پکار:کچھ بھی مانگنا ہے درِ مصطفیٰ سے مانگ!
اللہ کا فرمان: تمھارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمھاری فریاد سنوں گا۔ [المومن: 60]
مزید حوالہ جات کے لیے: [النمل: 62]،[الاعراف: 55، 56]
نام نہاد مسلمان کی پکار:شہباز کرے پرواز کہ جانے حال دلاں دے!
اللہ کا فرمان:اور اللہ دلوں کے حال تک جانتا ہے۔ [التغابن: 4]
مزید حوالہ جات کے لیے: [ق: 16]،[العنکبوت: 10]
نام نہاد مسلمان کی پکار:بری بری امام بری میری کھوٹی قسمت کرو کھری
اللہ کا فرمان: اور اگر اللہ تمھیں کسی مصیبت میں ڈال دے تو کون ہے جو تمھیں اس مصیبت سے نکال دے اور اگر وہ تمھیں کسی خیر سے نوازنا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [الانعام: 17]
مزید حوالہ جات کے لیے: [یونس: 107]،[فاطر:2]
نام نہاد مسلمان کی پکار:رکھ لاج میری لج پال پیا، لے مینوں غم توں قلندر لال
اللہ کا فرمان: اور جو کوئی عزت چاہتا ہو اسے معلوم ہو کہ عزت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ [فاطر: 10]
مزید حوالہ جات کے لیے: [آل عمران: 26]،[ یونس: 65]
نام نہاد مسلمان کی پکار:نورانی نور ہے، ہر بلا دور ہے
اللہ کا فرمان: اور جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ [فاطر: 13] مزید حوالہ جات کے لیے: [آل عمران: 26]،[یونس: 65]
نام نہاد مسلمان کی پکار:سارے نبی تیرے در کے، سوالی شاہ مدینہ!
اللہ کا فرمان:اے لوگو! تم سب اللہ کے در کے فقیر ہو اور اللہ تو غنی اور حمید ہے۔ [فاطر: 15]
مزید حوالہ جات کے لیے: [الرحمن: 29]،[البقرہ: 186]
نام نہاد مسلمان کی پکار:اے مولیٰ علی! اے شیرِ خدا! میری کشتی پار لگا دینا
اللہ کا فرمان:جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو خالص کر کے صرف اللہ کو پکارتے ہیں لیکن جب وہ نجات دے کر خشکی پر اتار دیتا ہے تو یکایک شرک کرنے لگتے ہیں۔ [العنکبوت: 65]
مزید حوالہ جات کے لیے: [الانعام: 63]،[یونس: 22]
نام نہاد مسلمان کی پکار:بابا شاہ جمال! پتر دے دے رتّالال
اللہ کا فرمان: زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے، وہ تو جاننے والا اور قدرت والا ہے۔ [لشوریٰ: 49، 50]،[الاعراف: 189، 190]،[الزمر: 8]
کیا اللہ کے سوا کوئی اور مشکل حل کرنے پر قادر ہے؟ ایک سوال کی دس شکلیں:
اکثر مذہبی حلقوں میں یہ سوال کہ آیا اللہ کے سوا کوئی مشکل حل کر سکتا ہے یا صرف اللہ ہی اس پر قادر ہے؟ بڑے زور و شور سے اچھالا جاتا ہے مگر فریقین سے کوئی بھی قائل نہیں ہو پاتا۔ ایک ذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے تو وہ اس سوال کو مختلف پہلوؤں سے جانچتا اور پرکھتا ہے کہ کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل کشائی کر سکتی ہے؟ اس سوال کی دس مختلف صورتیں ہیں جن کا جواب مطلوب ہے۔ امید ہے کہ میری یہ مشکل دور ہو کر دی جائے گی اور مجھے اس سوال کا شافی جواب دیا جائے گا:
① اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل حل کر سکتا ہے تو بتائیے کہ سائل اور مشکل کشا کے درمیان ہزاروں میل کی دوری پر وہ زندگی میں یا زندگی کے بعد قبر میں آواز سن سکتا ہے؟
② بالفرض یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اتنے فاصلے پر آواز سن سکتا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ دنیا کی ہر زبان سے واقف ہے؟
③ اگر یہ بات بھی ثابت ہو جائے کہ وہ ہر زبان سے واقف ہے تو پھر سوال پیدا ہوگا کہ اگر ایک وقت میں ہزاروں لوگ اپنی مشکل اس کے سامنے پیش کریں تو کیا وہ اسی وقت سب کی مشکلات سن لے گا اور سمجھ لے گا؟
④ کیا اس کو کبھی نیند بھی آتی ہے یا وہ ہمیشہ جاگتا رہتا ہے؟ اگر وہ سو جائے تو مشکلات کون حل کرے گا؟
⑤ ایک شخص بولنے سے قاصر ہے تو سائل کے دل کی بات وہ سن کر کس طرح حل کرے گا؟
⑥ انسان کو پیدائش سے لے کر موت تک کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، اگر وہ تمام مشکلات اللہ تعالیٰ حل کر سکتا ہے تو پھر غیر کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر غیر ان تمام مشکلات کو حل کر سکتا ہے تو اللہ کی کیا ضرورت ہے؟
⑦ اگر غیر اللہ مشکل کشا تمام مشکلات حل کرنے پر قادر نہیں تو ہو سکتا ہے کچھ مشکلات حل کرنے کا بیڑا اللہ نے اٹھایا ہو اور کچھ مشکلات حل کرنے کے اختیارات اس نے دوسروں کو دے دیے ہوں، ہمارے پاس ایسی فہرست ہونی چاہیے؟
⑧ کیا اللہ کے سوا جو ہستی مشکل نکال سکتی ہے کیا وہ مشکل ڈال بھی سکتی ہے یا اس کی ڈیوٹی صرف مشکلات دور کرنے پر ہے۔ اگر وہ مشکلات حل کر سکتی ہے تو پھر مشکلات ڈالنے والا کون ہے؟
⑨ آخر کار نتیجہ یہی نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ مشکلات ڈالنے والا ہے اور غیر اللہ مشکل حل کرنے والا۔ اگر اللہ تعالیٰ مشکل ڈالنے پر مصر ہو اور دوسری ہستی مشکل حل کرنے پر مصر ہو تو دونوں میں کون سی ہستی غالب ہوگی؟
⑩ کسی بھی برگزیدہ یا گنہگار ہستی کا جنازہ پڑھنا ہو تو اس کی بخشش کے لیے اللہ کو آواز دی جائے یا اس مشکل کشا غیر اللہ کو؟