مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت رسول اللہ پر سلام کا طریقہ
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت آپ پر یوں سلام کہے کہ:
بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
”اللہ کا نام لے کر رسول اللہ پر سلام ہو۔ اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما۔ اور اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“
اور جب مسجد سے نکلے تو کہے:
بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ
”اللہ کا نام لے کر۔ رسول اللہ پر سلام ہو۔ اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے۔“
یہ ایسا سلام ہے جو انسان کو قبر مکرم کے نزدیک سلام کرنے سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ یہ رسول اللہ کا خاصہ ہے جس میں کسی قسم کا خدشہ و مفسدہ نہیں ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو نمازوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اذان کے وقت بھی اس کی تجدید ہوتی ہے اور ہر مسلمان رسول مکرم کے لیے وسیلہ کا طالب ہوتا ہے۔ صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا على فإنه من صلى على مرة صلى الله عليه عشرا ثم سلوا الله لى الوسيلة فإنها درجة فى الجنة لا تنبغى إلا لعبد من عباد الله وأرجو أن أكون أنا هو من سأل لي الوسيلة حلت عليه شفاعتي يوم القيامة
”جب اذان سنو تو جو الفاظ مؤذن کہے وہی تم کہو۔ پھر مجھ پر درود بھیجو۔ کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس دفعہ رحمت نازل فرماتا ہے۔ پھر میرے لیے وسیلہ کی دعاء کرو۔ وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک کے لیے خاص ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ جو شخص میرے لیے وسیلہ کی دعاء کرتا ہے قیامت کے دن اس کی شفاعت مجھ پر حلال ہو جائے گی۔“
(صحيح مسلم – كتاب الصلاة : باب استحباب القول مثل قول المؤذن حديث : 384)